certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (25 Jun 2019 NewAgeIslam.Com)



Why have Fatwas against Islamist Terrorism failed اسلامی دہشت گردی کے خلاف فتاوے بطور آلۂ انسداد دہشت گردی ناکام کیوں ہیں- چند تجویزات- برمنگھم کے ایک کانفرنس سے سلطان شاہین کا خطاب



سلطان شاہین ، فاؤنڈنگ ایڈیٹر نیو ایج اسلام

22 جون 2019

11/9 حادثے کے بعد دنیا بھر میں علماء نے اسلامی دہشت گردی کی لہر کو روکنے کے لئے کئی فتوے جاری کئے۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور دنیا کے دیگر خطوں کے تمام اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے مؤثر اسلامی اداروں کے ذریعہ جاری کردہ ان فتوں کی تائید لاکھوں علماء نے کی۔ جب ایسے فتوے جاری کئے گئے تو ان سے بڑی امیدیں لگائی گئیں ۔ جون 2008 ء میں ہندوستان کے ایک ہزار سالہ اسلامی ادارہ دیوبند نے "دوٹوک انداز میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے، " جب ایک فتویٰ جاری کیا تو ہزاروں دیوبندی علماء نے اس کی تائید و حمایت کی جسے ایک ماہر تبصرہ نگار ضیاء الدین سردار نے "دہشت گردی کے خاتمے کا آغاز" قرار دیا ۔ اسی طرح صوفی بریلوی علما اور سخت گیر سلفی اور اہل حدیثی علمانے بھی اپنے اپنے انفرادی یا مشترکہ بیانات میں اسلامی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود دہشت گرد نظریات ہمارے نوجوانوں کو اور خاص طور پر ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو اب بھی لبھا رہے ہیں۔ اب تک جو محض پاکستانی امداد یافتہ علیحدگی پسندانہ تحریکیں تھیں وہ اب کھلے طور پر ایک عالمی خلافت کے ذریعہ اسلامی شریعت کے قیام کے لئے اسلامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہیں ، جن کے اغراض و مقاصد نام نہاد اسلامی ریاست یا داعش سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ ’’شریعت یا شہادت ‘‘کے نعرے کو فروغ دیتے ہوئے برهان وانی کے جانشین اور عسکریت پسند رہنما ذاکر موسی نے کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک کو مذہبی کے بجائے ایک سیاسی تحریک کہنے پر حریت کے رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ انہیں "منافق، ملحد اور شیطان کے پیروکار" قرار دیتے ہوئے اس عسکریت پسند نے دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ ’’ اگر وہ کشمیر کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں گے تو‘‘ ان کے سر کاٹ کر سرینگر کے لال چوک پر لٹکا دئے جائیں گے۔

ایسی حالت میں سب سے زیادہ دلچسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیوں تمام مسالک کے مقتدر علماء کے فتوے دہشت گردی کی اس لہر کو روکنے میں اس قدر غیر موثر ثابت ہوئے ؟ جبکہ ان فتوں کے اندر ایک پرجوش اور دوٹوک انداز میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر دیوبند کا فتویٰ سب سے زیادہ مؤثر ہونا چاہئے تھا۔ طالبان سمیت جنوبی ایشیائی بر صغیرکے اکثر عسکریت پسند دیوبندی مدرسوں کی ہی پیداوار ہیں ۔ اس فتوی میں ہے کہ : "اسلام نے اپنے پیروکاروں کو تمام انسانوں کے ساتھ مساوات، رحمت، رواداری، انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی ہے۔ اسلام ہر قسم کے ظلم، تشدد اور دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اس نے ظلم، شرانگیزی، فسادات اور قتل و غارت گری کو شدید گناہ اور عظیم جرائم میں شمار کیا ہے۔ …… اسلام کے اندر دنیا کے کسی بھی حصے میں بے گناہ افراد کا قتل ، نقض امن، فسادات، لوٹ مار اور غارت گری ، قتل اور سماجی شرو فساد انتہائی غیر انسانی جرائم شمار کئے جاتے ہیں‘‘۔

اس فتویٰ کے مطابق اسلام کا بنیادی مقصد "ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ اور عالمی امن کے پیغام کو فروغ دینا" ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گردی کا جھوٹ پھیلانے والوں کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہئے؛ اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ "ظلم کا ارتکاب کر رہے ہیں"۔

