certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (24 Feb 2012 NewAgeIslam.Com)



Hazrat Ayesha (RA)’s Age at the Time of Marriage شادی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر

 

نیلوفر احمد  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ایسا کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کا  نکاح پیغمبر محمد ﷺ کے ساتھ چھ سال کی عمرمیں ہوا،  اور جب آپ کی عمرنو سال تھی تب آپ اپنےشوہر کے ساتھ رہنے کے لئے مدینہ (ہجرت کے بعد) منتقل ہو گئیں۔

اس گمراہ کن افواہ  نے غلط تاثر دیا کہ اسلام میں بچوں کی شادی کی اجازت ہے۔ یہ قابل غور ہے کہ حدیث کے مستند ہونے کو ثابت کرنے کے لئے، راویوں، حالات اور اس وقت کی کیفیت کا تاریخی حقائق کے ساتھ باہمی تعلق کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہشام کی صرف ایک حدیث ہے جس میں حضرت عائشہؓ کی عمر نو سال ہونے کا اشارہ ملتا ہے،  جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے آئیں۔

کئی مستند احادیث بھی ظاہر کرتی ہیں کہ  ہشام کی روایت نبی کریم ﷺ کی زندگی کے ان  تاریخی حقائق خلاف ہے جن پر کی اجماع  قائم ہے، ۔ عمر احمد عثمانی،  حکیم نیاز احمد اور حبیب الرحمن کاندھولوی جیسے علماء کرام کے حوالے کے ساتھ، میں اس حقیقت کے حق میں کچھ دلائل پیش کرنا چاہوں گی، کہ حضرت عائشہؓ کی عمر کم از کم 18 سال تھی جب آپ کا نکاح ہوا اور کم از کم 21 سال کی تھیں جب آپ  نبی کریم ﷺ  ساتھ رہنے کے لئے ان کے  گھر میں منتقل ہو ئیں۔

عمر احمد عثمانی کے مطابق، سورۃ النساء میں یہ کہا ہے کہ یتیم کے ولی ان کا مال انہیں واپس کرنے سے قبل ان کی مسلسل آزامائش کرتے رہیں ، یہاں تک کہ وہ شادی کی عمر تک پہنچ جائیں (4:6)۔ اس سے علماء کرام نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قرآن نے شادی کی عمر کم از کم سن بلوغت طے کیاہے ۔ چونکہ لڑکی کی منظوری ایک قانونی ضرورت ہے  اس لئے وہ نابالغ نہیں ہو سکتی ہے۔

ہشام بن عروہ  اس حدیث کے خاص راوی ہیں۔ اس کی زندگی دو ادوار میں تقسیم کی گئی ہے: 131A.H. میں مدنی مدت ختم ہوئی، اور عراقی مدت کا آغاز ہوا، اس وقت ہشام کی عمر 71 سال تھی۔ حافظ ذہبی نے بعد کے وقت میں ہشام کی یاد داشت خراب ہو جانے کے بارے میں بات کی ہے۔ مدینہ، میں انکے طالب علموں  امام مالک اور امام ابو حنیفہ نے اس حدیث کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام مالک اور مدینہ کے لوگوں نے انہیں ان کی عراقی احادیث کے لئے تنقید کی ہے۔

اس حدیث کے تمام راوی عراقی ہیں جنہوں نے ہشام سے اسے سنا تھا۔ علامہ کاندھولوی کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہؓ کی عمر کے سلسلے میں کہا گیا لفظ‘ تسّہ عشرہ ’ کہا گیا ہے جس کے معنی19  ہیں، جب ہشام نے صرف تسہ سنا (یا یادکیا) جس کا مطلب9  ہوتا ہے۔  مولانا عثمانی کا خیال ہے کہ اس تبدیلی کو جان بوجھ کر اور بد نیتی سے بعد میں بنایا گیا تھا۔

