certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (19 Sep 2018 NewAgeIslam.Com)



Defeating Islamism and Jihadism جنیوا میں سلطان شاہین کا خطاب: اسلامزم اور جہادزم کی شکست کے لیے امن و شانتی ،باہمی رواداری اور جنسی انصاف پر مبنی اسلامی تھیولوجی کی تشکیل لازمی

 

 

 

 سلطان شاہین ،  فاؤنڈنگ ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

 14 ستمبر 2018

 تقریری بیان ،  اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل، جینیوا کا 39واں ریگولر سیشن۔ ( منعقدہ 10 تا 28 ستمبر 2018)

 جنرل ڈیبیٹ ، آئٹم نمبر3، حق ترقی سمیت شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی ثقافتی جیسے تمام حقوق کا فروغ اور ان کا تحفظ

 سلطان شاہین ، فاونڈنگ ایڈیٹر نیو ایج اسلام

 منجانب ایشین یوریشین ہیومن رائٹس فورم

 جناب صدر،

 دہشت گردی کے خلاف جنگ چھڑے ہوئے ۱۷ سال ہو چکے ہیں لیکن اب تک ہم اسلام کے نام پر ہونے والی  دہشت گردی کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔ جہادی اور اسلامسٹ تنظیمیں اب بھی مسلم نوجوانوں کو اپنی چپیٹ میں لے رہی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر اسلامزم اور جہادزم کے نظریات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔

 مسلمانوں کی اکثریت اسلام کو ابدی نجات کا ذریعہ مانتے ہیں۔ اسلام کا مقصد قیام امن ہے ، ہم آہنگی پیدا کرنا ہے ،  بقائے باہمی کی راہ ہموار کرانا ہے  اور معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ متعدد تاریخی محرکات کی بناپر اسلامی تھیولوجی  جو کہ آٹھویں اور نویں صدی میں تیار کی گئی، اس میں اسلام کوتفوق پرستی ، اجانب بیزاری، عدم رواداری اور جنسی بھید بھاؤ پر مبنی ایک سیاسی اور مطلق العنان نظریے کے طور پر پیش کیا گیا۔  مدرسوں میں تشدد، علیحدگی پسندی اور دنیا کو مغلوب کرنے پر مبنی فقہی تعلیمات دی جاتی ہیں اور اسی سے اسلام پرستی کے رجحان کو تقویت فراہم ہوتی ہے۔ لیکن یکساں طور پر، پرامن مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف اسلامزم کے تشدد کے باوجود امت کی توجہ ایک جوابی بیانیہ تیار کرنے پر مرکوز نہیں ہوئی۔

یہ بات اب ناگزیر ہو چکی ہے کہ جن مسلم ملکوں نے یو این چارٹر پر دستخط کئے ہیں وہ فوری طور پر اس مسئلے کی طرف متوجہ ہوں اور امن،تکثیریت پسندی اور انصاف پر مبنی نئی تھیولوجی  تیار کرنے کی طرف قدم بڑھائیں۔ پہلے موروکو اور اب سعودی عرب جیسے مختلف ممالک اس سمت میں قدم آگے بڑھاتے ہوئے معلوم پڑتے ہیں جبکہ جس ملک نے اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کئے ہیں وہ ترکی ہے۔ ایک دہائی تک مسلسل کدو کاوش کے بعد سو ترکی علماء نے دس ہزار میں سے مستند احادیث کی تعداد سولہ سو متعین کی ہے ، ان میں سے ہر ایک حدیث کا سیاق و سباق متعین کیا ہے اور ان کی موزوں تعبیر و تشریح بھی انہوں نے پیش کی ہے۔ اور یہ کتاب ترکی کی تمام مسجدوں کو بھیجی گئی ہے، اور مجھے امید ہے کہ یہ کتاب عالمی سطح پر امت مسلمہ کو ان کی ان کی زبانوں میں جلد ہی فراہم کر دی جائے گی۔

 موجودہ  اسلامی تھیولوجی  آج اکیسویں صدی کی مخلوط اور تکثیریت پسند معاشروں میں زندگی کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔جنوبی ایشیائی برصغیر کے ایک شاعر اور مفکر علامہ اقبال نے تقریبا ایک سو سال پہلے ہی اسلام میں مذہبی افکار و نظریات کی تعمیر نو کی دعوت دی تھی۔ اب ہمیں ان خطوط پر کام شروع کر دینا چاہیے۔

 لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کی موجودہ صورتحال کے اسباب و علل کیا کیا ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے درمیان موجود علمائے  اسلام اگرچہ مسلح جہادیوں کی حمایت نہیں کرتے ، لیکن ان کی ان ہیبت ناک تباہیوں کے  باوجود جن میں خود ہزاروں مسلمانوں کی جانیں گئیں ہیں ، روادار ہو چکے ہیں، نائن الیون جیسے حادثات اور یوروپ اور نارتھ امریکہ کے متعدد شہروں میں تشدد اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی تو بات ہی چھوڑئیے۔

 نام نہاد‘‘ اسلامی ریاست’’  جو کہ اپنی ظالمانہ اوروحشیانہ کاروائیوں کو ہیبت ناک انداز میں براڈ کاسٹ کرنے کے لیے مشہور ہے ، عراق اور شام کے علاقوں سے اس کا تسلط ختم تو ہو چکا ہے لیکن افریقہ اور ساؤتھ ایشیاء میں اس کے نظریات مضبوط ہوتے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ اگر چہ القاعدہ مغلوب ہو چکا ہے لیکن ابھی ختم نہیں ہوا ہے؛  یہ اب بھی مسلم نوجوانوں کے مختلف طبقات کو نظریاتی طور پر متاثر کر رہا ہے۔ طالبان کہ جس نے افغانستان میں القاعدہ کو جنم دیا ہے ، پھر سے اپنا سر ابھار رہا ہے اور آہستہ آہستہ عالمی برادری اب یہ ماننے کو تیار ہو چکی ہے کہ کابل کے حکومتی نظم و نسق میں ان کا بھی اختیار ہونا چاہئے جہاں سے انہیں نائن الیون حادثے کے بعد 2011 میں بے دخل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد ، افریقہ میں بوکوحرام اور الشباب اور انڈونیشیاء میں الجماعۃ الإسلاميۃ جیسی  دہشت گرد جماعتیں عالمی سطح پر اپنی جڑی مضبوط کر رہی ہیں۔

جناب صدر،

ہو سکتا ہے کہ 11/9 سے ہی عالمی برادری اسلامی انتہا پسندی کے معاملات میں ملوث ہو، لیکن یہ بنیادی طور پر اسلام کے اندر نظریات کی جنگ ہے جو صدیوں سے چل رہی ہے۔ اللہ اور اس کے پیغمبر دونوں کی منشاء یہ  ہے کہ مسلمان اعتدال پسند، انصاف پرست اور متوازن امت بن جائیں۔ قرآن کی آیت 2:143 میں اللہ نے اس امت کو امۃ وسطا کہا ہے۔ قرآن کریم کی کئی آیات اور متعدد احادیث میں مسلمانوں کو کبھی بھی انتہاء پسندی کا راستہ اختیار نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ نماز اور روزہ جیسی مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بھی نہیں۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر ان لوگوں کے حق میں اپنے غصے کا اظہار فرمایا جنہوں نے پورے دن اور پوری رات نماز ادا کرنے ، مسلسل پورے ہفتے روزہ رکھنے ، شادی سے بچنے اور اپنی شہوت کو کنٹرول کرنے اور بستر پر سونے سے بچنے کے لئے گوشت سے پرہیز کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

اور 632 (عیسوی) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فورا بعد ہی انتہا پسندوں نے ابھرنا شروع کر دیا اور انہوں نے خود ہی یہ فیصلہ کرنا بھی شروع کر دیا کہ کون مسلمان ہے اورکون  مرتد اور کون  مشرک کون اور کون کافر ؟ یہاں تک کہ انہوں نے بزعم خویش کافروں اور گستاخوں کو سزا دینا اور قتل کرنا بھی خود ہی شروع کر دیا۔ ایسا کرنے والا پہلا گروہ خوارج کا تھا انہوں نے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سمیت ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا، آج اسلام کے تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والی ہماری مذہبی کتابوں میں ایسی ہزاروں بنیادیں بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر ایک مسلمان کو کافر، مشرک یامرتد قرار دیا جاسکتا ہے اور اسے موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

