New Age Islam
Thu Apr 09 2026, 09:41 AM

Urdu Section ( 9 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Matter Of Justice And Protection For Pakistan's Non-Muslim Minorities پاکستان کی غیر مسلم اقلیتوں کے لئے انصاف کی فراہمی اور تحفظ کا معاملہ اور بہتر امیج کا سوال

مولانا عبدالحمید نعمانی

8مئی، 2012

پاکستان  کی شبیہ ایک اسلامی یا مسلم ملک کے طور پر ایسی نہیں ہے کہ کوئی ایماندار ، منصف مزاج آدمی اسے قابل تقلید ونمونہ قرار دے سکے، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی نیک نامی میں بھی آج تک کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے، جس کے حوالے سے اسلام اور مسلمان بہتر حیثیت میں قابل توجہ ہوجائے اور واقعہ یہ ہے  کہ اسلامی دنیا خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے لیے پاکستان اور اہل پاکستان کبھی بھی نمونہ اور ماڈل نہیں رہے ہیں، لیکن یہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دوسروں کے لیے اسلام  اور مسلمانوں کو مطعون کرنے کے لیے دلیل اور نمونہ کے حوالے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں ۔

بنگلہ دیش کی حالت بھی پاکستان سے مختلف نہیں ہے۔ وہاں رہنے والی ہندو اقلیت کے حالات او ردرپیش مشکلات کو ہندوستان کے فرقہ پر ست عناصر ایک خاص اسلوب اور رنگ میں پیش کر ، ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی اور اسلام کی شبیہ کی بگاڑ کر سامنے لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ناانصافی او رظلم کہیں بھی ہو، اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے خلا ف آواز اٹھائے ، مظلوم و مظلوم ہوتا ہے ، اس کے متعلق فرقہ وارانہ ذہنیت کے تحت سوچنا اور تعلیمات دین وانسانیت دونوں کے منافی ہے۔ پاکستانی دستور میں ملک کو اسلامی شرعی حکومت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، اس ناتے بھی وہاں کی حکومت اور خود کو اسلامی شریعت کی پابند کہنے سمجھنے والی امت کے افراد کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی اقلیتوں کے جان ومال کی حفاظت او رمذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ شرعاً وہاں کی اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کے جائز مطالبات پر توجہ دے اور ہر طرح کی زیادتی اور ناانصافی کی زد سے انہیں بچائے ۔ ساتھ ہی آج کے حالات میں جب کہ پوری دنیا ایک گھر آنگن میں بدل گئی ہے، اپنی بہتر شبیہ پیش کرے۔

شرعی طور سے شبیہ کو سامنے لانا ضروری ہے ، تاکہ غیر مسلموں اور عام لوگوں میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق غلط فہمی اور نفرت پیدا ہوکر ،دین خداوندی کی اشاعت اور اس فیوض وبرکات کے حصول راہ میں خلق کے لئے    دیوار کھڑی نہ ہوجائے ، ہمیں یہ بات پوری قوت سے کہنی چاہئے کہ مسلم ملک میں جو کچھ ہو سب نہ تو اسلام ہے اور نہ ہی صحیح ہے۔جس طرح دیگر اقوام وقبائل ،حالات و ماحول کا شکار ہو کر غیر انسانی ، غیر منصفانہ کام کرتے ہیں ، اور کرسکتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی کرسکتے ہیں ۔غلط کا م کی تقلید اور اس کے ردّ عمل میں اپنے ملک کی اقلیت سے بدلہ لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، البتہ یہ شرمناک ضرور ہے کہ اسلام جیسا محفوظ و مکمل دین کی حامل امت کے افراد غیر منصفانہ اور غیر انسانی عمل کا مظاہرہ کریں، پاکستان جیسے ملک کے متعلق اس پہلو کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں کے نظامِ حیات پر اسلام کی تعلیمات و احکام کا ضروری شعور فہم بھی رکھتے ہیں ، اگر پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کی جائیداد    پر ناجائز قبضہ ، لڑکیوں کا اغوا کر کے تبدیلی مذہب اور ان سے شادی یا دیگر طرح کی زیادتیاں ہوتی ہیں تو ان میں اسلام تعلیم کے اثر کا کوئی دخل نہیں ہے، جیسا کہ کچھ فرقہ پرست عناصر باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