مؤرخ ابن اسحاق  نے اپنی ‘سیرت رسول اللہ ’ میں اسلام کے باضابطہ اعلان کے پہلے سال میں اسلام قبول کرنے والوں کی ایک فہرست دی ہے جس میں حضرت عائشہؓ کا نام حضرت ابو بکرؓ "کی چھوٹی بیٹی عائشہؓ" کے طور پر دیا گیا ہے۔ اگر ہم  ہشام کے حساب کو قبول کرتے ہیں، تو اس وقت  تک وہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی، حضرت خدیجہؓ کی وفات کے کچھ دنوں بعد، حضرت خو لہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک باکرہ سے دوبارہ شادی کرنے کا مشورہ دیا، جن سے  مراد حضرت عائشہ تھیں (مسند احمد)۔ عربی میں باکرہ کے معنی ایک غیر شادی شدہ لڑکی ہے جس نے سن بلوغت کو پار کر لیا ہے اور وہ شادی کی عمر کی ہو گئی ہے۔ ایک چھ سالہ لڑکی کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ کی شادی جلدی ہو گئی تھی کیونکہ عرب میں لڑکیاں جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ اس وقت عربوں کا عام رواج نہیں تھا۔ علامہ کاندھولوی کے مطابق، اسلام سے قبل یا اس کے بعد  اس طرح کا کوئی معاملہ درج نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسے نبی کریم ﷺ کی سنّت کے طور پر فروغ دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کی شادی حضرت فاطمہؓ کی 21 اور حضرت رقیہؓ کی 23 سال کی عمر میں شادی کر دی تھی۔ اس کے علاوہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہؓ کے والد نے 26 سال کی عمر میں اپنی سب سے بڑی بیٹی آسمہ کی شادی کر دی تھی۔

حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ وہ جنگ بدر کی لڑائی میں میدان جنگ میں موجود تھیں (مسلم)۔  یہ کسی کو بھی اس نتیجہ کی طرف لے جاتا ہے کہ حضرت عائشہؓ 1 ھجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں منتقل ہوئیں۔ لیکن ایک نو سال کی بچی کو کسی بھی طرح ایک خطرناک فوجی مشن پر نہیں لے جایا جا سکتا ہے۔

2 ھجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں 15 سال سے کم عمر کے لڑکوں کو لے جانے سے انکار کر دیاتھا۔ کیا آپﷺ نے ایک 10 سالہ لڑکی کو اپنے ساتھ جانے کی اجازت دی ہوگی؟ لیکن حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت امّ سلیمؓ کو پانی سے بھری مشک لے جاتے ہوئے دیکھا اور وہ فوجیوں کو پانی پلا رہیں تھیں (بخاری)۔ حضرت امّ سلیمؓ اور  جنگ احد میں موجود دوسری خاتون حضرت امّ عمارہؓ مضبوط اور  بالغ خواتیں تھیں، جن کی ذمہ داری ہلاک اور زخمی فوجیوں کو اٹھانا تھا اور ان کے زخموں کا علاج کرنا تھا۔ بھاری مشک میں پانی لے جانا اور گولہ بارود اور یہاں تک کہ تلوار بھی لے جاتی تھیں۔

حضرت عائشہؓ نے کنّیات لقب کا استعمال کیا جو حضرت امّ عبد اللہؓ کے بیٹے اور آپ کے  بھتیجے اور گود لئے گئے بیٹے کے نام سے لیا گیا تھا۔

اگر وہ چھ سال کی تھیں جب آپ کا نکاح ہوا تھا، تو ان سے آٹھ سال ہی بڑی رہیں جنہیں گودلینا مشکل ہو گا  ۔  اس کے علاوہ، ایک چھوٹی لڑکی کبھی اپنے بچے کی امید نہیں  چھوڑ سکتی تھی جبکہ انہوں نے اپنی کنیت کے لئے اپنے گود لئے گئے بچے کا نام  استعمال کیا۔

حضرت عائشہؓ کے بھتیجے عروہ نے ایک بار کہا کہ وہ اسلامی قوانین، شاعری اور تاریخ کے بارے میں ان کے حیرت انگیز علم سے حیران نہیں ہیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اورحضرت ابو بکرؓ کی بیٹی تھیں۔ اگر وہ والد کے ہجرت کے وقت  آٹھ سال کی تھیں ، تب انہوں نے اپنے والد سےشاعری اور تاریخ کا علم کب سیکھا؟

اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ حضرت عائشہؓ اپنی بڑی بہن حضرت آسمہ سے 10 سال چھوٹی تھیں، جن کی ہجرت کے وقت عمر تقریباً 28 سال تھی ۔ اس طرح یہ نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عائشہؓ ہجرت کے وقت تقریباً 18 سال کی تھیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر منتقل ہونے کے وقت آپ 21 برس کی نوجوان عورت تھیں۔اس وقت کے بہت سے تاریخی حقائق کے ساتھ باہمی تعلق نہ بنا پانے کے سبب  ہشام حدیث کے اکیلے راوی ہیں جن کی صداقت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ماخذ: ڈان، پاکستان

