certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (01 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)



ISIS/Takfiris Are Friends of Satan تکفیری گروہ داعش شیطان کے دوست ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں جن کی حمایت کسی بھی طرح جائز نہیں

 

 

 

ڈاکٹر جون انڈریو مورو ، نیو ایج اسلام

(انگریزی سے ترجمہ:غلا م غوث ، نیو ایج اسلام)

01 دسمبر 15 20

ایک حدیث پاک میں اللہ رب العزت کی رحمتِ بے پایاں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی ہے (رَحْمَتِيْ سَبَقَتْ عَلٰی غَضَبِيْ) یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے (صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ )۔ مگر داعش یا نام نہاد "اسلامک اسٹیٹ" جیسی تکفیری دہشت گرد گروہوں کے عقیدے کے مطابق غضب رحمت پر غالب ہے۔ جب رسول پاک ﷺ سے کسی نے مشرکوں پر لعنت بھیجنے کے لئے کہا تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : (إني لم أبعث لعانا، وإنما بعثت رحمة) ترجمہ: ''میں لَعنت بھیجنے والا بنا کر نہی بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں" (مسلم شریف)۔ مگر اس کے برعکس بلاتکار ، اذیت اور سفاکانہ قتل جیسے سنگین جرائم کو انجام دینے والے داعش کے ان درندوں کو محض ایک آفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو شام ، عراق، لیبیا، مصر، پاکستان، افغانستان، صومالیہ، نائیجیریا، اور دنیا کے دیگر حصوں میں دراندازی کر چکے ہیں ۔ ان قاتلو ں اور ظالموں کی مثال تیرہویں صدی میں چنگیز خان کے منگول حملے کے بعد سے نہیں ملتی ۔

اسلام یقینا بعض ظالمانہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح جدوجہد کی شکل میں جہاد کی اجازت دیتا ہےمگر اس کے نفاذ کے لئے شریعت نے اصول و ضوابط کی تفصیل بھی مقرر کر رکھی ہے ۔ غیر جنگجوؤں، شہریوں، عورتوں، بچوں، اماموں، پادریوں، راہبوں، اور دیگر مذہبی افراد کا قتل اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے۔ تشدد ، عصمت دری، اور عورتوں کی اسمگلنگ وغیرہ ایسے جرائم ہیں جن کی سزا اسلامی قانون کے مطابق موت ہے۔ حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مقدس مقامات اور عبادت گاہوں کو نقصان پہونچانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کی جو شخص کسی چرچ یا خانقاہ کو تباہ کرے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو گی۔

آئی ایس آئی ایس، آئی ایس آئی ایل یا داعش ایک ایسی دہشت گرد فوج ہے جو سامراجی طاقتوں کی خدمت کر رہی ہے۔ یہ دہشت گرد کسی بھی طرح سے اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان بد عقیدوں کو اہل سنت سے تعبیر کرنا خود سنت کریمہ کی صریح توہین ہے۔ داعش کو "اسلامی" ماننا خوداسلام کی توہین ہے۔ ان شیطانوں کے افکار وخیالات کی پہچان کے لئے  جن اصطلاحات کو مناسب طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے  وہ یہ ہیں : تکفیری ، وہابی، خارجی ، ناصبی، علیحدگی پسند، اور یزیدی جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنھم سے عناد و تعصب کا بیج بوتے پھرتے ہیں۔ وہ خود کو جہادی کہتے ہیں مگر جہاد اور اس کی مقدس جدوجہد کی غلط تعبیر و تشریح کر تےہیں۔ خود کو سلفی یعنی سلف کے پیروکار کہتے ہیں مگر صحابہ کرام ،حقیقی سلف صالحین رضی اللہ عنہم اور ان کے پیروکاروں کی عزت و ناموس کا خرمن جلاتے پھرتے ہیں۔

اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا (لا تغلوا في دينكم) یعنی  "تم اپنے دین میں حد سے زائد نہ بڑھو" (4:171)۔ اس کا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ " تم اپنے دین میں انتہا پسندی مت کرو"۔ قرآن کریم ایک اور جگہ پر مومنوں کو خبردار کرتا ہے: (لا تغلوا في دينكم غير الحق) یعنی "تم اپنے دین میں ناحق حد سے تجاوز نہ کیا کرو" (5:77) ۔ مختصر یہ کہ مسلمانو ں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ  ایک "(اعتدال والی) بہتر امت " (2:143)بن کر رہے۔ اگر چہ بعض اہل علم اس آیت کریمہ سے یہ استدلال فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں موجود انتہا پسندی کے خلاف نندا صرف اہل کتاب پر لاگو ہوتاہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کریمہ کی وضاحت اپنے حدیث پاک میں فرماتے ہیں کہ انتہا پسندی کے خلاف نندا مسلمانوں کے لئے یکساں طور پر لاگو ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت سے ارشا د فرمایا:  (إيّاكم والغلو في الدين، فإنما هلك من قبلكم بالغلو في الدين ) ترجمہ : "دین میں انتہا پسندی سے بچو ، تم سے پہلے لوگ دین میں انتہا پسندی کی وجہ سے ہلاک ہوئے"۔ (سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ) ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ فرماتے ہیں (هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ) ترجمہ : "غلو کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے ہلاک ہوئے" (صحیح مسلم اور ابو داود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا: (صنفان من أمتي لن تنالهما شفاعتي: إمام ظلوم غشوم، وكل غالٍ مارق) ترجمہ "میری امت میں سے دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں میری شفاعت حاصل نہ ہوگی، بہت ظالم ودھوکہ باز حاکم، اور ہر غالی وحد سے تجاوز کرنے والا) (طبرانی)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تکفیری جنگجو عملی طور پر مسلمان نہیں ہیں ۔سب کے سب دہشت گرد ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد طالع آزما غیر مسلم سپاہیوں ، پیشہ ور قاتلوں اور درندوں کی ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں (إن الله جميل ويحب الجمال) یعنی : "بلاشبہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اورخوبصورتی کوپسند فرماتا ہے" (صحیح مسلم) ۔ مگر تکفیری دہشت گرد اپنی بداعمالیوں کے سبب بہت ہی بد صورت ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:  (إن الله طيب ولا يقبل إلا طيبا) ترجمہ : " اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے " (صحیح مسلم )۔ مگر تکفیری دہشت گرد اچھائی اور پاکی سے خالی ہے۔  چونکہ ‘‘اللہ رب العزت عادل ہے اور عدل کو پسند فرماتا ہے’’ اور ‘‘اللہ تعالی محبت کرتا ہے اور محبت کو پسند فرماتا ہے" اسی وجہ سے اہل الحب اور اہل العدل یعنی محبت اور عدل کرنے والے  لوگ اسلام کے حقیقی نمائندے ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بندوں کو خبردار کیا ہے: ( وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ) ترجمہ :"اور زمین پر (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر ، بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا" (28:77)

تکفیری دہشت گرد مثلا  آئی ایس آئی ایل یا داعش ، القاعدہ ، الشباب، طالبان ، النصرہ  ، بوکو حرام اور دیگردہشت گرد تنظیموں کے افراد  نہ تو اسلام کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنی بدعقیدگی او ر بد اعمالیوں کے سبب ان دہشت گردوں کا اہلسنت و الجماعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ حضور محمد ﷺ کی امت کے صحیح رکن ہیں۔ تکفیری گروہ (جن کا عقیدہ ہے کہ ان کے سوا تمام مسلمان کافر ہیں)، خوارج (جو اسلام کے ابتدائی دنوں میں مسلم جماعت سے الگ ہو گئے اور جن لوگوں نے سنی اور شیعہ دونو ں گروپوں پر ارتداد  کا الزام لگایا) اور نواصب (جو اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اور ان کے متبعین سے بغض و عناد رکھتے ہیں) اسلام کےدشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔

ہم تکفیریوں کی مذمت "کفار جن کا قانونی طور قتل کیا جا سکے" کے طور پر نہیں کرتے ہیں جیسا کہ تکفیری گروہ  روایتی سنی ، شیعہ، اور صوفیوں کے متعلق کرتے ہیں۔ روایتی اسلامی شریعت کسی کو بھی محض ملحد ، بے دین ، یہودی ، عیسائی ، ہندو ، بہائی یا سلفی جہادی ہونے کی بنا پر قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ( مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ) ترجمہ : "جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد انگیزی (کی سزا) کے بغیر (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا" (5:32)

اگرچہ لوگوں کو ان کے عقائد کی بنیاد پر قتل نہیں کیا جا سکتا مگر انہیں  اعمال کی بنیاد پر جنگ میں قتل کیا جا سکتا ہے یا عدالت میں سزائے موت کا حکم دیا جا سکتا ہے ۔ اسی بنا پر تمام دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے جنہوں نے انسانیت اور الوہیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ اگرچہ نواسئہ رسول ﷺ امام حسین علیہ السلام کا قتل شمر نے کیا ہو ،  مگر حقیقی مجرم یزید ملعون تھا۔ اسی طرح اگر چہ تکفیری دہشت گردوں کو ان کے جرائم کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا درست ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے ان کی بنیاد رکھی ، انکو فنڈز فراہم کیا ، ان کو مسلح کیا  ، انہیں تربیت اور ہر طرح کی حمایت دی ، ایسے لوگوں کے چہرے سے نقاب ضرور اٹھایا جانا چاہئے ، نہ صرف یہ بلکہ انہیں انصاف کی تلوار کے سامنے ضرور پیش کیا جانا چاہئے۔

