certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (25 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Sufi Discourse: Renunciation Is the key to Spiritual Elevation -- Part 1 (بزبانِ تصوف: توبہ ہر روحانی مقام کی کنجی ہے ( حصہ 1

 

 

  

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

23 جون 2018

گزشتہ چند برسوں سے سید السالکین ، زبدۃ العارفین مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا مطالعہ تسلسل و تکرار کے ساتھ جاری ہے۔ راقم الحروف نے کسی موضوع پر جس مکتوب شریف کا بھی مطالعہ کیا یہ پایا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ایک مکتوب شریف معرفت الٰہیہ کا وہ بحر ناپیدا کنار ہے جس میں جتنی غوطہ زنی کی جائے اتنا ہی عجز و تنگ دامنی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے ایک ایک حرف سے علم و معرفت کے چشمے جاری ہیں ۔

 آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف میں علمِ طریقت اور رازِ معرفت کے پیچیدہ ترین مسائل اس حسن و خوبی کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں کہ اس کے مطالعہ کے بعد دماغ پر کوئی بوجھ یا قلب میں کوئی تنگی باقی محسوس نہیں ہوتی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے شرابِ عرفانِ وحدۃ کی لطافتوں کو ایک ایسے جام میں پیش کیا ہے کہ نوش کرنے والے کے فکر و عقیدے میں کوئی کجی باقی نہیں رہتی اور اہل علم کے بڑے بڑے تنازعات پل میں بے حقیقت معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اور دل بے ساختہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ معرفتِ توحید کا حق اگر کسی نے ادا کیا ہے تو وہ یہی روشن ضمیر صوفیائے کرام ہیں۔ اگر اس روئے زمین پر کوئی ایسا طبقہ ہے جس کی تعلیمات دل کو تائب ہونے پر مجبور کر دیں تو وہ صوفیوں کا طبقہ ہے۔

اس مضمون میں جو مکتوب شریف زیر نظر ہے اس کے مطالعہ کے بعد یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گناہوں کی آلائش میں مبتلا کوئی شخص آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اس مکتوب شریف کا مطالعہ کرے اور اس کا دل زندہ ہو تو وہ توبہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا ، اور توبہ ہی ہر مقام کی کنجی اور ہرنیکی کی روح ہے۔ توبہ نصوحہ یعنی سچی توبہ کے بعد ہی سالک پر معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اور توبہ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کی توفیق جب بھی مل جائے غنیمت ہے ، اگر چہ زندگی کا آخری لمحہ ہی کیوں نہ ہو۔ اسی مکتوب میں ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں :

‘‘پیرے نزدیکِ بزرگے آمد و گفت ایھا الشیخ ! گناہ بسیار دارم ، و میخواہم کہ توبہ کنم ، شیخ گفت کہ دیر آمدی پیر گفت نہ زود آمدم شیخ گفت کہ چیگونہ؟ پیر گفت ہر کہ پیش از مرگ بیاید اگر چہ دیر باشد زود آمدہ بود’’۔

ایک عمر درازشخص کسی بزرگ کے پاس گیا اورکہا کہ ائے شیخ میرے گناہوں کا کوئی شمار نہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ توبہ کر کے گناہوں سے پاک ہو جاؤں ، اس پر وہ بزرگ فرمانے لگے کہ تم نے توبہ کے دروازے پر آنے میں دیر کر دی تو اس (عقلمند) ضعیف شخص نے کہاں کہ نہیں مجھ سے اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ، بزرگ نے حیرت سے پوچھا کیوں؟ تو اس ضعیف کہا کہ توبہ ایک ایسی ابدی سعادت ہے کہ اگر موت سے پہلے بھی نصیب ہو جائے تو غنیمت ہے۔