نیلوفر احمد قرآن کی اسکالر ہیں اور عصر حاضر کے موضوعات پر لکھتی ہیں۔

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/of-aisha%E2%80%99s-age-at-marriage/d/6662

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-ayesha-(ra)’s--age-at-the-time-of-marriage--شادی-کے-وقت-حضرت-عائشہؓ-کی-عمر/d/6720

 




TOTAL COMMENTS:-   9


  • If you are asking questions about this then think from the perceptive of the time which you are talking about. The era in which this happened was 1400 years ago, and marriage at such a young age was a common thing back then. Not just in Arab countries but pretty much everywhere across the globe. It is a historic fact that girls from the ages of 9–14 were married off in Europe, Asia, Africa and America.

    • Saint Augustine ~350AD married a 10 year old girl.
    • King Richard II ~1400AD married a 7 year old
    • Henry VIII ~1500AD married a 6 year old
    • Before 1929 Church of English, ministers could marry 7 year olds in Britain.
    • Before 1983, Catholic canon law permitted priests to marry off brides at the age of 12.
    • A lot of people are unaware, in the United States, in the state of Delaware in 1880, the minimum age for marriage was 7 years old and in California was 10 years old.
    • Even now the marriage age for some states are 12(MA), 13(NH), 14(NY).
    • In some places in India, girls are still married off at 13–14 years of age.

    At the time of Prophet Muhammad (peace be upon him), those who refused his message tried every method and strategy to discredit him. They were always looking for opportunities to attack him verbally or even physically. Some of this verbal abuse consisted of calling him a *Magician*, *Soothsayer*, or *Crazy*. However, they never thought to point out or object to his marriage to Aisha (ra). Why? Because this was the norm of the society, it was completely normal.

    Did you know, that Prophet (pbuh), had only one wife, Khadijah, throughout the first 54 years of his life?

    Did you know that she was a widow?

    Did you know that she was 15 years older to him?

    He (pbuh) spent his entire youth with her. He (pbuh) was committed to her until and after her death by keeping ties with her friends.

    But what about Aisha (ra)? Was she a child when she agreed to marry Prophet Muhammad (peace be upon him)?

    First, its very important to note that in Islam its strictly prohibited to marry before the age of puberty. (Quran 4:6)

    Note that the age of puberty differs through different times and places. Girls can enter puberty anytime between the ages of 9–15. It's a scientific fact. Also, the average temperature of a country is considered the chief factor with regard to menstruation and sexual puberty.

    So basically, Aisha(ra) had attained puberty at the time of her marriage. Now, what was the wisdom behind this marriage? Allah knows best. This marriage was an instruction from Allah.

    Aisha (ra) narrated to us more than 2200 hadiths (sayings) of Prophet Muhammad (pbuh). She was exceptionally intelligent, and since she married Prophet (pbuh) at a young age, she was able to learn so much from him. She later played an important role as a teacher, expert and interpretor of Islam.

    So you see, it wasn't very unusual for men to marry girls of such young age till very recent times.


    By Huzaifa - 11/17/2018 7:01:33 AM



  • @Skepticle
    Nothing in this world is taking place without the will of God. 
    Lol
    But those who have ill intentions against Islam around the world will love you. 

    By Usman Sakhi - 11/16/2018 5:13:57 AM



  • ضرت عاشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپ ﷺ نے نکاح، اللہ تبارک وتعالى کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا۔(صحیح البخاری، جلد 5،  کتاب 58، حدیث 235 )"
    Now  now! We have a God who is also a matchmaker.
    God sends messengers as "Reformers" to eliminate societies' ills and not to further  endorse those by divine writs.  
    The Malaysians,  Central Asians and other pedophiles round the world will love you for your endorsements.-LOL

    By Skepticle - 11/16/2018 2:44:25 AM



  • Khalid sb,

    One more article of the author Muhammad Yunus sahib on the same topic is here.  

