certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (18 Dec 2017 NewAgeIslam.Com)



The Concept of Terrorism دہشت گردی کا مفہوم

 

 

 

 

باسل حجازی، نیو ایج اسلام

تہذیب، عالمگیریت، ثقافت، انتہاپسندی، قوم پرستی، جنس اور نسل کی طرح دہشت گردی بھی ایک مفہوم سے عبارت ہے جو یورپی جدیدیت کی پیداوار ہے، یہ عصرِ تنویر اور صنعتی انقلاب کا شاخسانہ ہے جس نے حالیہ یورپ اور من حیث المجموع مغرب کے فکری نظام کی آبیاری کی۔

اگر آپ دہشت گردی کی کوئی مخصوص تعریف کی تلاش میں ہیں تو میں آپ کو مایوس کروں گا، کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کالم کا مقصد دہشت گردی کی کوئی متفق علیہ تعریف تلاش کرنا نہیں ہے، اور دوسرا یہ کہ میں لغوی تعریفات واشتقاقات کا قائل نہیں جن کا عام طور پر مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئے مظاہر سموئے جائیں، اور تیسرا یہ کہ دہشت گردی کے سابقہ اور عالمگیریت زدہ حالیہ مفہوم میں بہت فرق ہے۔

دہشت گردی کے مظہر کی بیشتر ادبیات بتاتی ہیں کہ دہشت گردی کے مفہوم کی سنجیدہ تعریف کی کوشش 1934 میں کی گئی، ہارڈمین نے اس کی تعریف یوں کی کہ: یہ وہ نظریہ ہے جس کی رو سے کوئی منظم گروہ اپنے اعلانیہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی طور پر منظم تشدد کا استعمال کرتا ہے۔

تاہم آج تک تمام تر محققین، سکالر، افراد، گروہ اور حتی کہ حکومتیں اس کی کوئی متفقہ تعریف بیان نہیں کر سکیں، نتیجہ تعریفات کا ایک انبار ہے جسے اگر سرسری شمار میں بھی لایا جائے تو دو سو سے تجاوز کر جائے گا، اس صورتِ حال نے محققین کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے ان کے لیے علمیاتی (epistemology) مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

دہشت گردی سیاسی-معاشرتی جنگ کی ایک شکل ہے، اور چونکہ جنگ شروع سے لے کر اب تک اس شکل کا سب سے اہم عنصر رہا ہے لہذا زمانہ عالمگیریت میں دہشت گردی اس جنگ کی دوسری سب سے اہم شکل قرار دی جاسکتی ہے، مستقبل میں دہشت گردی کا ادراک ٹیکنالوجی سے متاثرہ عالمگیری عوامل کی وجہ سے مزید وسیع اور گہرا ہوجائے گا۔

اگرچہ تاریخی طور پر دہشت گردانہ واقعات کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں، تاہم دہشت گردی کی جدید شکل انیسویں صدی کے نصف میں ظہور پذیر ہوئی، دہشت گردی کے لیے مستعمل انگریزی لفظ Terror دراصل فرینچ سے آیا ہے جو خود لاطینی لفظ ہے اور تاریخی طور پر انقلابِ فرانس کے بعد 1795 میں میکسمیلن روبیسپیرے (Maximilien Robespierre) کی انجمنِ یعقوبی (Club des Jacobins) کے کارناموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، انجمنِ یعقوبی نے اپنی تعریف کے لیے خود اس لفظ کی تشہیر کی اور 1789–1799 کا زمانہ ❞دہشت❝ اور ❞خوف❝ کا زمانہ قرار پایا، تاہم انگریزی معنی کا ذمہ دار انگریز سیاستدان ایڈمنڈ برک (Edmund Burke) ہے جو انقلابِ فرانس اور دہشت گردی کا سخت مخالف تھا۔