یہ اس مکتوب شریف کا صرف ایک ایمان افروز اقتباس ہے ۔ انشاء اللہ اس مکتوب شریف کو کئی حصوں میں اردو ترجمہ ، قرآن و حدیث کے استدلال اور اس کے باریک نکات کی پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ آپ قارئین کی خدمت میں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کو تسہیل و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا خیال اس لئے پیدا ہو کہ اب تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے  مکتوبات کے جو تراجم اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں وہ اس تسہیل و تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں اس لئے اردو کے ایک عام قاری کا اسے پڑھنا اور اس سے درست معنیٰ اخذ کرنا قدرے دشوار ہے ، البتہ علماء ان تراجم سے خوب سیرابی حاصل کرتے ہیں ۔اصل فارسی مکتوب بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ یہ مکتوب مزید مستند ہو اور اس سائٹ پر دنیا کے دیگر حصوں میں فارسی زبان کے قارئین کے لئے مزید لطف اور دلچسپی کا سبب بن سکے۔ اس کا جو فارسی نسخہ مجھے دستیاب ہے وہ کافی قدیم اور بوسیدہ ہے جس پر مطبع علوی محمد علی بخش خان نقشبندی اور سن طباعت 1286 ہجری درج ہے۔  مطبع کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں مکتوب شریف کا فارسی متن پیش کیا جا رہا ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مکتوب دوم ؛ در بیان توبہ

