certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (04 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی  علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام  میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نیتجہ ہے، جو مرد انہ شاونیت (Chauvanism)کےشکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت ’’ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی تصنیف اور اس کے مضامین میں آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گےاور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیرمقدم کیا جائے گا۔ ۔۔ایڈیٹر

 

دوم زندگی بھر کےلئے ایک مونس شفیق و ہمدرد مخلص منتخب کرلینا ۔اور نکاح کا کامل یا ناقص ہونا اسی امر پر موقوف ہے کہ جو نکاح کے اصلی اغراض ہیں اور کسی حد تک پورے ہوتے ہیں ۔ اس لئے نکاح کے کامل اور مفید ہونے کےلئے ضروری ہے کہ وہ سب شرائط جن سے اغراض نکاح کا حصول باحسن الوجوہ ہوتا ہو پورے کئے جائیں۔

جس قدر ان شرائط کے پورا ہونے میں کوتاہی ہوگی اسی قدر نقص نکاح میں باقی رہے گا۔ پہلے مقصد کے حصول کے لئے فریقین ازدواج کی صحت کا عمدہ ہونا اور ایک خاص حد عمر کو پہنچ جانا ضروری ہے کیو نکہ ایسے فریقین ازدواج کی اولاد جن کے قویٰ جسمانی اپنے پورے درجہ نشو ونما تک نہیں پہنچے بجائے اس کے کہ بموجب بقائے نسل انسان ہو بوجہ نسل ناقص ہونے کے موجب فنائے نسل انسان ہوتی ہے دوسرے مقصد کے حصول کے لئے بھی فریقین ازدواج کا ایسی عمر کو پہنچ جانا ضروری ہے ۔ کہ وہ اس دوامی معاہدہ کی وقعت اور اس کے فرائض کی جوابدہی اور اس کے اہم نتائج کو سمجھ سکتے ہوں اور ان کے اس انتخاب میں بجز مشورہ مشفقانہ اور نصیحت بزرگانہ کے کوئی ایسا امر وقوع میں نہیں آناچاہئے جو ان کی آزادی رائے کو دبا کر جبراً ایسا تعلق پیدا کرنے کی طرف مائل کرے جو حقیقت میں ان کو پسند ہو یا جس کی طرف ان کو پوری دلی رغبت نہ ہو۔ اس حد عمر عرف شرح میں بلوغ اور اس آزادی کو ایجاب وقبول سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اہل اسلام ہندوستان میں جو نکاح عمل میں آتے ہیں ان سے یہ اصلی اغراض نکاح حاصل ہوتی ہیں یا نہیں ۔

نسبت امر دل ہم اہل اسلام ہندوستان کی حالت نہایت قابل افسوس پاتے ہیں ۔صرف یہ ہی نہیں کہ انہوں نے کوئی عام حد عمر نکاح مقرر نہیں کی یا بہت صغر سنی میں نکاح کیا جاتا ہے بلکہ دودھ پیتے بچوں او رکبھی کبھی بن پیدا ہوئے بچوں کا جو ابھی پیٹ سے جنیں ہوتے ہیں رشتہ ہوجاتا ہے جو نکاح سےبھی زیادہ موکد اور ناقابل اکتنسیخ ہوتا ہے۔ اس قسم کے ازدواج سے صرف یہ ہی نقصان نہیں ہوتا کہ فریقین ازدواج اس خود معاشرتی سے جو خوشی کے انتخاب و پسندیدگی کا نتیجہ ہے محروم رہ کرنا موافقت باہمی کدورت کی تلخی تام عمر چکھتے ہیں بلکہ اس زبردستی کے رشتہ کے ہوجانے کے بعد نکاح بھی ایسی صغرسنی میں ہوجاتا ہے کہ اس وقت تک لڑکے اور لڑکی کے اعضا کا نشوونما اس رشتہ کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لئے جو بچے بچپن میں ہی شوہر  و زوجہ او رچند روز بعد باپ اور ماں بن جاتے ہیں ان کی صحت کو ایسے سخت صدمے اٹھانے پڑتے ہیں کہ پھر کسی قسم کی تدبیر یا علاج سے تمام عمر اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔

