New Age Islam
Wed Jan 28 2026, 01:57 AM

Urdu Section ( 19 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Visiting Sufi Shrines is an Uplifting Experience صوفیاء کرام کے مزارات پر حاضری مذہبی ہم آہنگی اور سماجی امن و آشتی کا ایک روح پرور تجربہ: درگاہ اجمیر میں غیر مسلم زائرین کا برملا اعتراف


غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

11 دسمبر 2013

اسلام میں کسی ولی اللہ کے  مزار  یا درگاہ پر حاضری دینے کا اصل مقصد تفکر، تدبر، روحانی مراقبہ، صاحب مزار کی مثالی زندگی اور تعلیمات میں غور وفکر کرنا  اور ان کے رفع درجات کے لئے اللہ جل شانھ سے خصوصی دعا کرنا ہے ۔ تاہم اسلام میں مزار کا تصور کسی نبی، صحابی یا ولی اللہ سے منسوب ہے جنہوں نے اپنی پاکباز زندگی، تقویٰ و طہارت، عبادت و ریاضت اور مجاہدہ ومکاشفہ کے ذریعہ  تقرب الی اللہ حاصل کر لیا۔ ایسے مقرب بندگان خدا کے حضور باریابی بے شمار فضیلتوں، رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنتی ہے۔

اللہ کے دوستوں (اولیاءکرام) کی ایک نمایاں پہچان صوفی سلسلہ سے وابستگی بھی ہے ۔اس امر سے ہر کوئی واقف ہے کہ برصغیر ہندوستان میں صوفی سلاسل کی جڑیں مضبوط ہیں ۔ سرزمین ہند میں امن وسکون، محبت وبھائی چارہ، سماجی خیر سگالی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور  بین المذاہب مکالمہ کے ترجمان ونقیب کے طور  پر قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ جیسے عہد ساز سلاسل صوفیہ کا ظہور ہوا ۔

ان تمام کے درمیان سلسلہ چشتیہ زیاہ بااثر اور مقبول عام و خاص رہا ہے اور اب بھی ہندوستان کے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک  سلسلہ چشتیہ زیاہ مقبول و معروف اور زبان زد خاص وعام ہے ۔ ہندوستان میں اس سلسلہ کے بانی حضرت  خواجہ معین الدین چشتی تھے جو پوری دنیا  کے فرزندان توحید کے مابین حضرت خواجہ غریب نواز (رضی اللہ عنہ) کے نام مشہور و معروف ہیں اور غیرمسلموں کی ایک خاصی تعداد کے مرکز عقیدت ہیں ۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کی پیدائش 536 ھ بمطابق 1141 عیسوی میں مشرقی فارس کے ایک خطے میں ہوئی ۔ آپ کی ہندوستان میں تشریف آوری  1193 عیسوی میں ہوئی ۔ ہندوستان تشریف لانے کے فوراً بعد ہی  آپ نے ایک خواب دیکھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجمیر کو اپنا مسکن بنانے کاحکم صادر فرمایا جس کی تعمیل میں آپ نے اجمیر(راجستھان) میں  ہی مستقل طور پر اپنی رہائش اختیار کر لی۔ تب سے ہی اجمیر شریف شہرت کی بلندی پر ہے۔ آج یہ شہر نہ صرف مسلمانوں کے لئے تصوف و روحانیت بلکہ غیرمسلم حضرات کے لئے سیروسیاحت  کا ہندوستانی مرکز بھی ہے جہاں ملک و بیرون ملک سے مسلم زائرین اور غیر مسلم سیاحوں کا  ہر وقت تانتا بندھا رہتا ہے۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) نے مسلک ومشرب، ذات پات ، نسل ومذہب اور دیگر تمام تر تفریقات سے بالا تر ہوکر انسانیت اور خلق خدا کی بے لوث خدمت کے لئے ملک کی  مختلف کمیونٹیز اور اکثریتی واقلیتی دونوں برادریوں سے روابط ہموار کئے۔ آپ نے ان کی بے لوث دینی، دعوتی، سماجی، اور معاشرتی خدمت واصلاح  کے لئے اجمیر میں اپنی خانقاہ  کی داغ بیل ڈالی۔ اس طرح حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رضی اللہ عنہ) نے  شہر اجمیر میں بسنے والے غیرمسلموں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف  مائل کر لیا جو کہ آپ کی مسحور کن شخصیت اور شرافت نفس  سے حد و درجہ متأثر تھے اور آپ کو غیر معمولی قدر و منزلت سے نوازتے تھے ۔ عہد قدیم سے چلی آرہی تابناک اور روشن صوفی روایت کی عملی تشکیل کرتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے مسلموں اور غیر مسلموں کے درمیان باہمی اخوت و محبت کو فروغ دینے کے لئے ‘صلح کل’ کا تصور اپنایا۔ اس سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ   ہندوستان میں اسلام کی ترویج و اشاعت انہی جیسے اولیاء کرام اور صوفیائے عظام کی انسانیت نوازی اور انسان دوستی پر مبنی مخلصانہ جد و جہد کا نتیجہ ہے۔ دور حاضر میں پنپنے والے مذہبی تشدد اور دینی جبر و اکراہ کی وکالت کرنے والے نظریات کے ذریعہ اسلام  کی تبلیغ و اشاعت ہندوستان ہی نہیں روئے زمین کے کسی بھی گوشے میں نہیں ہوئی۔ ہندوستان میں فروغ پانے والے تمام صوفی سلاسل میں سلسلہ چشتیہ نے مختلف ومتفرق ممالک میں اپنے مراکز قائم کئے اور لا تعداد غیر مسلموں اور  خاص طور پر ہندوؤں اور سکھوں کو اپنی طرف بسر وچشم مائل کیا۔ آج فرزندان توحید ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب سے وابستہ بے شمار افراد کے لئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کا مزار روحانی تسکین کا عظیم مرکز اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ہندوستانی محور ہے۔

