certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (14 Mar 2014 NewAgeIslam.Com)



Human Rights situation in Iran has not improved substantially ایک اعتدال پسند صدر کے انتخاب کے بعد بھی ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال میں خاطر خواہ سدھار نہیں: جنیوا میں مفکرین کا اظہار رائے

 

 

 

 

 

 

 

 

نیو ایج اسلام کے لیے جنیوا سے خصوصی نامہ نگار

10 مارچ 2014

ایک سائڈ ایوینٹ پر جنیوا سے نیو ایج اسلام کی رپورٹ، جس کے اسپانسرز یہ ہیں:

فرانس لبرٹس-فاؤنڈیش ڈینیل مر رانڈ(خصوصی) [(France libertés – Fondation Danielle Mitterrand (Special]

وومن ہیومن رائٹس انٹرنیشنل ایسوسی ایشن (خصوصی)[ Women Human Rights International Association]

انترنیشنل ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ، انکارپوریٹڈ (روسٹر) [(International Educational Development, Inc. (Roster]

بموقع: ہیومن رائٹس کونسل کی 25ویں نشست

اس مجلس کا قیام بروز پیر 10 مارچ 2014 (10h00 – 12h00) کو پلیس ڈیس نیشنس (Palais des Nations) کے کمرہ XXV میں عمل میں آیا۔

اسپیکرس (مقررین):

مسٹر پرویز سولگی خزئی (سابق سفیر، ممبرس آف دی ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل لائرس (ناروے برانچ، شمالی یورپ میں NCRI کے نمائندے)

مسٹر مارک فیلکوٹ (ممبر آف پارلیمنٹ جنیوا)

مسٹر رسول اصغری (15 سالہ تجربہ کار ایرانی صحافی)

ملسیاجیوڈن (Ms. Milicia Javdan) (ناروے میں ایرانی وومن ایسوسی ایشن کی سربراہ)

مصطفیٰ نادری (ایران کی جیل میں 10 سال گزارنے والے سیاسی قیدی)

عنوان:

انتخاب کے 8 مہینوں کے بعد ایران کی صورت حال کیا ہے؟

21 فروری 2014 اقوام متحدہ میں ہیومن رائٹس ہائی کمشنر کے ترجمان: اس سال کے آغاز سے ہی ایران میں سزائے موت میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کی خبروں سے ہمیں بڑی تشویش لاحق ہے۔ صرف سات ہفتوں میں ہی کم از کم 80 لوگوں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے۔ چند باوثوق ذرائع سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ سزائے موت پانے والوں کی تعداد 95 تک ہو سکتی ہے۔

22 جنوری 2014 کو ایران میں حقوق انسانی کی صورت حال اور سزائے موت کی تلخیص پر خصوصی نامہ ناگار احمد شہید اور کرسٹوف ہینس نے حکومت ایران کو 2014 کی شروعات کے ساتھ ہی سزائے موت میں یکلخت ہوئے اضافے کو فوری طور پر روکنے کے لیے کہا۔

ہیربیو نے پینلسٹس کے ذریعہ تیار کردہ پرچہ کے مطابق اپنی پیشکش کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

چیئرمین نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور مقررین کا ایک مختصر سا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے ایران میں حقوق انسانی کی صورت حال اور موت کی سزا اور سڑکوں پر گرفتاریوں کی سطح میں غیر معمولی اضافہ کے تعلق سے اپنا ایک مختصر خطبہ پیش کیا۔

مسٹر مارک فیلکوٹ نے ایران میں سزائے موت کے تعلق سے اور جس طرح وہاں سزائے موت کو انجام دیا جاتا ہے اپنے بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا حوالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کرین کا استعمال عمارات بنانے کے لیے نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ایران میں ان کا استعمال ان پھندوں کو اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے جس میں گھٹ گھٹ کر مجرم کی موت ہو جاتی ہے۔ سیاسی اور سماجی کارکنان پر اللہ کا دشمن (محارب) ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور انہیں جیل، تعذیب و تہدید اور موت تک کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

ایسے چھوٹے چھوٹے الزامات پر موت کی سزائیں دی جاتی ہیں جنہیں عام طور پر کوئی سنگین جرم نہیں سمجھا جاتا۔ ایران میں سزائے موت کا معیار تعجب خیز انداز میں نیچا ہے۔ صدر روحانی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایران میں کوئی خاطر خواہ سدھار نہیں پیدا ہوا۔ ایران میں سزائے موت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہےاور حقوق انسانی کے باب میں ایک نئے ریکارڈ کا اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر مسٹر پرویز سولگی خزئی نے کہا:

ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران نے ایک اعتدال پسند صدر کا انتخاب کیا ہے لیکن ایران میں صدر کا کردار ایک سپریم لیڈر کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور ماتحتی کا ہے۔ سپریم لیڈر والیٔ فقیہ ایران میں سب سی بڑی روحانی اور سیاسی اتھارٹی ہیں۔ انہیں بڑے لیڈر کی عدم موجودگی میں پوری دنیا کے مسلمانوں کا عبوری رہنماں مانا جاتا ہے اور اسے شیعی اسلامی مسیح کا ایک چھوٹا سا عکس مانا جاتا ہے۔ اور آخری مسیح (امام مہدی) کی آمد تک وہ مسلمانوں کا قائد و رہنماں ہے۔ اس سلسلے میں وہ اسلام کا سب سے بڑا مفتی، ترجمان اور اسلامی کمیونٹی کا سیاسی سربراہ ہے۔

ایرانی پینل کوڈ کی بنیاد مذہب اسلام کی انتہائی بنیاد پرست تشریح پر ہے۔ پہلی مرتبہ چوری کرنے والوں کی چار انگلیاں کاٹی جاتی ہیں، دوسری مرتبہ چوری کرنے پر کلائی تک پورا ہاتھ ہی کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہ مذہب اسلام کی ایک انتہائی بنیاد پرست تشریح ہے جو کہ کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ انسانی اقدار، امن اور مساوات کا داعی ہے۔ ایرانی حکومت کوئی اسلامی حکومت نہیں ہے بلکہ وہ فسطائیت پر مبنی ایک حکومت ہے۔

مسٹر رسول انصاری:

فی الحال میں ملک بدر کیا گیا ایک ایرانی صحافی ہوں جو اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ رابطہ میں ہے جن کے ساتھ 1992 سے اس نے کام کیا ہے۔ میں نے ایران میں درجنوں اخبارات کے لیے کام کیا ہے، ان کے لیے رپوٹیں تیار کی ہیں اور خبروں کو کور کیا ہے۔ بہت سارے روزنامچے اور اخبارات ان کی شاعت کے ابتدائی ایام میں ہی بند کر دیے گئے تھے اور ان میں سے کچھ کو ان کی اشاعت سے پہلے ہی انٹیلی جنس منسٹری نے بند کروا دیا تھا، ایران میں برسر اقتدار حکومت اور ملا یہ طے کرتےہیں کہ ملک کی سکیورٹی کے لیے کون کون سے موضوع خطرات کا باعث ہیں۔ اور صحافیوں کو ہمیشہ یہ بات دلائی جاتی ہے کہ پریس میں کن کن باتوں کو شائع کرنے پر پابندی ہے اور میڈیا میں کن کن موضوعات کو کور کرنا ممنوع ہے۔ نتیجتاً صحافی بڑے پیمانے پر احتیاط برتتے ہیں۔ اس کا تعلق چھوٹے چھوٹے مسائل سے ہے اور یہ سیاسی طور پر حساس مسئلہ بھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہوا کی آلودگی جیسے چھوٹے اور معمولی مسائل پر بھی پابندی عائد تھی۔ شہر کی ماحولیاتی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ انتظامیہ کو اس بات کا یقین تھا کہ اگر میڈیا میں ذرا سا بھی اس معاملے کو چھیڑا گیا تو لوگوں کے خوف اور مایوسی میں مزید اضافہ ہو گا۔

ایران میں صحافتی خدمات انجام دینے کی بہترین مثال یہ ہے کہ کوئی ایک ایسے میدان میں اپنے قدم رکھے جس میں بارودی سرنگ بچھائے گئے ہوں۔ جہاں غلط جگہ پر رکھے گئے ایک بھی قدم سے ایک بڑا دھماکہ ہوتا ہے اور انسان آن واحد میں خاکستر ہو جاتا ہے۔معلومات کا باہمی تبادلہ کرنا اور غیر ملکی پریس اور صحافیوں سے بات کرنے پر جو کہ صحافت کا ایک معمول ہے، عبرتناک سزائیں دی جاتی ہیں۔ تو کیا اکثر میں نے ایرانی ٹی وی پر اپنے سابق صحافیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہوا دیکھا ہے؟ لیکن وہ کوئی خبر یا رپورٹ نہیں پیش کر رہے تھے۔ ان پر غیر ملکی طاقتوں کے بدلے میں جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔ جیل میں کئی کئی دنوں تک ظلم و ستم کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وہ ٹوٹ جاتے اور خود اپنے خلاف ہی گواہی دینے پر مجبور ہو جاتے۔ وہ اس بات کا اقرار کرتے کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں جن کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو نقصان پہنچانا ہے۔ وہ خود پر اس بات کا بھی الزام لگاتے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں بھی قابل اعتماد نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی بیویوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہیں ذاتی سطح پر اپنی تذلیل کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے تاکہ ایک صحافی کی حیثیت سے بھی انہیں رسوا کیا جا سکے۔