امریکہ پر 11 ستمبر کے حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل اور پیچیدہ عوامل نے سیاسی دہشت گردی کے موضوع کو ایک نئی سمت عطا کی ہے اور داعش، بوکو حرام اور جبہۃ النصر جیسی تنظیموں نے جدید بین الاقوامی تعلقات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

دہشت گردی کی تاریخ بہت طویل ہے لیکن اس موضوع پر تحقیق ابھی نئی ہے، تحقیق کا یہ اہم موضوع گزشتہ تین دہائیوں میں بخوبی پھیلا ہے، اس کے باوجود کوئی مشترکہ تعریف وضع نہیں کی جاسکی، دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اقتصادی اور معاشرتی اسباب کا تعلق کافی کمزور ہے، عالمگیریت کے تناظر میں دہشت گردی کی یہ تفہیم کوئی معقولیت نہیں رکھتی یا کم از کم اسے مرکزیت حاصل نہیں ہے۔

دہشت گردی پر قانونی اور سیاسی بحث کی پہلی کوشش کی تاریخ 1937 میں لیگ آف نیشن کے سر جاتی ہے جب عالمی دہشت گردی کی کوئی خاص تعریف وضع کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس وقت کے فکری تنازعات کے سبب اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور بات اقوامِ متحدہ تک جا پہنچی جو کہ وہ بھی کوئی کارہائے نمایاں انجام نہ دے سکی، اگرچہ اس حوالے سے کوئی 12 بین الاقوامی قرار دادیں موجود ہیں، پہلی قرار داد ٹوکیو میں 1963 میں منظور ہوئی جس کا تعلق جہازوں کی ہائی جیکنگ اور سول ایوی ایشن کی سلامتی سے تھا جس کے بعد ایسی ہی دیگر قرار دادیں منظور ہوئیں۔

تاہم امریکہ پر ہونے والے 11 ستمبر 2001 کے حملوں نے گویا ٹہرے تالاب میں پتھر پھینک دیا اور کئی قرار دادیں منظور ہوئیں جس میں 12 ستمبر 2001 کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے منظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی قرار داد 1368 اور پھر اسی ماہ 28 ستمبر کو منظور ہونے والی وہ قرار داد شامل ہے جس میں امریکہ کو بغیر حدود وقیود کے دہشت گردوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی کھلی اجازت دے دی گئی۔

امریکی فلسفی اور ماہرِ لسانیات ناؤم چومسکی کے خیال میں ❞دہشت گردی کے مفہوم کا انحصار اس بات پر ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کیا کرتے ہیں، ہم ان کے ساتھ جو کچھ بھی کریں چاہے وہ کتنا ہی وحشیانہ کیوں نہ ہو وہ دہشت گردی نہیں، جب تک طاقتور تاریخ لکھتے رہیں گے تاریخ کا یہی قانون رہے گا۔❝

یہ سچ ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر مبہم تعریفوں پر مبنی قوانین کا انبار تخلیق کیا گیا اور پھر عالمی پیمانے پر دہشت گردی کے خطرات کو ڈرانے، لوگوں کا منہ بند کرنے، شخصی آزادیوں کو سلب کرنے یا اپوزیشن کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ نے خوف اور لوگوں کی جاسوسی کو باقاعدہ ایک صنعت کی شکل دے دی ہے جس سے لوگوں کے درمیان بھروسے اور اخوت جیسی انسانی اقدار متزلزل ہوئی ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں افراد کی شخصی اور جمہوری آزادیاں متاثر ہوتی ہیں، یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ بعض شخصی آزادیوں اور جمہوری اقدار کی قربانیاں مانگتی ہے جو کہ مغرب میں عالمگیریت کی اساس ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ اس جنگ میں عوام الناس کی آزادی کا خیال رکھا جائے، اور ساتھ ہی یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مفہوم کو مزاحمت سے الگ رکھا جائے تاکہ دونوں میں ابہام پیدا نہ ہو۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/basil-hijazi,-new-age-islam/the-concept-of-terrorism--دہشت-گردی-کا-مفہوم/d/113598

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content