برادر عزیز شمس الدین کرمہ اللہ تعالیٰ بکرامۃ التائبین ، بدانکہ نخست این راہ توبۂ نصوح است چناکہ حق تعالیٰ فرمودہ است توبو الی اللہ جمیعاً ایھا لمؤمنون لعلکم تفلحون ۔ این آیۃ در حق صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نازل شدہ است و ایشان خود ہمہ تائبین بودہ اند و از کفر اعراض کردہ وبایمان اقبال نمودہ و پشت بگناہ دادہ و بطاعت ، پس بدیں امر کہ توبوا ہمہ را میفرماید معنیٰ چہ بود از بزرگی این مسئلہ پرسیدند گفت کہ توبہ پر ہمہ فریضہ است در ہر ساعت و در ہر نفس اما برکافران فریضہ است کہ ز کفر توبہ کنند و بایمان در آیند و بر عاصیان فریضہ است کہ از معصیت توبہ کنند و بطاعت در آیند و بر محسنان فریضہ است کہ از حسن باحسن در آیند و بر واقفان فریضہ است کہ نہ ایستند و بردش آیند و بر مقیمان آب و خاک فریضہ است کہ از حضیض سفلی باَوج علوی بر آیند ہران روندہ کہ در مقامی مقام کند آن مقام اورا گناہ بود ازانش توبہ باید کرد،  وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون سر این معنیٰ ست مقصود آنکہ در ہر مرتبہ کہ ہستی ازان مرتبہ برتر دیگر است ازان مرتبہ برآمدن و درین مرتبہ درآمدن فریضہ بودد اگر نہ از سلوک باز مانی ازینجا امرست در شرع کہ سیروا سبق المفردون ۔ آنکہ موسیٰ علیہ السلام گفت تُبتُ اِلیکَ توبہ از خود بود بحق ازانچہ رویت باختیار خود خواست و اندر دوستی اختیار آفت است۔ پس این بازگشتن بود زِ حسن باحسن وآنکہ حضرت رسالت پناہ ﷺ گفتی انی لاستغفر اللہ فی کل یوم سبعین مرۃ این استغفار است از صواب بہ اصوب بہر نفسے از مرتبہ بمرتبہ نقل فرمودی و خود را در مرتبہ اول مقصر دیدے بجنب مرتبہ مرتبہ دوم استغفار کردی اینست معنیٰ آنکہ حسنات الابرار سیٔات المقربین توبہ بحقیقت رجوع آمد ع لیکن صفت رجوع مختلف بمقدار اختلاف احوال و مقامات عام را از جفا بعذر باز گشتن بیم عقوبت را و خواص را از افعال خویش بازگشتن بدیدن منت تعظیم مخدوم را و خواصِ خواص را از کل کونین بازگشتن و عجز و فنا و عدم ایشان دیدن اجلالِ مکونِ کون را۔ چون این معاملہ معلوم شد باید دانست کہ تابید در توبہ شرط نیست بعد آنکہ عزیمت کرد کہ بدان گناہ باز نگردد و اگر تائب را فتورے پیش آید کہ باز بمعصیت افتد اندران ایام گذشتہ حکمِ ثوابِ توبہ یافتہ باشد و از تائبانِ این طائفہ بودہ اند کہ توبہ کردہ اند و باز بمعصیت افتادہ انگاہ باز بدرگاہ آمدہ اند، تا یکی از مشائخ گفتہ است رحمۃ اللہ علیہ کہ من ہفتادہ بار توبہ کردم باز بمعصیت افتادم تا ہفتادیکم باز استقامت یافتم کہ پیش نیفتادم۔ و نیز گفتہ اند یکی از معصیتتوبہ کردہ بود و باز در معصیت افتادہ انگاہ پشیمان شد روزی باخود گفت اگر بدرگاہ باز آیم ندانم حالم چگونہ بود ، ہاتفے آواز داد اطعتنا فشکرناک ثم ترکتنا فامھلناک فان عدت الینا قبلناک مارا اطاعت داشتی ترا شکر دادیم ، باز بیوفائی کردی و مارا بگذاشتی ما ترا مہلت اکنون اگر باز آئی بآشتی قبول کنم۔ اما قول مشائخ رضوان اللہ علیھم اجمعین در توبہ آنست کہ خواجہ ذوالنون مصرے رحمۃ اللہ علیہ گوید توبۃ العوام من الذنوب و توبۃ الخواص من الغفلۃ و توبۃ الانبیاء من رؤیۃ عجزھم عن بلعغ ما نالہ غیرھم ، توبہ عوام از گناہ باز گشتن و توبہ خواص از غفلت باز گشتن ست و توبہ انبیا ازانست کہ عجز خوایش بیند از رسیدن بجائ کہ غیر ایشان رسیدہ باشد۔ خواجہ سہیل تستری با جماعتی بر آنند کہ التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک توبہ آن بود کہ ہرگز گناہ کردہ فراموش نہ کنی و پیوستہ در ندامت باشے تا اگرچہ بسیار عمل داری معجب نگردی و باز خواجہ جنید باجماعتے برانند کہ الوبۃ ان تنسیٰ ذنبک توبہ آن بود کہ گناہ کردہ فراموش کنی ، ازانچہ تائب محب باشد و محب را ذکر جفا جفا باشد۔ و این ضدِ قولِ اول ست در ظاہر ، و اما در معنیٰ ضد نیست کہ معنیٰ فراموش کردن آنست کہ حلاوتِ آن گناہ از دلِ تو بیرون رود تا چنان گردی کہ گوئی ہرگز آن گناہ نکردۂ۔ و خواجہ جنید گفت رحمۃ اللہ علیہ بسیار خواندم و در ہیچ چیز مرا چندین فائدہ نبود کہ اندریں یک بیعت شعر اِذَا قلتُ ما اذنبت ُقالَت محبتہُ –وجودک ذنب لا یقاس بھا ذنب* چون وجود دوست در حضرت دوستے جنایت بود وصفش را چہ قیمت ماندای۔ برادر اجل در کمین است و فرصت عزیز کہ ناحیہ ملک الموت ناگاہ طالع شود۔ پیری نزدیکِ بزرگی آمد و گفت ایھا الشیخ ! گناہ بسیار دارم ، و میخواہم کہ توبہ کنم ، شیخ گفت کہ دیر آمدی پیر گفت نہ زود آمدم شیخ گفت کہ چیگونہ؟ پیر گفت ہر کہ پیش از مرگ بیاید اگر چہ دیر باشد زود آمدہ بود۔ برادر ہر چند آلودہ و ملوثی چنگ بہ توبہ زن و امید وار باش کہ از سحرۂ فرعون آلودہ تر نۂ و از سگ اصحاب کہف ملوث تر نۂ ، و از سنگ طور سینا جماد تر نۂ و از چوب حنانہ بی قیمت تر نۂ غلام رو اگر چہ از حبش آرند چہ زیان دارد چون خواجہ اش کافور نام نہد۔ چون ملائکہ گفتندکہ مارا بافساد ایشان طاقت نیست ، ندا آمدآری اگر بردر شما فرستم رد کنید و اگر بدست شما بفروشم مخریدی ۔ ترسیدہ کہ ایشان از رحمت ما زیادت آید یا می ترسید کہ آلودگی ایشان بر کمال قدوسی مالوثی آرد، این م حضرت ما مقبولانند ، چون قبول ما آمد معصیت و لوث ایشان را چہ زیان کند۔ بیت سراسر ما ہمہ عیبم بدیدی و خریدی تو زہے کالائے پرعیب و زہے لطف خریداری۔

و السلام

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/sufi-discourse--renunciation-is-the-key-to-spiritual-elevation----part-1--(بزبانِ-تصوف--توبہ-ہر-روحانی-مقام-کی-کنجی-ہے-–(-حصہ-1/d/115632

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content