    India’s Child Marriage Act 2006 Prescribing 18 As Women’s Legal Age For Marriage Is Consistent With The Qur’an

    https://bit.ly/2DIKh4R


    By Bassam Shafi - 11/16/2018 12:47:20 AM



  • Early Marriage and Early Islam

    http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/early-marriage-and-early-islam/d/13688


    By Khalid Hasan - 11/16/2018 12:43:01 AM



  • Was Marriage of Hazrat Ayesha A Great Wisdom? – Answer 3

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے  نکاح کی عظیم حکمت

     ہمارا خالق، ہم کو سب کو پیدا کر نے والا سب چیزوں کو سب سے بہتر جاننے والا ہے۔حضرت عاشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپ ﷺ نے نکاح، اللہ تبارک وتعالى کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا۔(صحیح البخاری، جلد 5،  کتاب 58، حدیث 235 )

    سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنه نے، اللہ کے حبیب ﷺ کی 22000 سے زاید احادیث ہم تک پہنچائی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه غیر معمولی ذہین تھیں اور بہت بہترین قوت حفظہ کی مالک تھیں۔ اور چونکہ کم عمری میں ہی انکی شادی اللہ کے نبی ﷺ سے ہوگئی تھی، تو انہیں آپ ﷺ سے بہت سارا علم حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ جس کی بدولت آگے چل کر انہوں نے ایک بہت بہترین استاد، ماہر اور فقیہ کا کردار ادا کیا۔ تو اس شادی کے پیچھے بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں۔

    حضرت محمد ﷺ دنیا کی آسائش اور اسکی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئیے دنیا میں تشریف نہیں لائے بلکہ آپ نے ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی زیب و زینت اور اسکی لذتوں سے دور رکھا، اور اپنی امت کو بھی اس کے دھوکے سے ڈرایا۔

     جتنے بھی نکاح آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں فرمائے وہ مردوں والے شوق کی شادیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ حکم الہی اور حکمت خداوندی کی بنیاد پر تھیں۔

    ورنہ ایک ایسا حسین و جمیل، اجمل و اکمل، ابحا و انور، اعلی و انسب، تونا اور خوبصورت نوجوان، جس جیسا کسی کی آنکه نے نہ دیکها ہو، وہ اپنی عین بھر پور جوانی کے ایام اپنے سے 15 سال بڑی ایک ہی بیوی کے ساتھ کیسے گزاسکتا تها ...؟؟

    وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني۔   وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ

     خلقتَ مبرءاً منْ كلّ عيبٍ۔  كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ

    آپﷺ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا۔  آپﷺ جیسا جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا.

    آپﷺ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے   ۔ آپﷺ ایسے پیدا ہوئے جیسے خود آپنے اپنے لئیے چاہا


    By Nauman - 11/16/2018 12:01:39 AM



  • Marriage of Hazrat Ayesha from the historical perspective – Answer 3

    1400 سال قبل ملک عرب میں بھی اس عمر میں لڑکی کی شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔

    حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے آپکے پیغام کو جھٹلایا تھا، انہوں نے ہر طریقے سے آپ ﷺ کو بدنام کرنے اور آپکو نیچا دکھانے کی کی کوشش کی۔ وہ ہر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپ ﷺ کی شخصیت پر وار کر سکیں زبانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی۔

    آپ ﷺ پر جو زبانی حملے کرتے تھے ان میں کبھی آپﷺ کو  جادوگر کہتے تھے، کبھی آپکو کو جھوٹا کہتے تو کبھی آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے، نعوذ بالله من ذالك۔ مگر کبھی بھی ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه سے آپکے نکاح کو لیکر اعتراض کریں یا طعنہ دیں، ایسا کیوں...؟؟؟

    کیونکہ اسوقت انکے سماج میں یہ عام سی بات تھی، اور انکے نزدیک وہ کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپ کو طعنہ دیتے۔

    کیا آپ جانتے ہیں؟؟؟؟

    ہاں آپ جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے پہلے 54 سال تک صرف ایک ہی زوجہ محترمہ تھیں، وہ ام المومنین حضرت خديجة الكبرى رضى الله عنه تھیں۔

    آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک بیوہ عورت تھیں جن سے حضرت محمد ﷺ نے نکاح کیا تها؟؟؟؟؟

     آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں؟؟؟

    حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے عین جوانی کے ایام صرف یہ ایک بیوی حضرت خدیجہ رضى الله عنه کے ساتھ گذارے ہیں جو آپ سے 15 سال بڑی تھیں اور آپ ﷺ نے انکی وفات تک بھی ان سے تعلق رکھا اور یہاں تک کے انکی وفات کے بعد بھی انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تعلق کو برقرار رکھا۔

    أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپکا نکاح

    بعض روایتوں میں جو مذکور ہے کہ اللہ کے حکم پر جب  آپﷺ نے أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے نکاح فرمایا اس وقت  انکی عمر مبارک 6 سال تھی، مگر اسی وقت رخصتی نہیں کی گئی، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه کی عمر 9 سال کی ہوئی تب آپکی رخصتی ہوئی۔   

    جبکہ بعض دوسری روایتوں کے حوالے سے یہ عمر درست نہیں ہے

    لیکن پھر بھی اسی عمر کو درست مان لیں  تو اب سوال یہ ہے کہ، جس وقت آپکی رخصتی ہوئی ہے اسوقت کیا حضرت عائشہ ابھی نابالغ بچی تھیں....؟؟؟

    نہیں بلکہ ملک عرب کے موسم اور وہاں کی ترتیب کے حساب سے وہ عمر بچیوں کی رخصتی کے لئیے قابل قبول عمر تھی...

    تاریخ اور جدید سائنس: اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بلوغت کی عمر مختلف زمانے اور مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف ہوتی رہی ہے۔

    موجودہ سائنسی تحقیقات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ " لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو  *9 سے 15 سال کی عمر* کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں"

    *" The average temperature of the country is considered the chief factor with regard to Menstruation and Sexual Puberty"*

    (Women : An Historical, Gynecological and Anthropological compendium, Volume I, Lord and Brandsby , 1998, p. 563)

    ترجمہ : "کسی بهی علاقے کی بچیوں کے ایام حیض کے شروعات اور ازدواجی بلوغت کی عمر کو پہنچنے میں اس ملک کا اوسط" جو درجہ حرارت ہے، وہ اہم کردار ادا کرتا ہے."

    ان سارے دلائل کی روشنی میں اگر اس واقعہ کو دیکھیں تو یہ اشکال کہ أمی عائشہ رخصتی کے وقت نابالغ بچی تھیں، بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ اور ان سارے واقعات اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کسی کو بهی اس نکاح پر اعتراض کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں رہتا۔

    ہاں! اگر کسی کے دل میں پہلے ہی سے مرض ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔

    قوله تعالى: ﴿ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴾

    سورة: (البقرة) الآية: (10) "ان کے دلوں میں مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا."


    By Nauman - 11/15/2018 11:54:58 PM



  • Marriage of Hazrat Ayesha from the historical perspective - Answer 2

    ہندو مذہب میں شادی کی عمر

    اب ہمارے ملک ہندوستان کے قوانین اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر کے بارے میں کیا لکھا ہے؟

    ہندو مذہب کی کتاب منوسمرتی میں لکھا ہے، " لڑکی بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کر دینی چاہیے" ( گوتما 18-21 )

    "اس ڈر سے کے کہیں ایام حیض نہ شروع ہوجائیں، باپ کو چاہئیے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کردے جب کے وہ بے لباس گھوم رہی ہو، کیونکہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اسکا گناہ باپ کے سر ہوگا "  واشستها ( 17:7)

    Age of Marriage in India ہندوستان میں شادی کی عمر

    اس کے متعلق کیمبرج کے سنٹ جانس کالج کے Jack Goody نے اپنی کتاب

    The Oriental, the Ancient and Primitive

    میں لکھا ہے کہ ہندوستانی گھروں میں لڑکیاں بہت جلدی ہی بیاہ دی جاتیں تھیں

    سری نواس ان دنوں کے بارے لکھتے ہیں جب کہ انڈیا میں بلوغت سے قبل شادی کرنے کا رواج چلتا تھا۔

    (1984:11) : لڑکی کو اسکی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسکی شادی کردینی ہوتی تھی؛ ہندو لا کے مطابق اور ملک کے رواج کے موافق لڑکی کے باپ پر یہ ضروری تھا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کردے، گرچہ  کہ رخصتی میں اکثر تاخیر ہوتی تھی، جو تقریبا" 3 سال ہوتی تھی۔ (The Oriental, the Ancient, and the Primitive, p.208)

    اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایسی کم عمری کی شادیوں کا انڈیا میں آج بھی رواج ہے۔

    The Encyclopedia of Religion and Ethics   میں لکھا ہے کہ، جس کی بیٹی اس حالت میں بلوغت کو پہنچتی تھی کہ وہ غیر شادی شدہ ہو تو اسکے (ہندو)  باپ کو گنہگار سمجھا جاتا تھا ، اگر ایسا ہوتا تو وہ لڑکی خود بخود "سدرا" (نچلی ذات ) کے درجہ میں چلی جاتی تھی اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا شوہر کے لئیے باعث رسوائی ہوا کرتا تھا۔