یہ نظریات انفرادی طور پر ان مسلمانوں کو بھی بااختیار بناتے ہیں جو ان مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے کفر یا گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔ خدائی انصاف جو کہ قیامت کے دن خدا کی طرف سے کیا جانا تھا اس کا اجراء اسی دنیا میں وہ افراد کر رہے ہیں جنہیں ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ’ جیسے الٰہی حکم کے مجاز ہونے جیسے بنیاد پرست نظریات کے ذریعہ برین واش کیا گیا ہے۔

قرآن، حدیث، اور کلاسیکی فقہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام میں اسلامی ریاست کا کوئی تصور نہیں ہے ، جبکہ صرف کسی مسلم ریاست کا ایک جائز حکمران ہی کسی بھی قسم کے تشدد کا فیصلہ لے سکتا ہے خواہ وہ کسی دوسری ریاست سے جنگ کی صورت میں ہو خواہ وہ کسی فرد کے خلاف ہو انصاف کرنے کے لئے۔ کلاسیکی فقہ میں کسی بھی فرد کو یا کسی بھی جماعت کو اپنی مرضی سے کسی بھی قسم کے تشدد کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لیکن آج امت اسلام کے نام پر متعدد شکلوں میں تشدد کے حوالے سے رواداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک دہشت گرد اپنے عمل کے جواز میں قرآن یا حدیث سے کوئی اقتباس حوالے کے طور پر پیش کر دیتا ہے ، جس کا واقعے کے سیاق و سباق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور بس اس کی ذلیل حرکت معاف کر دی جاتی ہے۔  آخر کار اسامہ بن لادن پر کبھی بھی ارتداد اور گستاخی کا فتوی نہیں لگایا گیا ، جبکہ ہندوستان کے سرسید احمد خان(1898-1817) جیسے مشہور مذہبی اصلاح پسندوں پرہندوستان کے دیوبندی علماء اور یہاں تک کہ مکہ میں خانہ کعبہ کے متولی نے بھی کفر و ارتداد کے سیکڑوں فتوے جاری کئے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم ممالک کے مختلف خطوں میں اختلاف رائے رکھنے والوں اوراصلاح پسندوں کو بعض افراد اور جماعتیں اب بھی قتل کر رہی ہیں۔ نام نہاد اسلامی ریاست کے سرغنہ البغدادی کے اس بیان بیان کا کہ‘‘اسلام کبھی ایک دن کے لیے بھی امن کا مذہب نہیں رہا ہے‘‘، پورے دنیا کے مسلم علماء نے ایک سناٹے دار خاموشی کے ساتھ استقبال کیا۔

 جناب صدر،

 اس بڑھتی ہوئی اسلامزم کی  انتہا پرستی کے حوالے سے سرد مہری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کچھ اعلی تعلیم یافتہ مسلم اب یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ، ‘‘کیا ہوا اگر ایک سال کے اندر 86 ممالک سے تیس ہزار مسلمانوں نے اسلامی ریاست میں شمولیت اختیار کی؟ 1.7 بلین لوگوں کی برادری میں ان کی شرح کتنی ہے؟! اس قدر چھوٹی اور محدود تعداد کو بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے ثبوت کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟’’۔ عقل حیران ہے  کہ ایسے مفکرین اور اہل علم کو کیسے جواب دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان کو یہ لگتا ہے کہ ایک انسانی بم کی شکل میں مسجد کے اندر جانے اور خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو دوران نماز دھماکے سے اڑا دینے پر خدائی انعام حاصل ہوگا ، تو امت کے لیے یہ ضرور لمحہ فکریہ ہے  کہ ہمارے مذہب میں ایسا کیا ہے جس کی آڑ میں  دھشت گرد تنظیمیں اس طرح کے گھنونے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، کیا ایسا کرکے وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔امت کے لیے یہ یقینا غور کا مقام ہے ۔ امت کو سوچنا چاہیے  کہ تشدد  میں نمایاں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، حتی کہ دہشت گردانہ جرائم  کے سینکڑوں واقعات کے باوجود بھی ہم بے حسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ہر روز دنیا کے کسی نہ کسی حصہ سے  دہشت گردی کے واقعہ کی خبر ملتی ہے لیکن ہمیں اس کی فکر کہاں ، ہمیں تو بے حس ہی بنے رہنا ہے !!

