certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (07 Aug 2019 NewAgeIslam.Com)



Divine Guidelines for a Peaceful Human Society-part—2: Fair Witness and Unbiased Justice System ایک پر امن اور خوشحال انسانی معاشرے کے قیام کے لئے سچی گواہی اور غیرجانبدارانہ نظام عدل ناگزیر


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

3 اگست 2019

گواہی چھپانا مظلوم کے اوپر مزید ایک ظلم ہے

رشاد ربانی ہے:

وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (2:283)

ترجمہ: اور تم گواہی کو چُھپایا نہ کرو، اور جو شخص گواہی چُھپاتا ہے تو یقینا اس کا دل گنہگار ہے، اور اﷲ تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہے۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسے چند جرائم پیشہ افراد ہوتے ہیں جو جرائم کا ارتکاب کرتے وقت نہ ہی مظلوم کی حالت پر کوئی ترس کھاتے ہیں اور نہ ہی اس کے اہل خانہ اور متعلقین و لواحقین کی حالت زار کا کوئی لحاظ کرتے ہیں ۔ اور انہیں میں سے بعض جرائم پیشہ افراد اس قدر جری اور بے باک بھی ہوتے ہیں کہ وہ دن کے اجالے میں سر عام جرائم انجام دینے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے بلکہ سب کی نگاہوں کے سامنے ہی انہیں جو کرنا ہوتا ہے کر گزرتے ہیں۔

جرائم پیشہ افراد کا یہ رویہ مجموعی طور پر ہمارے پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے ۔ اور وہ اس طرح کہ ہمارے معاشرے میں جو شریف اور کمزور طبقہ ہے اس کی زندگی خوف و ہراس کے سائے میں گزرتی ہے اور جو ہر طرح کے وسائل سے لیس معاشرے کا طاقتور اور شرپسند طبقہ ہے اسے انسانی حقوق کی پامالی کے لئے مزید شہ ملتی ہے اور اس کی شرپسندانہ ذہنیت مزید مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ لہٰذا ہماری نگاہوں کے سامنے جب بھی ایسے شر پسند عناصر کسی جرم کو انجام دیں ، کسی کے حقوق کی پامالی کریں یا کسی کے بنیادی انسانی حقوق پر ضرب لگائیں تو ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف ہمارے پاس جو بھی شواہد موجود ہوں وہ عدالت کے سامنے پیش کریں۔ اور اگر ہم میں سے کوئی فرد کسی جرم کا عینی شاہد (Eyewitness) ہو تو ضرور اس کی گواہی عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کی جرأت کرے تاکہ اس مظلوم کی داد رسی ہو اور اس کے لئے انصاف کے راستے ہموار ہو سکیں، اور ظالم و شر پسندوں پر قانونی شکنجہ مضبوط ہو اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

سچی گواہی دینے میں رشتے اور قرابت کا خیال نہ کیا جائے

یونہی رشتے داریاں اور قرابت داریاں بھی اگر سچی گواہی کے راستے میں حائل ہوں تو ان کی پرواہ نہ کی جائے کہ یہ انصاف کا معاملہ ہے اور انصاف کے راستے میں کسی بھی قسم کی روکاوٹ بننے یا کسی بھی شکل میں روکاوٹ پیدا کرنے کی اجازت نہ تو اسلام دیتا ہے اور نہ ہی کوئی مہذب معاشرہ اسے تسلیم کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (4:135)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔

عفت مآب اور نیک و پارسا خاتون کی عفت و عصمت اور نیکی و پارسائی کو تہمت اور کذب و بہتان سے تار تار نہ کیا جائے

جس طرح اسلام اپنے ماننے والوں کو گواہی چھپانے سے منع کرتا ہے اسی طرح اس بات کو بھی اسلام نا پسند کرتا ہے کہ کسی پر جھوٹا الزام لگایا جائے اور خاص طور پر کسی عفت مآب اور نیک و پارسا خاتون کی عفت و عصمت اور نیکی و پارسائی کو جھوٹے الزامات اور کذب و بہتان سے داغ دار کیا جائے۔ جو کوئی کسی پاکباز خاتون پر ایسا الزام لگائے ضروری ہے کہ اس پر شہادت بھی پیش کرے، ورنہ اللہ کی نظر میں ایسا شخص ظالم تو ہے ہی جس کی سزا آخرت میں اسے ملے گی، دنیا میں اس کی سزا یہ ہے کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور دوبارہ عدالت اس کی گوہی کسی بھی معاملے میں کبھی قبول نہ کرے۔ ارشاد ربانی ہے؛

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (24:4)

ترجمہ: اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں (سزائے قذف کے طور پر) اسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیں۔

انصاف کی کرسی جس کے حوالے ہے وہ بلا فرق و امتیاز انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرے

جب شہادت اور سچی گواہی کا عمل مکمل ہوجائے اور معاملے کی اچھی طرح جانچ بین بھی کر لی جائے اور عدالتی کاروائی کی ساری روکاوٹیں بھی ختم ہو جائیں تو اب عدالت کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ پوری غیر جانبداری اور دیانت داری کے ساتھ اپنا فیصلہ سنائے۔ عدالت کی نظر میں مجرم ثابت ہونے والا شخص خواہ کوئی بھی ہو کرسیٔ عدالت پر بیٹھنے والے جج کا یہ فرض ہے کہ وہ مجرم کے نہ اثر و رسوخ کو خاطر میں لائے نہ اس کے اعلیٰ عہدے کا اور نہ ہی سماج میں اس کی قد آوری کا خیال کرے اور نہ ہی یہ دیکھے کہ میرے ساتھ اس کا رشتہ اور علاقہ کیا ہے۔ عدالت کے سامنے مجرم ثابت ہونے والے شخص کے ساتھ فیصلہ صادر کرنے والے جج کا اپنا خونی رشتہ ہی کیوں نہ ہو‘ انصاف کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف کی کرسی جس کے حوالے کی گئی ہے وہ بلا فرق و امتیاز انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرے۔ ورنہ اگر عدالتیں بھی انصاف دینے میں ناکام ہو گئیں تو معاشرے کو انارکی کا شکار ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا۔ ارشاد ربانی ہے؛

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (5:8)

ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے۔

جاری……..

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/divine-guidelines-for-a-peaceful-human-society-part—2--fair-witness-and-unbiased-justice-system--ایک-پر-امن-اور-خوشحال-انسانی-معاشرے-کے-قیام-کے-لئے-سچی-گواہی-اور-غیرجانبدارانہ-نظام-عدل-ناگزیر/d/119404

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content