پاکستان اور بنگلہ دیش سے جاری ہونے والے فتوں میں بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا گیا تھا اور ان کی تائید و تصدیق بھی ان ملکوں کے لاکھوں علما نے کی تھی ۔ پاکستان میں اس سے قبل جاری کئے گئے فتوں کی طرح 20 جنوری 2019 کو جاری کئے گئے ایک حالیہ فتویٰ میں بھی تمام قسم کے انتہا پسند نظریات اور فرقہ وارانہ نفرت کے فروغ کی مذمت کی گئی اور اسے فساد فی الارض قرار دیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس اہم مسئلے کو سختی کے ساتھ حل کیا جائے۔ اس فتویٰ میں زبردستی شریعت یعنی ان دہشت گرد تنظیموں کے مشترکہ معمولات کے نفاظ اور پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس فتوی میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہےاور جہاد کا حق صرف ریاست کو عطا کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی مکاتب فکر کے علماء نے یہ کہا ہے کہ قرآن کریم نے خودکش حملوں کو قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ لہذا، جو بھی اس طرح کے خوفناک جرائم میں ملوث ہو اسے باغی اور خوارج قرار دیکر سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان فتوں میں اس معاشرے سے انتہاپسند اور عسکریت پسند عناصر کو ختم کرنے کے لئے فوجی کارروائیوں کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

بالکل اسی طرح اگست 2016 میں ایک لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی علماء و فقہا نے فتوی جاری کیا جس میں اسلام کے نام پر عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کو حرام قرار دیا۔ بنگلہ دیش کے جمیعت العلماء سے تعلق رکھنے والے تقریبا 1،01،524 علماء نے اس 'فتویٰ' پر دستخط کئے تھے۔

اس فتویٰ میں واضح طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ، "بے گناہ افراد کا بے دریغ قتل اسلام میں جائز نہیں ہے، ایسے بچوں، خواتین، بوڑھوں اور کمزور لوگوں کو مارنا جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے اسلام میں سخت حرام ہے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران بھی اس قسم کے لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ عبادت کے دوران لوگوں کو مارنا ایک انتہائی گھناؤنا اور سنگین جرم ہے۔

پریس کے سامنے فتوی پیش کرتے ہوئے بنگلہ دیش جمعیت العلما کے صدر مولانا فرید الدین مسعود نے کہا کہ: "اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے نام پر چند تخریبی عناصر اپنے مفادات کی بازیابی کے لئے قرآن اور حدیث کی غلط تعبیر و تشریح کے ذریعہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ عسکریت پسندوں کو جہادی کہتے ہیں لیکن وہ دراصل دہشت گرد ہیں۔ اسلام دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا۔ اور جو لوگ اس عقیدے کے ساتھ خودکش حملے انجام دے رہے ہیں کہ اگر وہ مر جاتے ہیں تو شہید ہو کر جنت میں جائیں گے اور اگر زندہ بچ گئے تو ایک ہیرو کی زندگی گزاریں گے ، قرآن اور حدیث کے مطابق ہرگز جنت میں نہیں جائیں گے۔ ان مذہبی دہشت گردوں، عسکریت پسندوں اور خفیہ حملہ آوروں کی نماز جنازہ میں شرکت بھی منع ہے۔ اور جو لوگ ان عسکریت پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جائیں گے انہیں شہید تصور کیا جائے گا۔

یہ تمام بیانات اور فتاوے دہشت گردی کی سخت مذمت میں ہیں۔ تو پھر ایسا کیوں ہے یہ فتاوے ہمارے ان نوجوانوں کے ایک طبقے پر بے اثر ثابت ہو رہے ہیں جو عسکریت پسند نظریہ سازوں کی باتیں سنتے ہیں۔ دنیا بھر سے تقریبا 40،000 غیر ملکی افراد نے نام نہاد اسلامی ریاست میں شمولیت اختیار کی اور یقینا، یہ فرض کرنابے جا نہ ہو گا کہ ایسےہی کتنے لوگ اور نام نہاد اسلامی ریاست میں شامل ہونے کے خواہش مند ہوں گے لیکن انتظامی دشواریوں کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے ہوں گے۔ اس لئے کہ کسی ایک ایسی نام نہاد ریاست کا سفر کرنا آسان نہیں تھا جسے بطور ریاست عالمی برادری کے کسی ایک رکن نے بھی تسلیم نہیں کیا ہو۔ عسکریت پسندانہ نظریات میں اتنی جاذبیت کہاں سے آتی ہے اور ہمارے تمام علماء کی اتنی انتھک کوششیں کامیاب کیوں نہیں ہیں؟ اگر ہم مسلم معاشرے سے عسکریت پسندی کی بلا ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہوگا۔