میں ایران میں اب بھی اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں ہوں اور میرے لیے یہ بات واضح ہے کہ ایران میں پریس اور اظہار رائے کی آزادی کی صورت حال انتہائی بدتر ہو چکی ہے۔ انتخاب کے بعد سے بے شمار اخبارات بند ہو گئے ہیں اور میرے سارے ساتھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔

ملسیاجیوڈن:

ایران کی مطلق العنان حکومت ایک انتہائی زن بیزار حکومت ہے جو کہ مسند اقتدار پر جمے رہنے کے لیے ظلم و ستم کا سہارا لیتی ہے۔ ہم جن باتوں کو عورتوں کی حق تلفی اور ماتحتی کہتے ہیں وہ انہیں اشیاء کا ایک الٰہی نظم و ضبط سمجھتے ہیں اور اس کے برخلاف کسی بھی الزام پر کفر و الحاد کے موافق زبردست سزائیں دی جاتی ہیں۔ لہٰذا پوری انسانیت کو درپیش ان خطرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے جو یہ ملاّ پیدا کر رہے ہیں صرف سزائے موت اور سڑکوں پر گرفتاریوں کی نشان دہی کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ اگر یہ ملاّ مولوی زن بیزار رویہ ترک کر دیں تو برسر اقتدار یہ دینی حکومت بری طرح زمین بوس ہو جائے گی۔ تو وہ کرتے کیا ہیں؟ اس کے بجائے وہ غلط معلومات کا سہارا لیتے ہیں۔ لوگوں کی اپنی مرضی کو اپنے پنجۂ استبداد سے کچلتے ہوئے خود کو ایک اعتدال پسند ظاہر کرنے کے لیے وہ ثقافتی اور مذہبی اختلافات کو فرار کا ایک ذریعہ بنا کر اپنی اصلیت کو ان کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ جب ایرانی پینل کوڈ میں ناانصافی اور عدم مساوات کے لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے یہ حیلہ اور بہانہ پیش کیا کہ ایران کی اسلامی سوسائٹی اور ثقافت ان معاملات میں مختلف اقدار و نظریات کی حامل ہے۔ لہٰذا وہ جرائم کےلیے مظلوم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اور ان کے یہ دعوے کسی بھی طرح سچے نہیں ہیں۔ اگر کچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ ایران جیسے روایتی معاشروں میں بہادری کے اصولوں نے ان مولویوں اور ملاؤں کواس بات کا پابند نبا رکھا ہے کہ وہ عورتوں کو عبرتناک سزائیں دیں۔ ایران میں ہم ایک متناقض صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ بصورت دیگر  دنیا کے دوسرے گوشوں میں چلنے والی مساوات کی تحریکوں میں شاذ ونادر ہی پایا جاتا ہے۔ ایرانی کلچر اور ایرانی معاشرہ برسر اقتدار رجعت پسند اور قدامت پسند ملاؤں سے کہیں زیادہ ترقی پذیر ہے۔ ایران میں جاری مزاحمت کی قیادت مریم رضوی کر رہی ہیں۔ ان جیسی ایرانی عورتوں نے ایرانی حکام کے ذریعہ کی گئی اسلام کی غلط تشریحات اور ایک زن بیزار ایرانی ثقافت کو مسترد کر دیا ہے۔

مسٹر مصطفیٰ نادری:

میں ایران میں ایک سیاسی قیدی تھا اور میں نے وہاں سلاخوں کے پیچے 10 سالوں کا ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔ میں پورے 8 سالوں تک قید تنہائی اور ایرانی حکام کے انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ تشدد کا شکار رہا ہوں۔ میرے اوپر محارب ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایک بنیاد پرست ایرانی حکومت کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے اللہ کا دشمن بن گیا تھا۔ میرا جرم یہ تھا کہ میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کے نام بتانے سے انکار کر دیا تھا تاکہ انہیں گرفتاری کی اذیت ناک صعبتوں سے محفوظ کیا جا سکے۔اور اس کی وجہ سے مجھے ایک اندھیری کوٹھری میں قید کر دیا گیا۔ ایسی تنہائی اور تاریکی کہ جس میں وقت کی ایک آہٹ کا بھی احساس نہیں ہوتا اور آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی یادوں نے آپ سے دوری بنانا شروع کر دیا ہے۔ میں باہر کی دنیا سے صرف تفتیش کے وقت ہی جڑ پاتا تھا جس میں مجھے سلاخوں کے باہر لایا جاتا اور بے رحمی کے ساتھ زد و کوب کیا جاتا تھا۔ میرے سامنے کی کوٹھری میں بند بہت سارے لوگ قید تنہائی کی وجہ سے پاگل ہو چکے تھے۔

