certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (16 May 2019 NewAgeIslam.Com)



Fasting Strengthens Our Bond with Allah Almighty-part 1 رمضان خالق کائنات کے ساتھ رشتہ عبودیت مضبوط کرنے کا موسم


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

15مئی 2019

ماہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ ہمارے درمیان سایہ فگن ہے اور ہم اس ماہ مقدس کی ہر ساعت اور ہر لمحہ اللہ کی رحمتوں ،محبتوں ، عنایتوں اور کرم نوازیوں کے سائے میں گزار رہے ہیں ، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس امر پر غور کریں کہ اس ماہ مقدس کی جلوہ گری ہمارے درمیان کیوں ہوئی ہے اور اللہ نے ہمیں صیام ، تلاوت قرآن اور قیام لیل کے ذریعہ اس ماہ کا خاص اہتمام کرنے کا حکم کیوں دیا ہے۔

ہمارا رب ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے

ماں کا لفظ محبت ، الفت اور ایثار و قربانی سے عبارت ہے ۔ جب بھی اور جہاں بھی ماں کا تذکرہ ہو تو عنوان یہی انمول اقدار بنتے ہیں ۔ کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ماں کے دل میں اولاد کے لئے اتنی محبت کیوں ہوتی ہے کہ انسان زمین کی تہہ تک تو پہنچ سکتا ہے اور انسان کے لئے سمندر کی گہرائیوں تک پہنچنا تو ممکن ہے لیکن ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لئے جو محبتکے جذبات ہوتے ہیں ان کا کنارا تلاش کرنا کائنات انسانی کے لئے تا قیام قیامت ناممکن ہے؟ اگر ہم کبھی اس پر غور کریں تو اس کا ایک ہی جواب ملے گاکہ ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لئے محبت کے اس بحر ناپیدا کنار کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ ماں نے اسے اپنے بطن سے جنم دیا ہے۔جب ہم یہ مثال سمجھ چکے تو اب ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر اپنے بطن سے جنم دینے والی ماں کی محبت کی کوئی انتہاءنہیں اور ماں کی محبت کی گہرائیوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تو اپنے بندوں سے اس خالق کو کتنا پیار ہوگا جس نے انہیں خلق کیا ہے ! اس رب کو اپنے بندوں سے کتنی محبت ہو گی جس نے اپنی معرفت کے لئے انہیں عدم کی نیند سے بیدار کر کے حیاتِ وجود کی لذتوں سے آشنا کیا! کیا کوئی اپنے بندوں کے لئے اس رب کی محبتوں اور عنایتوں کا کچھ اندازہ لگا سکتا ہے جس نے اس کائنات کی تخلیق کرنے کے بعد ہر جاندار مخلوق کا رزق اپنے ذمہ کرم پر رکھا لیا ہے؛ قرآن میں اللہ فرماتا ہے :

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا (11:06)

’’اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو ا‘‘۔ (ترجمہ : کنز الایمان)

بالعموم ، جب ہم اللہ اور بندوں کے درمیان محبت کی باتیں کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں نیک لوگوں کا تصور ہوتا ہے ، اور ہمارا خیال یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت صرف انہیں نفوس قدسیہ کا مقدر ہے جو سر تا پا اطاعت بنے ہوئے ہیں ، جن کی زندگی میں اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کا کوئی تصور نہیں ہے اور جن کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی یاد اور اس کے ذکر و فکر میں بسر ہوتا ہے۔ اور اس ضمن میں اللہ کے گنہگار بندوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ، اور یہاں تک کہ ہم اللہ کے گنہگار بندوں کی لعنت و ملامت بھی کر دیتے ہیں۔