ان فتوں کے گہرے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام فتاوے لمبے لمبے بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں جب کہ ان میں تفصیلات اور خصوصی نکات کافی مختصر ہوتے ہیں ، جبکہ عسکریت پسند نظریہ ساز انہیں حوالوں سے اپنی بات پیش کرتے ہیں ۔ سید قطب، مولانا مودودی، عبداللہ عزام، انور العولقی، ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن جیسے یہ تمام بااثر عسکریت پسند نظریہ ساز اپنے عسکریت پسندانہ نظریات کو ایک مؤثر، جامع اور باہم مربوط انداز میں پیش کرتے ہیں جس کی ایک مضبوط بنیاد قرآن، حدیث ،اسلامی تاریخ واقعات اور خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور سلف الصالحین کے معمولات پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عسکریت پسند بیانیہ قرآن مقدس کی غیر مخلوقیت اور جنگ کے احکام پر مشتمل ان مدنی آیتوں کے ذریعہ جن میں بت پرستوں سے قطع تعلق کرنے ، اہل کتاب کو محکوم بنانے اور توہین رسالت اور ارتداد وغیرہ کے لئے موت کی سزا دینے کے احکام درج ہیں ، ان مکی آیتوں کی تنسیخ کے مذہبی اصولوں پر مبنی ہے جن میں مصیبت کے وقت میں امن ، بقائے باہمی اور صبرکی تعلیم دی گئی ہے۔

جبکہ دوسری طرف اسلام کو امن کے مذہب کے طور پر پیش کرنے والے علما کا اکثر جوابی بیانیہ محض چند الفاظ میں ہی محدود ہے ۔ اگر وہ قرآن کی کوئی آیت پیش کرتے بھی ہیں تو صرف یہی (5:32) آیت ہوتی ہے جس میں اللہ کا فرمان ہے کہ کسی ایک معصوم شخص کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے اور کسی ایک انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ اور باقی سب محض پرجوش بیان بازی ہوتی ہے۔ ایسے بےشمار فتوں میں صرف ایک فتوی ہی ایسا ہے جس میں کچھ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر رشنی ڈالی گئی ہے۔ اور وہ بنگلہ دیش کے جمیعت العلما کا فتوی ہے جس میں کم از کم ان متعدد جنگی آیتوں میں سے چند آیتوں کو تسلیم کیا گیا ہے جنہیں تشدد کا جواز پیش کرنے کے لئے انتہاپسند عناصر بار بار استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس فتویٰ میں بھی ان ابتدائی مکی آیتوں کے حوالے سے اس دہشت گرد بیانیہ کی تردید کرنے کی غلطی دہرائی گئی ہے جن میں سختی اور مصیبت کے وقت میں صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ علما جو مدرسے چلاتے ہیں ان میں الاتقان فی علوم القرآن، تفسیر جلالین ، حجت اللہ البالغہ وغیرہ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن میں تحریف فی القرآن ،نسخ اور منسوخ وغیرہ جیسے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس سے اس بنیاد پرست بیانیہ کو تقویت ملتی ہے کہ امن کی تعلیم پر مشتمل ابتدائے اسلام کی آیتوں کو جنگ کی تعلیمات پر مشتمل بعد میں نازل ہونے والی آیتوں نے منسوخ کردیا ہے ۔ درحقیقت وسیع پیمانے پر ایک نظریہ یہ بھی رائج ہے کہ صرف ایک آیت سیف 5: 9 نے 124 ایسی ابتدائی مکی آیتوں کو منسوخ کر دیا ہے جن میں امن، رواداری،تکثیریت پسندی ، بقائے باہمی اور صبروغیرہ کے احکام درج ہیں ۔ اور بعد کے مدنی ادوار میں جنگی احکام کے ساتھ نازل ہونے والی 164 آیتیں ایسی ہیں جو صرف بعد میں نازل ہونے کی بنا پر ابتدائی مکی آیتوں کی ناسخ ہیں۔ فریضہ جہاد کو فروغ دینے کی یہ دلیل اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ مشرکوں کو قتل کرنے اور اہل کتاب کو محکوم بنانے کا حکم دینے والی صرف ان دو 5: 9 اور 29: 9 آیتوں کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ مکہ میں صبر کی تعلیم دینے والی آیت ( ان اللہ مع الصابرین 153: 2)، 11:49، 50:39، 39:10، 70: 5، 15:85، (39:10، 5: 70 ) کو منسوخ کیا ہے بلکہ 22:39 اور 2:190 جیسے خود کے دفاع میں طاقت و قوت کا استعمال کرنے کی اجازت دینے والی آیتوں کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔ لہٰذا، متعدد مستند علما کی نظر میں اقدامی جہاد ہر مسلمان پر فرض ٹھہرا۔ یہاں تک کہ امام ابو حامد الغزالی جیسے ایک عظیم المرتبت صوفی بھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ جہاد پر ضرور جانا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کی نوعیت اقدامی ہی ہو گی۔

