certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (20 Jul 2019 NewAgeIslam.Com)



Meaning of the terms Spirit and Throne in the Quran قرآن میں عرش، روح اور کرسی کا مفہوم


سہیلؔ ارشد ، نیو ایج اسلام

قرآن اوردیگر تمام آسمانی صحائف میں خدا کو نرنکار،  بے ماہیت اور لطیف کہاگیاہے۔ اس کی ذات کو نہ دیکھا جاسکتاہے، نہ اندازہ کیاجاسکتاہے اور نہ اسے عقل پاسکتی ہے۔ اسے کسی بھی مادی صورت سے پہچانا نہیں  جاسکتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ قرآن یہ بھی کہتاہے کہ وہ  سننے، دیکھنے، تدبیر کرنے اور تخلیق کرنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔  اسی لئے قرآن خدا کے متعلق کہتاہے کہ

فطرت اللہ التی فطرنا الناس علیہا۔  اللہ کی فطرت وہی ہے جس پر اس نے انسان کو بنایا  (:الروم: ۰۳)

انسان کو خدا نے آنکھ، کان، ناک، ہاتھ اور عقل دی جس کی مدد سے وہ محسوس کرتاہے، دیگر ضروری اعمال انجام دیتاہے اور غور و فکر کرتاہے۔ مگر اس کا دیکھنا، اس کا محسوس کرنا اعضاء کامرہون منت ہے جبکہ خدا کا دیکھنا، سوچنا، محسوس کرنا  اور بولنا اعضاء کا مرہون منت نہیں ہے۔ وہ  اسباب کا محتاج نہیں۔ قرآن کی ایک آیت ہے

لیس کمثلہ شئی  و ھوالسمیع البصیر (الشوری ٰ:۱۱)

وہ کسی چیز سے مماثل نہیں ہے اور وہ سمیع اور بصیر ہے۔

اس سب کے باوجود قرآن میں کچھ ایسی آیتیں ہیں جس سے مندرجہ بالاآیتوں کے مفہوم میں پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ان آیتوں میں خدا کو انسانی صفات کا حامل بتایاگیاہے جیسے:

”اور بنایا ہم نے آسمان ہاتھ کے بل سے“ (الذریٰت: ۷۴)

”پھر جب ٹھیک بناچکوں  اور پھونکوں اس میں اپنی روح  تو تم گرپڑو اس کے آگے  سجدے میں۔“ (صؔ: ۲۷)

 اللہ کی مٹھی میں زمین اور آسمان داہنے ہاتھ میں لپٹاہوا ہوگا قیامت کے دن (الزمر: ۷۶)

یہی نہیں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد خدا کا فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دینا اور پھر شیطان کا انکار کرنا اور اس کے بعد خدا اور شیطان کے بیچ جو مکالمہ ہے وہ بھی قاری کے ذہن میں الجھن پیدا کرتاہے۔ قرآن میں اور بھی کئی آیتیں اور سچویشن ہیں جہاں خدا اور بندوں  اور خدا اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہوتاہے۔ ان آیتوں سے خدا کے وجود کی تفہیم میں انسان کو مشکلیں پیش آتی ہیں۔

اس کے علاوہ خدا جو لیس کمثلہ شئی  ہے اس کے لئے عرش اورکرسی کا بھی ذکر قرآن میں ہے۔ قرآن کہتاہے کہ خدا عرش پر براجمان ہے اور اس کا عرش بہت ہی بڑا اور وسیع ہے۔ عرش سے متعلق قرآن میں مندرجہ ذیل آیتیں ہیں:

”وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا۔“ (طٰہٰ: ۵)

”جس نے بنائے آسمان  اور زمین  اور جو کچھ اس کے بیچ میں ہے  چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر۔“ (الفرقان: ۹۵)

”بے شک تمہارا رب اللہ ہے  جس نے  پیداکئے آسمان  اور زمین  چھ دن میں  پھر قرار پکڑا عرش پر۔“ (الاعراف:  ۴۵)

وہی ہے  اونچے درجوں والا  مالک عرش کا۔“(المومن: ۵۱)

”اس کا عرش پانی پر تھا۔“ (ھود:۷)

اللہ ہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ  اس کے بیچ میں ہے  چھ دن میں  پھر قائم ہوا عرش پر۔ (السجدہ: ۴)

”اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب کے تخت  (عرش) کو اٹھائینگے‘(الحاقہ: ۷۱)

ایک آیت میں عرش کے لئے کرسی  کا لفظ بھی استعمال کیاگیاہے

”اس کی کرسی کی وسعت آسمان سے زمین تک ہے“(البقرہ: ۳۵۲)

کچھ احادیث میں خدا کے عرش کو چار فرشتوں کے ذریعہ تھامنے کا ذکر ہے۔ اور قرآ ن میں مذکور ہے کہ قیامت کے دن آٹھ فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہونگے۔

سوال یہ پیداہوتاہے کہ جب خدا  کسی شئے سے مماثل نہیں ہے اور وہ دکھائی بھی نہیں دیتااور اس کا مادی وجود بھی نہیں ہے یعنی وہ کسی بھی مادہ سے بناہوانہیں ہے تو پھر اس کے لئے عرش پر قائم ہونا کا کیامفہوم ہے۔

