certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (23 Apr 2014 NewAgeIslam.Com)



Islam and Old Age Ethics اسلام اور ضعیفوں کے ساتھ حسن سلوک

 

 

 

 

ایمن ریاض ، نیو ایج اسلام

19 اپریل2014

انسان واقعی بے وقوف ہے یا پھر وہ تکبر میں اندھا ہو گیا ہے؟ ہم نوجوان اور تندرست و توانا ہیں، ہم شاذ و نادر ہی غور و فکر کرتے ہیں، اس زندگی کے بعد آنے والی زندگی کو اور اس زندگی کے خاتمہ کو نظر انداز کرتے ہیں، جب ہم بوڑھے اور بے کار ہو جائیں گے، کہیں کونے میں پڑے ہوں گے، جب پریشانی کے عالم میں رات کے وقت کوئی تسلی دینے والا نہیں ہوگا، جب دن میں کوئی کھانا اور  پانی نہیں دیگا اور جب صبح سویرے ٹوائلٹ صاف کرنے میں بھی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس حقیقت سے مضحکہ خیز طور پر غافل ہو چکے ہیں کہ گھر میں ایک اور شخص بھی موجود ہے۔

بڑھاپا واقعی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے خاص طور پر ہم جب بستر مرض پر ہوں تو اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ سب پہلا مسئلہ یہ ہے کہ گھر میں کون رہے گا اس لیے کہ 6 سے 60 کی عمر کے تمام لوگ اپنی اپنی دنیا میں مصروف ہیں۔ دوسرا مسئلہ نکتہ چینی کرنے کا ہے۔ ضعیف العمر لوگ اپنے بیٹے یا بیٹیوں کو ڈانتے ہیں تاکہ وہ ان کی کچھ توجہ حاصل کرسکیں لیکن در اصل وہ ان سے مزید دوری اختیار کرتے جاتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ مستقل طور پر ایک ڈاکٹر کے انتظام کا اور اضافی رقم کا ہوتا ہے جس کا (غلط) استعمال گھر کے بزرگ کو زندہ رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اور سب سے اہم مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بیت الخلا کون یا کس طرح صاف کیا جائے۔

ان تمام باتوں میں صرف ایک ہی چیز مشترک ہے اور وہ موت کی خواہش ہے۔ بوڑھے انسان کو یہ لگتا ہے کہ وہ بہت بڑے بوجھ بن چکے ہیں اور کوئی بھی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں لگتا لہٰذا مر جانا ہی بہتر ہے؛ اور ان کے بچوں کو بھی ایسا ہی لگتا ہے اور وہ یہی چاہتے بھی ہیں اگرچہ وہ اس بات کو کبھی نہیں تسلیم کرتے۔

ابوہریرہ نے روایت کی کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ : وہ شخص مٹی میں مل جائے وہ شخص مٹی میں مل جائے۔ لوگوں نے پوچھا کون یا رسول اللہ ؟ انہوں نے فرمایا: وہ شخص جو والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی ضعیف العمری کو پائے اور جنت میں داخل نہ ہو ۔

اللہ سے ڈرو اور یہ یاد رکھوں ہر چیز کا حساب ہوگا اور اس میں ذرہ برابر کی بھی مہلت نہیں دی جائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ ضعیف العمری نجات حاصل کرنے کا ایک عظیم طریقہ ہے۔ ایک مرتے ہوئے شخص کی مدد کر کے ہم اللہ کو خوش کر سکتے ہیں جو کہ ہمارے تمام گناہوں سے واقف ہے جب ہم کسی ضعیف العمر شخص کا ٹوائلٹ صاف کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے گناہوں کو مٹا دے۔ لیکن اگر آپ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں تو پھر آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔

اسلام میں اولڈ ایج ہوم کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پرانی مشینوں کو ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی مرمت اور دیکھ بھال کی جاتی ہے تاکہ وہ ایک دن اور کام کر سکے۔ اللہ سب سے بہتر ماہر نفسیات ہے اور وہ اس بات سے واقف ہے کہ ہم ان سے پریشان ہو جاتے ہیں لہٰذا اس نے خاص طور پر قرآن میں حکم دیا کہ ہم انہیں اف بھی نہیں کر سکتے۔

" اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا، اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔ (4- 17:23) "

والدین کی خدمت کو اسلام میں دوسرا سب سے اہم فریضہ سمجھا جاتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" وہ ہم میں سے نہیں ہے جو بچوں کے ساتھ شفقت نہیں کرتا اور جو بڑوں کا احترام نہیں کرتا۔" [ترمذی]

ہم اکثر اپنے بچوں اور بیویوں کی باتوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ پہلی ترجیح ہمیں اپنے بوڑھے والدین کو دینی چاہیے جو کچھ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ کھلانے یا پلانے میں بھی سب سے پہلے بزرگوں کو یاد کرنا چاہئے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ:" جبرئیل نے مجھے بوڑھوں کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے۔"

ایک مرتبہ جب معاذ بن جبل نے نماز کی امامت کی اور اسے بہت زیادہ طویل کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ غصب ناک ہو گئے۔ وہ اس وجہ سے ناراض ہوئے  کہ وہ ان پریشانیوں کے بارے میں فکر مند تھے جو نماز کی طوالت کی وجہ سے ضعیفوں کو در پیش تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک طویل سورۃ پڑھنے کے بجائے ایک چھوٹی سورۃ کی تلاوت کرنا افضل ہے۔

ہمیں نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرامین کو فراموش نہیں کرنا چاہئے:

"جب کوئی نوجوان عمر کا لحاظ کرتے ہوئے کسی بزرگ کی عزت کرتا ہے تو خدا اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کے لئے کسی کو مقرر کر دیتا ہے۔" [ترمذی]

یہ بات بھی ذہن میں ہونی چاہیے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ہمیں بھی خود کو مشقت میں ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ رات و رات جاگ کر بوڑھوں کی عیادت کرنے اور خود سونے سے محروم ہو جانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اپنے نفس پر ‘ظلم’ کرنا بھی اسلام میں ایک گناہ ہے۔ جہاں تک آپ سے ہو سکے بزرگوں کی دیکھ بھال کریں لیکن اپنے نفس پر سزا مسلط نہ کریں۔ اللہ کو یہ پسند بھی نہیں ہے۔ ہم سب کو اللہ سے یہ دعا کرنی چاہئے:

"اے اللہ میں بے بسی ، آلسی، بزدلی اور کمزور بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں زندگی اور موت کا تکالیف سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذاب قبر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔"

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/aiman-reyaz,-new-age-islam/islam-and-old-age-ethics/d/66637

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/aiman-reyaz,-new-age-islam/islam-and-old-age-ethics-اسلام-اور-ضعیفوں-کے-ساتھ-حسن-سلوک/d/76688

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content