certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (22 Feb 2012 NewAgeIslam.Com)



Explanatory Awareness among Muslims مسلمانوں میں تشریحی بیداری اور تشریح کے طریقہ کار کی کمی

ڈاکٹرادس ددریجا، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام

(انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ہم کتنی مرتبہ ایسے مذاکرات اور مضامین سنتے اور پڑھتے ہیں جو  ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں فلاں مسئلہ پر قرآن یا سنت کا موقف ایسا  ایسا ہے؟ اکثر ان دعووں کو ثابت کرنے کے لئے استعمال کی گئی دلیلیں چند قرانی آیات یا حدیث (اگر ہم خوش قسمت ہوئے تو ہم کچھ ان کے متعلق معلومات بھی حاصل کر پاتے ہیں) پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں میری دلیل یہ ہے کہ جو لوگ بھی اس طرح کے مباحثے میں شرکت کرتے ہیں وہ اسکالر ہوں یا نہیں ان تمام لوگوں کو اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ کس طرح قرآن اور سنّت پر ہمارے خیالات ہمیشہ ،کچھ تشریحی مفروضات، پر مبنی ہوتے ہیں جن سے ہم واقف بھی نہیں ہوتے ہیں اور جنہیں ہم پہلی نظر میں فلاں فلاں مسئلے قرآنی یا حدیث سے متعلق تصور کرتے ہیں اور  جو  ان کے بارے میں رائے تشکیل کرنے میں اہم کردار نبھا تے ہیں

میں قرآن کی تشریح کے سوال تک ہی اپنے تجزیہ کو محدود رکھوں گا  اور سنت اور حدیث (جسےمیں کہیں اور لکھ چکا ہوں) کے مسئلے کو خطاب نہیں کروں گا لیکن جس طرح بہت سے دلائل قرآن پر لاگو ہوتے ہیں اسی طرح ان پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیالات کے بر عکس، عام طور پر ، قرآن ایک متن نہیں ہے (یا اصل حقیقت میں ایک بہتر لفظ ایک گفتگو یا اس سے بھی بہتر بڑی تعداد میں مقالے ہیں)، اور جسے کوئی یقینی طور پر تشریح کر سکتا ہے۔ کچھ خیالات سے پرے جو پورے قرآن میں مسلسل اور  واضح طور پر  آتا ہے جیسے عقائد (نسل اور جرم و سزا سمیت) یا انسانی فطرت کے عناصر سے متعلق، دوسرے مسائل پر قرآن کا موقف نہ صرف یہ کی آسانی سے نہیں پہنچا ہے، یہ کسی کے تشریحی نقطہ نظر اور ان پر اطلاق ہونے والےفروضات (برائے مہربانی اس ویب سائٹ پر میرا حالیہ مضمون دیکھیں جس میں میں نے اپنی کتاب کی تلخیص کی ہے اور جس میں ان مسائل پر  جامع طور پر تبصرہ کیا گیا ہے ) سے متعلق ہے۔

آئیے مختصر طور پر ہم  چند مثالوں کا جائزہ لیں۔ آئیے آزادانہ خیال کے مسئلہ کے ساتھ شروع کریں۔ ایک موضوع پرقرآن پڑھنے سے ہمیں معلوم چلتا ہے کہ  قرآن اس اہم مسئلے پر  متضاد ہے جب تک کہ کوئی اس پر تشریح کے منظم طریقہ کار سے رجوع نہ کرے۔  اس تضاد  کی بہترین تصدیق تب ہوتی ہے جب ہم اس سوال پر اسلامی تاریخ کی تحقیقات کر تے ہیں اور ہم فوری طور پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آزاد خیالی نے مسلم اسکالروں کے درمیان بہت سے تبصرہ آرا کو پیدا کیا ہے جو اکثر  دونوں کے لئے اہم ہیں یا تو  قرآن مکمل طور پر آزاد خیالی کی وکالت کرتا ہے یا مکمل ڈٹر مینزم  (نظریہ جبر) یا ان دونوں کے درمیان کچھ (یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام کے دینیات کےاہم مکتب فکر  المعتزلہ، ماتریدی اور الاشعریہ کے درمیان اس معاملے پر زبر دست طور پر منقسم تھے۔  میں یہاں اس سوال کو تفصیل سے خطاب کرنے نہیں جا رہا ہوں، مختصر طور پر کہنے کے علاوہ،   جیسا کہ شبیر اختر نے میرے خیال سے اس تناظر میں مطمئن کرنے والی  دلیل دیتے ہوئے کہا ہےکہ خدا کی مرضی پر زور دیتے ہوئے قرآن کی آیات انسان کی قسمت کا تعین اور ان کی نجات  سمیت ان آیات کا نزول مکہ کے متکبر لیڈران جو  خدا کے بجائے اپنی مرضی پر زوردیتے تھے  کے تناظر میں ہوا جس پر قرآن نے  اس گفتگو کے جواب میں خدا کی حکومت پر زور دیا۔ تاہم، شبیر کی دلیل ہے کہ ان قرآنی آیات کو  قرآن کے نقطہ نظر کے طور پر آزاد خیالی سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ایسی آیات جو  کہ آزاد خیالی کے اصول کی بالادستی رکھتے ہیں کہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