حقیقت امر یہ ہے کہ ہر جنگ کے موقع پر ایک بار جب جنگ میں جانے کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو لوگوں کو لڑنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، انعامات کا اعلان کیا جاتا ہے اور نافرمانی کرنے والوں کے لئے سزا کا اعلان کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جونہی جنگ ختم ہوتی ہے اس سے متعلقہ احکام و ہدایات بھی قابل اطلاق نہیں سمجھے جاتے ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن کی غیر مخلوقیت اور تنسیخ کے اصول کے تحت 5: 9 اور 29: 9 جیسے سورہ توبہ کی آخری آیتیں جنگ و امن اور مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کے معاملات میں قرآن کی اہم ترین تعلیم قرار پاتی ہیں ۔ توہین رسالت اور ارتداد کا سزائے موت کے قابل جرائم تسلیم کیا جانا داخلی طور پر مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر اختلاف و انتشار اور شر و فساد کی وجہ رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک پوری کمیونٹی پر بعض اوقات تکفیر اور قتل کا حکم نافذ کر دیا جاتا ہے ۔

اس طرح ہم مسلمان ایک ایسی صورت حال میں پھنس کر رہ گئے ہیں جس میں انتہا پسند جنگجوؤں کو بالا دستی حاصل ہے۔ یہ صورتحال اس وجہ سے مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے کہ ہمارے علما اب تک ایک حقیقی اور غیر جانبدار جوابی بیانیہ پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ پرجوش بیان بازی سے کام بن جائے گا۔ مجھے ان کے ارادے پر شک نہیں ہے۔ لیکن جب ایک حکمت عملی ناکام ہوجاتی ہے تو ہمارے لئے اگلے مرحلے کے بارے میں سوچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ صورت حال میں تبدیلی پیدا کرنے کے لئے پوری دنیا کے علماء کو مندرجہ ذیل اصول پورے زور شور کے ساتھ مسلسل لوگوں کے سامنے پیش کرنے ہوں گے ۔

1۔ قرآن اللہ کی مخلوق ہے۔ یہ ان آیتوں کا ایک مجموعہ ہے جو ابتدائی مکی دور میں محمد ﷺ پر اس آفاقی مذہب کے لئے ہدایات کے طور پر نازل ہوئی ہیں جو زمین پر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ہی تمام قوموں کی طرف ایک ہی پیغام کے ساتھ بھیجے جانے والے مساوی حیثیت کے متعدد رسولوں(قرآن136 :2) کے ذریعہ بھیجا گیا ہے۔ لہذا، وہ ابتدائی آیتیں جو ہمیں امن اور ہم آہنگی، حسن معاشرت، صبر، رواداری اور تکثیریت پسندی کی تعلیم دیتی ہیں قرآن کی بنیادی اور تعمیری آیات ہیں۔ یہی اسلام کا بنیادی پیغام ہے۔ لیکن قرآن میں بہت ساری ایسی سیاق و سباق والی آیتیں بھی ہیں جو جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لئے سخت اور مشکل ترین حالات سے نمٹنے کے لئے بطور احکام و ہدایات نازل ہوئی تھیں اس لئے کہ مشرکین مکہ اورمدینہ کے اکثر اہل کتاب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آنے والے خدا کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے چند صحابہ کو نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ یہ آیتیں عظیم تاریخی اہمیت کی حامل ہیں اور ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہمارے مذہب کو قائم کرنے میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسی ناقابل تسخیر پریشانیوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اپنی تاریخی اہمیت کے باوجود 1400 سو سال قبل جب جنگ ختم ہوگئی اور اللہ کے فضل سے اس میں مسلمان فتح یاب ہو گئے تو اب یہ احکام و ہدایات ہمارے لئے قابل اطلاق نہیں ہیں ۔ ہم ابھی کسی جنگ میں نہیں ہیں۔

2۔ آج جس انداز میں بنیاد پرست عناصر تنسیخ کا اصول بیان کرتے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ خدا کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتا جسے بعد میں منسوخ کرنا پڑےسوائے ایسے چند احکامات کے جن کا حکم اور اطلاق و انطباق عارضی ہو جیساکی جنگ سے متعلق آیتیں ۔

3۔ خدا نے توہین رسالت اور ارتداد کے لئے کسی بھی سزا کا تعین نہیں کیا۔ اور نہ ہی اس نے کسی بھی انسان، حکمران یا عالم کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی شخص کو سزا دے۔ لہذا اگر پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ کسی نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے تب بھی اس کی سزا خدا پر ہی چھوڑ دی جائے گی۔

