certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (17 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)



Early History of Muslims Needs Fresh Appraisal — XII اسلام کا مقصد اختلافات اور تنازعات کو مٹانا اور ایک امت واحدہ قائم کرنا ہے


ایم عامر سرفراز

24 دسمبر، 2018

رابرٹ برفلاٹ (1876-1948) کی "Making of Humanity" کو انسانی تہذیب کی علمی بنیاد کا ایک حصہ مانا جاتا ہے۔ رابرٹ برفلاٹ لکھتے ہیں، "جن نظریات نے فرانسیسی انقلاب اور حقوق کے منشور کی بنیاد رکھی جس کی روشنی میں امریکی آئین کا فریم ورک تیار ہوا اور جس نے لاطینی امریکی ممالک [اور دیگر جگہوں] پر آزادی کے لئے جدوجہد کی چنگاری بھڑکائی، وہ مغرب کے ایجاد کردہ نہیں تھے۔ بلکہ ان کی تحریک اور جوش جذبہ کا حتمی مرجع و ماخذ قران مقدس تھا"۔

قرآن یہ کہتا ہے کہ انسانیت کی شروعات ایک انسانی اخوت و بھائی چارگی کی شکل میں ہوئی حتی کہ وہ آپس میں ہی لڑ پڑے (10:19)۔ وہاں سے وہ منقسم ہوئے اور ذات پات، قبیلوں، قوموں اور مختلف مذاہب میں بٹتے گئے۔ وقتاً فوقتاً خدا نے اپنے پیغمبروں کو ایک نظام حیات دیکر ان کے درمیان مبعوث کیا تاکہ ان کے اختلافات دور ہوں اور انہیں اخوت کے ایک مضبوط رشتے میں باندھا جائے۔ (2:213) ابتدائی مسلم تاریخ کی موجودہ صورت کے ساتھ میرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو براہ راست قرآن کے خلاف لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ میں اس کے ثبوت میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

قرآن کریم کا ایک اہم پیغام وحدت (انسانی اخوت) ہے۔ لہذا، قرآن اعلان کرتا ہے

"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو" (3:103)۔

قرآن ہر زمانے میں تمام انسانوں کے لئے ایک کامل اور کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے ایک نظام حیات ہے؛ اور یہ نظام حیات دائمی ہے (2:256)، تفصیلی ہے (6:114)، منظم و مستحکم ہے (10:64) اور مکمل (6:115؛ 10:57) ہے۔ اس آیت کے بیان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مذہب خدا کے ساتھ انفرادی تعلق قائم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمیونٹی (وحدت) کا حصہ بننے کا نام ہے۔ اور "تفرقہ مت ڈالو"، یہ ایک الہی حکم ہے جس سے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ (42:13)، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں پیش کیا گیا پیغام نیا نہیں ہے؛ یہ ابراہیم، موسی اور یسوع مسیح علیہم السلام سمیت دیگر نبیوں کو بھی دیا گیا ہے۔

قرآن کو ایک خدا نے نازل کیا ہے اور یہ ایک دین (نظام حیات) کی تعلیم دیتا ہے ۔ لیکن دین کے پیروکار اپنی حسد اور غرور و تکبر کی بنیاد پر بعد میں ایک دوسرے سے مبارزت کرتے ہیں اور فرقے (ادیان) قائم کر لیتے ہیں(42:14)۔ یہ عمل جذبات اور اقتدار کی ہوس پر مبنی ہے۔ اور متعلقہ گروہ کی حمایت یا مخالفت کے لئے بعد میں ثبوت گڑھ لئے جاتے ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس وقت بہت سے مذاہب مروج تھے، اس نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ اسلام کا مقصد اختلافات اور تنازعات کو مٹانا اور ایک امت واحدہ قائم کرنا ہے۔ اور یہ کہ یہ کام نظر و بصیرت کے ساتھ اپنی مرضی سے انجام دیا جائے، ورنہ اللہ تمام انسانوں کو ان جانوروں کی طرح پیدا کرتا جو حیوانی ذہنیت کے ساتھ ریوڑوں میں رہتے ہیں۔

کسی کمیونٹی میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنا انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ جب موسی علیہ السلام اپنی قوم ہارون علیہ السلام کے حوالے کر کے کچھ عرصے کے لئے اپنی قوم سے باہر چلے گئے تو واپس آنے پر انہوں نے اسرائیلیوں کو ایک بچھڑے کی عبادت کرتا ہوا پایا ۔ موسی علیہ السلام ایسا کرنے کے لئے اپنی قوم کو چھوڑ دینے پر ہارون علیہ السلام پر غضبناک ہوئے لیکن انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ اگر میں اپنی قوم کو ایسا نہ کرنے دیتا تو میری قوم گروہوں میں تقسیم ہو جاتی (اس وجہ سےمیں نے انہیں ایسا کرنے دیا)۔ بعد میں خدا نے بھی انہیں معاف کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن ایک دفعہ جب وہ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے(7:168)تو وہ ذلیل اور برباد کر دئے گئے (3:111)۔

