certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Jan 2010 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 51

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

بیبیوں کو خیال کرنا چاہئے کہ ان کا شوہر کس محنت اور تکلیف سے روپیہ کماتا ہے ۔ جس تکلیف سے وہ اس روپیہ کو پیدا کرتاہے اسی دردمندی کے ساتھ  اس کو خرچ کرناچاہئے ۔ بجا اور بے جا خرچ کی شناخت کے لئے یہ اصول مقرر کرنا چاہئے کہ جب کوئی چیز بنوانی یا خرید کرنے کا ارادہ ہوتو اس وقت یہ دیکھا جائے کہ اگر یہ چیز گھر میں نہ ہوتو کچھ حرج یا قباحت ہے کہ نہیں۔ اگر کوئی ہرج یا قباحت نہ ہوتو جانو کہ یہ چیز فضول ہے اور روپیہ کو ایسے فضول طور پر ضائع کرنے سے بچانا چاہئے ۔ اس زمانہ میں آرام طلبی اور عیش پسندی کے سامان زیادہ ہوتے جاتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ پس ان کے طلب میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے ۔ بیوی کو کفایت شعاری کے لحاظ سے ہر چیز کا حساب رکھنا چاہئے اور خصوصاً خاص اپنے اخراجات کا اور شوہر کے اخراجات کا تاکہ اس کو ہمیشہ یہ بات یادر ہے کہ خاص میر ی ذات کے لئے کس قدر خرچ کی ضرورت ہے اور اس میں بغیر اشد ضرورت کے اور زیادتی نہ ہو اور یہ بھی خیال رہے کہ عمدہ سے عمدہ انتظام کرلینا آسان ہے لیکن کمانا بہت مشکل ہے ۔ پس انتظام کرنے والے کے اخراجات کمانے والے کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح اپنی حیثیت سے اترکر گھٹیاطریق زندگی اختیار کرنا خشت اور کنجوسی کہلاتا ہے اسی طرح اپنی حیثیت سے بڑھ کر بڑے آدمیوں کی ریس کرنا اور ان کا سا لباس اور طریقت معاشرت اختیار کرنا اوچھا پن کہلاتا  ہے اور ایسا کرنے والوں پر لوگ کو سامنے کچھ نہ کہیں لیکن پیٹھ پیچھے ضرور ہنستے ہیں۔ ہماری قوم کے شرفا کے دستور کے موافق متوسط اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کا اور ان کے مستورات کا باہم ملنا ملانا ایک عام بات ہے ۔ دس روپیہ کا محررڈپٹی کلکٹر سےملتا ہے اور اسی طرح ان کی بیویاں بھی باہم ملتی جلتی ہیں ۔ اب اگر ایک ادنیٰ محرر کی بیوی ایسے عمدہ داروں کی بیویوں کی ریس کرنے لگے تو قطع اس کے کہ وہ اپنے شوہر کے لئے بلائے جان بننا چاہتی ہے وہ اپنی جگ ہنسائی کرواتی ہے۔

زمانہ کی مسرفانہ وضع اورفضول خرچی کے فیشن نے یہ حال کررکھا ہے کہ متوسط الحال شریف لوگ جو لٹھ اور نین سکھ پہنتے ہیں ہو ہی لباس بھنگی پہننے لگے ہیں۔شرفا میں اتنی استطاعت نہیں کہ ان سے تمیز قائم کرنے کےلئے اپنے لئے زیادہ بیش بہا اور فاخرہ لباس پہنیں ۔ پس اپنی حیثیت جانچنے میں غلطی کبھی نہیں ہونی چاہئے کہ جب فلانی عورت جس کا شوہر ہمارے شوہر کی نسبت کم استطاعت رکھتا ہے ایسا لباس وزیور رکھتی ہے تو ہم اس سے زیادہ یا اس کی برابر کیوں نہ رکھیں۔