 جس شخص نے پاکستانی پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو توہین رسالت  کی ملزمہ ایک عیسائی خاتون کے لئے اظہار ہمدردی پر قتل کیا اسے ایک ولی کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کی پھانسی کے بعد پاکستان کے صوفی بریلویوں نے اس کے نام پر ایک درگاہ تعمیر کی ہے جہاں ہزاروں لوگ روزانہ حاضری دیتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں سرخروئی حاصل کرنے کے لئے اللہ کی بارگاہ میں اس سفاک قاتل کا وسیلہ پیش کرتے ہیں۔

 مذہب کے نام پر انجام دیے جانے والے ان جرائم کو عزت و حرمت کی نگاہ سے دیکھنے کی بنیاد کیا ہے؟ اسلام کے نام پر انجام دیے جانے والے جرائم کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم کر لیے جانے اور ان کے حوالے سے بے اعتنائی برتنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے  پیغمبراسلام محمد صلی علیہ سلم کی وفات کے دو سو سال کے بعد فورا ہی نویں صدی عیسوی میں معتزلہ  کی شکست کے بعد سے ہی سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔ علماء نے مسلمانوں کو اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کے لیے کہا جو کہ اسلام کے اندر تخلیقی سوچ و فکر کا ایک بنیادی اصول ہے ، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اجتہاد کا سلسلہ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے سے چلا آ رہا ہے جو پیغمبر اسلام محمد صلی علیہ وسلم کی وفات کے دو سال بعد تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔

 جناب صدر،

 اجتہاد کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد بھی امت کے ایک بڑے طبقے کی منظوری کے بغیر ہی انفرادی طور پر اجتہاد کا سلسلہ جاری رہا۔ دین کے اندر امت کے لیے کوئی نئی بات  اسی وقت قابل قبول ہوتی ہے جب علماء اسے تسلیم کرلیں۔ مثال کے طور پر حج پر جانے کے لیے تصویر کا استعمال ، تلاوت قرآن کے لئے لاوڈ اسپیکر یا ریڈیو کا استعمال یا دعوتی اور تبلیغی مقاصد کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال۔ لہذا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک طویل اور پراذیت بحث و تمحیص کے بعد ہمارے علماء کے اندر کچھ عقلی اور فکری شعور بیدار ہوتا ہے۔  معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علماء کے ذہن کے دریچےکووا ہونےمیں جتنا وقت لگتا ہے وہ بھی قلیل ہوتا جا رہا ہے۔ خلافت عثمانیہ کے علماء کو یورپ سے پرنٹنگ پریس کی درآمدگی کی اجازت دینے میں تقریبا چار صدیاں لگ گئیں لیکن انہیں پاسپورٹ سائز فوٹو گراف ،  لاوڈ اسپیکر ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کی اجازت دینے میں صرف چند دہائیاں ہی لگیں۔

 ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ کیوں اسلامی دنیا جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ دنیا پوری تیزی کے ساتھ ترقی کے مراحل طے کررہی ہے۔  ایک سیریائی شاعر علي أحمد سعيدأدونيس (1930عیسوی) نے اسے ‘‘معدومی کا ایک دور قرار دیا ہے، اس معنیٰ میں کہ دنیا سے تخلیقی سوچ و فکر معدوم ہو چکی ہے’’۔ تیونس کے مفکرعبد الوهاب المودب (2014–1946) نے یہ پیشن گوئی کی کہ ‘‘اسلامی معتقدات کے فریم ورک میں جکڑی ہوئی عرب تہذیب ایک عظیم ترین مردہ تہذیب میں تبدیل ہوجائے گی’’۔ المودب اسلامی معتقدات کی کن رکاوٹوں کی بات کر رہے ہیں؟  کیا آپ یہ گمان کر سکتے ہیں کہ صدیوں تک پوری انسانی آبادی کے ایک تہائی حصے پر حکومت کرنے والی خلافت عثمانیہ (1924–1517) نے قرآن وحدیث کی تشہیر و اشاعت کی غرض سے بھی پرنٹنگ پریس کی درآمدگی پر  پابندی لگا دی تھی ، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مذہبی علماء کو یہ لگا کہ ہر نئی ایجاد شیطان کا کام ہے۔شاید ہمارے مذہبی علماء کو یہ خیال گزرا ہو کہ اللہ نے مذہب اسلام کو نازل کرنے کے بعد اپنی تخلیقی صلاحیت کو کھو دیا ہے اور اب صرف شیطان ہی کوئی نئی چیزایجاد کر سکتا ہے۔ در حقیقت ہمارے علماء کا تو خیال یہ ہے کہ قرآن بھی اللہ کی مخلوق نہیں ہے بلکہ یہ غیر مخلوق اور ابدی و ازلی ہے اور لوح محفوظ میں ابدالاباد کے لئے موجود ہے۔  اللہ نے صرف پہلے سے موجود قرآن کو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے ساتویں صدی عیسوی میں انسانیت کے اوپر نازل کیا۔ خلق قرآن کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے جس کی وجہ سے آٹھویں اور نویں صدی کے علماء کے درمیان ایک زبردست تنازعہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں معتزلی علماء کو شکست ہوئی۔ معتزلیوں نے یہ کہا کہ قرآن کو ایک خاص وقت میں اللہ نے خلق کیا ہے ،  اور یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ساتویں صدی کے ابتدائی عرب دور میں بدلتے ہوئے حالات کے اندر مسلمانوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے لیے وقتافوقتا نازل ہونے والی آیات کا مجموعہ ہے۔ لہذا بہت ساری ایسی آیات ہیں جو ایک خاص سیاق و سباق کے ساتھ مخصوص ہیں اور ان کا انطباق دوسرے سیاق و سباق میں نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن قدامت پسند اور لفظ پرست علماء نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن بھی خدا کی طرح منفرد ہے اور اسی کی مثل ابدی اور ازلی ہے ، اللہ نے قرآن کو صرف نازل کیا ہے ، بدلتے حالات کے مطالبات کے پیش نظر اس کی تخلیق نہیں کی ، اور اس کا مفاد یہ ہے کہ اس کی تمام آیتیں ابدالاباد کے لیے قابل نفاذ ہیں۔

 یہاں تک کہ امام ابو الحسن الاشعری جو کہ ایک معتزلی رہ چکےتھے ، انہوں نے چالیس سال کی عمر میں قدامت پرستوں کا خیمہ اختیار کر لیا ، اگرچہ انہوں نے اپنے مدعا کی  تائید و توثیق کے لیے معتزلہ کا ہی طرزاستدلال جاری رکھا۔ لیکن لفظ پرست حنبلی مکتبہ فکر میں خود اپنے ہی مدعا کی تائید و توثیق کیلئے عقل و استدلال کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ لہذا معتزلہ کے سخت مخالفین حنبلیوں اور اشعریوں نے اپنا اپنا ایک الگ مسلک تیار کرلیا۔

قرآن کے غیر مخلوق ہونے کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں وہ تمام واقعات و حالات جن کی وجہ سے ساتویں صدی کے اوائل دورِ عرب میں پیغمبر اسلام اور ان کے صحابہ کی دینی اور تبلیغی جدوجہد میں رہنمائی کے لیے نازل ہوا ، وہ پہلے سے متعین تھے اور پہلے سے ان حالات و واقعات کی منصوبہ بندی اس لیے تھی تاکہ نزول قرآن کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کی ان کا کام ہی یہی تھا اور جنہوں نے جی جان سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی یہاں تک کہ وہ آپ کے قتل کے بھی درپے ہوئے ، وہ صرف اللہ کے حکم کی مرضی پوری کر رہے تھے۔ اور کس طرح پہلے سے ہی موجود کوئی قرآن نازل کیا جا سکتا ہے؟