راقم السطور کو شروع میں تو یہ سب محض سنی سنائی باتیں لگتی تھیں، لیکن جب میں نے  ہر سال ماہ محرم الحرام میں منائی جانے والی ایک تقریب کےموقع پر  حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کے دربار میں حاضری دی تو وہاں پہنچ کر مجھے جو روحانی لطف اور باطنی سکون میسر ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔

مجھے حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کے مزار مقدس اور شہر  اجمیر کے ارد گرد تمام ادیان و مذاہب کے لوگوں کو  سیر و تفریح کرتا ہوا دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ ہندو، سکھ، عیسائی اور جین مذہب کے ماننے والے بھی ایک کثیر تعداد میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کے انوار وتجلیات سے بہرہ مند ہونے آئے تھے۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کی درگاہ پر علی الصباح شرو ع ہونے والا وہ روح پرور منظر جو دیر رات تک جاری رہتا  ہے ان لوگوں کے لئے سراپا  مسرت اور خوشی کا باعث ہونا چاہیے جو ہندوستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں کوشاں ہیں۔ میرے لئے جو منظر سب سے زیادہ متأثر کن تھا وہ یہ تھا کہ درگاہ پر کچھ ایسے بھی خدا ترس محبان اولیاء تھے جو  مسلسل بھوکوں کو کھانا فراہم کرنے اور حاجت مند اور مایوس لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں سرگرداں تھے ۔ ایک بات جو حیرت انگیز حد تک خوش آئند تھی وہ تھی ان کا راسخ اعتقاد کہ ان کی نمازیں اور عبادتیں اس وقت تک مقبول نہیں ہوں گی جب تک وہ اپنے پڑوسی بھوکوں اور محتاجوں کو  شکم سیر نہیں کردیتے اور ان کی حاجت روائی نہیں کرتے۔ مزید برآں میں نے وہاں بڑی تعداد میں ہندو، مسلم اور سکھ، سبھوں کو انتہائی فراخ دلی کے ساتھ لنگر کے انتظام و انصرام میں تعاون کرتا ہوا  دیکھا (لنگر ایک خانقاہی روایت ہے جس میں غریبوں اور حاجت مندوں کو ہر دن کھانا اور دیگراسباب زندگی فراہم کیا جا تا ہے) ۔