خانہ داری کے متعلق سب سے ضروری اور سب سے مقدم امر یہ ہے کہ شوہرکے لئے جس کی ذات پر کل گھر کا آرام منحصر ہے عمدہ مفید صحت  اور مقوی غذا کا انتظام کرے۔ اس زمانہ میں کہ دماغی محنتیں بڑھتی جاتی ہیں اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے اس ضروری فرض کو ترک کرتی ہے تو گویا وہ اپنے شوہر کو خود جان بوجھ کر مارتی ہے ۔تعلیم یافتہ شخصیتوں کی اشتہائیں اس زمانہ میں عموماً بگڑی ہوئی ہیں ان کے لئے ایسی غذا کی ضرورت ہے جو مقدار میں کم اور غذائیت میں زیادہ ہو اور تھوڑے تھوڑے اوقاف میں معینہ کے بعد مثلاًدن میں تین یا چار دفعہ ملنی چاہئے ۔ ہر بیوی کو اپنے شوہر کے مزاج سے اس باب میں پوری اگاہی حاصل کر کے اس پر نہایت پابندی کے ساتھ کار بند ہونا چاہئے ۔

خانہ داری کے متعلق ملازمتوں کا انتظار بھی ہے ۔ جن لوگوں کو خدانے ملازم رکھنے کی استطاعت دی ہے ان کے اہل خانہ کو چاہئے کہ ملازم رکھیں اس کی دیانتداری اور نیک چلنی کا خوب اطمینان کرلیں۔ نوکروں کے باب میں بعض خانہ داریوں میں یہ جھگڑا اٹھا کرتاہے کہ کسی خاص خادمہ یا خادم کو بیوی رکھنا چاہتی ہے مگر شوہر کسی وجہ سے نہیں رکھنا چاہتا یا شوہر رکھنا چاہتا ہے مگر بیوی رکھنا نہیں چاہتی ۔ یہ امر بعض دفعہ رنجش کا موجب ہوتا ہے ۔ بیوی کو چاہئے کہ شوہر کی رضامندی کو مقدم سمجھے ۔ اگر بیوی شوہر کی رضا مندی کے خلاف کسی نوکر کو رکھتی ہے تو گویا وہ عملاً یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس نوکر کی دلجوئی شوہر کی دلجوئی سے زیادہ ضروری ہے۔ جس سے شوہر کی عزت وادب سب کو سخت صدمہ پہنچتا ہے بلکہ شوہر کی نظر جس ملازم سے دریافت کرنا چاہئے کہ اس کے رکھنے میں آپ کی ناخوش تو نہیں ہے۔

ایک اور خفیف سا امر ہے کہ جس کی طرف اگر وقت پر توجہ نہ کی جائے تو سخت رنجش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ وہ یہ کہ بعض وقت شوہر بیوی کو کسی کام کے لئے کہتا ہے اور وہ سستی سے یا غفلت سے یا کسی اور وجہ سے اس کام کی سرانجام دہی میں دیر کردیتی ہے تو شوہر اس کام کو جو حقیقت میں عورتوں کے ہی کرنے کا ہوتا ہے۔ مثلاً بچوں کا منہ ہاتھ دھونا یا کپڑے بدلوانا اپنے ہاتھ سے کرنے لگتا ہے اور اس سے یہ جتلانا مقصود ہوتا ہے کہ چونکہ بیوی نے اس کام کو نہیں کیا ہے اس لئے لاچار اس کو خود کرنا پڑا ہے۔ یا خود کرنے کے بجائے وہ کسی اور عزیز سے اس کام کو کرواتا ہے ۔ یا خود کرنے کے بجائے وہ کسی اور عزیز سے اس کام کو کرواتا ہے ۔ اس قسم کے معاملے ابتدا میں بہت چھوٹی سی باتیں ہوتی ہیں۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/women-should-know-household-management--chapter-51-of-maulvi-imtiaz-ali%E2%80%99s-classic-%E2%80%98rights-of-women%E2%80%99/d/2313

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content