معمول کے ساتھ میرے ساتھ میرے سیل میں یہی سلوک کیا جاتا تھا اور جیسے جیسے وقت گزرتا میں خود کو کمزور محسوس کرتا۔ کئی سالوں تک قید و بند کی صعوبتوں کے بعد 1988 میں مجھے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ ہسپتال میں میرے ایک چھوٹے سے وقفہ کے رمیان بڑی تعداد میں ایرانی قیدیوں کا قتل کیا گیا تھا۔ہسپتال میں ہونے کی وجہ سے میں اپنی موت سے بچ گیا۔ جب میں جیل میں واپس گیا تو مجھے بتایا گیا کہ میرے 25 ساتھیوں کو مار دیا گیا ہے۔

میں اقوام متحدہ سے اس بات کی پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ 1988 اور 89 کے درمیان ایران میں سیاسی قیدیوں کے قتل عام کی تحقیقات کروائے اور ایران میں واقع ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق دستاویز سیکورٹی کونسل کے حوالے کرے۔

مذاکرہ:

تمام خطابات ہو جانے کے بعد سامعین کے ساتھ سوال و جواب اور اظہار خیال اور ان کے ساتھ مذاکرات کا ایک پروگرام رکھا گیا۔

جو مسئلہ زیادہ زور و شور کے ساتھ موضوع گفتگو بنا وہ ایران میں عورتوں کے لیے ہیڈ کراف کو ضروری قرار دئے جانے کے متعلق تھا۔ سامعین میں سے ایک شخص نے کہا کہ جب مغربی سفارت کار اور سیاست دان ایران کا سفر کرتے ہیں تو انہیں بھی ہیڈکراف پہنے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ اس پینل کے چیئرمین نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں جب اٹلی کی وزیر خارجہ نے ایران کا دورہ کیا تو انہوں نے تہران میں جہاز سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا تھا۔ کیوں کہ انہیں یہ کہا گیا تھا کہ انہیں نقاب پہننا ضروری ہے لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی رسوم و رواج کے احترام میں اٹلی کی حکومت نے مسلم خواتین کو اس بات کی پوری آزادی دی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر برقع پہن سکتی ہیں۔ لہٰذا انہیں بھی اس بات کی آزادی حاصل ہونی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق تہران کی سڑکوں پر برقع نہ پہنیں۔ ان کے درمیان تناؤ اس وقت ختم ہوا جب وزیر خارجہ نے اپنے انکار کے باوجود اسکارف پہننے پر اتفاق ظاہر کیا۔

سامعین نے پردہ کے معاملے پر گفتگو کی اور اس بات کو بھی موضوع بحث بنایا گیا کہ برقع کس حد تک جوروجفا اور ظلم وستم کی علامت ہے۔ ملسیاجیوڈن نے اس کا یہ جواب دیا کہ بہت ساری مسلم خواتین خود اپنی مرضی سے برقع پہننا پسند کرتی ہیں اور ایسا کرنا ان کا حق بھی ہے۔ لیکن بہت ساری مسلم خواتین ایسا نہیں کرتیں اور انہیں بھی اس سے انکار کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ برقع اپنے آپ میں عورتوں سے نفرت کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ برقع اس وقت جوروجفا اور ظلم وستم کی علامت ہوتا ہے جب عورتوں کو اس کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اٹلی کی وزیر خارجہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ایران میں انہیں سب سے پہلے ایک عورت سمجھا گیا، اگر چہ وہ ایک سفارتی سربراہ اور ایران میں اٹلی کی سفیر تھیں۔ ایران میں عورتوں کو ایک انسان کی حیثت سے اتنی وقعت نہیں دی جاتی ہے کہ جس کا معاشرے میں مختلف کردار ہوتا ہے۔ بلکہ انہیں سب سے پہلے صرف ایک عورت سمجھا جاتا ہے اور اس کے بعد مردوں کے لئے ایک مسلسل خطرہ۔

اخیر میں چیئر مین نے اس مجلس میں شرکت کرنے کے لیے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://newageislam.com/islam-and-human-rights/new-age-islam-special-correspondent,-geneva/human-rights-situation-in-iran-has-not-improved-substantially-8-months-after-the-election-of-a-moderate-president,-speakers-point-out-at-a-side-event-in-unhrc-at-geneva/d/56072

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-special-correspondent,-geneva/human-rights-situation-in-iran-has-not-improved-substantially-ایک-اعتدال-پسند-صدر-کے-انتخاب-کے-بعد-بھی-ایران-میں-انسانی-حقوق-کی-صورت-حال-میں-خاطر-خواہ-سدھار-نہیں--جنیوا-میں-مفکرین-کا-اظہار-رائے/d/56130

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content