    *منو* کی *سمرتی* نے مرد اور عورت کے لئیے شادی کی جو عمریں طے کی ہیں وہ اسطرح کہ، لڑکا 30 سال کا اور لڑکی 12 سال کی یا لڑکا 24 سال کا اور لڑکی 8 سال کی۔

    مگر آگے چل کر *بھراسپتی* اور *مہابهارتہ* کی تعلیم کے مطابق ایسے موقعوں پر (ہندو) لڑکیوں کی جو شادی کی عمر بتائی گئی ہے، وہ 10 سال اور 7 سال ہے، جبکہ اسکے بعد کے *شلوکاس* میں شادی کی کم از کم عمر 4 سے 6 سال اور زیادہ سے زیادہ 8 سال بتائی گئی ہے اور اس بات کے بے شمار شواہد ہیں کہ یہ باتیں صرف تحریر میں نہیں تھیں ( یعنی ان پر عمل کیا جاتا تھا) (encyclopedia of religion and ethics, p.450 ),

    تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اپنی کتابوں کے مطابق بھی اس عمر میں شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، جو لوگ اسپر اعتراض کرتے ہیں یا تو وہ جہالت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا سیاسی مفاد کی خاطر انکو چاہئیے کہ پہلے تاریخ کا اور اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

    مقصد کسی پر طنز کرنا نہیں بلکہ کسی اور کو کسی پر طنز کرنے سے روکنا ہے ، او راس کے لیے حقائق کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے


    By Nauman - 11/15/2018 11:46:06 PM



  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر ہونے والے اعتراضات اور تاریخی پس منظر  

    جواب نمبر ۱

    نیلوفر صاحبہ نے جو مضمون لکھا ہے   اس میں روایات کی روشنی میں بحث کی گئی ہے لیکن اس کو تاریخی پس منظر سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

    وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی غذا اور انکے استعمال کی چیزوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اسی طرح انسانوں کے اندر بھی جسمانی تبدیلیاں (  Anatomical and Physiological Changes ) ہوئی ہیں۔

    1400 سال پہلے اتنی کم عمری میں شادی ہونا ایک عام سی بات تھی۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ، ایشیاء، افریقہ اور امیریکہ میں 9 سال سے 14 سال کی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی تھیں۔

    مثال کے طور پر سینٹ آگاسٹین Saint Augustine ~ 350 AD  نے جس لڑکی سے شادی کی اسکی عمر 10 سال تھی۔

    راجا ریچرڈ 2 ، KING RICHARD-II 1400 AD 

    نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی عمر سات سال کی تھی۔

    ہینری 8 ، HENRY 8 نے ایک 6 سال کی لڑکی سے شادی کی تھی۔

    یہاں تک کہ عیسائیوں کی پڑھی جانے والی آج کی موجودہ بائبل میں ہے۔

    In the book of Numbers, chapter 31 and verse 17

    *" But Save for yourselves every GIRL who has never slept with a man "*

    *" مگر ہر وہ لڑکی جو باکرہ ہے اسکو اپنے لیئے محفوظ کرلو"*

    عیسائیوں کی کیتھولک انسائکلوپیڈیا کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کا نکاح انکی 12 سال کی عمر میں 99 برس کے جوسف سے ہوئی تھی۔

    1929 سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء *12 سال* کی لڑکی سے شادی کرسکتے تهے۔

    1983 سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرلینے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جنکی *عمر 12* کو پہنچ چکی ہو۔

    بہت سارے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ امریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ *8 سال* تھی، اور کیلیفورنیا میں *10 سال* تھی۔

    یہاں تک کہ آج تک بھی امیریکہ کے کچھ اسٹیٹس میں لڑکیوں کی شادی کی جو عمر ہے، وہ *میسیچوسس میں 12 سال*، اور *نیوہیمسفر میں 13 سال* اور *نیویارک میں 24 سال* کی عمر ہے.

    یہاں تک تو عیسائیت اور مغربی ممالک میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اور وہاں کے معروف شخصیات کے متعلق تھا، جس سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ تاریخی نکتہ نظر سے اس عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا ایک عام سی بات تھی اور اسکو کوئی معیوب نہیں سمجھتا تھا۔


    By Nauman - 11/15/2018 11:38:34 PM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content