لیکن قرآن جو کہ اللہ کا کلام بر حق اور کتاب مبین ہے ،اس میں چند آیات ایسی بھی ہیں جو زہد و پارسائی پر اس غرور کو توڑنے کے لئے کافی ہیں۔ ذیل میں قرآن مجید کی وہ آیات پیش کی جا رہی ہیں جن کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ جس طرح اپنے نیک ، صالح اور متقی و پرہیزگار بندوں کے لئے اللہ کی محبت کی کوئی انتہاء نہیں ہے اسی طرح اپنے گنہگار، سرکش اور باغی بندوں کے لئے بھی اللہ کی محبتوں ، عنایتوں اور کرم نوازیوں کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اور اس کی بنیاد وہی دلیل ہے کہ جس طرح وہ نیکوکار بندوں کا خالق ہے اسی طرح وہ گنہگار اور بدکار بندوں کا بھی پیدا کرنے والا ہے ، اور اپنے رب کے ساتھ یہی رشتۂعبدیتبندوں کو اللہ کی محبتوں ، عنایتوں اور کرم نوازیوں کا مستحق بناتا ہے۔

اللہ کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ - الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ - فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (8-82:6)

‘‘اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے - جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا پھر ہموار فرمایا - جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا’’۔ (ترجمہ : کنز الایمان)

طوالت کے خوف سے اس کی تفسیر و تشریح ترک کرتے ہوئے اختصار کے ساتھ اس آیت کے بارے میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ جو عربی زبان و ادب سے ذرا بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں مذکورہ بالا آیت میں حروف اور الفاظ کی ترتیب اور اس کا صوتی آہنگ اتنا پر لطف اور شیریں ہے کہ سارے جہاں کا شہد نچوڑ کر بھی اس کلام جیسی مٹھاس پیدا کرنا ممکن نہ ہو۔ اور وہ بھی مجرموں اور خطا کاروں کے لئے۔

جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ انسانوں کے لئے خواہ وہ نکوکار ہوں یا بدکار ، اللہ کی محبتوں ، عنایتوں اور کرم نوازیوں کی کوئی انتہاء نہیں ہے تو پھر فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیوں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے صیام کی صورت میں اس قدر مشقتوں سے بھری اور صبر آزما عبادت فرض کی؟  اس تپتی ہوئی گرمی اور سلگتے ہوئے موسم میں سارے دن مسلسل ایک ماہ تک کھانے پینے سے رُکے رہنا کوئی کھیل تو نہیں ! جب آسمان آگ کے گولے برسا رہا ہو اور زمین بھی آگ اگل رہی تو ایسے موسم میں سرد پانی اور لقمہ تر نگاہوں کے سامنے موجود ہونے کے باوجود چودہ –پندرہ کھنٹے اور بعض خطوں میں سترہ –اٹھارہ گھنٹے بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنا کوئی آسان کام تو نہیں! یہاں تک کہ روزے کی حالت میں بعض جائز امور بھی بندوں پر حرام کر دئے جاتے ہیں۔ لہٰذا، اس پُرمشقت اور انتہائی صبر آزما حکم کے پیچھے حکمت کیا ہے۔

اللہ فرماتا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:183)

‘‘اےایمان والو! تم پراسی طرح روزےفرض کئےگئےہیں جیسےتم سےپہلےلوگوں پرفرض کئےگئےتھےتاکہ تم پرہیزگاربن جاؤ’’۔ (ترجمہ : عرفان القرآن)

مذکورہ آیت کریمہ پیش کرنے کے بعد اب اس امر میں کوئی پوشیدگی اور کوئی تذبذب باقی نہیں رہ جاتا کہ اس انتہائی مشقت بھری اور صبر آزما عبادت کا مقصد یہ ہے کہ ہم متقی بن جائیں یعنی ہم اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام پر سر تسلیم خم کرنے والے بن جائیں۔

جاری....

URL: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/fastingstrengthens-our-bond-with-allah-almighty-part-1--رمضان-خالق-کائنات-کے-ساتھ-رشتہ-عبودیت-مضبوط-کرنے-کا-موسم/d/118609

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-   1


  • ‏ایمان کے بعد طہارت بندے کے لئے فرض ہو جاتی ہے۔نماز طہارت کے بغیر نہیں ہوتی۔ ظاہری طہارت پانی سے اور باطنی طہارت توبہ اور تدبروتفکر سے حاصل ہوتی ہے۔تدبروتفکر اس امر پر غور کرنے کا نام ہے کہ یہ دنیا بے وفا ہے اگر دل لگانا ہے تو اپنے خالق و مالک سے لگاؤ(سید علی ہجویری،کشف المحجوب)
    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 5/18/2019 3:51:35 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content