 اسلام کی اس تفہیم سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی بھلا یا برا ہوتا ہے وہ پہلے سے ہی مقدر ہے۔  معتزلی علماء کا یہ اعتراض تھا کہ جب ایسا ہے تو ثواب و عذاب کا کیا مطلب؟ اگر خدا لوگوں کو انہی کاموں کی سزا دینے لگے جو وہ خود چاہتا ہے کہ لوگ کریں تو پھر خدا منصف ، مہربان اور رحمان و رحیم کیسے ہوا؟ دین کے معاملے میں عقل و استدلال کی مخالفت کرنے والے حنبلی ، اشعری ، ماتریدی ، ظاہری ، مجسمی اور محدثین تمام نے یہ کہا کہ خدا قادر مطلق ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انصاف اور اخلاقیات کے اصول خدا پر نافذ کرنا اس کے اختیارات کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا اور ایسا نہیں کیا جاسکتا۔  خدا نہ تو انصاف پرور ہے اور نہ ہی عقلمند۔ وصرف قدرت اور اپنی مرضی کا مظہر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ خدا کائنات کا ایساں پہلا اور واحد مسبب ہے جس کا کوئی بھی مسبب نہیں۔ خدا جب کچھ کرنا چاہے تو اسکے لیے نہ کوئی مسبب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی محرک ، بس اس کی مرضی ہوتی ہے اور وہ جو کرنا چاہے کر گزتا ہے۔

8 ویں اور 9یں صدی (عیسوی) کے اندر شعلہ بار فقہی مباحث میں دونوں گروپ نے آیات قرآنیہ کا حوالہ پیش کیا۔ عقل و استدلال کی مخالفت کرنے والی جماعت نے بھی احادیث (جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاقول تصور کیا جاتا ہے، اگرچہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی تین صدیوں بعد جمع کیا گیا) کا حوالہ پیش کیا۔ اور ان مباحث میں قرآن کی کچھ آیتیں بھی پیش کی گئی،  جنہیں اس تقریری بیان کے آخر میں دیکھا جا سکتا ہے۔)

 عقلیت پسند جماعت معتزلہ کی شکست اور انکی کتابوں کو جلائے جانے کے ڈیڑھ صدیوں بعد امام غزالی (1111-1058) نے حنبلی ، اشعری اور ماتریدی مکاتب فکر پر مشتمل اجماع کا اسلامی اصول اس انداز میں پیش کیا ، اور انہوں نے مندرجہ ذیل بات اللہ سے منسوب کی:

‘‘ وہ جہنم میں ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اور وہ جنت میں ہیں، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں’’۔

اس فکر کا رد  ابن رشد (1198-1126) نےاپنی مشہور کتاب " Incoherence of the Incoherence" میں کیا۔ اس میں امام غزالی کی کتاب ‘‘تهافت الفلاسفة’’ کی نقطہ وار تردید تھی۔ لیکن ابن رشد کی کتابوں کو مسلم اسپین میں (1195) میں نظر آتش کر دیا گیا تھا اور خود انہیں جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کی کچھ کتابیں صرف اس وجہ سے محفوظ رہ گئی کہ پہلے ہی ان کا ترجمہ یورپین زبانوں میں کیا جا چکا تھا اور ان کے حامی بھی کافی ہو چکے تھے ، اگرچہ ان کے نظریات کی تردید 1270 اور 1277 میں کیتھولک چرچ نے بھی کی تھی۔ چرچ کی مخالفت کے باوجود عیسائی یوروپ میں ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ‘‘unity of the intellect’’ پر ان کی فکر بنی ، جس کا مدعا یہ تھا کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہی جیسی ہے۔ جس کے نتیجے میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ ہوئی اور مسلم دنیا نے خود کو تاریکی میں ڈال دیا جس سے ابھرنا ابھی باقی ہے۔

جناب صدر،

قرآن وحدیث کی عقل و استدلال کی روشنی میں تفسیر وتعبیر کرنے کی بجائے  اس کی لغوی فقہی نظریہ کے تحت تشدد ، اجانب بیزاری ، عدم رواداری اورجنسی ناانصافی مقبول عام و خاص بن گئی۔  بیسویں صدی میں حسن البنا ، سید قطب ، سید ابو الا علی مودودی ، اور بعد میں القاعدہ اور داعش جیسی جماعتوں کے نظریہ ساز اس معاملہ میں   کلاسیکی فقہاء سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے جنہوں نے دین کی ایسی تعبیر پیش کی جس میں اس دنیا پر اسلام کو فاتح کرنے کی مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری کے نام پر بہیمانہ اور ظالمانہ دہشت گردی کا جواز نکالا گیا۔ آج غیر مسلموں کی اکثریت والے مغربی ممالک  کی بھی مسجدوں میں امام غیر مسلموں پر لعن طعن کرتے ہیں اور اپنے جمعہ کے خطبات میں ان کی شکست اور اسلام کی فتح کے لیے دعا کرتے ہیں۔ 7ویں صدی عیسوی کی جنگی صورتحال والی عربی ذہنیت اب بھی زندہ ہے۔

