certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (16 Sep 2015 NewAgeIslam.Com)



Religious and Modern Education: An Islamic Perspective دینی اورعصری تعلیم میں تفریق ،اسلامی نقطہ نظر سے

 

ناظم اشرف مصباحی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فروغ اسلام کے ساتھ فروغ تعلیم پر بھی زور دی،حتی کہ ضرورت بھر تعلیم کو ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے لازم کردیا۔چنانچہ ارشاد فرمایا۔''طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ''علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔عہد نبوی کے ابتدائی دورپر تاریخی نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ دین اسلام کو سیکھنے اور اپنے ایمان میں اضافہ کے لیے نبی کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر آپ کی احادیث اور قرآن پاک سنتے اور یاد کرتے ۔اس وقت علم سے مراد بالخصوص لیٹریچر یعنی عربی کے ساتھ دوسری زبانیں پڑھنااور لکھنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جنگ میں قید ہونے والے کفار قیدیوں کا فدیہ یہ رکھا جاتا تھا کہ وہ صحابہ کو لکھنا سکھا دیں۔صحابہ کو عبرانی اور سریانی زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی گئی ۔چنانچہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا جسے انہوں نے پندرہ سال سے بھی کم عرصے میں سیکھ لی۔جب قرآن کی تکمیل اور احادیث کی کثرت ہوگئی اور احادیث لکھنے کا رجحان بڑھنے لگا تو قرآن و حدیث کو''اسلامی علوم ''کی حیثیت سے حاصل ہونے لگا۔قرون اولی میں احادیث کی تدوین عمل میں آئی،پھر علوم القرآن اور اصول حدیث کی تدوین ہوئی۔عہد صدیقی و فاروقی میں لیٹریچر کو کافی فروغ ملا۔بنو عباسی اور بنو امیہ کے عہد حکومت میںمسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں اسلامی ،شرعی و فقہی علوم کے علاوہ ریاضی ،فلکیات،جغرافیہ ،تاریخ ،طب اور دوسرے علوم کی تدریس پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔یہ تمام علوم ایک ہی چھت کے نیچے پڑھائے جاتے تھے۔یہاں یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ قرون وسطی سے لے کر ہر دور میں قرآن و حدیث کو اساسی حیثیت حاصل رہی ہے ۔تیسری صدی ہجری سے لے کرچھٹی صدی تک مسلمان دنیا میں علمی رفعت کے بلندترین مقام پر فائز تھے۔علمی ترقی کی بدولت مسلمانوں کے شہر رات کے وقت بھی روشنیوں سے جگمگا رہے تھے ،اس روشنی میں کسی گمشدہ سوئی کو تلاش کرنا اتنا مشکل نہ تھا جتنا لندن کی تاریک اور کیچڑ آلود گلیوں سے پیدل گزرنا مشکل تھا۔ادبی محفلوں میں ''شام مصر'' اور ''شب شیراز'' کے الفاظ اسی سنہرے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

اہل اسلام نے قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر علوم تخلیق کیے اور یونان کی دانش گاہوں سے تمام روشنیوں کو اپنی اکیڈمیوں اور کلیات میں منتقل کردیا۔ایسے ماحول میں الھیثم،ذکریا رازی،جابر بن حیان،فخرالدین رازی،جلال الدین رومی ،جلال الدین سیوطی جیسے ستارے پیدا ہوئے۔جو آسمان اسلام کے علمی زینت تھے۔لیکن یہ سلسلہ زوال پذیر اس وقت ہوا جب اسلامی دنیا میں تولید علوم اور تخلیق علوم کا سلسلہ بند ہوا۔ برصغیر میں اس وقت جب 1832ءمیں ایسٹ انڈیاکمپنی کاقیام عمل میں آیا ۔ برصغیر میں بہادر شاہ ظفر ی حکومت تک علوم کی دوحصوںمیں تقسیم کا تصور تک نہیں تھا ۔1833 ء میں برطانی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا قانونی مشیرایک ذہین ترین مشہورمورخ،ادیب،صاحب علماوردوررسپارلیمنٹرین لارڈ میکالے کو مقرر کیا۔اس وقت مسلمانوں میں شرح خواندنگی ٪ 90 سے زیادہ تھی۔ اس نے مسلمانوں کو ثقافتی، معاشی، روحانی اور علمی طور پر مفلوج کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا اور ایک ایسا نصاب اورنظام تعلیم ترتیب دیاجس نےپوراکلچربدلرکھ دیا۔یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس نے نصاب کو بدلتے وقت کہا تھا کہ ''میں ہندوستان کے لیے ایسا نظام تعلیم بنا رہا ہوں جسے پڑھنے کے بعد مسلمان بچے اگر عیسائی یا یہودی نہ بن سکے تو کم ازکم وہ مسلمان بھی نہ رہیں گے''(خواجہ عمیر فاروقی ، kufarooq3blog.wordpress.com)

