certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (23 Jan 2014 NewAgeIslam.Com)



Prophet Muhammad's Generosity towards Non-Muslims غیر مسلموں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت اور دریادلی

 

ورشا شرما، نیو ایج اسلام

ربیع الاول کا اسلامی مہینہ اللہ کی سب سے عظیم ترین نعمت کا جشن منانے کا ایک مبارک و مسعود مہینہ ہے۔ اس لیے کہ اسی مہینے میں اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ‘‘رحمت للعاٰلمین’’ (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بنا کر مبعوث کیا ۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے ‘‘اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے’’ (21:107)۔ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف عرب کے لیے یا صرف مسلم معاشرے کے لیے ہی مبعوث نہیں کیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے منارۂ نور و ہدایت بنا کر بھیجا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک نے انہیں  قرآن میں ‘‘سراج منیر’’ (معرفت الٰہی کا چراغ) کہا ہے۔ اس حقیقت کی شہادت پیش کرتے ہوئے قرآن رطب اللسان  ہے کہ: ‘‘یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمّی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر مِن جانبِ اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) جن (کے اوصاف و کمالات) کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور ان سے ان کے بارِگراں اور طوقِ (قیود) جو ان پر (نافرمانیوں کے باعث مسلّط) تھے، ساقط فرماتے (اور انہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں۔ پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نورِ (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں’’۔ (7:157)۔

چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ‘‘رحمت اللعٰلمین’’ (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بنا کر مبعوث کیا گیاتھا اسی لیے انہوں نے اسلام، آدم سے لیکر عیسیٰ علیہما السلام تک تمام انبیا کے دین کو ایک ایسے جامع اور ہمہ گیر مذہب کے طور پر پیش کیا جس میں غیر مسلموں کے حقوق پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے غیر مسلموں کے تئیں اپنے عالی شان رویہ اور وسیع الظرف عادات و اطور پیش کر کے رواداری، شمولیت پسندی اور محبت کی اپنی تعلیمات کو عملی طور پر پیش کیا ۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلیٰ اخلاق و کردار کا مظاہرہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلق عظیم کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، جیسا کہ سورہ قلم (68:4) میں قرآن مقدس اس کی گواہی دیتا ہے۔ ایام طفولیت سے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘محمد الامین’’ (امانت دار محمد[صلی اللہ علیہ وسلم]) کے طور پر مشہور تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نوجوانی کے ایام سے لیکر اعلان  نبوت تک اپنی شخصی خصوصیات اور اعلیٰ اخلاقی کردار کو برقرار رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت مقدسہ اس وقت بالکل عیاں ہو گئی جب اسلام کی تین سالوں تک خفیہ تبلیغ و اشاعت کے بعد اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طور پر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرنے کا حکم دیا (l5: 94)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور آپ نے بنو عبدالمطلب اور بنو فہر سے لیکر بنو کعب تک تمام لوگوں اور قبیلوں کو جمع کیا اور یہ اعلان کیا کہ: ‘‘ائے لوگو! اگر میں تمہیں یہ تباؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے جو آگے بڑھ رہا ہے اور تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟’’ تو انہوں نے بیک زبان یہ جواب دیا: ‘‘ہاں ہاں بالکل، ہم آپ کی اس بات کا پورا یقین کریں گے اس لیے کہ ہم نے آپ کو کبھی بھی جھوٹ بولتا ہوا نہیں پایا ہے’’۔

یہ تمام لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع ہوئے تھے تمام کے تمام بت پرست اور غیر مسلم تھے، لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے اعزاز و اکرام سے نوازتے تھے اگر چہ وہ کفر (حق سے انکار) میں بہت سخت تھے۔ انہوں نے پہاڑ پر ایک ایسے سچے، مخلص اور معصوم شخص کو دیکھا جو مکمل حق و صداقت، امانت داری، ایمان داری، خدمت خلق،  استحصال اور ظلم و ستم کے خلاف جد و جہد کے لیے مشہور تھا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور ایمانداری ہی تھی کہ جس نے تمام لوگوں کو ان کے بیان کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔

دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملات کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مسلم اور غیر مسلم، مؤمن اور غیر مؤمن میں کوئی فرق نہیں کیا اور  تمام کے ساتھ ہمیشہ یکساں سلوک کیا۔ انہوں نے اللہ کے اس پیغام کو ہمیشہ اپنے ذہن و دماغ میں رکھا، جو کہ ان پر نازل کیا گیا تھا کہ تمام انسان اللہ کی باگاہ میں برابر ہیں اور مرتبہ صرف انہیں لوگوں  کا بلند ہے جن کا تقویٰ زیادہ ہے: ‘‘اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو’’۔ (الحجرات، آیت 13)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ اپنے پرامن اخلاق اور انسانی عادات و اطوار کے ذریعہ عالمی اخوت اور انسانی مساوات کے اسی وسیع ترین تصور کو تقویت فراہم کیا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ترین اخلاق حسنہ کی ایک شاندار مثال وہ واقعہ ہے کہ  ‘‘ایک مرتبہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، تبھی وہاں سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازے کے احترام میں فوراً کھڑے ہو گئے۔ اس پر صحابہ نے ان سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ایک ایسے شخص کے جنازے کے احترام میں کیوں کھڑے ہوئے جو اسلام کا سخت دشمن تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘کیا وہ ایک انسان نہیں تھا؟’’

غیر مسلموں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا یہی وہ جوہر تھا کہ اسلام تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کائنات کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ آج مسلمانوں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیوں مسلمان چند سخت اصول و عقائد اور تنگ نظر معمولات پر منحصر ایک مسلک میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں اور اس راہ سے بھٹک رہے ہیں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزارنے اور جس کی تبلیغ کرنے کی تلقین فرمائی تھی۔ انہیں ایک بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ وہ صحیح  اسلام کی ترجمانی اس وقت تک نہیں کر سکتے جب وہ مکمل امانت داری، حق و صداقت، دوسرے انسانوں کی دستگیری اور فیاضی و سخاوت جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین شخصی صفات  کے حامل نہیں بن جاتے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ورشا شرما جامعہ ملیہ اسلامیہ، نیو دہلی سے تقابل ادیان میں ایم اے کر رہی ہیں اور انہوں نے یہ مضمون نیو ایج اسلام کے لئے تحریر کیا ہے۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/varsha-sharma,-new-age-islam/prophet-muhammad-s-generosity-towards-non-muslims--he-was-always-mindful-of-god-s-command-that-all-humans-are-equal-except-for-piety-and-righteousness/d/35244

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/varsha-sharma,-new-age-islam/prophet-muhammad-s-generosity-towards-non-muslims-غیر-مسلموں-کے-ساتھ-پیغمبر-اسلام-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کی-رحمت-و-شفقت-اور-دریادلی/d/35401

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content