certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (09 Jun 2018 NewAgeIslam.Com)


Islamic Postulates of Ijtihad (Rethinking) And ‘Ismah’ (Infallibility) اجتہاداور 'عصمت'کا اسلامی اصول اور جنگ جمل کی روشنی میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف رائے کی حقیقت - حصہ 1

 

 

 

 

 

 غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

02 جون 2018

ایک ممتاز ہندوستانی عالم دین اور کلاسیکی اسلامی علوم کے ماہر ڈاکٹر علیم اشرف جائسی نے اپنے حالیہ عربی مضمون میں بجا طور یہ کہا ہے کہ ہمیں جو مسائل در پیش ہیں اس کی دوبنیادی وجہیں ہیں:

پہلی وجہ یہ کہ ہم اپنے علم العقائد اور علم الکلام سے متعلق معاملات میں گفتگو کرتے ہوئے فقہ ، خطبات اور فضائل کی کتابوں پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے شیوخ اور علماء پر اس قدر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں کہ ان کے بیانات کو عصمت کا درجہ عطا کر دیتے ہیں۔ ہم ان سے اور خاص طور پر اس امت کی پہلی نسل سے غلطی یا گناہ کا امکان بھی نہیں تصور کر سکتے۔ اور اگر ان کے بارے میں کچھ ثابت ہو بھی جائے لیکن وہ ہمارے خیالات یا قیاس کے خلاف ہو تو ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا تأویل کی مدد سے ہم اپنے فقہی موقف کا جواز پیش کرتے ہیں اور بعض دفع بات مناظرے اور نزاع تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ جس میں سے ایک جنگ جمل کا واقعہ ہے۔

اجتہاد اور عصمۃ

اسلامی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ "عصمۃ" یعنی خدا کی مدد سے گناہوں اور انسانی غلطیوں سے پاک ہونے کا عقیدہ ہے۔ لیکن اسے صرف نبیوں اور رسولوں کی طرف ہی منسوب کیا جا سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سمیت تمام لوگ اپنے مذہبی اور دنیاوی دونوں معاملات میں غلطیاں کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ان سے اجتہاد میں کوئی خطا سرزد ہو جائے تو بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کے شرف سے وہ محروم نہیں ہوں گے۔

اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے بھی رونماں ہو چکے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ کے قریبی صحابہ سے بھی ‘‘خطائے اجتہادی’’ سرزد ہو چکی ہے۔ بلاشبہ ان کی اس خطائے اجتہادی کو عمداً نہیں بلکہ سہواً تصور کیا جائے گا۔ اور تقریبا ان کی تمام خطائے اجتہادی کی بنیاد قرآن کی مختلف تفہیم اور مذہبی قواعد و ضوابط کی مختلف تعبیر و تشریح پر تھی۔ اسے ہم فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "خطائے اجتہادی" کہتے ہیں۔

اسلامی فقہی قانون کے مطابق اگر کسی مسلمان کے اندر اجتہاد کی صلاحیت موجود ہے تو اسے کسی دوسرے مجتہد کی اجتہاد کی پیروی کرنا ضروری نہیں ہے۔ قرآن اور سنت کے بعد اسلامی احکامات اور قوانین اخذ کرنے میں اجتہاد کا ایک اہم کردار ہے۔ شریعت کے پہلے دو بنیادی ماخذ کے برعکس کہ جن کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے ساتھ ہی منقطع ہو چکا ہے ، دانشورانہ اور تخلیقی سوچ اور دین کے معاملات میں معاصر مسائل پر غور و فکر کا عملِ مسلسل اجتہاد ہی ہے۔ لیکن اس کے مجاز صرف وہی لوگ ہیں جو قرآن و حدیث کے نصوص سے براہ راست معانی اور احکام اخذ کرنے کے قابل ہیں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ فقہ اسلامی کے بنیادی ماخذ - نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ترین تھے اور بنیادی اسلامی علوم میں اچھی طرح مہارت بھی رکھتے تھے ، لہٰذا اجتہاد ان کے لئے ایک جائز عمل تھا۔ لہذا، رسول اللہ ﷺ کے تقریبا تمام صحابہ مجتہد تھے اور اسی لئے کبھی کبھی انہوں نے دوسروں کے اجتہاد پر انحصار نہیں کیا اور ان معاملات میں انہوں نے اپنے اجتہاد پر عمل کیا جس کا کوئی واضح حکم قرآن یا مستند احادیث میں انہیں نہیں ملا۔

جب ہم یہ جان چکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر صحابی مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے لہٰذا ، وہ اپنے سماجی و مذہبی اور سیاسی معاملات کے حل کے لئے اپنے نقطہ نظر کو اختیار کرنے میں حق پر تھے ، تو بنی ﷺ کی یہ حدیث بھی ہمارے ذہن میں ہونی چاہئے: "اگر کوئی اہل علم و دانش اجتہاد کرتا ہے اور وہ صحیح فیصلے تک پہنچ جاتا ہے تو اسے دو اجر ملیں گے۔ اور اگر وہ اس میں خطا کرتا ہے تو اسے ایک اجر م ملے گا"( بخاری ، مسلم اور ابو داؤد)۔

