certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (14 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 35

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام  میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نیتجہ ہے، جو مرد انہ شاونیت (Chauvanism)کےشکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت ’’ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی تصنیف اور اس کے مضامین میں آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گےاور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیرمقدم کیا جائے گا۔ ۔۔ایڈیٹر

 

طبقہ شرفا میں جو بالغہ اور قابل ازدواج لڑکیوں کو بیاہ شادیوں کی تقریبوں میں نہ لے جانے کا عام دستور ہے اس کو بند کر کے ان کو اپنی بہو اور ماؤں کے ہمراہ ان تقریبات میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔اس سے تین فائدہ ہونگے اول یہ کہ کنبہ اور برادری کی عورتیں اس لڑکی کو دیکھ کر اور بات چیت کرکے اس کی صورت و سیرت کی نسبت ٹھیک رائے قائم کرسکیں گی اور جس لڑکے سے اس کا رشتہ قرار پائے اسکو اس لڑکی کے حالات زیادہ وضاحت اور صحت اور وثوق سے معلوم ہوسکیں گے۔ دوم یہ کہ لڑکی کے والدین لڑکی کی تربیت میں خاص کوشش کیا کریں گے اور اس کی حرکات وسکنات میں کوئی ایسا امر پیدا نہ ہونے دیں گے جو بیویوں کی نظر میں قابل اعتراض ہو۔ سوم لڑکیوں کی صورت شکل یا سیرت میں بعض ایسے امور ہوتے ہیں جن کو ان کے والدین مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعد نکاح وہ امور ظاہر ہوکر باعث ناموافقت زوجین ہوتے ہیں۔ ان کے اہل ہی ظاہر ہوجانے سے بعد کی خرابیوں کا انسداد ہوجائے گا۔ ماں باپ کا یہ نہایت ہی غلط خیال ہے کہ کسی طرح لڑکی کا جھوٹی سچی باتیں بنا کر نکاح ہوجائے ۔پھر میاں بیوی کو جب آپس میں رہنا سہنا ہوگا آپ ہی موافقت ہوجائے گی۔ یہ خیال اکثر صورتوں میں نوجوان بیٹوں کی ضرورت کا موجب اور خاندانی تنازعات کا مورث ہوتا ہے۔

2۔ لڑکی والوں کو مناسب ہے کہ جس کنبہ میں ان کی لڑکی کی بات چیت ہونے والی ان کے ہاں کو بیویوں کواپنے ہاں بلانے اور لڑکی کوان کے روبرو ہونے دینے اور چند روز اپنے ہاں بطور مہمان ٹھہرانے او رلڑکی کی عادات سے وقفیت پیدا کرنے کا دستور نکالا جائے۔ یہ زیادہ مکمل  صورت پہلی ترمیم کی ہے۔ مگر ایسی ملاقاتوں میں جب تک بات پختہ نہ ہوجائے اور لڑکے کو صحیح صحیح بلا مبالغہ حالات بتا کر پوری پوری رضا مندی نہ لے لی جائے تب تک رشتہ کا زبانی ذکر نہیں آنا چاہئے تاکہ بصورت اس امر کے لڑکا انکار کرے لڑکی والوں کو سب کی او رندامت نہ ہو ۔ یہ ملاقاتیں معمولی محبت کی ملاقاتیں ہوں اور ان کے عمل میں آنے کے واسطے بہت سارے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ کچھ بھی موقع نہ ہو تو مجلس مولود ایسی چیز ہے جس کے لئے ہر مسلمان کو اپنے احباب کو جمع کرنا آسان ہے۔

3۔ اگر لڑکی پڑھی لکھی ہوتو اس کے ہاتھ کی نستعلیق تحریر لڑکے کو دکھانی بالکل بے عیب او رکسی طرح نا مناسب نہیں  ہے۔

