certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (04 Jan 2010 NewAgeIslam.Com)



مسلم اتحاد کی ضرورت

مولانا اسرارالحق قاسمی

ہندوستان میں مسلم اتحاد کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیا گیا۔ یہ آواز مختلف گوشوں سے پورے زور وشور کے ساتھ اٹھتی رہی ہے لیکن علما کی طرف سے جس تیزی اور شدت کے ساتھ اس پر کام کیا جارہا ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک اچھی خبریہ ہے کہ ایشیا کے عظیم ادارہ دارالعلوم دیوبند کے فتوی ‘‘آن لائن’’ سیکشن نے ایک استفتا کے جواب میں لکھا ہے کہ شیعہ سنی اتحاد کی ممکن صورتیں موجود ہیں ۔ یہ ایک اچھی ابتدا ہے۔ اس کے دور رس اثرات مرتبہ ہوں گے۔ مسلکی اعتبار سے کسی کو پابند نہیں کیا جاسکتا ۔نہ ایسا کرنا اب ممکن ہے اور نہ ہی اس کوشش کا کوئی فائدہ ہوگا۔ ہم مسلمان عقیدہ توحید پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔لیکن اس کے باوجود سیاسی اور سماجی طور پر ہم کروڑوں دیوی دیوتاؤں کے ماننے والوں سے ربط وضبط رکھتے ہیں یا نہیں؟جہاں تک مسلم طبقات کی بات ہے تو وہ تمام ایک خدائے وحدہ لاشریک کے ماننے والے ہیں۔ نبی آخر الزماں پر ان کا ایمان ہے ۔نماز ، روزہ، حج اورزکوٰۃ پر بھی سب اسی طرح کا ر بند ہیں۔اس کے بعد کے اختلافات فروعی ہیں اور اگر بالفرض محال کسی ایک یادو اس سے زائد نکتوں پر کوئی اختلاف بنیادی بھی ہو تب بھی ہمیں سماجی اور سیاسی اتحاد کوئی چیز سے کوئی چیز نہیں روکتی ۔صحت مند اور علمی بحث و مباحثہ کی گنجائش البتہ ہمیشہ رہنی چاہئے ۔ تاہم ایسی بحث سے اجتناب ہی بہتر ہے جس سے کسی دوسرے مسلکی طبقہ کے عقیدہ کو ٹھیس پہنچی ہو۔ البتہ اگر کوئی مسلکی طبقہ عقیدہ توحید کے خلاف کام کرتا ہو تو اس کو سمجھانا اور راہ راست پر لانا دینی فریضہ میں شامل ہے۔ لیکن اس کے لئے بھی زور زبردستی کرنا یا دل آزاری کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ تاہم عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کام کرنے والوں سے مسلمانوں کاکوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ۔

فلم ساز مہیش بھٹ نےاپنی تقریر میں جن الفاظ کا استعمال کیا ہے ہمیں ان الفاظ کی شدت کا استعمال کیا ہے ہمیں ان الفاظ کی شدت اور پنہائی کو محسوس کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ ملک کا ۱۵ سے ۳۰کروڑ دیوی ،دیوتاؤں کو ماننے والا ایک طبقہ جب ایک ہے اور متحد ہے تو آخر کیا بات ہے کہ ایک خدا، ایک قرآن اور ایک رسول اور کعبہ کو ماننے والے مسلمانوں میں انتشار کیوں ہے۔ اسی  طرح شیعہ عالم دین مولاناکلب جواد نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے کہا تھا کہ میری امت ۷۳فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ میری اسلام ایک جسم کی طرح رہے گا۔ میں یہاں یہ اضافہل کروں گا کہ تاجدار مدنی نے یہ بھی کہا تھا کہ اختلاف امتی رحمۃ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہوگا تو اس کو عین مطلب تھا کہ مسالک کے باوجود اسلام ایک جسم وجاں کی طرح رہے گا۔ اور یہی نکتہ ہمارے اتحاد کے لئےکافی ہے۔گزشتہ چودہ صدیوں میں بار ہا ایسے مراحل آئے کہ محسوس ہونے لگا کہ یہ ملت ٹوٹ اور بکھر جائے گی بہت سے ایسے فرقے اورگروہ اٹھے کہ جنہوں نے ملت کی سالمیت اور وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی۔ بے شمار ایسے فتنے منظر عام پر آئے جنہوں نے اس کو اس طرح کتر ڈالنے کی کوشش کی جیسے قینچی پان کے پتوں کو کتر ڈالتی ہے لیکن ملت کے اجتماعی شعور اور کلمہ طیبہ کی مقناطیسیت نے اسے بکھرنے سے محفوظ رکھا۔

