New Age Islam
Wed Jan 28 2026, 04:10 PM

Urdu Section ( 18 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Phony Muslimness among Muslim Boys in Schools and Colleges in UK برطانیہ کے اسکولوں اور کالجوں میں مسلم لڑکوں کے درمیان مصنوعی اسلام پرستی

 

 

 

مائک غوث  ، نیو ایج اسلام کے لئے

25 نومبر 2013

مجھے برطانیہ میں مسلم اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن  کے ذریعہ سیمیناروں اور دوسری تعلیمی سرگرمیوں کے لئے  کالجوں اور یونیورسیٹیوں میں طلباء وطالبات کے لئے علیحدہ مجلس کے انتظام و انصرام سے تشویش لاحق ہے ۔



امریکہ میں اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن کے برخلاف جہاں مرد  اور خواتین کا انتظام  و انصرام ایک ساتھ کیا جاتا ہے اور وہ دونوں ایک ساتھ کسی بھی مجلس میں شرکت کر سکتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ میں مسلم اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن  لڑکے چلاتے ہیں ۔ جب انہیں کسی ایسی تقریب کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے جس میں مسلمانوں کی بکثرت بھیڑ ہو تو وہ لڑکے فوراًریا کار مسلم بن جاتے ہیں۔ (ایسا لگتا ہے کہ) وہ عورتوں کو آزادی کے ساتھ کہیں بھی بیٹھنے سے جتنا زیادہ روکتے ہیں اور اتنے ہی بڑے مسلم بن جاتے ہیں ! یہ کیا ہی ریاکار مسلمان ہیں!

یہ حال صرف لڑکوں کا ہی نہیں ہے بلکہ کچھ امام بھی ایسے ہیں کہ جب وہ کسی خاص تقریب میں خطبہ دینے آتے ہیں وہ تولازمی طور  پر کہیں دوسری جگہ تاریکی میں بیٹھی خواتین کو خاموش ہونے کا حکم دیتے ہیں ۔ اس کی اصلاح کریں ، اگر آپ  کا خطبہ اتنا احمقانہ  ہوگا تومرد بھی ایسا ہی کریں گے ، یا تو وہ آپس میں گفتگو کریں گے یا اپنے موبائل میں مصروف ہو جائیں گے ۔ مجھے خوشی ہے کہ  میں ایسی مجلسوں میں نہیں جاتا، لیکن اگر کبھی اتفاق ہوا بھی، تو میں عورتوں پر اس قسم کے غیر مہذب اور ادب و احترام سے خالی تبصرے  کے لئے ان کی  مذمت کروں گا ۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہماری خاموشی انہیں غلط کاموں کوجاری رکھنے کی اجازت  دیتی ہے ۔ آپ اس کے خلاف آواز بلند کریں گے تو دوسرے لوگ اس میں مداخلت کریں گے ۔

مردوں اور عورتوں کو  الگ الگ مجالس میں بیٹھانے کی روایت ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ مردوں اورعورتوں کو خود یہ متعین کرنے کی آزادی ہونی چاہئے کہ انہیں کس جگہ بیٹھنے میں اطمینان حاصل ہوتا ہے، انہیں کسی بھی چیز پر مجبور نہیں کرنا چاہئے ۔اس معاملے میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہونی چاہئے۔

کیا وہ اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ اسلام اپنے عادات و اطوار کو  مشفق  ، خلیق ، صادق ، قابل اعتماد ، ہمدرد اور انصاف پرست بنانے کا نام ہے ، اور اپنی شخصیت کو امانت دار بنانے کی ضرورت ہے ، اس لئے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا جا تا تھا ۔ بلاشبہ مسلمانوں کو اس بنیادی سنت پر سب سے پہلے عمل کرنا چاہئے ۔ اسلام دوسروں کے عادات و اطوار کو  کنٹرول کرنے کا نام نہیں ہے۔ اسلام آزادی کا نام ہے –آپ کو  اپنے اعمال کے لئے ذاتی طور پر خدا کا انعام حاصل ہوگا یا آپ اس سے محروم رکھے جائیں گے نہ تو مسلم اسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن  اور نہ ہی آپ کے شہر کا مفتی دور دور تک آپ کے اعمال کے لئے جوابدہ ہے ۔والدین، شریک حیات ، بہنوں اور بھائیوں یا اماموں کی بات تو چھوڑیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ کی غور و فکر کی تنہائی اور  قیامت کے دن آپ کو بچانے نہیں آئیں گے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کس و ناکس کو قرآن  کی تعلیم دینے کی ذمہ داری نہیں اٹھا رکھی ہے ۔