لہذا، اوائل دور اسلامی میں سیاسی تنازعات، داخلی انتشار اور خانہ جنگی جیسے جو حالات پیدا ہوئے وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر صحابہ کرام کے خطائے اجتہاد اور ان کے اجتہاد سے صحابہ کرام کے اختلافات کا نتیجہ تھے۔ تاہم، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام سے اس طرح کے فقہی اختلافات میں کسی بھی مفاد پرستی کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اللہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی صحبت اور اخلاقی اور روحانی تربیت کے ذریعہ ان نفوس قدسیہ کو بری خصلتوں اور غلط ارادوں سے پاک کر دیا تھا ، جیسا کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:

"بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ "(3:164)۔

جنگ جمل

اسلامی تاریخ میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف رائے اور اختلافِ اجتہاد کے نتیجے میں جو سب سے الم ناک حادثہ پیش آیا وہ جنگ جمل کا حادثہ تھا۔ اس جنگ میں 5 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے لیکن اس کے بعد بھی کوئی واضح طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کون غلط تھا یا کون صحیح تھا۔

دراصل، اس اختلاف رائے کی نوعیت سیاسی تھی نہ کہ سماجی یا مذہبی۔ لیکن انتہائی خونریز اسلامی تاریخ میں اس اختلاف پر ایک بہت بڑا تنازعہ پیدا ہوگیا جس کا نتیجہ ایک شدید جنگ کی شکل میں سامنے آیا۔ اگر ہم واقعی ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے جنگ جمل کا تجزیہ کرنا چاہیں تو ہمیں اس جنگ کے وجوہات اور اسباب و علل کو سمجھنے کے لئے اس پورے واقعے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

جنگ کی پوری کہانی

مدینہ کے ایک باغی گروہ کی جانب سے تیسرے اسلامی خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد نبی ﷺ کے دو عظیم صحابہ حضرت زبیر اور طلحہ نے امام علی (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے حضرت عثمان کے قاتلوں کو قرآنی احکام کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ امام علی (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ دوسروں کے جرم کے لئے کسی کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہئے اور اس طرح حضرت علی نے ان سے اختلاف کیا۔ بلکہ حضرت علی نے قرآن کریم کے اس واضح حکم پر عمل کیا:

‘‘کوئی بھی بوجھ اٹھانے واﻻ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،’’ (35:18)۔

حضرت علی کا نقطہ نظر سننے کے بعد جو کہ ان کے اجتہادی موقف کے بر عکس تھا ، نبی ﷺ کے یہ دونوں صحابی حضرت زبیر اور حضرت طلحہ خلیفہ ثانی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے مکہ گئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے موقف کی تائید فرمائی۔ اس وقت عبداللہ بن عامر مکہ میں عامل تھا۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اور وہ سازش کرنے والوں اور قاتلوں کو تلاش کرنے اور ان کی سرکوبی کرنے کے لئے شہر بصرہ کی طرف نکلے۔

اُدھر دوسری طرف مدینہ میں فسادیوں نے اتحادی فوج کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر دباؤ ڈال دیا۔ یہ وہی وقت تھا جب حضرت علی کے بڑے صاحب زادے حضرت امام حسن نے اپنے والد کو مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نہ نکلیں۔ حضرت امام حسين کے برادر اکبر امام حسن رضی اللہ عنہما نے جو کہ ابھی ابتدائی عمر میں تھے اپنے والد کو کسی بھی مسلح تنازعہ میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ امن پسند حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مصالحت کے ذریعہ امن بحال کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس عظیم مقصد کے لئے انہوں نے امن مذاکرات کے لئے اپنے ایک پیروکار قعقاع بن عمرو کو متعین کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اگلے دن بصرہ روانہ ہونے کا اعلان کیا ، لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کا مقصد جنگ و جدال نہیں بلکہ قیام امن ہے۔ انہوں نے ایک یہ سرکاری حکم بھی جاری کیا ہے کہ جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنے میں کسی بھی طور پر شامل تھا وہ میری فوج سے نکل جائے۔ آپ نے منافقوں اور اسلام کے اندرونی دشمنوں کے درمیان خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا۔ منافقوں اور فسادیوں نے یہ محسوس کیا کہ اب تک تو صرف طلحہ اور زبیر ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو تلاس کر رہے تھے ، لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی انہیں کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔ اس پر اسے یہ محسوس ہوا کہ اگر مسلمانوں کے ان دونوں گروہوں نے مقتول حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خاطر اتفاق رائے کر لیا تو وہ ضرور حقیقی مجرموں یعنی ان کے اپنے ہی پیروکاروں کو ڈھونڈھ لیں گے۔ چنانچہ اس نے اپنے پیروکاروں کی ایک اجتماعی میٹنگ کی جس میں اس نے رسول اللہ ﷺ کے ان تین صحابہ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت علی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ تاہم، اس نے چند واضح وجوہات کی بناء پر انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خیمہ نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔

مصالحت کی کوشش

حقیقت تو یہ تھی کہ دونوں جماعتوں کے رہنما امن بحال کرنا اور جنگ سے بچنا چاہتے تھے۔ انہیں اس بات کا شدید احساس تھا کہ جنگ سے انہیں کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئیں تو امن معاہدے انجام دےدیئے کئے گئے تھے اور خوشگوار مذاکرات کامیابی کے ساتھ انجام دئے جا چکے تھے۔ لیکن حضرت علی کی فوج میں چھپے ہوئے شریر عناصر (منافقوں اور اسلام داخلی دشمن) جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف بغاوت کی تھی ، ان کے اندر یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مصالحت سے ان کے مفادات پر زد لگے گی۔ لہذا، انہوں نے مصالحت کی کوششوں میں خلل ڈال دیا اور ایک ایسی صورت حال پیدا کی کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے ایک منصوبہ تیار کیا اور دو چھوٹے چھوٹے گروہ تیار کئے۔ ایک نے حضرت علی رضی اللہ کی فوج پر حملہ کیا اور دوسرے نے اتحادی فوج پر حملہ کر دیا۔ دونوں میں سے ہر ایک نے یہ سمجھا کہ دوسرے نے ان پر حملہ کیا ہے جو کہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اور پھر وہ تشدد کا پر اتر آئے اور انتقام لینے لگے۔ اس طرح جمل کا حادثہ پیش آیا جو کہ دو مسلم گروہوں کے درمیان ایک خونریز جنگ ثابت ہوئی۔

یقینا، جنگ جمل پوری امت مسلمہ کے لئے عظیم تباہی کا سبب بنی جس میں حضرت طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہما) سمیت ہزاروں ہزار صحابہ قتل کئے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گرفتار کی گئیں۔ اس کے باوجود آج ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی ایک فریق کو جنگ جمل کا مورد الزام ٹھہرائیں۔ ایک طرف نبی ﷺ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کے شوہر اور آپ ﷺ کے چچا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف نبی ﷺ کی محبوب زوجہ محترمہ اور تفسیر ، حدیث، فقہ اور دیگر عربی اور اسلامی علام میں ماہر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

سفیانیت کا فروغ

جنگ جمل کے ایک غیر جانبدار تجزیہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں سفیانیت کا فتنہ اسی جنگ سے شروع ہو ا ہے۔

یقینا، کسی بھی زاویہ نگاہ سے یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ جنگ جمل کے پیچھے دونوں جنگجو جماعتوں کے قائد حضرت علی یا حضرت عائشہ کے پیش نظر کوئی سیاسی مفاد تھا۔ اس لئے کہ واضح طور پر اس کی وجہ مکمل طور پر اجتہاد کی بنیاد پر ایک فقہی اختلاف تھی ، جس کا بعد میں فسادیوں نے اپنے حقیر مفادات کے حصول کے لئے استحصال کیا۔

لیکن یہ در حقیقت ایسا پہلا موقع تھا جب مسلمانوں میں وہ بھی اسلام کی سب سے اعلی ترین نسل میں ایک دوسرے کے خلاف تصادم اور جنگ کا حادثہ پیش آیا۔ در حقیقت اگر یہ حادثہ پیش نہ آیا ہوتا تو جنگ صفین (657 عیسوی) میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔ اور اس طرح ہماری تاریخ میں اسلام کے اندر سفیانیت کا خطرہ اتنا بڑا نہیں ہوتا۔ ابو سفیان کے بیٹے امیر معاویہ کے دور حکومت میں اموی حکومت کے لئے اسلام کے سنہرے دورے کو آمریت پسند ، استبدادی اور مطلق العنان بادشاہت میں تبدیل کرنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یزیدی برائیوں سے اسلام کو نجات دلانے والے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسين کی شہادت کربلا میں نہ ہوئی ہوتی جو کہ اسلامی تاریخ کا سب سے خونریز واقعہ ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/islamic-postulates-of-ijtihad-(rethinking)-and-‘ismah’-(infallibility)-and-intellectual-disagreements-of-the-prophet’s-companions-in-light-of-the-battle-of-camel---part-1/d/115429

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/islamic-postulates-of-ijtihad-(rethinking)-and-‘ismah’-(infallibility)--اجتہاداور--عصمت-کا-اسلامی-اصول-اور-جنگ-جمل-کی-روشنی-میں-صحابہ-کرام-کے-درمیان-اختلاف-رائے-کی-حقیقت---حصہ-1/d/115490

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content