certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (12 Jul 2019 NewAgeIslam.Com)



Religion Requires the Humbleness to Adapt مذہب حلم و بردباری کا مطالبہ کرتا ہے


نصیر احمد، نیو ایج اسلام

15 اپریل 2019

مذہب مکمل طور پر خلاف جبلت ثابت ہوا ہے اس لئے کہ ہر مذہبی حکم یا قانون اس چیز کو ختم کرتا ہے جس سے انسان کو لذت ملتی ہے اور ہر اس بات سے پرہیز کرنے کا حکم دیتا ہے جو خود کے لئے حق میں یا معاشرے کے حق میں نقصان دہ ہے، اور بڑے پیمانے پر معاشرے کی بھلائی کے لئے ایسے کاموں کا حکم دیتا ہے جو تکلیف دہ یا ناگوار ہو سکتےہیں ۔ ایک مدت تک مجبوری کے تحت عمل کرنے کے بعد انسانوں کو مذہب کی پیروی کرنے کے عظیم فوائد سمجھ میں آئے اور وہ خوشی خوشی مذہب کے پیروکار بن گئے۔ اللہ نے انسانوں کو ترقی پسند وحیٔ آسمانی کے ذریعہ مہذب و متمدن کیا اور آخر میں اللہ نے ہمارے آخری نبی ﷺ پر ایک مکمل اور کامل و اکمل دین کے ساتھ قرآن کو نازل کیا ہے ۔

کیا آخری وحی مکمل طور پر واضح اور قابل فہم تھی ، یا اس کے کچھ حصے اب بھی خلاف جبلت تھے جن کی پیروی کے لئے عقیدے کی ضرورت تھی؟ عقل اور سوجھ بوجھ کی بنیاد پر کسی چیز کی پیروی کرنے سے کسی چیز کو اختیار کرلینا مختلف ہے۔ جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ہم اس پر اپنے ماحول سے مانوس ہو جاتے ہیں ، یا مجبوری کے تحت کسی مذہب سے مانوس ہو جاتے ہیں یا کسی مذہب کو اس لئے اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں ہمارے سامنے ہر چیز واضح نہیں ہوتی۔ لہٰذا، جب مذہب کے ہر اصول واضح طور پر سمجھ میں نہیں آتے ہیں تو عقیدہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے یہاں تک کہ یہ ہماری سمجھ میں آ جائیں ۔ عقیدے کے ساتھ جو لوگ سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کرتے ہیں انہیں اس کی سمجھ حاصل ہو جائے گی اور جو لوگ عقیدے کے بغیر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ گمراہ ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر باندی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت کو ہی دیکھ لیں ۔ ہمیں یہ اخلاقی طور پر نازیبا اور ناقابل قبول معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی اجازت تھی۔ آخر اس کے جواز کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں ضرورت ہے کہ:

1۔ "تفسیر" کے ذریعہ واضح معنی سے انکار نہ کریں جسے علماء نے اپنے لئے موزوں معانی اخذ کرنے کے لئے وضع کیا ہے ۔ سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ جو اخلاقی طور پر نازیبا اور غلط ہے در اصل اس کی اجازت ہے ۔

2۔ اللہ پر پورا یقین رکھیں کہ اگر اس کی اجازت دی گئی ہے تو باندیوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت دینا اخلاقی طور پر اس کی اجازت نہ دینے سے بہتر ہے ۔

3۔ اب ان تمام شواہد کا مطالعہ کریں جن سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہو کہ ایسا کیوں کیا گیا۔

میں نے بھی خود کو اس عمل سے گزارا ہے جس کا نتیجہ مندرجہ ذیل مضمون ہے:

The Morality or the Immorality of the Institution of Slavery and the Quranic Permission That Allowed Sex with Female Slaves

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا؟

قرآن میں اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ ہر وحی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مذاق کے مطابق نہیں تھی، یا اس میں جو اچھی بات تھی اسے فوری طور پر سمجھ لیا گیا ۔ مثال کے طور پر:

(11:12) تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے۔

قرآن یہ واضح نہیں کرتا کہ نبی ﷺ کو کون سی بات ناخوشگوار تھی۔ لیکن یہ اس بات کو جاننے کے لئے کافی ہے کہ کوئی ایسی بات تو تھی جو نبی ﷺ کو ناخوشگوار تھی۔

جنگ کا حکم لوگوں پر ناخوشگوار گزرا

(216: 2) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے کیونکہ آپ ﷺ کو جنگ ناپسند تھی، یا شاید اس میں خطاب آپ ﷺ کے ذریعہ بالواسطہ طور پر آپ ﷺ کے پیروکاروں سے ہے اس لئے ان میں سے بہت سے لوگوں کو جنگ ناپسند تھی ۔ ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ کسی بھی مسلمان کو جنگ پسند نہیں تھی اور شاید ہمارے نبی ﷺ کو بھی، لیکن اللہ کی وحی کے ذریعہ انہیں اس پر مجبور کیا گیا۔ اس کی وجہ شاید نیست و نابود ہو جانے کا خوف رہی ہوگی کیونکہ وہ تعداد میں کمتر تھے اور اپنے دشمن سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

مشرکانہ معتقدات کے ساتھ سمجھوتہ مسترد

مندرجہ ذیل آیتوں میں ان شیطانی آیتوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالی نے فوری طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم کچھ دیر کے لئے شیطان کامیاب ہو بھی سکتا تھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تنازعات کے لئے مصالحت چاہتے تھے ۔ تاہم مذہب میں شرک کے ساتھ کسی بھی قسم کی مصالحت کو اللہ تعالی نے مسترد کر دیا ۔