چونکہ میں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کی درگاہ پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے ملاقات اور بات چیت کی، مجھے ہندوستانی منظر نامے کے خاص حوالے سے  بین المذاہب ہم آہنگی کے تعلق سے غیر مسلم زائرین کے آراء و نظریات کو جاننے کا ایک سنہرا موقع میسر آیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کی درگاہ پر ہر سال متعدد بار زیارت کے لئے آنے والی ایک سکھ خاتون محترمہ ہروندر کور بھی تھیں جو لدھیانہ، پنجاب میں ایک کانوینٹ اسکول کی پرنسپل ہیں۔ انہوں نے اپنے خاص پنجابی لب و لہجے میں انگریزی زبان میں بات کرتے ہوئے  درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کے ساتھ گہرے قلبی لگاؤ کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘‘میں اپنے بچپن کے ایام سے ہی حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رضی اللہ عنہ) کی زبردست عقیدت مند رہی ہوں۔ جب میں 20 سال قبل پہلی مرتبہ یہاں زیارت کے لئے آئی تھی تو مجھے غایت درجہ کی مسرت و شادمانی محسوس ہوئی ۔ تب  سے لے کر آج تک میں ایک سال میں متعدد مرتبہ یہاں حاضری دیتی ہوں، خاص طور پر جب بھی مجھے یہاں پر نازل ہونے والی خدائی رحمتوں اور برکتوں کے حصول کی اندرونی اور روحانی تشنگی محسوس ہوتی ہے تو میں یہاں کا سفر ضرور کرتی ہوں۔’’

روحانی طور پر حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ان کی محبت اور لگاؤ کی داستان دوسرے بہت سے عقیدت مندوں سے قدرے مختلف ہے ۔ ان کا بیان ہے کہ وہ بچپن سے ہی اکثر خوابوں میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کی زیارت بابرکت سے مشرف ہوتی تھیں، اور اسی لئے جب وہ جگتیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ انہیں ان کے روضہ  پر حاضری دینی چاہئے ۔  وہ کہتی ہیں کہ ‘‘حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد  میں شش و پنج میں تھی کہ سکھ دھرم پر پیدا ہونے  کے ناطے کیا مجھے کسی مسلم صوفی کی درگاہ پر زیارت کے لئے جانا  چاہئے ’’۔ وہ مزید بیان کرتی ہیں کہ ‘‘خاص طور پر میں اپنی برادری کے لوگوں کے بارے میں فکرمند تھی جو کہ میرے اس رجحان سے مطمئن نہیں تھے ۔ پھر بھی اس صوفی کامل کی روز افزوں بڑھتی ہوئی محبت  نے میرے دل کو موہ لیا  اور آخرکار میں نے اجمیر شریف کے لئے رخت سفر باندھ ہی لیا جہاں میں نے فرط انبساط کے ساتھ اپنی دیرینہ خواہش پوری کی’’۔

ابتداء میں انہیں ان کی برادری اور خاندان دونوں طرف سے سخت مخالفتوں کا  سامنا کرنا پڑا، اس حد تک کہ ان کا سماجی بائیکاٹ تک کر دیا گیا۔  جن صوفی اصول و نظریات پر ان کا یقین کامل تھا ان کی تبلیغ و اشاعت سے انہیں سختی سے روکا گیا۔ وہ پورے وثوق کے ساتھ اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ ‘‘ انسان دوستی، غرباء پروری اور عالمی اخوت و محبت پر مبنی صوفیاء کا پیغام لامحدود و لا متناہی (جس کی کوئی انتہاء نہیں) ہے، یہی وجہ ہے کہ جب میرے سکھ شوہرنے ہمارے محلے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رضی اللہ عنہ) کے عرس کا انعقاد کرکے میری مدد کرنی شروع کی توجلد ہی حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رضی اللہ عنہ) کا پیغام محبت وامن و آشتی میرے سارے خاندان اور  پورے علاقے میں پھیل گیا ۔خدا کا  شکر ہے کہ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی (رضی اللہ عنہ)  کا یہ سالانہ عرس ایک عظیم روحانی اجتماع کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں لوگ بکثرت شرکت کرتے ہیں ۔ اب نہ صرف یہ کہ میرے خاندان کے افراد بلکہ میری برادری کے بہت سے افراد بھی معمول کے مطابق مسلسل عرس غریب نواز (رضی اللہ عنہ) اور غوث اعظم عبد القادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) کی مجلس فاتحہ خوانی میں شرکت کرتے ہیں جن کا انعقاد ہمارے شہر میں  ہر سال باضابطہ کیا جاتا ہے ۔