تاریخ اسلام اس پر گواہی دیتی ہے کہ حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد آپس میں سخت سے سخت مخالف اوردشمن قبیلے بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوگئے تھے اور یہی اسلام کی دین تھی تو ہر ایک خود کو تکلیف میں محسوس کرتا تھا۔ یہ بھی اسلام کی ہی دین تھی کہ جب دوران جنگ پیاس لگی تو ایک دوسرے کی  پیاس بجھانے کو مقدم جان کر ہر پیاسے سے اور جاں بلب صحابی نے اپنے اگلے والے صحابی کے لئے پانی آگے بڑھادیا اور یوں تینوں پیاسوں نے جام شہادت نوش کرلیا۔اگر اسلام میں شامل ہونے سے پہلے کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو آپس میں ایک دوسرے کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کرنے لگے تھے اور ایسے وقت میں جب پیاس کے سبب حلق خشک ہے اور دم نکلنے کو ہے یہ خیال بدرجہ اتم موجود ہےکہ دوسرے کی پیاس پہلے بجھنی چاہئے ۔ اسلام ہمیں متحد ہونے کے لئے ایک ایسا نکتہ فراہم کرتا ہے جس کے آگے تمام قریبی رشتوں کی بھی حیثیت صفر ہو جاتی ہے۔اگرایسے میں ہمیں اتحاد کے لئے دوسروں کی نصیحت لینی پڑے تو اس سے زیادہ افسوس کی کوئی اور بات نہیں ہوگی۔ ندوۃ العلما کے مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی نے غالباً اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم مسلمان وحدت واخوات کے اس دور کو بھلا بیٹھے ہیں ، اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہ جن کے نقوش دیکھ کر ہمارے سرندامت سے جھک جاتے ہیں۔ ہم دوسری قوموں کے مقابلے میں انتہائی کمزور او ربے وزن ثابت ہورہے ہیں اور باہم دست و گریباں نظر آرہے ہیں ۔ الحاج سید اشرف علی جیلانی نے سوال کیا کہ اتحاد کے تمام نکات ہونے کے باوجود ملت اسلامیہ کا اتحاد آخر بار بار ٹوٹتا کیوں ہے؟ ان کے اس سوال کا جواب شاید ہمارے ذاتی مفادات میں پوشیدہ ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر ملت کے مجموعی مفادات کو قربان کردیتے ہیں۔

دہلی میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ مسلمانوں کو مظلوم طبقات کی مدد کے لئے فوراً اٹھ کھڑے ہوناچاہئے اور ظلم پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے ۔بلاشبہ ہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور ہمارادینی فریضہ بھی ہے۔ لیکن یہ جذبہ اسی وقت پیدا ہوگا جب ہمیں ایک دوسرے سے لگاؤ بھی ہو مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یادآتا ہے۔ احمد آباد میں ایک مسلک کے ماننے والوں نے ایک مسجد کے باہر بورڈ آویزاں کردیا کہ فلاں فلاں مسلک کے ماننے والوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس پر میڈیا نے متاثر مسلک کے امام سے کہا کہ کیا آپ بھی اسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں پ راسی طرح کی پابندی عائد کریں گے؟تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہم ایسی کسی پابندی پر یقین نہیں رکھتے ۔مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس میں آنے سے کسی مسلمان کو نہیں روکا جاسکتا۔ یہاں ہمارا مقصد کسی خاص مسلک کی تنقید مقصود نہیں بلکہ صرف اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ تمام مسالک کے بڑے علما کرام کو رجحان کی بیخ کنی کرنی چاہئے ۔ اس لئے کہ اگر اس طرح کے عناصر کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو اس میں اضافہ کا امکان ہے اور آج نہیں تو کل یہ مزید انتشار کا باعث بنے گا۔

