certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (24 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 45

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

مگر بعض لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ عورت کو عام طور پر کچھ حقوق حاصل ہوں، مگر بیوی بن جانے کے بعد وہ ایک طرح کی مملوک بن جاتی ہے اور اس لئے وہ گوارا نہیں کرتے کہ بعد نکاح اس کے ساتھ طریق مساوات مرعی رکھا جائے ۔ اس قسم کے لوگوں میں یہ بات نہایت شرم کی  شمار ہوتی ہے کہ عورت کو ہمسری کا رتبہ دیا جائے بلکہ جو لوگ اپنی بیبیوں کے ساتھ درجہ مساوات برتتے ہیں اور ان کو ہر طرح پر اپنے برابر آرام دیتے ہیں ان کو وہ طرح طرح کے حقیر ناموں مثلاً ‘‘جو ڑو سے دبنے والے’’ اور ‘‘جوڑو کے غلام ’’ سےیاد کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص بی بی پر حاکمانہ رعب داب نہیں رکھتا یا جس کی طرز گفتگو میں اتنا اثر نہیں کہ اس کو سن کر بی بی تھرّااٹھے وہ مرد ہی کیا ہے۔ میں نے ایک نہایت معزز شریف مسلمان کو دیکھا جن کا یہ قاعدہ تھا کہ جب وہ اپنے گھر میں جاتے تو ہمیشہ کسی جھوٹی سچی بات پر کسی نوکر وغیرہ پر خوب خفا ہولیتے اور بکتے اور جھڑ کیا ں دیتے ہوئے گھر میں چلے جاتے۔

اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ ان کا عضبناک انداز دیکھ کر گھر کی عورتیں سب خوف زدہ ہوجائیں ۔ ایک اور معزز عہدہ دار کا گھر میں جانے کا طریق یہ تھا کہ وہ کبھی گھر میں ہنس کر کسی سے بات نہ کرتے تھے اور بہت مختصر بات کرتے تھے تاکہ ان کے رعب میں کمی نہ آجائے ۔کھانا کھانے کے سوا اور کسی وقت گھر میں نہیں جاتے تھے ۔ جب وہ گھر میں جاتے تھے تو سب عورتیں اپنے اپنے قرینہ پر مودبانہ خاموش بیٹھ جاتی تھیں۔ ان کی بی بی اور بیٹیوں کی مجال نہ تھی کہ ان سے کسی شے کاسوال کریں۔ خواہ وہ کیسا ہی واجبی ہو ۔ ان کی ہر حاجت کا پورا ہونا انہیں سرپرست خاندان کی خود مختارانہ خوشی پر تھا جس کا وہ اکثر بے رحمی سے استعمال کرتے تھے۔

اس طبقہ کے بعض لوگ ایک نہایت شرمناک تمیز قائم کیا کرتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے لئے عمدہ نفیس کھانا علیحدہ تیار کرواتے ہیں اور عورتو ں کےلئے ادنیٰ درجہ کا علیحدہ تیار ہوتا ہے ۔بعض لوگ اپنی بیبیوں اور لڑکیوں کو پوشاک اپنی حیثیت کے لحاظ سے ایسی ذلیل پہناتے ہیں کہ ا س بے حد خست کے چھپانے کے لئے انہیں ایک اور جابرانہ قاعدہ باندھنا پڑتا ہے کہ وہ کہیں برادری میں نکلنے نہ پائیں اور نہ برادری کی کوئی عورت ان کے گھر آنے پائے۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ غربا میں نکاح کا اصول یہ ہے کہ روٹی ٹکرہ کا آرام ہوجائے اور تسلیم کیا ہے کہ ا س طبقہ میں یہ قابل اعتراض نہیں ۔مگر اس طبقہ کے مرد جب تعلیم میں کوشش کرکے یا اور اسباب سے ترقی حاصل کرکے اپنے سے اعلیٰ طبقہ میں پہنچ جاتے اور عزت میں برتری او رمال میں فراخی اور وسائل معاش میں وسعت حاصل کرلیتے تو عموماً یہ دستور ہے کہ وہ اپنی ان ترقیوں کی متناسب ترقی  مستورات کی حالت میں نہیں کرتے۔ ان کی غریبانہ ومفلسانہ حالت اسی طرح غیر متغیر وغیر متبدل رہتی ہے ۔ تعلیم کے درجوں اور فضیلت کے اسند اور عہدہ کی عزت سے جو کچھ تہذیب وشائستگی حاصل ہوتی ہے اور طریق معاشرت میں جو آرام پیدا ہوتے ہیں اور خوراک ولباس میں جو رطافت ونفاست اختیار کی جاتی ہے اس کی سرحد زنانے مکان کی دہلیز ہے۔

