New Age Islam
Tue Jan 27 2026, 09:30 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mawlid al-Nabi that the Qura’n tells is bounty, mercy, favour, and grace of God میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مطابق اللہ کی رحمت اور اسکا فضل ہے اور اس کا جشن منانا جائز ہے

  

غلام غوث، نیو ایج اسلام

14 جنوری  2014

‘‘مولد النبی’’ یا ‘‘میلاد النبی’’ عربی کا لفظ ہے جس کا معنیٰ ‘‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش’’ ہے۔ جشن عید میلاد النبی کا جواز فقہ اسلامی کے بنیادی مصادر اور ماخذ ‘قرآن و حدیث’ سے ثابت ہے۔ کسی بھی نبی کی یوم پیدائش کا جشن منانے کی تاریخ زمانہ قدیم سے جڑی ہوئی ہے۔ جشن عید میلاد النبی کی ایک مضبوط تائید و حمایت اس وقت ظاہر ہوئی جب اللہ رب العزت نے حضرت یحیٰ علیہ السلام کی یوم پیدائش اور یوم وفات پر امن و سلامتی نازل فرمائی۔

‘‘اور یحیٰ پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔’’ (سورہ مریم 15)

اس مقام پر اللہ نے یحیٰ علیہ السلام پر سلامتی نازل فرما کر جشن میلاد کا جواز فراہم کیا، یہ بالکل وہی معاملہ ہے جو کہ آج مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں نے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے، بالکل اسی انداز میں قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اپنی ولادت کا جشن منایا ہے۔

‘‘اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔’’ (سورہ مریم 33)

تاہم جس جشن کا انعقاد خود اللہ نے اور عیسیٰ علیہ السلام نے کیا وہ گزشتہ چند دہائیوں سے مسلمانوں کے درمیان موضوع گفتگو بنا ہوا ہے، مرکزی دھارے میں شامل مسلم مفکرین، فقہاء اور علماء جشن عید میلاد النبی کو مسلم معاشرے کی ایک عقلی اور جذباتی آرائش و زیبائش کے طور پر مناتے ہیں۔ پوری دنیا میں خاص طور پر سلاسل طریقت سے منسلک لوگوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن ولادت منانا مرکزی دھارے سے انحراف نہیں بلکہ اس بات کی ایک زندہ مثال ہے کہ عصر حاضر کے مسلمان اب تک قرآنی احکامات و ہدایات کے تئیں وفادار ہیں:

‘‘بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔’’ (33: 56)

میلاد النبی کا جشن مختلف ممالک میں مختلف رسوم رواج کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مثلاً، شیرینی تقسیم کی جاتی ہے،اسٹیج سجائے جاتے ہیں، نوجوان اس دن لباس فاخرانہ میں ملبوس ہو کر جلوس نکالتے ہیں، علم بلند کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعت خوانی اور مدح سرائی کرتے ہیں۔ عید میلاد النبی کا یہ تہوار مکمل دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن خوش مزاجی کا ایک سماں ہوتا ہے اور اس موقع پر لوگوں کو ایک دووسرے کو تحفے تحائف پیش کرتا ہوا اور غریبوں کے درمیان کھانا تقسیم کرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دن  ہزاروں کی تعداد میں لوگ مساجد میں  نماز ادا کر کے اور انہیں قمقموں سے سجا کر خوشیاں مناتے ہیں۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں مختلف طریقوں سے اس دن کا جشن منانے کے باوجود اجتماعی طور پر اس جشن کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات پر  غور و فکر کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس دن ‘‘اللہ کے ایام’’ کا جشن مناتے ہیں جیساکہ اس کی ہدایت قرآن میں دی گئی ہے:

‘‘اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ (اے موسٰی!) تم اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاؤ اور انہیں اﷲ کے دنوں کی یاد دلاؤ (جو ان پر اور پہلی امتوں پر آچکے تھے)۔’’ (14:5)