جن شرائط پر دوسرے مقصد کا حصول ہے وہ بھی نکاح مروجہ میں کلی طور پر مفقود ہوتی ہیں اول تو شوہر کو زوجہ کے پسند کرنے کا اختیار ہی نہیں ہو تا اور اگر ہوتا بھی ہے تو دس بارہ برس کا بچہ کیا جان سکتا ہے کہ میں کس قسم کا اور کتنی مدت کےلئے معاہدہ کرتاہوں اور اس کا کیا اثر میری کل زندگی پر ہوگا  لیکن اس قدر صغر سنی میں نکاح ہونا ایسا صریحا مذموم امر ہے کہ اس کی مذمت سے عموماً لوگ واقف ہوگئے ہیں اس لئے اس امر پر زیادہ زور دینا ضروری ہے ۔ لیکن جو نکاح عموماً زمانہ بلوغت یا اس سے بھی بعد عمل میں آتے ہیں ان کے پسندیدہ ہونے میں شاید بہت کم لوگوں کو کلام ہوگا ۔مگر ہم ان نکاحوں کو بھی سخت قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تجربہ ہے کہ کسی صورت میں لڑکی کو تو اپنے لئے شوہر کے پسند کرنے یا اس بات میں کچھ ضعیف سی بھی رائے دینے کا اختیار ہوتا ہی نہیں  الا سمجھنا بھی کہ لڑکوں کو ایسا اختیار حاصل ہوتا ہے صریح غلطی ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ بزرگوں کا بزرگانہ دباؤ اور عزیز واقربا کا زبردست لحاظ اور دوستوں کی پاس خاطران سب امور کا مجتمع قوی اثر بیچارہ لڑکے پر ڈال کر اس سے شرما شرمی کسی نہ کسی طرح اظہار پسندیدگی کر والیتے ہیں ۔مگر آیا یہ ان کی دلی اور حقیقی پسندید گی ہوتی  ہے ان کی متاہلا نہ زندگی کے طریق عمل سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔

لیکن کیا امر ہے جو والدین کو اس قسم کے نکاح سے جو درحقیقت مفید صحت اور اخلاق اور مطابق شریعت ہے منحرف کر کے ایسے قسم کے ازدواج کی ترغیب دیتا ہے جس سے فریقین ازدواج کی صحت بالکل برباد اوران کے اخلاق  مذموم اور بقیۃ العمر سخت تلخی اور بد مزدگی میں بسر ہوتی ہے یہ موجب ترغیب کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہی چیز ہے جو دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ اور فساد کی بنیاد اور ہر فتنہ کا باعث ہوتا ہے یعنی طمع زر۔ یہ طمع جو تمام خواہشوں کا اصلی مرکز ہے مختلف اصول کے پیرایہ میں ظاہر ہوتا ہے کوئی شادی کرنے کا یہ اصول قرار دیتے ہیں کہ روٹی ٹکرہ کا آرام ہوجائے ۔یہ اصول عموماً غریب محتاج لوگوں یا اشخاص اہل حرفہ کا ہے جن کو اپنے ہاتھ سے ہانڈی ڈوئی کرنی پڑتی ہے۔ تعلیم واخلاق اور اس اعلیٰ درجہ کی خوشی سے جو شوہر وزوجہ کا روحانی تعلق پیدا کرتا ہے محض بے خبر ہوتے ہیں ان کا منتہا ئے خوشی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب وہ بارے تھکے بھوکے پیاسے شام کو محنت مزدوری کر  کے آئیں تو ان کو اپنا غریبانہ کھانا گرم گرم تیار ملے۔ کھانا کھا کر اور پانی پی کر لیٹ جائیں اور ایک شخص دلسوزی ومحبت سے ان کی مٹھی چائے پی کر اور ان کو آرام سے سلادے ۔ اور اس آرام کے بدلے وہ صرف روکھی سوکھی روٹی اور پھٹے پرانے کپڑے لینے پر قناعت کرے بلکہ اپنے اس خرچ کی قیمت سے زیادہ محنت کرکے۔ چرخہ کات کر چکی پیس کر ۔سلائی کے کپڑے سی کر اور طرح طرح کی مزدوری کر بال بچوں کی پرورش کرے۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-29/d/2188

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content