
نیو ایج اسلام ایڈیٹ بیورو
۱۳ فروری ۲۰۱۳
مولانا عصمت اللہ معاویہ نے اپنے مضمون کے تیسرے حصے میں بھی وہی انداز خطابت اپنایا ہے جیسے کوئی نبی اپنی گمراہ امت کو نصیحت اور اسکے گناہوں پر افسوس کا اظہا ر کررہا ہو۔ مغرب نے جمہوریت کی جس شکل کو اپنا یا ہے وہ اسکے اپنے ثقافتی اور سیکولر روایا ت کی بنیا د پر ہے۔ مغرب نے مذہب کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور چرچ اور حکومت کو الگ الگ اداروں کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے اور انسانی مساوات ، عوام کی یکساں حصے داری اور عام انسانی مفادات کی بنیا د پر قوانین وضع کئے ہیں۔ بہر حال مسلم اکثریت والے ممالک میں جو جمہوریت ہے جیسے پاکستان ، افغانستان ، بنگلہ دیش یا اب مصر وہاں قانون سازی کی بنیاد اسلامی شریعت اور فقہ اسلامی ہے۔ پارلیامنٹ کوئی بت نہیں ہےبلکہ عوام کے نمائندوں کی مجلس ہے جسے اسلامی اصطلاح میں مجلس شوری کہہ سکتے ہیں اور جس میں قوم کے انتظامی امور سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں اور اگر ملک کا آئین اسلامی شریعت پر مبنی ہو تو اس کی بنیاد پر قانون بنتے ہیں۔ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں بھی ہنگامی ضرورتوں کے تحت ایک ساتھ تین طلاقوں سے تین طلاق واقع ہونے کا قانون جاری کیا تھا جبکہ دور نبوت اور دور خلافت حضرت ابوبکر تک ایک نشست میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک ہی تصور کیا جاتھا۔ پھر جب وہ ضرورت جاتی رہی تو پھر سے تین طلاقوں کو ایک تسلیم کرنے کا قانون واپس لایا گیا۔اسی طرح ایک سال خشک سالی کی وجہ سے حضرت عمر نے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹنے کی سزا میں رعایت برتنے کا فیصلہ کیا کیونکہ فاقہ کشی کی حالت میں عوام سے چوری کا جرم سرزد ہونے کا امکان بڑھ گیا تھا۔ لہذا ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرعی قوانین بے لوچ نہیں ہیں بلکہ عوام کے حا لات اور مجبوریوں کو انسانی بنیادوں پر پرکھنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مکتوب نگار ایک یہودی تھا۔ اور یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ تورات کے مطابق کیا جاتا تھا۔کئی جنگوں میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں نے حصہ لیا اور جنگ جمل میں حضرت عائشہ نے اپنی فوج کی قیادت کی۔ میثاق مدینہ کی رو سے جو آئین تیار ہوا وہ ایک اسلامی جمہوریت کی ابتدائی شکل تھی جس میں یہودی ، مسلما ن اور عیسائی ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے اگرچہ عنان حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اور اس حکومت کی بنیاد قرآن اور سنت پر تھی۔گویا ، حضور صلی اللہ و علیہ وسلم نے ایک اسلامی جمہوریت کے خد و خال کا ایک نمونہ پیش کردیا تھا جس کے اصول و قوانین تو اسلامی شریعت پر مبنی ہوں گے مگر اس میں غیر مسلموں کے پرسنل لاء کو منظوری حاصل ہوگی۔ ان کی عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائیگا اور ان کے عائلی معاملات ان کے پرسنل کے مطابق حل کئے جائینگے۔
مولانا نے قر آن کی اس آیت کو نقل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ جمہوریت کے رد میں ہے :
‘‘یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ہوجاؤ ۔ پس پھر تم برابر ہوجاؤگے ’’۔
قرآن نے طرز حکومت کا کوئی واضح خاکہ پیش نہیں کیا کیونکہ انسانی سماج تغیر پذیر ہے اور ہر نئے دور کے حالات اور تقاضےمختلف ہوتے ہیں اس لئے قرآن طرز حکومت کی بجائے اسلامی احکام اور اصولوں پر عملدرآمد پر زیادہ زور دیتاہے۔
مولانا نے قرآن کی اس آیت کو بھی غلط تناظر میں پیش کیا ہے اور مسلمانوں کو مشرکین قرار دینے کی کوشش کی ہے:
‘‘ یہ مشرکین دین کی پیروی نہیں کرتے بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے بڑا سمجھ لیا ہے، وہ انہیں جو احکامات بتاتے ہیں، یہ اُنہیں کے احکامات کو دین سمجھتے ہیں ۔ حلال اور حرام اپنے بڑوں کے کہنے پر سمجھتے ہیں’’۔
یہ آیت مشرکین سے متعلق ہے جو دین یعنی اسلام کی پیروی نہیں کرتے بلکہ بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے وہ مسلمان مراد لئے ہیں جو کسی جمہوری ملک (پاکستان، ایران وغیرہ) میں رہتے ہیں اور اپنے ملک کے قوانین کو مانتے ہیں۔
