certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (22 Apr 2019 NewAgeIslam.Com)


Revisiting the concept of following the Prophet (PBUH) – What Does Quran Say? – Conclusion قرآن بھی اطاعت رسول ﷺ کا ہی داعی ہے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

18 اپریل 2019

دین کے کسی حکم یا کسی تصور کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی صرف ایک ہی آیت کافی ہے لیکن اب تک ہم نے جن آیات کریمہ کا مطالعہ کیا وہ اس امر کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرنا قطعی طور پر نہ تو قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے اور نہ ہی اسلام کی روح کے منافی ۔ دین کی سالمیت اور اس کے بنیادی عناصر کو تحفط فراہم کرنے کا ذہن رکھنے والے اہل علم حضرات نبی اکرم ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کے قرآنی ثبوت میں صرف اس ایک آیت کو ہی کافی مانتے ہیں، قرآن کہتا ہے؛

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (4:150) أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا (4:151)

ترجمہ: وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں - یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ کنزالایمان

دوسرے قسم کے لوگوں سے قرآن کا خطاب

جو لوگ پیغمبر اسلام ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کو جزو ایمان مانتے ہیں ان کی تائید میں قرآن کریم کی متعدد آیتیں موجود ہیں ۔ کسی نام نہاد مفکر کے باطل مفروضے کا شکار ہونے سے قبل انہیں ایسے اہل علم کے دلائل کا جائزہ ضرور لے لینا چاہئے جویا تو صرف اللہ کی اطاعت یا صرف قرآن کی پیروی کی دعوت دیتے ہیں ۔ میں کسی کی فکر کا مطالعہ کرنے سے مسلمانوں کو رکنے کے لئے نہیں کہتا بلکہ یہ ایک دعوت فکر ہے کہ جب بھی کوئی ایسا قضیہ کسی بھی حیلے سے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جائے جس میں اطاعت رسول سے ذرہ برابر بھی انحراف کا پہلو مضمر ہو تو محض عقل کا پیمانہ اسے درست تسلیم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں ایمان و عقیدے کی سلامتی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک مرتبہ اسے میزان قرآن پر ضرور تول لیا جائے، اگر کسی کی فکر اس ترازو پر کھری اترتی ہے تو بسر و چشم تسلیم ہے ، ورنہ ایمان کے باب میں اس کی حیثیت خس خاشاک سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔

قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو اطاعت رسول کریم ﷺ کو جان ایمان تصور کرتے ہیں اس لئے کہ ایسا کر کے وہ ان آیتوں کے بھی عامل بن جاتے ہیں جن کی رحمتوں اور برکتوں سے اطاعت رسول کی نفی کرنے والے محروم ہی رہتے ہیں۔ اور ایسی آیتیں وہ ہیں جن میں رسول اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا گیا اس لئے کہ اطاعت تعظیم و توقیر کو مستلزم ہے۔ قرآن کہتا ہے؛

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (8) لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (48:9 )

ترجمہ: بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا - تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔ کنزالایمان

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (8:24)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے۔ کنزالایمان

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (1) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (2) إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (49:3)

ترجمہ: بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ کنزالایمان

لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (24:63)

ترجمہ: رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو تم میں چپکے نکل جاتے ہیں کسی چیز کی آڑ لے کر تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر دردناک عذاب پڑے۔ کنزالایمان

وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ (5:12)

ترجمہ: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد کیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور میرے سوالوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو بیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔ کنزالایمان

جو لوگ معمولات دین اور معمولات دنیا میں تفریق کرتے ہیں ، معمولات دنیا میں پیغمبر اسلام ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے انکار کرتے ہیں اور معمولات دین میں سے بھی صرف معمولات عبادات میں ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی پیروی کو جائز مانتے ہیں ان سے سوال یہ ہے کہ (۱)اطاعت رسول ﷺ کے معاملےامور دین و دنیا کی اس تفریق کی قرآنی شہادکیا ہے؟ (۲) کیا قرآن نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ امور دنیا میں رسول کا عمل کوئی حجت نہیں ہے جبکہ قرآن خود ہی بغیر کسی قید و شرط کے رسول اکرم ﷺ کی ہر ادا کو انسانوں کے لئے نمونہ عمل (Role Model) قرار دیتا ہے ؟ (ملاحظہ ہو آیۃ ‘‘لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21)’’ترجمہ: بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے)۔ (۳) کیا قرآن میں ایسی کوئی آیت ہے جو نبی اکرم ﷺ کی جزوی اطاعت واجب کرتی ہے؟ اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کا نظریہ قرآن کی دلیل سے مؤید ہے تو کوئی ایک آیت بھی ایسی پیش کی جائے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ صرف چند مخصوص معمولات عبادات میں ہی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت مطلوب ہے، اور اگر نہیں تو اس فکر کو ترک کرنے سے دین کا کون سا کلیہ مانع ہے؟ بصورت دیگر یہ ہوائے نفس کی پیروی نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے؛

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (4:135)

ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو وہ غنی ہو یا فقیر ہو بہرحال اللہ کو اس کا سب سے زیادہ اختیار ہے تو خواہش کے پیچھے نہ جاؤ کہ حق سے الگ پڑو اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ پھیرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ کنزالایمان

اور اگر آپ کا خیال ہے کہ محض اقرار توحید ہی آپ کے ایمان کی دلیل اور آپ کی اخری کامیابی کی ضمانت ہے تو درج ذیل آیت کو غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ایمان والوں سے ہی دوبارہ کیوں ایمان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے!

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (136) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (137) بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (4:138)

ترجمہ: اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتاردی اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا - بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے نہ انہیں راہ دکھائے - خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ کنزالایمان

اب آخر میں بات ان کی جو دین کے معاملے میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات مقدسہ کو حجت تو نہیں مانتے لیکن بے شعوری میں یا لوگوں کی نظروں میں مسلمان بنے رہنے کے لئے بوجہ مجبوری اپنے دینی و دنیاوی معاملات میں آپ ﷺ کی پیروی کرتے ہیں۔ میں ایسے اپنے سادہ لوح دینی بھائیوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ خدا را قرآن سے تمسک اختیار کیجئے ، اللہ کا تقویٰ اختیار کیجئے اور قرآن سے ہدایت تلاش کیجئے۔ باللہ واللہ تاللہ! بڑے علماء ، مفکرین اور اہل علم کا کسی معاملے میں خطائے علمی کا شکار ہوجانا ممکن ہے لیکن یہ قطعی ناممکن ہے کہ کوئی تقویٰ کا نور لیکر آئے اور قرآن بغیر ہدایت کے اسے واپس لوٹا دے۔ دل و دماغ کے دریچے کھولیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اب تک جو آیتیں پیش کی گئیں کیا وہ ناکافی ہیں اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ ہمارا دین اللہ اور اللہ کے رسول دونوں کی اطاعت و فرمانبرداری کے عنصر سے ہی مکمل ہوتا ہے؟ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک عنصر بھی مفقود ہو تو ہمارا دین ناقص و نامکمل ہے ۔ اور ناقص و نامکمل دین ہمیں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار نہیں کر سکتا۔ اسی لئے اللہ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (208) فَإِن زَلَلْتُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (2:209)

ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے - اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ کنزالایمان

مذکورہ بالا آیات کریمہ کے مطالعہ سے منجملہ ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اللہ نے ہماری ہدایت اور ہماری رہبری و رہنمائی کاکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا اور ہم انسانوں میں اپنے ایک محبوب و برگزیدہ بندے کو نبی بنا کر مبعوث کیا جن کی اطاعت کو بلافصل و بلاتفریق عین اپنی ہی اطاعت قرار دیا اور آپ ﷺ کی مرضی کو اپنی مرضی قرار دیا۔ لہٰذا، ہمیں اپنے تمام معاملات میں اسی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے جس کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔

وما توفیقی الا باللہ-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/revisiting-the-concept-of-following-the-prophet-(pbuh)-–-what-does-quran-say?-–-conclusion--قرآن-بھی-اطاعت-رسول-ﷺ-کا-ہی-داعی-ہے/d/118385

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content