 کلاسیکی فقہ میں ریاست کے حکم پرجہاد یا قتال کو فرض کفایہ مانا جاتا تھا ، یعنی یہ ایک ایسی مذہبی ذمہ داری تھی کہ جسے امت کے کچھ لوگوں نے اگر اپنی خوشی سے ادا کردی تو دیگر سارے لوگ بھی اس ذمہ داری سے بری ہو گئے۔ اورخارجی حملے کی صورت میں ملک کے دفاع کے لئے اسے فرض عین مانا گیا تھا ، یعنی یہ ہر مستطیع مسلم پر انفرادی طور سے ایک مذہبی فریضہ تھا۔ لیکن اس میں بھی اصول وہدایات اور ایک ریاست کی ضرورت تھی۔ لیکن جدید اسلامی نظریہ سازوں نے جارحانہ جہاد یا دوسرے الفاظ میں دہشت گردی کو تمام مسلم افراد کے لئے فرض عین قرار دیا ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے اس طرح کی جنگ کے حکم کے لیے ایک جائز مسلم ریاست کی ضرورت کو بھی ختم کر دیا۔

 اسلامی فقہ اور عقائد کی کتابوں کا استعمال تقریبا ہر طرح کے مواقع کی تائید کے لئے کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ ان کا استعمال ایسےنظریات کی بھی تائید و توثیق کیلئے کیا جا سکتا ہے جو باہم ایک دوسرے سے متضاد ہوں ، جیسا کہ ہم نے اوپر معتزلہ ، حنبلی اور اشعریوں کے مابین بحث و تمحیص میں ملاحظہ کیا۔ اور ایسے عوام ان باتوں کو تسلیم کر لیتے ہیں جنہیں صدیوں سے یہی بتایا جارہا ہوں کے صرف غوروفکر کرنا ہی کفر یا ارتداد ہے ( الفکر کفر)۔

 جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالا میں معتزلہ کی طرف سے پیش کئے گئے قرآنی اقتباسات میں یہ مشاہدہ کیاکہ اللہ مسلمانوں کو بار بار غوروفکر کرنے، مشاہدہ کرنے اور سیکھنے وغیرہ کا حکم دیتا ہے۔ بعض مقامات پر اللہ برہمی کا اظہار فرماتے ہوئے مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے؟ مثال کے طور پر اس آیت کریمہ کو دیکھیں۔

 ‘‘بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں’’۔ 8:22

 اور یہاں ہم ہیں کہ بحیثیت امت ایک ہزار سال سے یہ مانتے چلے آرہے ہیں کہ صرف غور و فکر کرنا ذات وحدہٗ لا شریک کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ آج ہم اس مقام پر اس لئے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ہم نے تشدد اور علیحدگی پسندی کی طرف لے جانے والی الفکر کفر کی مروجہ فقہ کو تسلیم کرلیا ہے۔ اندھی تقلید نویں صدی عیسوی سے ہی ہمارا شیوہ  رہاہے۔ درحقیقت وہ سلفی وہابی جو خود کو غیر مقلد کہتے ہیں وہ بھی فقہ حنبلی ، ابن تیمیہ اور محمد ابن عبدالوہاب کہ فقہی نظریات کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔

 جناب صدر، مجھے امید ہے کہ  اقوام متحدہ کے منشور پر دستخط کرنے والے تمام مسلم ممالک دہشت گردی کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں گے ،  اجماع کی ہماری موجودہ تقلیدی فقہ سے اس کے روابط کو سمجھیں گے اور امن ، تکثیریت پسندی اور جنسی انصاف پر مبنی نئی اجتہادی تھیولوجی تیار کرنے میں سنجیدگی سے کوشش کریں گے اور مدرسوں کے نصاب کی تجدید بھی کریں گے۔ نئی تھیولوجی مزید عقلیت پسند ، باہم مربوط اور داخلی طور پر ہم آہنگ ہونی چاہیے جس پر تدریجا عالمی مسلم برادری کا اجماع قائم ہوسکے۔

 شکریہ، جناب صدر۔

......................................