4۔اگر بلحاظ موقع مکان یا حالت آمد ورفت یا دیگر حالات کے ایسا موقع ملنا ممکن ہوکہ لڑکا لڑکی پر ایسی حالت میں کہ لڑکی کومعلوم نہ ہو سرسری نظر ڈال سکے تو لڑکی کے والدین کو دیدہ دانستہ اغماض کرنا ایسا موقع پیدا کرنے میں مدد دینا چاہئے ۔ ہم پردہ کی بحث میں ثابت کرچکے ہیں کہ شرعی نے پردہ کہاں تک لازم ٹھہرایا اور خصوصاً کسی شخص کا کسی عورت کو بار ادہ نکاح دیکھنا شرعاً صرف جائز بلکہ مستحب ہے پس والدین اگر اس قدر بھی جائز رکھیں تو کوئی شرعاً ممانعت نہیں ہے۔ لیکن چونکہ رواج اس قدر اس کے مخالف ہے کہ اس کو یک لخت توڑ نا ناممکن ہے تو اس کےلئے فی الحال اس سے بہتر کچھ نہیں ہوسکتا کہ غیر صریح طور پر اس کو قریب قریب شرعی طریق کے لادیں اور والدین اس سے اغماض و تجاہل کریں۔ اس تجویز کی ضرور لوگ مخالفت کریں گے مگر ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہماری سب تجویز وں میں سب سے اعلیٰ اور اہم یہی ہے اور اگر اس پر عمل در آمد ہوگا تو نہ صرف تمام خرابیوں کی جڑ کٹ جائیں گی بلکہ نکاح اپنی اصلی صورت شرعی پر آجائے گا جیسی شارع علیہ السلام نے تجویز فرمائی۔

5۔ جو لوگ اپنے گھروں میں بطور تفریح (فوٹو)تصویر عکسی کا سامان رکھتے ہیں اور انہوں نے اس فن میں مہارات پیدا کی ہے اور اس فن کی تکمیل کوجائز رکھتے ہو ں وہ ایسے حالات میں تصویر سے بھی مدد لے سکتے ہیں ۔ میرا یہ منشا نہیں ہے کہ لڑکی کا باپ داماد ہونے والے لڑکے کو بلا کر اپنی بیٹی کی تصویر دے بلکہ وہ ہی طریق اغماض اختیار کیا جائے یعنی وہ کسی رشتہ دار کے ذریعہ سےلڑکے تک پہنچادے ۔ مجھے امید ہے کہ یہ طریق لحاظ کے قائم رکھنے اور مطلب کے باحسن الوجوہ حاصل ہونے میں بہت مدددے گا ۔رفتہ رفتہ خود ایسے اشخاص پیدا ہوجائیں گے جو اس شرعی حکم میں سہولت پیدا کرنا موجب شرم نہ سمجھیں گے۔

6۔ لڑکی کو بھی اسی طرح لڑکے کے حالات معلوم کرنے اور لڑکے کی اس طرح صورت دکھادینے میں کہ لڑکے کو خبر نہ ہو مدد دیں اور یہ کام ہم عمر لڑکیوں اور رشتہ کی بہنوں کے ذریعہ سےکئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ لڑکی کا اظہار رضا مندی کسی قسم کے جبریا شرم یا لحاظ یا بخوف ناخوشی والدین تو نہیں ہوا۔

7۔لڑکے کے چال کو بخوبی دیکھنا چاہئے ۔ کہ لڑکی کی آئندہ خوشی ناخوشی زیادہ تر اسی پر منحصر ہے اس کی پڑتال کے لئے ان امور پر نظر کرنی چاہئے۔

(1)        لڑکے کے والدودیگر اقربا ذکور کا چال چلن کیسا ہے۔

(2)       لڑکے کے صحبتی کیسے لوگ ہیں۔

(3)       لڑکا تعلیم یافتہ ہے تو کسی قسم کی کتابوں کے مطالعہ کاشوق ہے۔

(4)       لڑکے کا عام مشغلہ کیاہے

(5)       شہرت عامہ لڑکے کے چال چلن کی مدرسہ اور محلہ وغیرہ میں کیا ہے۔ (جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-35/d/2218

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content