اور اس طرح لوگوں میں دینی تعلیم اور عصری یادنیوی تعلیم میں فرق کاتصور پیدا ہوا۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لوگ آج تک اس تصور کے زیر اثر زندگی گذاررہے ہیں۔یہ اسی تصور کا نتیجہ ہے کہ جب'' طلب العلم فریضۃ الخ''کا ترجمہ کرتے ہیں تو علم کے ساتھ''دین''کا لاحقہ لگاکر کہتے ہیں کہ ''علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت فرض ہے۔''اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ ہندوستان آزاد اور پاکستان جدا ہوجانے کے باوجود اب تک ہم اسی نظام تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔تعلیم کے ساتھ ''دین اور دنیا''کا موجودہ تصور،اسکول اور مدرسے کی تفریق یقینا انگریزی سازش کا نتیجہ ہے ۔مسلمانوں کو اس سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔بلکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان اس تصور کو ختم کرکے قرآن و سنت کو اساس بناکر دونوں نظام تعلیم کو ایک کرنے کی ضرورت ہے۔آج برصغیر کے ساتھ ساتھ پوری اسلامی دنیاتعلیم کے میدان میں پیچھے ہے۔البتہ ترکی ،مصر اور ایران کی تعلیمی حالت قابل اطمینان نہیں تو کم ازکم ناگفتہ بھی نہیں ہے۔ترکی نے اپنے نظام تعلیم میں اچھی تبدیلی لائی ہے،اس نے سیکنڈری ایجوکیش میں ٪40/ فیصدمذہبی اور٪60/ فیصدعصری تعلیم کاتناسب قائم کیاہے۔مصرنےاپناپورانظام تعلیم جامع ازہر شریف کے سپر کردیا ہے ۔جس میں ٪60/ فیصدمذہبی اور٪40 /فیصدعصری تعلیم کاتناسب ہے۔ایران نےاپنےحوزۂ علمیہ (مدرسہ)اوردانشگاہ(یونیورسٹی ) کو اکٹھا کر دیا ہے ۔ ہندوستان و پاکستان میں اس جانب توجہ دینےکی شدیدحاجت ہے۔

  میں یہ نہیں کہتاکہ تعلیم کودینی ودنیوی خانوں میں تقسیم نہ کیا جائے۔کیا جائے ،ضرور کیا جائے لیکن موجودہ تصور کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقصد اور غایت کی بنیاد پر ۔ہر وہ علم جس میں آخرت کا تصورہو اورجسے اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لیے حاصل کیاجائے وہ علم یقینا ''دینی علم ''ہے اور جس میں تصور آخرت کا فقدان اور اللہ و رسول کی رضاجوئی نہ ہو بلکہ صرف دنیا کا حصول ہو ایسا علم بلاشبہ ''دنیوی علم ''ہے۔ کیا یہ غیر علمی اور غیر اسلامی بات نہیں ہے کہ ایک شخص جو قرآن و حدیث کا علم صرف اس لیے حاصل کرتا ہے کہ اس کے ذریعے دنیا کمائے ، صرف مدرسے میں پڑھنے کی وجہ سے اسے یہ سرٹیفکیٹ دے دی جائے کہ یہ' ' دینی تعلیم'' ہے؟اور ایک شخص جو خلق خدا کی خدمت اور اللہ کی رضا کے لیے ڈاکٹر بنتا ہے اسے صرف اسکول میں پڑھنے کی وجہ سے یہ کہہ دیا جائے کہ یہ ''دنیوی تعلیم'' ہے۔کیا مسلمانوں کو عصری علوم کی حاجت نہیں ہے کہ اسے غیر دینی فرض کرلیا جائے؟کیا مسلمانوں کو ڈاکٹروں کی حاجت نہیں ہے؟کیا مسلمانوں کو انجینیر اور سائنس دانوں کی ضرورت نہیں ہے؟شریعت میں ایک مسلمان مرد کو اپنا ستر عورت کسی غیر مسلم کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔لیکن کیا وہ اس کے لیے مجبور نہیں ہے ؟ایک مسلمان عورت کو اپنا ستر عورت کسی مسلمان مرد کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں ہے چہ جائے کہ غیر مسلم کے سامنے وہ بھی عورت نہیں بلکہ مرد کے سامنے؟لیکن پھر بھی کیا وہ اس کے لیے مجبور نہیں ہیں؟موجودہ حالات تو اور بھی لرزہ خیز ہیں کہ ہندوستانی غیر مسلم ڈاکٹروں پر حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے بچہ دانی کو دو بچے کی پیدائش کے بعد کاٹ کر پھینک دے۔اس لیے آپریشن سے پہلے ہی خوف زدہ کرکے یہ معاہدہ کرلیا جاتا ہے کہ بچہ دانی نکالنا پڑے گا ورنہ زچہ کو خطرہ ہے ۔آج حرم شریف میں بیک وقت 30/لاکھ سےزائدافرادنماز ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن تھا؟ اور کیا سعودی حکومت اس کے لیے مغربی سائنس دانوں کا محتاج نہیں بنا؟اگر آپ میرے درد کو محسوس کرسکتے ہیں تو آئیے عصری اور دینی تعلیم فرق کو ختم کرنے یا کم ازکم اسے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/nazim-ashraf-misbahi/religious-and-modern-education--an-islamic-perspective--دینی-اورعصری-تعلیم-میں-تفریق-،اسلامی-نقطہ-نظر-سے/d/104589

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content