اتنا ہی نہیں انہوں نے کامل یقین کے ساتہ یہ کہا کہ :‘‘میں تو یہ کہتی ہوں کہ یہ تمام اولیاء و اصفیاء اور نیک بندے صرف اللہ کے نمائندے ہیں اور اللہ  وحدہ لاشریک کی جانب لو لگانے اور اس کا تقرب اور تعلق حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں’’ ۔

دربار حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مستقل زائر، دہلی کے ایک ٹیلی کام سافٹ ویئر انجینئر جناب وکاس کھنہ کو روضۂ مقدس پر دیکھنا میرے لئے بڑی حیرانی کی بات تھی ۔ انہوں نے صرف درگاہ حضرت خواجہ (رضی اللہ عنہ) کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفیض ہونے کے لئے  گڑگاؤں (دہلی سے متصل ایک میٹرو سٹی) سے بذریعۂ کار  اجمیر تک کا سفر کیا ۔ وہ کرتا پائجامہ  اور سر پر ٹوپی لگائے ہوئے (جو کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک روایتی لباس ہے) اپنی اہلیہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ سماجی وثقافتی تعلقات استوار کرنے کے لئے اکثر  درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) کا سفر  کرتے ہیں ۔ ان کی نظر میں صوفیاء کے مزارات پر حاضری کو کسی خاص مذہب کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے ؛ بلکہ اسے ثقافتی اور سماجی اتحاد کا ایک شاندار مظہر سمجھا جانا چاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘اگر چہ میں نماز میں تلاوت کی جانے والی ایک بھی قرآنی آیت کا معنیٰ و مفہوم نہیں  سمجھتا، لیکن  درگاہ کی مسجدوں میں تلاوت کی جانے والی ان آیتوں کو سننا میرے لئے  ایک سامان تسکین اور روح پرور تجربہ سے کم نہیں۔ لہذا میں جب جب یہاں آتا ہوں تلاوت قرآن کی چاشنی سے لطف اندوز ہوتا ہوں ’’۔

پروٹسٹنٹ عیسائی ریسرچ اسکالر مسٹر جیکوب

تقریبا دوپہر دو بجے کے قریب میری ملاقات ایک پروٹسٹنٹ عیسائی ریسرچ اسکالر مسٹر جیکوب سے ہوئی جو درگاہ کے ایک مشہور خادم اجمل چشتی صاحب کے ہمراہ تھے۔ مسٹر جیکوب کا تعلق جرمنی سے ہے اور  فی الحال وہ ہندوستان کے تاریخی مقامات سے متعلق اپنے ریسرچ کی تکمیل کے لئے ممبئی میں قیام پذیر ہیں ۔ معرفت الٰہی کے تعلق سے صوفیوں کے نقطہ نظر سے زبردست متأثر مسٹر جیکوب صوفیانہ اور عارفانہ کلام کا بڑے ذوق وشوق کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں ۔ خود کو ہندوستانی شہری کہلانا پسند کرنے والے جیکوب یہاں ڈیڑھ سالوں سے قیام پذیر ہیں۔ وہ خود کو  اس ملک کے قدیم صوفی روحانی ورثوں سے منسلک کرنے میں بہت فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ان کا  کہنا ہے کہ ‘‘ یہ اور بات ہے کہ میرا ملک (جرمنی) تمام ادیان و مذاہب کے پیروکاروں اور مختلف عبادت گاہوں  کا ملک ہے، لیکن میں نے اپنی زندگی میں بین الاقوامی مذہبی اجتماعیت، سماجی اتحاد و ہم آہنگی اور رواداری کی ایسی انوکھی اور شاندار مثال کبھی اور کہیں نہیں دیکھی جس کا نظارہ ہندوستان میں صوفیاء کی درگاہوں پر دیکھنے کو ملتا ہے’’۔