اسلام میں ناانصافی اور قبول مذہب میں زور زبردستی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، کسی بھی طرح کی زیادتی، ناانصافی اور جارحیت کو نظر انداز کرنا اور خاموشی شرعاً غلط تو ہے ہی ، اس لحاظ  سے بھی غلط  ہے کہ فرقہ    پرست عناصر کو اکثر یت میں نفرت وفرقہ پرستی پھیلا نے کا موقع دے دیا جائے، خاص طور سے ایسے حالات میں کہ ہندوستانی میڈیا بڑے پیمانے پر پاکستان جیسے مسلم ملک میں رہنے والی غیر مسلم  اقلیتوں کی حالت کو انتہائی مظلومانہ انداز میں پیش کررہا ہو اور یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہو کہ ہندو ہو نا ہی گناہ ہے ۔ بڑے اشاعتی گروپ کے کئی زبانوں میں شائع ہونے والی مفت روزہ سرورق کی کہانی ‘ہند و ہونے کا گناہ’ کے عنوان سے سنائی ہے۔اس نے تفصیلی رپورٹ او ر تبصرے میں یہ تاثر دیا ہے کہ پاکستانی ہندوؤں کا کوئی وطن نہیں ہے، پاکستان سے کھدیڑ ے گئے او رہندوستان آئے تو یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں مسلم سماج کے کمزور افراد کے لیے وہاں زندگی گزار نا بھی انتہائی مشکل ہے۔

آئے دن کم عمر کی لڑکیوں کا بھی  بڑی عمر کے دبنگ قبائلی اور جاگیر ،زمیندار وڈیر ے خاندان کے افراد سے رشتہ قائم کردیا جاتا ہے، اجتماعی زنا کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ماں مختار ن اس کی مثال ہیں۔ ان کی آپ بیتی کے مطالعے سے پاکستان کے خاص علاقوں کے بھیانک حالات سے سابقہ پڑتا ہے ، لیکن غیر مسلم لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کراکر شادی کرلینے کے معاملے الگ شکل میں سامنے آتے اور لائے جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام اور علما او راہل علم کی ایک بڑی تعداد گزشتہ      کچھ دہائی خاص طور سے آج کے حالات سے نالاں ہے اور انتہا پسند اور فرقہ پرست عناصر کی جہل آمیز نام نہاد مبینہ  مذہیبت سے نفرت کرتی ہے۔ مولانا مفتی تقی   عثمانی ، مولانا زاہد الراشدی ، قاری محمد حنیف جالندھری ، مولانا عمار خاں ناصر جیسے سیکڑوں اہل علم او رمولانا فضل الرحمٰن اور ان سے رابطہ وتعلق میں رہنے والے سیاسی ، مذہبی ذہن والے افراد بہتر ماحول بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن ملک پر انتہا پسند عناصر کے حاوی ہونے کے سبب مطلوبہ کامیابی حاصل کرپارہے ہیں ۔ اگر اعتدال پسند صاحب علم وبصیرت مذکورہ  علما اوراہل سیاست و فراست کو کام کا موقع مل جائے اور تقویت پہنچائی جائے  تو صورت حال میں بہتر تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔

یہ افسوسناک بات ہے کہ ہندوستان و پاکستان میں فرقہ پرست عناصر اس طرح  حاوی ہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی خوش گوارتعلقات  کی راہ ہموار نہیں ہو پاتی ہے۔ ایک زمانے میں جمعیۃ علما ہند نے اس کی  کوشش کی تھی کے ہندو پاک کے مابین عوام کا رابطہ عوام سے استوار کیا جائے ، مولانا سیدّ اسعد مدنی حکومت ہند کے کئی ذمہ دار وں کے سامنے یہ منصوبہ رکھا تھا کہ ہندوستان کاافغانستان سے تاریخی دوستانہ رشتہ رہا ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کے کچھ طلبہ کو ہندوستان کے دارالعلوم دیوبند جیسے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت وموقع دیا جائے تو اس سے ہندوستان کو فائدہ ہوگا اور پڑوسی ملکوں سے خوشگوار تعلقات  کی راہ ہموار ہوگی۔

مولانا مدنی نے سابق وزیر داخلہ ایس پی چوہان اور دیگر ارباب اقتدار کو اس سلسلے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی یقین  دہانی بھی کرائی تھی، لیکن افسوس کہ انہوں نے مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی، اگر مولانا مدنی کی تجاویز پر توجہ دی جاتی تو پاکستان او ردیگر پڑوسی ممالک میں پائے جانے والے فرقہ وارانہ مسائل کو بہتر طور سے حل کرنے میں بڑی مدد ملتی، جس طرح پاکستان سے غیر مسلم اقلیتوں کے کچھ لوگ آکر ہندوستان کے مختلف حصوں دہلی، راجستھان، پنجاب اور گجرات میں پناہ لینے کے عنوان سے آگئے ہیں ، او رمزید بہت سوکو آنے کی خبریں وسیع پیمانے پر سامنے لائی جارہی ہیں، اس سے جہاں پاکستان کی رسوائی و بد نامی ہورہی ہے، وہیں فرقہ پرست عناصر اپنے مقاصد کے حصول میں مدد بھی لے رہے ہیں۔ آر ایس ایس کا ترجمان ‘پانچ جنیہ ’ اور ‘آرگنائزر’ اس سلسلے میں مسلسل اسٹوری شائع کر کے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولر زم کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ ‘پانچ جنیہ’ میں سوال کیا جارہا ہے کہ کہاں جائیں پاکستانی ہندو؟اس سوال سے ہندوستان کے حالات کونتھی کر کے معاملے کو ایک مخصوص ڈگر پر لے جانے کی سعی کی جارہی ہے، مسئلہ کا یہی پہلو ہماری پریشانی کا اصل سبب ہے۔