حجاب اور علیحدگی بنیادی طور پر مسلم ممالک کی ثقافتی پیدا وارہیں ۔ اسلام میں اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے ۔ اولین اور نمایاں ترین عبادت گاہ میں اب تک علیحدگی کا کوئی نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔ مرد اور عورت ایک ساتھ حج  ادا کرتے ہیں ، اللہ ہم سب کو کسی تفریق کے بغیر ایک ساتھ متحد چاہتا ہے۔

برطانیہ ، امریکہ ، فرانس ، کینیڈا یا اس روئے زمین پر دوسری جگہوں میں بسنے والے مسلمانوں کی اپنی یا کسی تذبذب کے بغیر تبدیل شدہ تہذیب وثقافت ہے ۔ سعودی عرب کے برخلاف جہاں عورتوں کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لیکن جو عورتیں دوسرے ممالک میں قیام پذیر ہیں انہیں اپنی اور اگر بچے ہیں تو ان کی  کفالت  خود کرنا سیکھنا چاہئے ، اور ان کی تہذیب و ثقافت ان کی ضروریات پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ سعودی عرب کی ضروریات پر ۔

ان والدین کو شرم آنی چاہئے جو اپنی بیٹیوں کو مردوں کا محتاج بنا دیتے ہیں اور جب ان کے مرد کی وفات ہو جاتی ہے یا وہ بھاگ جاتے ہیں تو ان کے لئے سنگین صورت حال پید اہو جاتی ہے ۔کیا اسی طرح والدین اپنی بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں ؟ بیٹیوں کو  مکمل آزادی حاصل ہونی چاہئے اور اس کے اندر اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ اپنے معاملات کو خود سنبھال سکے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو کہا تھا کہ تمہیں جنت کا پروانہ صرف اس لئے مفت میں نہیں دیا جائے گا کہ تم میری بیٹی ہو  بلکہ دوسرے تمام لوگوں کی طرح اپنے تقویٰ و طہارت کے ذریعہ تمہیں خود جنت  حاصل کرنا ہوگا ۔

اگر کسی عورت کو علیحدگی پسند زندگی کی تربیت دی جائے  تو وہ ان حالات میں مصائب و آلام کا سامنا کیسے کرے گی جب اس کے والد ، بھائی ، شوہر یا اس کا بیٹا اس کے پاس نہ ہو ۔ محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جس سے محبت کریں اسے کسی کا محتاج بنا دیں ۔ ہاں اگر ہم اپنے کسی پیارے سے محبت کرتے ہیں تو  ہم  انہیں خود کفیل اور آزاد بنادیتے ہیں ، اور انہیں اس قابل بنادیتے ہیں  کہ وہ  ناگہانی صورت حال میں بھی کم سے کم مصائب کے ساتھ اپنے بل بوتے  پر قائم رہے ۔

ویسے یہی صورت حال ایشاء کے سکھوں ، ہندوؤں ، جینوں ، عیسائیوں اور دوسروں کی بھی ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ  : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

 مائک غوث  پیشے کے اعتبار سے تکثیریت ،سیاست ، امن ، اسلام ، اسرئیل ، ہندوستان  ، بین المذاہب اور ہم آہنگی  پر خطیب مفکر  اور  مصنف ہیں ۔ اور دوسرے معاملات اور مسائل میں بھی ایک سر گرم کارکن کی حیثیت سے جانے جاتے  ہیں ۔ اور ایک ہم آہنگ امریکہ کی  تعمیر میں سر گرم عمل ہیں   اور  www.TheGhousediary.com  پر  روز مرہ کے مسائل میں کثرت پسندانہ   حل پیش کرتے ہیں۔مائک غوث  قومی اور   مقامی ٹی وی  ، ریڈیو اور پرنٹ میڈیا میں  پروگرام پیش کرتے ہیں ۔ وہ فاکس ٹی وی پر  Sean Hannity پروگرام میں مستقل مہمان ہیں ۔اور قومی ریڈیو نیٹ ورک پر تبصرہ نگار ہیں  ۔اور وہ  Dallas Morning News میں  ٹکساس فیتھ کالم میں ہفتہ وار کالم  نگار ہیں ۔ اور Huffington post میں  پندرہ روزہ کالم نگار ہیں ، اور پوری دنیا میں ہنگامی کالم نگار ہیں  ۔ اور آپ ان کے بارے میں جو بھی جاننا چاہتے ہو ں وہ ان کے ذاتی سائٹ www.MikeGhouse.net پر موجود ہے۔

URL for English article: https://newageislam.com/islamic-society/phony-muslimness-among-muslim-boys/d/34571

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/phony-muslimness-among-muslim-boys/d/34894

 

Loading..

Loading..