بنیادی طور پر اس آیت میں اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر حضرت موسی علیہ السلام کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی امت کو اللہ کے ایام یاد دلائیں۔ ‘‘اللہ کے ایام’’ میں ان دنوں کا شمار ہوتا ہے جن میں اللہ نے اپنی مخلوق پر کوئی نعمت اتاری ہو  یا اس دن کوئی عظیم واقعہ پیش آیا ہو۔ جیسا کہ اس تشریح کی شہادت اس قرآنی آیت سے ہوتی ہے:

‘‘اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: تم اپنے اوپر اللہ کے (اس) انعام کو یاد کرو جب اس نے تمہیں آلِ فرعون سے نجات دی جو تمہیں سخت عذاب پہنچاتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی جانب سے بڑی بھاری آزمائش تھی۔’’ (14:6)

لہٰذا، اس کا مطلب یہ ہے کہ 10 محرم الحرام کو  موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا فرعون سے نجات پانا ان کے لیے آزادی اور اللہ کے فضل کا دن ہے۔ یہودی اس دن کا ایک خاص دن کے طور پر جشن مناتے ہیں اور حصول نجات کے شکریہ میں اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش بھی اللہ کا اور آزادی دن ہے اس لیے کہ انہوں نے پوری دنیائے انسانیت کو جہالت اور ظلم و بربریت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لا کر کھڑا کر دیا۔ اب اس بات میں قطعی طور پر کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن رحمت و برکت اور ‘‘اللہ کا دن’’ ہے لہٰذا اس دن جشن منانا چاہیے۔ قرآن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر زیادہ عظیم الشان اور صفت ملکوتی سے قریب تر ہے جس میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

‘‘بیشک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)۔’’ (5:15)

عالمی سطح پر مقبول قرآنی مفسرین نے اس آیت کا خلاصہ یہ پیش کیا ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پوری کائنات انسانیت کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اور قرآن کریم اور اسلام کے مقدس پیغام کا مصدر و سرچشمہ ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قانونی جواز کی تائید و توثیق اللہ کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی ایک مناجات میں  کہا:

‘‘عیسٰی ابن مریم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے اﷲ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لئے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لئے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لئے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو، اور ہمیں رزق عطا کر اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔’’ (سورہ المائدہ 114)

اس مقام پر عیسیٰ علیہ السلام کے  زمانے میں رہنے والے لوگوں کے لیے، ان کے پیش روؤں کے لیے اور ان کے جانشینوں کےلیے وہ دن عید کا دن تھا جب آسمان سے دسترخوان نازل کیا گیا تھا۔ قرآن کے مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ ان کے جن جانشینوں کے لیے یہ عید ہے اس میں ان کی نسل سے قیامت تک کے لیے پیدا ہونے والے تمام لوگ شامل ہیں۔ مختلف قسم کی نعمتوں سے بھری جنتی دسترخوان کے لیے عید منائی گئی۔ تو ایک انسان کی آمد پر کیا جو پوری کائنات کے لیے رحمت ہو گا۔ کیا ہم ان کی آمد پر کم از کم سالانہ جشن بھی نہیں منا سکتے۔

تمام شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لیے میں کلام الٰہی کا حوالہ پیش کروں گا تا کہ یہ امر عیاں ہو جائے کہ جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا جائز ہے:

‘‘اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے’’ (3:103

اللہ کا فرمان ہے:

‘‘اے اولادِ یعقوب! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تمہیں (اس زمانے میں) سب لوگوں پر فضیلت دی’’ (2:47

اللہ نے فرمایا:

‘‘فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں’’ (سورہ یونس  آیت 58)۔

اس مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ نے ہمیں اس کی رحمتوں اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس آیت میں جو اللہ نے رحمت، نعمت اور مہربانی کا ذکر کیا ہے اس سے اس کی مراد پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکت ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ خدا کی تمام مہربانیاں ہمارے لیے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا سوال ہے تو یہ ہمارے اوپر اللہ کی سب سے بڑی مہربانی اور اس کی نعمت ہے، لہٰذا ہمیں جشن میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد کرنا چاہیے۔