 ا س میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں جس طرح ہندو ؤں کا استحصال او رظلم ہورہا ہے ہو بہت تکلیف دہ ہے۔ ان کی لڑکیوں ، عورتوں کا اغوا کر کے ان کے ساتھ زنا یا زبردستی دھرم تبدیل کر اکر ان سے زبر دستی شادی کرلی جاتی ہے ، یہی حالت ہندوستان میں بھی ہے ۔ ہندوستان میں ‘لو جہاد’ سے ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکو ں کے ذریعہ پھنسا یا جارہا ہے، اپنے آپ کو سیکولر ماننے والے ‘لوجہاد’ کی طرف سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے سب کچھ دیکھ سن کر بھی خاموش رہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں ناانصافی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، لیکن اسلام کو ماننے والے اپنے پڑوسی اقلیت پر ظلم و ناانصافی کررہے ہیں، مسلم سماج کوکٹر مسلمانوں کی جم کر مخالفت کرنی چاہئے ، کیا کٹر مسلمان کبھی ہزاروں سال پرانی غزنوی پرستی سے باہر نکل پائیں گے۔ یہی غزنوی پرستی انہیں غیر مسلموں پر ظلم وزیادتی کے لیے اُکساتی ہے ۔ ہریانہ کے میوات  میں بھی پانچ چھ مہینے پہلے ایک ہندو لڑکی کا ایک مسلم لڑکے سے جبراً نکاح  کرادیا گیا تھا۔’’ (پانچ جنیہ ،6مئی 2012(

دیکھا جاسکتا ہے کہ کہاں کی بات کوکہاں سے جوڑ کر حالات کو ایک خاص رُخ دینے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس طرح کے معاملوں میں سیاق وسباق سے باتیں کاٹ کر مبالغہ آرائی سے پیش کی جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں جہاں ناانصافی او رزیادتی کے خلاف بولنے او رجد وجہد کی ضرورت ہوتی ہے وہیں اصل بات کر اس کے دائرے او رحد میں رکھ کر سمجھنا او ربتانا بھی ضروری ہے ۔مثلاً میوات کے واقعہ میں خود عدالت نے فیصلہ دیا کہ لڑکی اپنے مسلم شوہر کے ساتھ رہے گی ، اگر زرو زبردستی سے نکاح کا معاملہ ہوتا تو عدالت ایسا فیصلہ کیسے دے سکتی تھی۔ اسی طرح جس لڑکی رنکل کماری کے معاملے میں ہندوستان کے انگریز ی ہندی میڈیا میں بڑی بڑی اسٹوری مع تصاویر کے شائع کی جارہی ہیں، اس کا خود کا بیان ہے کہ ‘‘میں نے اپنی پسند کے شخص سے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، اور میں اطاعت شعار بیوی بن کر زندگی گزراروں گی’’۔یہ بحث الگ ہے کہ شادی کے لیے مذہب ترک و اختیار کرنا کہاں تک صحیح ہے، مگر جو کچھ ہورہا ہے وہ مذہبی جذبے او رلوجہاد سے بہت کم تعلق رکھتا ہے۔ بدلتے سماجی ، اقتصادی اور صنعتی حالات کے تحت لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے قریب آجاتے ہیں اور رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں۔

 ہندوستان میں بھی ایسے واقعات ہورہے ہیں۔ اسلام میں غیر اہل کتاب غیر مسلم مرد عورت کا رشتہ ازدواج قائم نہیں ہوسکتا ، بہت سے واقعات میں لڑکا لڑکی دونوں مذہب کو نظر انداز بھی کردیتے ہیں۔ صرف باہمی قربت وتعلق ہی رشتہ ازدواج قائم کرنے کا بنیاد ہوتا ہے، دیگر واقعات میں مذہب کے ترک واختیار سے بھی گزرنا پڑتا ہے ، اس طرح کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے بسا اوقات ماحول مکدر وخراب ہوجاتا ہے۔ صورت حال سے نبٹنے کے لیے سنجیدہ و جد وجہد کی ضرورت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے مد نظر مسلم سماج اور اس کے اہل علم وفہم کے لیے غیر مسلموں سے زیادہ یہ مسئلہ توجہ کے لائق ہے ۔ اسلامی عقیدے اور تعلیمات و احکام کو نظر انداز کر کے جذبات وخواہشات کی پیروی ،آخر کار تباہ کن انجام کی صورت نکلتی ہے۔ اس لیے صورت حال کو بدلنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سماجی اصلاح او رمذہب وقانون سےجڑے ہر طبقے کا رول اہم ہے۔ پاکستانی سماج او رعوام وعلما بھی اس سے خود کو الگ نہیں کرسکتے ہیں کیو نکہ غلط امیج کا اثر بھی غلط ہی پڑتا ہے۔

بشکریہ : ہمارا سماج ، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/matter-justice-protection-pakistan-non/d/7278

Loading..

Loading..