اپنے ملک جرمنی میں سماجی اتفاق و اتحاد کی تاریخ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘‘ جرمنی میں صرف ایک صدی پہلے ہی کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ کے درمیان ازدواجی رشتے قائم ہوتے ہوئے دیکھنا تقریباً ناممکن تھا ۔ لیکن اب جرمنی کے سماجی اقدار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے یہاں تک کہ میری ایک بہن نے ایران کے ایک مسلم لڑکے سے شادی کی ہے ۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ 70 اور 80 کی دہائی میں ترکی اور ایران سے ایک بڑی تعداد میں مسلمان اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے ساتھ مکمل طور پر امن وآشتی اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے ہجرت کر کے جرمنی آ گئے’’۔ جرمنی میں سماجی اتحاد و اتفاق اور  مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے ترکی سے تعلق رکھنے والے جرمن مسلمانوں   کی جد و جہد اور کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نےکہا کہ‘‘ ابھی حال ہی میں جرمنی کے چار ملین مسلمانوں کے سماجی اتحاد و اتفاق کی ایک سالانہ تقریب کی مناسبت سے ایک ہزار مسجدوں میں تقریبا  سوہزار غیر مسلم زائرین  کا استقبال کیا گیا جن میں اکثر عیسائی تھے ۔

جیکوب نے یہ تسلیم کیا کہ ہم 9/11 کے بعد جرمنی میں اسلامو فوبیا کا فروغ  دیکھ رہے ہیں اور اسی وجہ  وہاں اسلامی انتہاء پسندی اور بنیاد پرستی کا خوف ہے ۔ اسلام کی صحیح تعلیمات کے تئیں وہاں کو ئی خوف و ہراس نہیں پایا جاتا ۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ‘‘ بدقسمتی کی بات ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کی دوسری اور تیسری نسلیں انتہا پسندوں کا شکار ہو رہی ہیں جن سے جرمنی کی روادار ثقافت اور وہاں کے بنیادی قوانین کو خطرہ لاحق ہے ۔

جرمن اسکالر مسٹر جیکوب نے جو سنگین مدعا اٹھایا تھا اس میں اپنے تجربات و مشاہدات کا اضافہ کرتے ہوئے درگاہ کے خادم اجمل چشتی نے کہا کہ ‘‘ اسلام کی اس انتہاء پسند تشریح کا اس اسلام  سے دور دور تک کا کوئی رشتہ اور تعلق نہیں ہے جس کی ترویج و اشاعت صوفیا نے کی تھی ۔ تصوف، خاص طور پر سلسلہ چشتیہ اصول اور معتقدات  و معمولات دونوں میں  رواداری اور ہم آہنگی کا حامل ہے’’۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ بالکل یہی وجہ ہے کہ صوفیاء اور خاص  طور پر حضرت خواجہ معین الدین چشتی(رضی اللہ عنہ) نے جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر   صحیح اسلام کی ترویج و اشاعت میں کامیابی حاصل کی  جس کا اثر یہ ہوا کہ اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب بن گیا ’’۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عالمی محبت و اخوت ، قومی اتحاد ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری پر مبنی صوفیا کی تعلیمات کا احیاء کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار، غلام رسول دہلوی ایک عالم اور فاضل  (اسلامی اسکالر ) ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی، ہندوستان ) سے  فراغت حاصل کی ہے، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنی عربی میں ڈپلوما کیا ہے ، اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں، یوپی سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں  نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن کیا ہے، اور اب وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم اے کر رہے ہیں۔

URL for English article:

https://newageislam.com/islam-pluralism/visiting-sufi-shrines-uplifting-experience/d/34798

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/visiting-sufi-shrines-uplifting-experience/d/34913

 

Loading..

Loading..