میں ایک موسم گرما میں ایک نہایت معزز ومتمول رئیس کے گھرانے میں مہان ہوا۔ جون کا مہینہ تھا اور اس  قدر غیر معمولی شدت سے گرمی پڑتی تھی کہ بڈھے آدمی کہتے تھے کہ سالہا سال کے بعد ایسی گرمی ہوئی ہے ۔ مجھے نہایت تکلیف سے میرے میزبان دوست نے ایک نہایت آرام کے وسیع کمرے میں جو اس موسم میں خاندان کے کل مردوں کی خواب گاہ تھا اتارا ۔کمرہ کو سرد رکھنے کے جس قدر سامان تھے سب موجود تھے۔ پنکھا قلی پنکھے کھینچتے تھے ۔خس کی ٹٹیاں لگی ہوئی تھیں اور سقے ان کو ذرا سی دیر میں چھڑکتے تھے۔کمرہ کی چھت بھی نہایت بلند تھی مگر ہم لوگ مارے گرمی کے سخت بے چین تھے۔ مجھے ا س وقت نہایت جستجو اس امر کے معلوم کرنے کی ہوئی کہ ایسی حالت میں مستورات کے آرام کا کیا سامان کیا گیا ہے۔ مجھے ا س امر کے معلوم ہونے سے سخت تکلیف پہنچتی کے بیچاری بے زبان عورتوں کے لئے جن کی گود میں معصوم بچے بھی ہیں ۔کھجور کے پنکھوں کے سوا اور کوئی سامان راحت نہیں ہے ۔ پنکھے بھی آدمیوں کی تعداد کے برابر نہیں تھے بلکہ کم ہونے کی وجہ سے باری باری استعمال میں آتے تھے۔

دوپہر کے وقت دیوانہ خانہ میں برف منگائی گئی اور سب نے پانی  ٹھنڈا کرکے پیا۔ باوجود تمام انتظام اخفا اس برف کی خبر گھر میں بھی جاپہنچی اور چند بچے بلف بلف کہتے دوڑے آئے۔ ان بچوں کونہایت سرد بہ مہری کے ساتھ بہلا پھسلا کر گھر میں واپس بھیجا ۔تیسرے پہر کو وہ برف بہت پگھل گئی اور جس کپڑے میں وہ لپٹی ہوئی تھی وہ بالکل بھیگ گیا ۔ اس پر صاحب خانہ نے نوکر کو حکم دیا کہ اس کو گھر میں بھیج دو ۔مگر اے ناظرین اس لئے نہیں کہ اسے عورتیں اوربچے پی لیں۔ بلکہ اس لئے کہ خشک کپڑے میں لپیٹ کر واپس دیوان خانہ میں بھیج دیں۔ جو تکلیف میرے دل کو پہنچتی تھی وہ اس شرمناک بے رحمی سے ایسی دردناک ہوگئی کہ مجھے وہاں قیام کی زیادہ تر برداشت نہ ہوسکی ۔ میں نہیں جانتا کہ جن کی پیاری بہنیں اور دلسوز بیبیاں اور لخت جگر بیٹیاں شدد کی گرمی میں مٹکوں کا معمولی پانی پئیں ۔ ان یزید منشوں کی حلق سے برف کا پانی کس طرح اتر تا ہے اور جن کے لخت جگر گرمی سے تڑپیں  ان کا کلیجہ اپنی تن رسانی سے کس طرح ٹھنڈا ہوتا ہے۔ (جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/once-a-wife,-a-woman-becomes-a-slave--chapter-45-of-maulvi-imtiaz-ali%E2%80%99s-classic-%E2%80%98rights-of-women%E2%80%99/d/2270

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content