مسلمانوں کی بات تو دور کی ہے جو غیر مسلم جشن میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد کرتے ہیں ان کے عذاب میں بھی تخفیف کی جائے گی۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ‘‘پیر کے دن ابولہب کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس نے اپنی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی خادمہ کو آزاد کیا اور اس کا جشن منایا۔ لہٰذا جشن میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے بدلے میں اس کی انگلی سے پانی کے چشمے جاری کر دیے جاتے ہیں۔’’ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 764)

قرآن میں مذکور قصے کہانیوں کے ذریعہ قرآن نے اہم تاریخی یادگار اور واقعات کو برقرار رکھا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام نے روزہ اور حج کے قوانین کا ذکر کیا ہے۔ ‘رمضان’ کے مہینے میں روزہ رکھ کر ہم اس مہینے میں نازل ہونے والی قرآنی آیات کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم (حج) حضرت ہاجرہ ، اسمٰعیل اور ابراہیم (علیہم السلام) کی یاد میں مناتے ہیں۔ یہ نظریہ کہ دینی اسلامی رسوم و معمولات کی یاد منانے کے عمل ہیں جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز اور عدم جواز پر گفتگو  کے تحت مذکور ہے۔

لفظ ذکر سے ایک ایسی معلوماتی مثال کی طرف اشارہ ملتا ہے جس میں سننے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نصیحت آموز پہلوؤں، ان کے عظیم الشان کردار اور مسلم اور غیر مسلم دونوں کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش و فیاضی کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں اور ان کے اس کلام سے متاثر ہوتے ہیں کہ ‘میں عظیم اخلاق حسنہ سے نوازا گیا ہوں’۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق عظیم قرآن کا اصل موضوع ہے۔ میانہ روی، انصاف، سخاوت، وقار، اخلاقی عظمت، عاجزی، بہادری، دوسروں کے لئے ہمدردی اور دائمی خوف خدا جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چند ایسی بے مثال خصوصیتیں ہیں جو ہمیں دنیاوی معاملات میں اختیار کرنا چاہئے۔ ایسی یاگاریں جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدید گفتگو میں نمایاں ہیں۔

ہم نے جن مختلف حوالوں کو نقل کیا ہے ان سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ بہت سارے کلاسیکی، روایتی اور بڑے بڑے جدید علماء کے مطابق جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ مستحب اور مستحسن بھی ہےاور اس پر مناسب اجر کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ یہ ایسی مسلم جماعتوں کے درمیان ایک ربط پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے کہ جن کے درمیان ہو سکتا ہے کہ اصول و معتقدات میں بعد المشرقین پایا جاتا ہو لیکن وہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے میں کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہیں۔

اخیر میں، میں ایک حدیث نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں ‘‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں کسی اچھی بات کا ایجاد کرتا ہے اسے اس کا اور اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بدلہ دیا جائے گا اور جو شخص اسلام میں کسی بری بات کا ایجاد کرتا ہے اسے اس کا اور اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا بدلہ دیا جائے گا۔’’ (مسلم شریف)

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبولیت کے لیےاسی قسم کا ایک اور نکتہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہےکہ حافظ النووی کے شیخ امام ابو شمہ نے فرمایا:

‘‘ہمارے زمانے کی سب سے اچھی بدعت یہ ہے جو آج ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش کے موقع پر کرتے ہیں، جس میں لوگ عطیات و صدقات دیتے ہیں،نیک اعمال کرتے ہیں،اپنی خوشیوں اور مسرتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنے میں یقینی طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیےان کی محبت اور مدح و ستائش کا اظہار ہوتا ہے’’۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

https://newageislam.com/islam-spiritualism/mawlid-al-nabi-that-qura’n/d/35278

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/mawlid-al-nabi-that-qura’n/d/35321

 

Loading..

Loading..