New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 11:46 PM

Urdu Section ( 20 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation Of Sheikh Yousuf Al-Abeeri's Fatwa -Part5 معصوم شہریوں کے بےرحمانہ قتل کی حمایت میں شیخ یوسف العبیری کے فتوی کی تردید – حصہ5

 

محمد یونس، نیو ایج اسلام

اشفاق اللہ سید کے ساتھ مشترکہ  مصنف Essential Message of Islam ، امانہ پبلیکیشن، یو ایس اے، 2009 

 (انگریزی سے ترجمہ ۔ مصباح الہدیٰ ،نیو ایج اسلام)

7 فروری، 2013

بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو اس صورت میں جب وہ کسی ایسی جگہ یا صورت حال میں ہوں  جب ایک جنگجو اور غیر جنگجو کے درمیان امتیاز نہ کیا جا سکتا ہو ،  تو ان کے قتل کی اجازت دیتے  ہوئے فتوی کا آغازمثلہ کے (اصول) کے ساتھ ہو تا ہے۔  اس میں صعب کے ذریعہ  روایت کردہ اس حدیث سے اس اصول کی تصدیق کی گئی ہے جس میں یہ مذکور ہےکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی صورت حال میں  ، جب کہ دشمن کی عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا جا سکتا تھا ،  رات کے حملے کے جواز کے بارے میں  پوچھا گیا تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پر اختصار سے اس کا جواب یہ دیا  ‘‘وہ ان ہی میں سے ہیں ’’ (II) ۔ اس کے بعد  فتوی میں  "علماء کی اکثریت کے نقطہ نظر،"،اور عسقلانی  (باری حصہ 6 ص 146)کا حوالہ دیتے ہوئے  متن میں معمولی ترمیم کے ساتھ مندرجہ بالا مثلہ کا حوالہ دوبارہ  دیا گیا ہے۔ اس کے بعد امام مالک اور ابو حنیفہ  کی حمایت میں امام نووی کی وضاحت کو پیش کیا گیا  ہے کہ II)) مثلہ کا اطلاق حملوں کے دوران صرف اس صورت حال میں تھا کہ جب مردوں، عورتوں اور بچوں کے درمیان امتیاز نہیں کیا جا سکتا ہو  ۔ (صحیح مسلم ، حصہ 7 صفحہ 325،)۔

 اس کے بعد فتوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبہم اشارے(II اوپر)  کی تشریح میں  ، ابن اسیرکی ‘‘ جمیع الاصول  حصہ  2 صفہ 733’’ کا  بچوں اور خواتین اور ان کے خاندان کے دوسرے ارکان کو شریعت (قانون )کی نظر  میں مساوی بنیاد کے تعلق سے  ، حوالہ دے کر  پیچیدگی پیدا کی گئی ہے ، لیکن ہدف بنا کر  بچوں اور عورتوں کو ان کے گھروں میں رات کے حملوں میں ان کے قتل کی ممانعت میں  ، ابن قدامہ کی (المغنی  ، جلد 10 صفحہ نمبر 153) کا حوالہ دیا گیا  ہے ۔ "اس کے بعد،رات کے چھاپے کے جواز میں امام احمد بن حنبل کا حوالہ پیش  کیا گیا ہے  اور وہ یہ ہے  "رومیوں پر تمام چھاپے صرف رات میں ہی مارے  گئے تھے  ۔"

ا س  کے بعد فتوی میں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پر اسرار تبصرہ کی صداقت کو قائم کرنے کے لئے ، پوری اسناد حدیث کے ساتھ ،صعب کا حوالہ  دیتے ہوئے احمد بن حنبل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے (اوپر II) :‘‘ وہ ان میں سےہی ہیں ’’ اور مثلہ کی مفصل تشریح کی گئی ہے (1) : "اگر کوئی خاص طور پر بچوں اور خواتین کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ،تو اس کی اجازت نہیں   دی جائے گی  ۔"

فتوی میں ابن ابی الحقیق کا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سابقہ غیر مستند  ہدایات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ،‘‘ خواتین کے قتل  کی ممانعت کرتے ہوئے ’’ اور احمد بن حنبل کی ثقاہت کو واضح کیا ہے  ، جو کہ حدیث الصعب کے ذریعہ روایت کی گئی ہے ( IIاوپر) ، جو کہ  اس حدیث کے بعد آئی ہے اور اس طرح اس نے  اس کا مسلمہ جواز قائم کردیا  ہے۔