قرآن بار ہا ان لوگوں پر نزول عتاب خداوندی کی بات کرتا ہے جو امت میں تفرقہ ڈالتے ہیں اور اسے بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اس نظام حیات کی پیروی کرتے ہیں (3:107) قرآن ان کے لئے ابدی نعمتوں کا وعدہ کرتا ہے ۔ قرآن مسلمانوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بھی روکتا ہے جبکہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کوئی مومن ایسا کیوں کرے گا۔ لہٰذا، قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ آپس میں تفرقہ ڈالنا بت پرستی کے برابر ہے۔ قرآن نے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ آپ ان لوگوں سے دور رہیں جو تفرقہ پیدا کرتے ہیں (6:159)۔ بلاشبہ، نبی ﷺنے اس مسجد ضرار کو منہدم کر دیا جسے مقامی سہولت کے نام پر کچھ مسلمانوں (خفیہ منافقوں) نے تعمیر کیا تھا۔ قرآن نے اس مسجد کی تعمیر کو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف ایک سازش قرار دیا اور مجرموں کے لئے دوزخ کی وعید بھی سنائی۔

"میری امت کا اختلاف رحمت ہے"۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اتنی غیر منطقی اور قرآن کے خلاف بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں کی جاسکتی۔ لیکن ایسا کرنے پر آپ کی جان خطرے میں پڑ جائے گی اور مختلف مذہبی گروہوں کے رہنما آپ کو مرتد قرار دیں گے۔

چونکہ مسلمانوں کو دوٹوک انداز میں قرآن کی پیروی کرنے اور متحد رہنے کا حکم دیا گیا ہے (اسلام میں نہ تو کسی فرقہ کی گنجائش ہے اور نہ الگ مساجد بنانے کی اجازت ہے)، لہٰذا، آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں پوری دنیا میں اسلامی فرقے اور گروہ پائے جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب بہت آسان ہے کہ یہ ہماری احادیث اور ابتدائی مسلم تاریخ کا نتیجہ ہے۔

اس کی شروعات اس حدیث سے ہوئی کہ،"میری امت کا اختلاف رحمت ہے"۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اتنی غیر منطقی اور قرآن کے خلاف بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں کی جاسکتی۔ لیکن ایسا کرنے پر آپ کی جان خطرے میں پڑ جائے گی اور مختلف مذہبی گروہوں کے رہنما آپ کو مرتد قرار دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ کسی معاملے میں اپنے شدید تعصب اور فکری تصادم کا احساس کئے بغیر اپنے موقف کا ڈٹ کر "دفاع" بھی کریں گے۔ تاہم، وہ اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ کیوں وہ احمدیوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں جنہوں نے صرف ایک اور فرقہ قائم کیا ہے؟ اپنے عقائد کے اعتبار سے  انہیں تو امت مسلمہ کے لئے اتنا فائدہ مند ثابت ہونے کے لئے احمدیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہئے ۔

مندرجہ بالا حدیث اسلام میں تفرقہ/فرقہ بازی کے حق میں ایک تاریخی دفاع ہے لیکن اس میں ایک خامی بھی ہے کیونکہ اس نے ہر فرقے کو خود کو ہی اصل / سچا اور حق پر کہنے کا حق دیدیا ہے۔ لہذا، اسی طرح ایک اور حديث ایجاد کی گئی کہ ، "میری امت تہتر فرقو میں بٹ جائے گی، لیکن ان میں سے صرف ایک ہی حق پر ہوگا۔" اس حدیث نے مسئلے کو حل کر دیا کیوں کہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اس کی بنیاد پر ہر طبقے کے پاس خود کو اصلی اور دوسروں جعلی کہنے کا لائسنس حاصل ہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس 'حل' نے مسلمانوں کے درمیان مستقل تفرقہ اور فساد پیدا کر دیا ہے۔ جس کا نتیجہ لامتناہی بے چینی، ہنگامہ آرائی، خون خرابہ، جان و مال کا نقصان اور ترقی میں روکاوٹ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

ذریعہ:

dailytimes.com.pk/336613/early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-xii/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/islam-is-here-to-remove-confusion-and-schisms,-and-to-mould-individuals-into-a-community--early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-—-xii/d/117373

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-history-of-muslims-needs-fresh-appraisal-—-xii--اسلام-کا-مقصد-اختلافات-اور-تنازعات-کو-مٹانا-اور-ایک-امت-واحدہ-قائم-کرنا-ہے/d/117478

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content