علامہ اقبال جنہوں نے مبینہ طور پر دو قومی نظریہ پیش کیا تھا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے الہ آباد میں جو صدارتی خطبہ دیا تھا اس میں انہوں گرچہ مسلمانوں کے لئے ہندوستان کے اندر ہی ایک خود مختار صوبے کا تصور پیش کیاتھامگر اس میں انہوں نےدین سے عاری یوروپی جمہوریت پر تنقید تو کی تھی لیکن خودمختار مسلم صوبے کے لئے کہیں بھی خلافت کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ دوسرے لفظوں میں وہ ایسی وفاقی جمہوریت کو قبول کرنے کو تیار تھے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔
محمد جناح کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں محمد اقبال نے مجوزہ مسلم اکثریتی صوبے کے لئے سوشل ڈیموکریسی (سماجی جمہوریت) کو ترجیح دی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ برطانوی یا یوروپی جمہوریت ہندوستان میں ہندو اکثریت کی حکومت کی راہ ہموار کرے گی کونکہ وہ اکثریت میں ہیں اس لئے ووٹوں کے ذریعہ اکثریت انہیں ہی ملے گی اور مسلمان ہندوستان میں ہمیشہ اقلیت میں مغلوب کی حیثیت سے رہیں گے۔ اسلئے وہ ایک ایسے مسلم اکثریت والےصوبے کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے تھے جس میں مسلمانوں کے ہاتھ میں زمام حکومت ہو اور وہ اسلامی شریعت کی بنیاد پر حکومت چلا سکیں مگر مولانا معاویہ جیسے تنگ نظر جہادیوں کو یہ جان کر افسوس ہوگا کہ اقبال اس اسلامی شریعت پر مبنی حکومت کے لئے خلافت نہیں بلکہ سوشل ڈیموکریسی کی طرز پر حکومت چاہتے تھے۔ اپنے خط میں وہ فر ماتے ہیں:
‘‘جواہر لال کی لادینی اشتراکیت مسلمانوں میں کبھی مقبول نہیں ہوگی ۔ لہذا، سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے اور لیگ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک مسلمانوں کے اس مسئلے کا حل نکالتی ہے۔ اگر لیگ نے اس سلسلے میں کو ئی امید نہ دلائی تو مجھے یقین ہے کہ مسلمان عوام پہلے کی مانند لیگ سے لا تعلق رہیں گے۔ خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ سے اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن جب تک اس ملک میں ایک آزاد مسلم ریا ست یا ریاستیں معرض وجود میں نہ آئیں اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں۔’’
یہں یہ بالکل واضح ہے کہ علامہ اقبال اسلامی ملک کے لئے اسلامی شریعت کے نفاذ پر زور دیتے تھے مگر وہ اسلامی شریعت کے لئے خلافت نہیں بلکہ سوشل ڈیموکریسی کی طرز پر حکومت چاہتے تھے۔اسی خط میں وہ آگے چلکر اپنے مؤقف کو پوری طرح واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘اسلام کے لئے سوشل ڈیموکریسی کا کسی موزوں شکل میں اور شریعت کے مطابق قبول کرنا کوئی نئی بات یا انقلاب نہیں بلکہ ایسا کرنا اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹنا ہوگا۔’’
(خط بنام جناح ۲۸ مئی ۱۹۳۷)
گویا اسلامی شریعت اور طرز حکومت الگ الگ چیزی ہیں اور سوشل ڈیموکریسی کی کوئی بدلی ہوئی شکل جو اسلامی شریعت کے نفاذمیں معاون ہو مسلم حکومت کے لئے اپنائی جاسکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں طرز حکومت اہم نہیں ، بلکہ وہ آئین اہم ہے جوحکومت کی بنیاد ہوتی ہے۔ ورنہ طرز حکومت ہی اگر اسلامی وغیر اسلامی کا معیار ہو تو چین کی طرز حکومت اسلامی شوریٰ کے بہت حد تک مماثل ہے جہاں پولٹ بیورو دراصل مجلس شوری ہے اور حکومت کا سربراہ اس مجلس شوری کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بناتا ہے۔مگر چونکہ اس ملک کا قانون اسلامی شریعت پر نہیں بلکہ کمیونزم پر مبنی ہے اسلئے اس حکومت کو صرف اس بنا پر اسلامی نہیں کہا جا سکتا کہ طرز اس کا طرز حکومت اسلامی ہے۔
تو کیا طالبان کے عالم مولانا عصمت اللہ معاویہ پاکستان کے فکری بانی علامہ اقبال کو بھی جاہل اور کافر قرار دیں گے یا اپنی کم علمی و کم فہمی کا اعتراف کریں گے؟
URL for English article:
URL for this article:
https://newageislam.com/urdu-section/refutation-misleading-ideas-punjabi-taliban’s/d/10446