عرش پر خدا کے قائم ہونے سے یہ نہیں ثابت ہوتاکہ عرش پر قائم خدا کی کوئی جسمانی ہئیت ہے، عرش پر وہ قائم ہوا مگر قائم ہونے والی ذات کو اب بھی صیغہ ء راز میں رکھا گیاہے۔ لیکن بہرحال، عرش پہ کوئی ذات ہے  ضرور جس کی ہئیت کے متعلق قرآن خموش ہے۔ اسی ذات کو بودھ دھر م میں شونیہ کہاگیاہے۔ آیتہ الکرسی میں کہاگیاہے کہ اس کی کرسی زمین سے آسمان تک محیط ہے۔اس آیت سے تو یہ مفہوم لیاجاسکتاہے کہ خدا کی قدرت زمین سے آسمان تک پھیلی ہوئی ہے اور وہ ساری کائنات کا مالک ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے دائرہ ء اختیار سے باہر نہیں ہے۔قرآن میں کئی جگہوں پر روح کا ذکر ہے اور کم از کم دو موقعوں پر روح القدس کا ذکر ہے۔جب مدینے کے یہودیوں نے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ روح کیاہے تو یہ آیت اتری:

تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو، کہہ دے کہ روح ہے میرے رب کے حکم سے۔اور تم کو علم دیاہے تھوڑا سا۔“(بنی اسرائیل: ۵۸)

قیامت کے دن روح بھی خدا کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگی۔

”جس دن کھڑی ہو روح  اور فرشتے  قطار باندھ کر۔ (النباء: ۸۳)

”چڑھینگے اس کی طرف فرشتے اور روح  اس دن جس کا طول ہے پچاس ہزار برس۔“(المعارج۔۴)

”اور پھونکی اس میں اپنی روح“((السجدہ َ   ۹)

اگر ہم ویدوں اور اپنشدوں کے نظرئیے سے دیکھیں تو ان کے یہاں خدائے  حقیقی تو نرنکار اور صفات سے عاری ہے مگر اس نے اپنی قوت سے اپنا ایک طبعی قائم مقام تخلیق کردیاہے جو انسانی صفات کا حامل ہے۔ خدائے حقیقی پردہ ء غیب میں رہ کر اپنے اسی قائم مقام کے ذریعہ سے کائنات کے تمام معاملات دیکھتاہے۔ اسے برہما یا ہرنیہ گربھ  کہتے ہیں۔ ہرنیہ گربھ کا معنی ہے Golden Womb۔ اسی ہرنیہ گربھ یا برہما  سے تمام کائنات کی تخلیق ہوئی اور اس کے اندر خالق، پالن ہار اور تباہ کرنے والی تینوں صفات ہیں۔  قرآن جب روح القد س کہتاہے تو غالبا اس سے مراد یہی ہرنیہ گربھ یا برہما ہے جو  خدا کا طبعی قائم مقام ہے اور خدا اپنی تمام مخلوقات سے اسی طبعی قائم مقائم کے ذریعہ سے interact کرتاہے۔ اور جو مخلوق جس سطح کی ہوتی ہے اسی کی زبان  میں بات کرتاہے۔ کسی بھی مخلوق کی یہ طاقت نہیں کہ وہ براہ راست خدا سے بات کرسکے  اس لئے جب ہم قرآن میں دیکھتے ہیں کہ وہ شیطان سے، آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد بات کرتاہے، یا موسی ٰ سے کوہ طو رپر یا میدان طوی میں انسانوں کی زبان میں  بات کرتاہے، یا حضرت مریم علیہ السلام کو حالت حمل میں کھجور کے پیڑ کو ہلانے کی ہدایت انسانوں کی زبان میں کرتاہے تو دراصل وہ اپنے طبعی قائم مقام یعنی روح القدس یا ہرنیہ گربھ یا برہما کی شکل میں بات کرتاہے۔ چونکہ برہما یا روح القد س یا ہرنیہ گربھ خدائے حقیقی کی تخلیق ہیں اس لئے وہ سب قیامت کے دن خدا کے حضور میں دست بستہ کھڑے ہونگے۔ وید یا اپنشد میں برہما یا ہرنیہ گربھ کے وجود کو وضاحت سے بیان کردیاگیاہے اس لئے وہاں کوئی کنفیوزن نہیں ہے۔ قرآن میں مفسرین نے اس نکتے پر زیادہ توجہ نہیں دی حالانکہ اس کنفیوزن کو دور کرنا ان کی  علمی ذمہ داری تھی  ورنہ قرآن کی آیتیں  self contradcitory معلوم ہوتی ہیں  جبکہ ایسا نہیں ہے۔روح القدس سے مراد خداکا طبعی قائم مقام ہے جو خدا نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوقات سے اپنی حقیقی ذات کو چھپائے رکھتے ہوئے رابطہ رکھنے کی ایک حکمت ہے۔ اسی روح القدس کے زریعے سے خداا پنی اعلی ترین اورادنی ترین مخلوق سے رابطہ رکھتا ہے۔ وہ کیڑوں  اور جانوروں سے انکی ذہنی سطح اور زبان میں بات کرتاہے اور انسانوں سے ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے ان کی زبان میں بات کرتاہے۔ فرشتوں سے interact کرنے کا یقینا کوئی اور طریقہ ہوگا۔ لہذا، خدا جب قرآن میں کہتاہے کہ وہ لطیف ہے اور اس کے جیسا کوئی نہیں تو وہ خود اپنی ذات کی حقیقت بیان کرتاہے اور جب وہ خود کو انسانی صفات میں ظاہر کرتے ہوئے انسان سے مکالمہ کرتاہے تو در اصل وہ نہیں بلکہ اس کا طبعی قائم مقام مکالمہ کرتاہے۔ اس نقطہ نظر سے دونوں طرح کی آیتوں کو دیکھیں تو پھر مفہوم کا کنفیوزن دور ہوجاتاہے۔یہ سمجھنا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے معاملے میں خدا شیطان جیسی ادنی مخلوق سے بحث کرتاہے خود خدا کی عزت و جلال کی توہین ہے۔

URL: http://newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/meaning-of-the-terms-spirit-and-throne-in-the-quran-قرآن--میں-عرش،-روح-اور-کرسی-کا-مفہوم/d/119243

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content