4۔ ہم اب جدید قومی ریاستوں کے دور میں رہ رہے ہیں؛ ہمارے بین الاقوامی تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر کی ہدایات کے پابند ہیں جن پر تمام مسلم اکثریتی ممالک سمیت دنیا کے تقریبا تمام ملکوں نے دستخط کیے ہیں۔ آج کسی بھی ریاست کے لئے نئے خطوں کو فتح کرنا اور وہاں اپنی حکومت قائم ممکن ہی نہیں ہے جیسا کہ بیسویں صدی کے پہلے نصف تک یہ ایک معمول تھا۔ لہذا، سال میں کم از کم ایک بار جہاد پر جانے جیسی تمام باتیں ختم ہونی چاہئے اگرچہ واقعی قرآن اور حدیث نے ہی اس کا حکم کیوں نہ دیا ہو۔ یہ اب ناقابل عمل ہے اور خدا ہمیں ناممکن کام انجام دینے کا حکم نہیں دیتا ہے۔

5۔ مسلمانوں کی عالمی خلافت کی دعوت کا جواز نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں ۔ جدیدتکثیر یت پسند ریاستیں اس پہلی اسلامی ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مشابہ ہیں جسے ہمارے نبی ﷺ نے میثاق مدینہ میں فراہم کردہ آئین کے تحت قائم کیا تھا ۔ مسلمانوں کو اب کسی عالمی خلافت کی ضرورت نہیں ہے، اگرچہ مسلم اکثریتی ممالک اخوت کے قرآنی جذبے کے ساتھ مسلمانوں کا تعاون کر سکتے ہیں اور یہاں تک کہ وہ مسلم ریاستوں کا ایک کامن ویلتھ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔

6۔ جدید جمہوریت امرھم شوریٰ بینھم کے قرآنی حکم کی تشکیل ہے۔ لہٰذا مسلمان جس بھی ملک میں رہ رہے ہوں انہیں وہاں کے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ وہ وہاں اکثریتی کمیونٹی کی حیثیت سے یا مذہبی اقلیت کے طور پر ہی کیوں نہ رہتے ہیں۔

7۔ ہم سب کو یہ مان لینا چاہئے کہ اسلام بنیادی طور پر نجات کے بہت سے راستوں میں سے ایک روحانی راستہ ہے (قرآن 5:48) ، جسے اللہ نے مختلف زمانوں میں مختلف نبیوں کے ذریعہ پوری انسانیت کے لئے بھیجا ہے ، اور تمام انبیاء مساوی حیثیت کے حامل تھے (قرآن 136: 2، 25: 21، 21:92)۔ خدا نے ہمیں نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے [قرآن 148: 2، 23:61] اور ہمیں اسی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ جیسا کہ قرآن تمام پچھلے مذاہب کی تصدیق کرنے کے لئے نازل ہوا تھا ہم دوسرے مذاہب کا احترام کر سکتے ہیں اور دیگر تمام مذاہب کو اسی روحانی سفر کے راستے مان سکتے ہیں ۔ الولاء و البراء کا اصول جس کا پروپیگنڈہ انتہا پسند عناصر کرتے ہیں غلط فہمی اور ناقص سوچ پر مبنی ہے اور آج کے انتہائی مخلوط اور باہم مربوط عالمی معاشرے میں ناقابل عمل ہے۔

مجھے امید ہے کہ علمائے اسلام اور ساتھ ہی ساتھ عام مسلمان بھی ان نکات پر بطور مشاورت اسی جذبے کے ساتھ غور و فکر کریں گے جس جذبے کے ساتھ یہ پیش کیا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ ایک اتفاق رائے تیار ہو گی۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-founder-editor,-new-age-islam/why-have-fatwas-against-islamist-terrorism-failed-as-a-counter-terrorism-tool,-explains-sultan-shahin-in-a-conference-in-birmingham,-and-suggests-the-kind-of-fatwa-required/d/118952

URL: http://newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founder-editor,-new-age-islam/why-have-fatwas-against-islamist-terrorism-failed-اسلامی-دہشت-گردی-کے-خلاف-فتاوے-بطور-آلۂ-انسداد-دہشت-گردی-ناکام-کیوں-ہیں--چند-تجویزات--برمنگھم-کے-ایک-کانفرنس-سے-سلطان-شاہین-کا-خطاب/d/118978

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   1


  • اسلام کے نام پر ہونے والی ہر دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہم مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے ۔


    By Kaniz Fatma - 6/26/2019 4:50:28 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content