 ضمیمہ 1

 معتزلہ کا ایک معقول اور انصاف پرور خدا کا تصور اور عقل و استدلال کی حوصلہ افزائی قرآن کی مندرجہ ذیل آیات اور اس جیسی دیگر آیات سے ثابت ہوتی ہے:

‘‘بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں’’۔ (8:22)

 قرآن اپنی آیتوں کو ’’اس قوم پر واضح کرتا ہے جو غور و فکر کرتی ہے، اور اس قوم کو تنبیہ کرتا ہے جو عقل اور فہم و فراست کا استعمال نہیں کرتی‘‘۔ ( مثال کے طور پر سورہ بقرہ کی آیت2:164، سورہ المائدہ کی آیت5:58، سورہ الرعد کی آیت13:4، سورہ النحل کی آیت16:12، اور سورہ مریم کی آیت95-19:93، کا مطالعہ کیا جائے)

‘‘اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالنا ہے جنہیں عقل نہیں’’۔(10:100)

‘‘ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں’’۔ (2:164) 

‘‘یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں’’۔ 38:29

‘‘اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے اجالے میں لا، اور انہیں اللہ کے دن یا د دِلا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو’’۔ (14:5)

‘‘بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا اس میں سخت آنچ (نقصان) اور لوگوں کے فائدے اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے’’۔ (57:25)

‘‘اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے’’۔ (21:107)

‘‘ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اجالے میں لا ؤ ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے’’۔ (14:1)

‘‘اور بیچ کی راہ ٹھیک اللہ تک ہے اور کوئی راہ ٹیڑھی ہے اور چاہتا تو تم سب کو راہ پر لاتا’’۔ (16:9)

.......................

 ضمیمہ 2

حنابلہ ، اشاعرہ  اور ماتریدیہ کے  معتقدات کے مطابق اللہ تعالی قادر مطلق ہے ، خود مختار ہے ، ہر چیز اس کے ارادہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے، اس کی ذات عقل وانصاف کے دائرہ تک محدود نہیں۔وہ درج ذیل قرآنی آیات اور اس جیسی دیگر آیات کی روشنی میں ان عقائد کو ثابت کرتے ہیں (اس کے علاوہ وہ بہت سارے احادیث کو بھی پیش کرتے ہیں بالخصوص متواتر احادیث  جنہیں تقریبا وحی کی مثل قطعیت کا درجہ حاصل ہے ) میں یہاں حدیث کو نقل نہیں کر رہا  بلکہ بتانا مقصود یہ ہے کہ قرآنی آیات کے علاوہ احادیث کی ایک لمبی تعداد ہے جو اشاعرہ ، حنابلہ اور ماتریدیہ کے پیش کردہ معتقدات ونظریات کو ثابت کرتے ہیں:

 ‘‘اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، اور ضرور تم سے تمہارے کام پوچھے جائیں گے’’۔ (16:93)

‘‘اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے گویا کسی کی زبردستی سے آسمان پر چڑھ رہا ہے، اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو’’۔ (6:125)

‘‘اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا’’۔ (2:257)

‘‘یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کا فروں کے دلوں پر’’۔ (7:101)

‘‘اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانٹ میں ٹینٹ (روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں’’۔ (6:25)

‘‘اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب’’۔ (2:7)

‘‘ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا’’۔ (2:10)

‘‘کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے’’۔ (5:40)

‘‘اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے’’۔ (5:18)

‘‘اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزادے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے’’۔ (2:284)

‘‘ہمیشہ جو چاہے کہ لینے والا’’۔(85:16)

‘‘اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرے’’۔ (14:27)

URL: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-founding-editor,--new-age-islam/defeating-islamism-and-jihadism--evolve-a-new-theology-of-peace,-pluralism-and-gender-justice,-sultan-shahin-asks-muslim-states-at-unhrc-in-geneva/d/116379

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/defeating-islamism-and-jihadism--جنیوا-میں-سلطان-شاہین-کا-خطاب--اسلامزم-اور-جہادزم-کی-شکست-کے-لیے-امن-و-شانتی-،باہمی-رواداری-اور-جنسی-انصاف-پر-مبنی-اسلامی-تھیولوجی-کی-تشکیل-لازمی/d/116416

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content