حملے میں خواتین اور بچوں کے قتل کی اجازت دیتے ہوئے ایک عام اصول سے فتوی کا انحراف

فتوی میں یہ  دلیل پیش کی گئی ہے کہ ، جیسا  کہ یہ واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبوری کے حالات کے بارے ،میں  نہیں  پوچھا  ،جس کی وجہ سے  عورتوں اور بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر  رات کے حملے کا جواز نکلتا ہے ، "مثلہ(1) کو تمام  نازک  حالات کے لئے  قابل اطلا ق  سمجھا جا سکتا ہے"، اور اس بنیاد کا استعمال یہ نتیجہ نکالنے کے لئے کیا گیاہے " اگر چھاپہ ضروری  نہ ہو تب بھی ، اس عمل میں  بچوں، عورتوں، اور بزرگوں  کے قتل سے بے پرواہ ہو کر ، جب ایسا  کرنا نا گزیر ہو تو اسلامی فوج کے کئے  اچانک حملہ کرنا  جائز ہے۔" اس میں مزید یہ دلیل پیش کی گئی ہے " چونکہ رات کے حملوں کے دوران بچوں اور خواتین کے قتل کی اجازت،  دشمن کو کمزور کرنے اور ان کے دفاعی نظام کو توڑنے کے لئے دی گئی تھی ، لہٰذا ان کے ‘‘ قلعوں ’’ کو  تباہ کر سکتے ہیں ، اگر چہ  اس عمل میں غیر جنگجو مارے جا ئیں ۔

11/ 9 کے حملے کا جواز پیش کرنے کے لئے فتوی کے استدلال کی آخری پیچیدگی  

اس کے اختتامی حصہ میں، فتوی میں دشمن ‘‘ قلعوں ’’ کو   حربی تدبیر کےمراکز کے برابر ظاہرکیا گیا ہے ، اور اس طرح  اس کے دشمن کو مارنے کے لئے  فوری طور پر دشمن کے حربی تدبیر کے مراکز پر حملہ کرنے کا جواز پیش کیا گیا ہے  ۔ اس کے بعد فتوی میں پیش کردہ دلائل میں ایک بڑی لغزش ہے  ، اور وہ یہ ہے   11/9  کے خالص مظلوم عوام کو بیس ہزار سے زائد جنگجوؤں کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ وہ (نبی) جنہوں نے بے گناہ لوگوں کے قتل کی اجازت اس لئے دے دی ہے کہ وہ پہچانے نہیں جا سکتے تھے ، وہ ایسے لوگوں کے بھی قتل کی اجازت دیں گے جو  حملوں میں    11/9 کے نتیجہ میں ہلاک ہو گئے  ،کیونکہ ان کی بھی شناخت نہیں کی جا سکتی تھی  اور تدبیری  مراکز میں انہیں منتخب نہیں کیا جا سکتا تھا جو نسبتا جنگجوؤں سے زیادہ اہم تھے ۔ "

خلاف قیاس ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبہم تبصرہ (II اوپر) کو  رات کےچھاپے میں خواتین، بچوں اور بزرگ کے قتل کے جواز میں پیش کیا گیا ، (اوپر1) اس کی ترجمانی ان کی حفاظت کرنے کے متعلق  ہدایات کے طور پر بھی کی جا سکتی ہے ۔ اس طرح کی ترجمانی ،  جو مسلح جنگ میں قید ی بنائے گئے ہوں ،  ان عوا م کو دشمن کے کیمپ سے چھڑاکر  ، حفاظت کی جگہ پہنچانے کے لئے  قرانی حکم کے مطابق بھی کی جا سکتی تھی  (9:6) اور حدود سے  تجاوز کرنے کے لئے نہیں(2:190)  :

" اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ *  کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے "(9:6) * [۔Lit ، آپ کے  پڑوسی بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔']

" اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ’’،(2:190) ۔

 فتوی کی تردید

1۔ یہ بیان  غیر جنگجوؤں  کی حفاظت اور انہیں محفوظ پناہ گاہ تک پہنچانے(9:6)  اور حد سے تجاوز نہ کرنے کےقرآنی اصول کے خلاف ہے  (2:190) جیسا کہ غیر جنگجوؤں کی کفایت  کا پتہ قبل از اسلام کی روایت کے ذریعہ چلتا ہے ۔

2۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کابچوں ، عورتوں، اور بزرگوں کے قتل کا  اختیار دینا ظاہر ہوتا ہے جو کہ  ان کو قرآن کے ذریعہ  دئے گئے لقب  کے خلاف ہے ، جس میں انہیں‘‘ تمام انسانیت کے  لئے رحمت ’’ –رحمت للعالمین  ( (21:107 کہا گیا ہے ،اور یہ اس  قرانی شہادت  کے خلاف ہے جو  مکمل تاریخ کی روشنی میں پیش کی گئی  ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے معرکہ  ان کے ماننے والوں کی چوک کے باوجود بھی ان کے لئے مہربان تھے  (3:159) اور انہیں غزوۂ  تبوک  میں حصہ لینے سے آسانی کے ساتھ در گزر کر دیا تھا (9:43) ۔

3۔ اس کی  بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انتہائی مبہم جواب کے ارد گرد ہے ، جس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے ‘‘ وہ بھی انہیں میں سے ہیں ’’ یہ ایک ایسا لہجہ ہےکہ اس کی  تشریح ، غیر جنگجوؤں کی حفاظت کے لئے ایک ہدایات کے طور پر بھی کی جا سکتی ہے ۔

4۔ یہ ایک مضحکہ خیز قياس ہے ، اس میں  9/11 کے  حملوں میں ہوئے جانی نقصان کو جنگجوؤں سے زیادہ اہم سمجھا جاتا  ہے۔

خلاصہ:

مکمل طور پر  فتوی کی بنیاد  حدیث میں  ایک ایسے سوال   پر ہے  جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے رات میں ایک ایسے حملے کے جواز کے بارے میں پوچھا گیا    جس میں بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی ہلاک کئے جا سکتے  تھے ، جس کا جواب ایک غیر واضح ردعمل  پر مشتمل ہے۔ اگرچہ حدیث کو روایتی طور پر قرآن کے بعد قانون کا دوسرا مصدر  شمار کیا جاتا ہے  ، حدیث کے ابتدائی مؤلفین سمیت فقہاءنے اس حدیث کی  تکنیکی صداقت پر ،مضبوط حوالہ جات پیش کئے ہیں  [1] اور اس وجہ سے، ایسا کوئی  بھی فتوی جو کہ مکمل طور پر احادیث اور قانونی  رائے پر ٹکی ہوئی ہو  اور اسے قرآن کی حمایت حاصل نہ ہو ، جیسا کہ  زیر نظر  فتوی ، اسے ایک خطرہ سمجھا جانا چاہیئے۔ لیکن ایک ایسا فتوی جو  کہ قرآن کے مخالف ہے، یا اس کے  کسی  حکم کا مذاق بناتا ہے ،(جسے کلام  الہی انسانیت کے لئے رحمت کے طور پر بیان کرتا ہے اسے بچوں، عورتوں، اور بزرگوں کے قتل کی اجازت  دیتے ہوئے دکھا کر) جیسا کہ اس  فتویٰ  (حصہ  5)  کا منشاء ایسا کرنا ہے ،جو کہ بالکل نا معقول ہے ، لہٰذا یہ مسلمہ  طور پر مسترد ہے ۔

مجموعی جائزہ:

 فتوی کے حصہ 4 کا اختتام اس کے  پہلے چاروں  حصوں کے مجموعی رد کے ساتھ ہوا تھا ،اس لئے کہ وہ قران سے  کسی بھی طرح  کا جواز فراہم کرنے میں ناکام  ،اور قرآنی پیغام کے خلاف تھا  ۔ اس  حصہ میں قرآن کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے اور بصورت دیگر حتمی  طور پر مندرجہ بالا کی طرح مسترد ہے ۔ لہذا فتوی کے پہلے پانچ حصے کی انفرادی اور اجتماعی  طور پر تردید کی جا چکی ۔

نوٹ: 1

Defending the Hadith and its Compilers – the Great Imams who are sometimes misunderstood and even reviled

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/by-muhammad-yunus,-new-age-islam/defending-the-hadith-and-its-compilers-–-the-great-imams-who-are-sometimes-misunderstood-and-even-reviled/d/8011

محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور اور  ہونے والی تشکیل نو  آراستگی کی تحقیق  و تصدیق یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کے ذریعہ کی گئی ہے  اور آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔

URL for English article:

https://newageislam.com/islam-terrorism-jihad/refutation-sheikh-yousuf-al-abeeri/d/10299

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/refutation-sheikh-yousuf-al-abeeri/d/10493

 

Loading..

Loading..