(22:52) اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

(53) تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ستمگار دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں۔

(54) اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے کہ وہ تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے۔

(55) اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو۔

جو بیوی اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی عفت و عصمت کی حفاظت میں لاپرواہی برتتی ہو اس کے شوہر کو آیت 4:34 میں مارنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اپنی بیوی کی اصلاح کے ایک آخری حیلے اور تدبیر کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ تاہم، یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے خلاف تھا۔ ذیل میں اس آیت 4:34 پر محمد اسد کا تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے۔

" بہت سی مستند روایات سے یہ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کو بیوی کو مارنے کا نظریہ سخت ناپسند اور ناگوار تھااور آپ ﷺ نے کئی موقعوں پر یہ فرمایا کہ" کیا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح مار سکتا ہے جیسے اپنی باندی کو مارتا ہے ، اور پھر شام کو اسی کے ساتھ سوئے؟" (بخاری اور مسلم)

دوسری روایت کے مطابق نبی ﷺ نے کسی بھی عورت کو مارنا اپنے ان الفاظ کے ساتھ ممنوع قرار دیا تھا کہ’’اللہ کی بندیوں کو کبھی مت مارو" (ابو داود،نسائی ، ابن ماجہ، احمد بن حنبل، ابن حبان اور حاکم بسند الیاس ابن عبداللہ ، ، ابن حبان بسند عبد اللہ بن عباس، اور بیہقی بسند ام کلثوم۔ جب سرکش بیوی کو مارنے کی اجازت میں قرآن مجید کی یہ آیت 4:34 نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "میں کچھ اور چاہتا ہوں لیکن خدا نے کچھ اور حکم نازل کر دیا ہے اور خدا کا حکم سب سے بہتر ہے" (دیکھیں منار-جلد ۵-ص۷۴)۔ اس کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے کچھ عرصے قبل حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں یہ بیان کر دیا تھا کہ بیوی کو اسی وقت پیٹا جائے "جب اس نے اس غیر اخلاقی عمل کا کھلے طور پر ارتکاب کر لیا ہو"، اور وہ بھی اس انداز میں کہ"اسے اس کی وجہ سے درد نہ ہو (غیر مبرح)"؛ اس ضمن کی مستند روایات مسلم، ترمذی، ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ میں پائی جاتی ہیں۔ ان روایات کی بنیاد پر محدثین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ " اگر بیوی کو مارنے کی ضرورت پڑ ہی جائے تو یہ مارنا محض علامتی طور پر ہونا چاہئے - "مسواک یا کسی ایسی ہی چیز سے" (طبری علماء متقدمین کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں)، یا "کسی تہ کئے ہوئے رومال سے" (رازی)؛ اور بعض عظیم مسلم فقہا (مثال کے طور پر امام شافعی) یہ مانتے ہیں کہ یہ صرف جائز ہے اور اس سے بچنے کو ترجیح دینا چاہئے: اور وہ اس رائے کا جواز اس مسئلے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی جذبات کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں ۔

جدید مطالعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جوڑوں کے درمیان عمومی تشدد نوجوان جوڑوں کے درمیان تنازعات کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور آیت 4:34 نے بہت سی خواتین کے رویوں کو درست کر کے کتنی ہی شادیوں کو ٹوٹنے سے بچا لیا ہوگا۔ یہ حکمت اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی فوری طور پر دستیاب نہیں ہے لیکن عقیدے کی بنیاد پر اسے قبول کرنا ضروری ہے۔

خطرات سے ہوشیار

ایسے بہت سے مسلمان ہیں جن کے پاس عقیدہ نہیں ہے اور وہ اپنا راستہ کھو دیتے ہیں۔ عقیدے کا فقدان غرور کرنے سے اور قرآن مجید کو اللہ کی جانب سے ہمیشہ ہمیش کے لئے ایک درست وحی الٰہی ماننے کے بجائے "ساتویں صدی" کی ایک فرسودہ کتاب سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے اور بالعموم اس کے شکار وہ تمام لوگ ہیں جو تھوڑا علم رکھتے ہیں۔ دسویں صدی میں بہت سے "مسلم" فلسفی یونانی فلسفیوں کی کتابیں پڑھ کر مذہب کے خلاف ہوگئے تھے ، انہیں اس بات کا ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ تمام فلاسفہ مل کر بھی ایک واحد اخلاقی اصول نہ تو پیش کر سکتے تھے اور نہ ہی پیش کیا۔ اب وہ ان اخلاقی اصولوں کو اپنی عقل و دانش کی بنیاد پر سمجھ سکتے ہیں اور اسی بات نے ان کے اندر اب یہ بیوقوفانہ سوچ پیدا کر دی کہ ان جیسے لوگ خود اس طرح کے اخلاقی اصول پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ نبی صرف فلسفی تھے لہٰذا، اس کے پیچھے نہ تو کوئی خدا ہے اور نہ ہی کوئی وحی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ خدا کا ایک قانون ہے کہ مغرور بیوقوف اپنے راستے سے بھٹکتے ہی رہیں گے حتی کہ جب بھی انہیں حقیقت دیکھائی جائے وہ اس پر غور کریں اور اپنی اصلاح کرنے کی کوششیں کریں۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/naseer-ahmed,-new-age-islam/religion-requires-the-humbleness-to-adapt/d/118326

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/naseer-ahmed,-new-age-islam/religion-requires-the-humbleness-to-adapt--مذہب-حلم-و-بردباری-کا-مطالبہ-کرتا-ہے/d/119157

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content