ممبئی اجلاس کی قرار دار میں یہ بات باکل صحیح کہی گئی ہے کہ مسلکی بحثوں کو نجی محفلوں تک محدود رکھا جائے ۔عام اجتماعات میں مسلمانوں کے عام مسائل پر ہی توجہ دی جائے۔ بلا شبہ مسلمانوں کے عام مسائل کا تعلق ان کی تعلیمی ومعاشی اور سماجی پسماندگی سے ہی ہے ۔ اگر علما اور سیاسی قائدین ان مسائل پر توجہ دیں اور مسالک کے سماجی اتحاد کے لئے کام کریں تو کوئی توجہ نہیں کہ۲۰۔۲۵کروڑ مسلمانوں کو مسائل کے حل کے لئے دردر بھٹکنا پڑے۔سماجی اخوت سے ہم بڑے بڑے کام نکال سکتے ہیں تو مسلم اتحاد سے تو بدرجہ اولی ہم تمام ترکامیابی وکامرابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ پنجاب سے اس سلسلہ کی ایک دل خوش کن خبر یہ آئی ہے کہ وہاں ایک گاؤں میں پچھلے ۶۲سال سے غیر آباد ایک مسجد سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں کے حوالہ کردیا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا وہاں کے شاہی امام حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانوی کے سرجاتا ہے ۔ انہوں نے پنجاب میں جو سماجی اخوت کی فضا بنائی ہے مسجد کی حوالگی اسی فضا کے سبب ممکن ہوسکی ۔پنجاب میں اس سے قبل بھی سکھ برادران کئی مسجد وں کو مسلمانوں کے حوالے کرچکے ہیں۔ اگر مسلمان ،ان کے علما اور قائدین پورے ملک میں یہی فضا بنائیں تو مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی مشکل نہیں ہے لیکن اس کے لئے ہمیں پہلے خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمارے اتحاد کے آگے خود مخالف اور دشمن طاقتوں کی ہمت نہیں ہوگی۔ سیاسی طاقتیں بھی ہم سے سیاسی خوف کھائیں گی اور کوئی ہمارا استحصال کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا۔ مسلکی اختلافات کے باعث ہم ایک دوسرے سے سماجی عداوت پیدا کرلیتے ہیں۔مسلکی اختلافات محض علمی بحث تک محدود رہے تو اچھا ہے لیکن جب اس بحث سے ذاتی رقابت اور کردار کشی کا کام لیا جانے لگے تو پھر اس کے مثبت نہیں بلکہ منفی اثرات نمودار ہونے لگتے ہیں ۔ آج ہمارے ساتھ یہی ہورہا ہے ۔ہم نے اسی کو باعث ثواب سمجھ لیا ہے کہ ہم مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں اور خو ش ہوجائیں۔بہر حال دارالعلوم کے جو اب اور مختلف پلیٹ فارموں سے علما کی اتحادی مہم سے امید کرنی چاہئے کہ ہم ہندوستانی مسلمان اپنے اتحاد کی کوئی شاندار تاریخ اسی دہائی میں رقم کرسکیں گے۔ بحمداللہ ملت اسلامیہ ایک ایسے عقیدہ ،ایک ایسے نظریہ اور ایک ایسی عالمگیر ولازوال فکر کی حامل ہےجس نے ہمیشہ اس سے استحکام حاصل کیا ہے اور انتشار وافتراق کی تمام آندھیوں کے بالمقابل اسے قدم جمائے رکھنے ،ایک مرکز ومحور پر قائم رہنے اوراپنی شیرازہ بندی کرنے کا ولولہ عطا کیا ہے۔ نظریہ وعقیدہ کی یہ گداز اور حرارت انشااللہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک کلمہ طیبہ کا چراغ ملت کی فکر وعمل کی محرابوں میں روشن ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/مسلم-اتحاد-کی-ضرورت/d/2324

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content