نام نہاد "اسلامی ریاست" کو "شیطانی ریاست" کا نام دیا جانا چاہئے کیونکہ اس کا مقصد زمین پر صرف اور صرف فساد پھیلانا ہے۔ تکفیری دہشت گردوں کے کنٹرول کے تحت جو علاقہ ہے وہ کفر ، جھوٹ ، الحاد اور بے حیائی کا گھرہے۔ یہ گمراہی کی راہ (صراط الضلالۃ) ، اختلاف کا منبر (منبر الخلاف ) اور گناہوں کا اڈہ  (عرین الغوایہ) ہے جو جرائم پیشہ افراد کے اسٹیٹ (دولۃ المجرمین) کی نمائندگی کرتی ہے۔ تکفیری دہشت گرد اللہ رب العزت اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں۔ اسی وجہ سے ان تکفیری دہشت گردوں کو کسی بھی طرح سے مدد کرنا قطعا حرام ہے۔  اس کے علاوہ اہل سنت و الجماعت و التصوف اور اہل تشیع سمیت تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ شرک ، نفاق ، ارتداد ، اور شقاق وغیرہ  جسے تکفیری گروہ  عالم اسلام میں  پھیلا رہے ہیں کا  پرزور مقابلہ کریں  اور امت مسلمہ کو ان دہشت گرد کے فتنوں سے محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کریں۔

اب زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنے کا اختیار صرف امام مہدی اور حضرت عیسی بن مریم علیہم السلام کو ہے۔ جیسا کہ ہم بے چینی سے ان کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں اسی لئے ہمیں پہلے ہی سے امن و سلامتی اور عدل و انصاف کے قیام کی خاطر اٹھ کھڑا ہو جانا چاہئے اور اسلامی اخلاقی اقدار کی بالادستی ، انسانی وقار کا دفاع اور انسانی زندگی کا احترام اور اس کی حفاظت ضروری کرنی چاہئے۔ آزمائش اور فتنوں کے اس دور میں فریب نہ کھائیے گا۔ وہ لوگ جو عصمت دری ، تشدد، مثلہ اور شہریوں ، غیر جنگجوؤں، یرغمالیوں اور جنگی قیدیوں کا قتل عام کرتے ہیں وہ ہرگز اللہ رب العزت کے دوست نہیں ہیں۔ وہ لوگ جو عبادت کی جگہوں اور مقدس مقامات کو ڈھا تے ہیں وہ ہرگز اللہ رب العزت کے دوست نہیں ہیں۔ جو چرچوں ، مسجدوں اور اس میں رکھے ہوئے قرآن کریم کے نسخوں کو جلاتے ہیں ایسے لوگ اللہ کے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ جو قرآن ، سنت، شریعت، اور حضور محمد ﷺ کے معاہدہ کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ایسے لوگ اللہ کے دوست ہرگز نہیں ہیں۔ اس کے برعکس وہ شیطان کے دوست ہیں۔ ایسے دہشت گرد شیطانوں کے لئے ہم مسلمانوں کا جواب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مقدس میں فرمایا :   (فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ ) ترجمہ: “تو شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو" (القرآن الكريم 4:76)۔ اور ایک دوسری آیت میں فرمایا: (وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ) ترجمہ : "اور (دورانِ جنگ) ان کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور (ریاستی اقدام کے ذریعے) انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا" (2:191)

تکفیری گروہ جن کا کردار غیر اسلامی ہے اور جن کے افراد اسلام مخالف مغربی اور عالمی سامراج کے ایجنٹوں کے طور پر کام کررہے ہیں ان کے کردار کی روشنی میں مسلمانوں کے لئے یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ ان تکفیریوں کا دعوی کہ وہ "اسلام کا دفاع!" کر رہے ہیں صرف جھوٹ اور لغو ہی ہے جس کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/dr-john-andrew-morrow,-new-age-islam/isis-takfiris-are-friends-of-satan,-the-enemies-of-allah-and-his-messenger,-foremost-in-shirk,-hypocrisy-and-apostasy-and-no-muslim-must-support-them-in-any-form-or-fashion/d/105376

URL for this article:  http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-john-andrew-morrow,-new-age-islam/isis/takfiris-are-friends-of-satan--تکفیری--گروہ--داعش--شیطان-کے-دوست--،--اللہ-اور-اس-کے-رسول--صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کے-دشمن-ہیں-جن-کی-حمایت-کسی-بھی-طرح-جائز-نہیں/d/105470

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content