آزاد خیالی کے سوال سے ہٹ کر  سماجی، سیاسی یا قانونی اہمیت کے دیگر معاملات کا بھی انحصار کافی حد تک تشریح کے ہمارے طریقہ کار پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر، شوریٰ کے قرآن اصول کی تشریح  پارلیمانی جمہوریت سے اصولی جمہوریت اورچند لوگوں کی حکومت سے لیکر  آمریت پسند اور سوشلزم کی حکمرانی تک تشریح کی گئی ہے۔ معاشرے میں عورتوں کی حیثیت اور کردار سے متعلق مسائل (اس میں وراثت، شادی اور طلاق کے قوانین وغیرہ بھی شامل ہیں) کی تشریح  اس طرح کی گئی ہے جو اشارہ دیتے ہیں قرآن یا تو خواتین کی  انتہائی آزادی یا سخت پدرانہ نظام کی  حمایت کرتا ہے۔ ہود ہود کو سزا دینے کا  معاملہ کی تشریح  ان قرون وسطیٰ کے زمانے کی رسومات کی ہمہ گیریت  اور  انہیں مقبول رسوم و رواج کے طور پر توثیق کرتا ہے اور جو انصاف، رحم اور معاف کرنے کو حتمی مقصد اور تشویش دونوں کے طور زور دیتا ہے۔ اگر ہم میں اتنی ہمت ہے تو  ہمیں اپنی مرضی کی موت، اسٹیم سیل ریسرچ، جینیٹیکل انجینئرنگ (انسانی نسل سمیت) یا دیگر دوسرے جدید سائنس سے متعلق مسائل سے جڑے اخلاقی معاملوں پر  جو کھم اٹھانا چاہیے۔ قرآن کیا کہتا ہے اور تشریح کےمنظم طریقہ کار کے ساتھ ہی ساتھ تشریحی بیداری کی اہمیت فرض ہو جاتی ہے کہ نہیں، اس بارے میں بھی غیر متزلزل ہیں۔

آخر میں، جب تک کوئی  قرآن کی تشریح کے منظم طریقہ کار  کے مسئلے کو مخاطب نہیں کرتا  (مسائل جیسے کہ متن اور تناظر میں تعلقات، تشریح کے عمل میں قاری کا کردار،  قرآن اور سنت و حدیث کے درمیان تشریحی تعلقات، تشریح اور دوسرے معاملات میں وجہ کی گنجائش) یا کم از کم خود کی تشریحی لیاقت اور شعوری اور لا شعوری طور کئی مفروضات سے واقف ہونا چاہیے اور جن بنیادوں پر اس کی دلیلیں منحصر ہیں۔ کوئی کبھی بھی اصلاحات یا دوسری صورت کے لئے کوئی معقول دلائل دینے کے قابل نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔

URL for English article:

http://newageislam.com/the-war-within-islam/what-is-salafism?/d/6606

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/explanatory-awareness-among-muslims--مسلمانوں-میں-تشریحی-بیداری-اور-تشریح-کے-طریقہ-کار-کی-کمی/d/6703

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content