certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (07 Aug 2019 NewAgeIslam.Com)



Sectarianism under the Guise of Kashmir کشمیر کی آڑ میں فرقہ واریت


شکیل شمسی

7اگست،2019

اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے مہاراجہ کو کشمیر کا ہندوستان سے الحاق کرنا پڑا تھا تو وہاں کے عوام تین طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک طبقہ آزاد ریاست،دوسرا طبقہ پاکستان کے ساتھ انضمام اور تیسرا طبقہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا خواہاں تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک کشمیر ان ہی تین طبقوں میں بٹا ہوا ہے۔ میری بات کا ثبوت ہے کہ آزادی، علاحدگی اور پاکستان سے انضمام کے بارے میں تمام دہشت گردانہ واقعات اور پر تشدد مظاہرے وادیئ کشمیر کے صرف آٹھ نو شہروں تک ہی محدود رہے ہیں۔ آپ نے نہ تو کبھی کرگل میں ہنگامہ آرائی کی بات سنی ہوگی۔ نہ آپ نے لداخ میں کبھی کسی قسم کی شورش دیکھی ہوگی اور نہ ہی جموں ریجن کے کسی علاقے میں فوج پر پتھر بازی کرتے ہوئے کسی مسلم نوجوان کو دیکھا ہوگا۔ آپ نے یہ کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کٹھوعہ، پونچھ، راجوری، اور ڈوڈہ جیسے علاقوں میں ہندوستان کے خلاف کوئی مظاہرہ ہوا ہو جب کہ ان میں سے کئی مقامات مسلم اکثریتی ہیں۔ تمام قسم کی ہنگامہ آرائی سرینگر، بڈگام، شوپیان، پلوامہ، اننت ناگ، بار ہمولہ،کلگلام، گاندربل او ربانڈی پورہ تک ہی محدود رہتی ہے۔ ان ہی مقامات کو ہندوستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے حالانکہ وہاں بھی ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جو نہ تو مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں اور نہ اپنے بچوں کو پتھربازی کرنے کی اجازت دیتے ہیں، یہ طبقہ ایسا ہے جو پاکستان کے ساتھ الحاق کے تصور کو خود کشی کے مترادف اور ہشت گردی کوحرام اور اسلام کی بدنامی کا باعث سمجھتا ہے۔ ان علاقوں میں کشمیری دہشت گردوں نے حالات ایسے بگاڑے ہیں کہ آج عام کشمیری اپنے بچوں کو مسجدوں میں بھیجتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں۔ کچھ ماہ قبل میرے ایک دوست کشمیر سے آئے توباتوں باتوں میں کہہ گئے کہ کشمیر کے حالات اتنے خراب کر دیئے گئے ہیں کہ ہم اپنے بیٹے کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے اکیلے نہیں بھیج سکتے۔ہم کو اس خوف سے ساتھ جانا پڑتا ہے کہ کہیں بچے کو اکیلا پاکر دہشت گردوں کا ایجنٹ گمراہ نہ کردے، کہیں پتھر بازوں کے گروہ اپنے ساتھ پتھراؤ کر نے پر مجبور نہ کردیں او راگر ان سے ہمارا بیٹا بچ بھی جائے تو کچھ عجب نہیں کہ پولیس والوں کے ہتھے چڑھ جائے۔یہ بات سن کر لگا کہ کشمیر کے عام لوگ تشدد اور دہشت گردی سے خود کو الگ رکھنا چاہتے ہیں، مگر ان کی مددکرنے والا کوئی نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کا فرقہ پرست طبقہ اور گمراہ کرنے والامیڈیا ایسے کشمیریوں کا درد سمجھنے کے بجائے سب پر دہشت گردی لیبل لگا دیتا ہے۔

 ہندوستان سے محبت رکھنے والے مسلمان کشمیریوں کو یکسر فراموش کر کے وطن سے وفاداری کو صرف کشمیری پنڈتوں سے جوڑا جانا بھی اسی طرز عمل کا ایک نمونہ ہے۔ کوئی ایسے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا جو علاحدگی پسندی کی کسی تحریک میں شامل نہیں ہوتے۔ کوئی بھی ہندوستانی سیاستداں ان مسلمانوں کی ستائش میں ایک لفظ بھی نہیں کہتا،ڈوڈہ،کٹھوعہ، راجوری،پونچھ، لیہہ، لداخ او رکرگل میں ہندوستان پرچم کے سائے میں رہنے کو پسند کرتے ہیں۔کسی کو یہ بات قابل ستائش نہیں لگتی کہ جموں ولداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں مزاحمتی تحریکیں نہیں چلتیں یا دہشت گردانہ واقعات نہیں ہوتے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیر سے ہندوستان کے الحاق کے حامی کشمیری مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے فرقہ پرست ذہنیت والے لوگ ان پر بھی پاکستان کاپرچم چڑھا دیتے ہیں۔ ہر آدمی کے خوف کی وجہ سے کشمیر سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ان کا کوئی ذکر کرنے والا نہیں؟ کشمیری پنڈتوں اور سکھوں پر دہشت گردوں نے جو حملے کئے ان کا حساب کتاب تو سب کے پاس ہے، لیکن جو کشمیری مسلمان دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ان کی لاشوں پر رونے والا کوئی نہیں؟ بھارتی فوج میں شامل کشمیری سپاہیوں اور جموں وکشمیر کی پولیس میں شامل مسلم اہلکاروں پر کیسے کیسے مظالم دہشت گردوں نے نہیں توڑے مگر کسی فرقہ پرست کو ان کی قربانیاں یاد کرنے کاوقت نہیں ملتا۔کشمیر کے قبرستان دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والے وطن پرست مسلمانوں کی قبروں سے پوری طرح بھر چکے ہیں مگر جب بھی کوئی بات کرتا ہے وہ کشمیری پنڈتوں پر مظالم کا ذکر کرتا ہے وطن سے محبت کرنے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے کشمیری مسلمانوں کا نہیں۔ یعنی صرف کچھ دہشت پسندی نہیں کچھ نام نہاد وطن پرست بھی کشمیر کے مسئلے کو ہندوؤں او رمسلمانوں کا قضیہ بناناچاہتے ہیں،جب کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہندو مسلم کا نہیں، یہ ہندوستانیت اور انسانیت کا معاملہ ہے، دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنے مظالم کشمیری پنڈتوں نے جھیلے ہیں اتنے ہی کشمیری مسلمانوں نے بھی سہے ہیں۔ اس لئے جو لوگ کشمیر کے معاملے کو فرقہ پرستی کے چشمے سے دیکھ رہے ہیں وہ اس ملک کو فائدہ نہیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔

7اگست،2019، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/shakeel-shamsi/sectarianism-under-the-guise-of-kashmir--کشمیر-کی-آڑ-میں-فرقہ-واریت/d/119402

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content