certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (23 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 44

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

ایک لڑکی کا خط:۔

عزیزہ من: ۔۔۔۔میں نے ۔۔۔ کے گھر میں جوگل چھڑے اُڑائے اور چٹور پنے کئے وہ خدا کو معلوم ہیں۔مگر اس اللہ کے بندے نے ٹھنڈے پیٹ کبھی گھر میں خرچ نہ دیا۔ رات دن مجھے امیری کا طعنہ دیتےہیں۔ مجھ کمبخت نے اس گھر اچھا کھانا ،اچھا پہننا، دنیا کو تروخشک میوہ سب ترک کردیا کہ مجھے طعنہ نہ ملے کہ امیر زادی چٹورپن کرتی ہے۔ اس پر بھی طعنے ملیں تو کیا کروں۔ زہر کھالوں، زندگی میں باپ کے جب یہ میری توقیر ہے بعد میں پھر دیکھئے دکھلاتی کیا تقدیر ہے۔میرا دل پکا پھوڑا ہوگیا ہے، برا سنتے سنتے جفا سہتے سہتے کئی روز سے بیمارہوں ۔ آج کچھ ہوش آیا ہے ۔میاں مرتی کو بھی گالیاں دے جاتے تھے۔ میں دوا نہیں پیتی تھی ۔ میں کہتی تھی کہ میں بری ہوں ،مجھے مرنے دو تو بھائی نہ وہ مجھے مرنے ہی دیتے ہیں نہ جینے ہی دیتے ہیں۔

نوتو نالے کی اجازت نہ فریاد ہے

گھٹ کر ماجاؤں یہ مرضی مرے اختیار کی ہے

بھائی یہ جھیکنا آج کا نہیں ۔تین برس سے یعنی جب سے نکاح ہواہے یہ ہی رونا  پڑا ہوا ہے۔نکاح سے ساتویں روز ہی یہ حکم ملا تھا کہ تم نکل جاؤ میرے گھر سےاپنے باوا کے ہاں جاؤ ۔بھلے مانسی سے رہنا ہے تو چپ کر کے رہو ۔اگر یہ پوچھا کہ کہاں جاتے ہو اور رنڈی بازی کیوں کرتے ہو یا شراب کیوں پیتے ہو تو میں تمہارے باوا کو لکھ بھیجو ں گا کہ تمہاری بیٹی امیر زادی ہے میرے کام کی نہیں۔ گھٹنے سے لگائے بٹھا رکھو ۔غرض جو ظلم اس خاوند کے میں نے سہمے ہیں دنیا میں کسی نے نہ سہمے ہوں گے۔ تسپر میری ہی قبر میں کیڑے پڑیں گے۔

مگر یہ ضرور کہوں گی کہ جو جو ظلم وستم میں نے سہے وہ قبلہ وکعبہ کی بدولت ۔ وہ مجھے ناچ کر اور کود کود کر کہتے ہیں کہ ہوں ! تیرے باوا کو خبر نہیں تھی؟ کیوں دیتے تھے ۔ میں شرابی ہوں۔ رنڈی باز ہوں۔ بدمعاش ہوں۔ اپنی کو آپ دی اب بھی اس تحفہ کو رکھ لیں۔ مجھے تیری کیا پروا ہے ۔غرض کیا ظلم بیان کروں ۔دل کو سمجھا تی ہوں کہ اے دل جس طرح ہوسکے جہاں اتنی عمر تیرکی اور بھی تیرکردے ۔کسی کو حال لکھنے سے کیا فائدہ ۔کوئی تیرا رنج بانٹ تو لے گا نہیں ۔ پس

لازم ہے میری آہ کا شعلہ عیاں نہ ہو

اس طرح جل بجھوں کہ ہر گز دھواں نہ ہو

مگر پھر عزیز من کہاں تک کھائے غم کب تلک ضبط فغاں کیجئے

میں نے چار وقت سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ آج ان کو خبر ہوئی تو ناچ کر اٹھ کر کھڑے ہوئے اور ایک منہ میں ہزار ہزار باتیں سنائیں۔ بیگم صاحبہ اگر یہ ہی نخر ے کرنے تھے تو آئی کیوں تھی اور ہاں یہ روٹی کیوں کر کھائیں ۔ ان کو تو باوا کے گھر کے شیر مال یاد آتے ہیں۔ یہ نواب زادی تو سونے کے جھولنے جھولنا چاہتی ہے۔ ایسا تھا تو باوا کے گھرسے ایک سونے کا چھپر کھٹ لانا تھا۔ یہ یہاں روٹی کیوں کھائیں گے ۔ اس کی قبر میں کیڑے پڑیں گے خدا اسے خراب اور برباد کرے ایک بات ہوتو کہوں۔

طعن کے تیروں سے دل چھلنی بنادیتے ہیں وہ

بول سکتی میں نہیں ، لاکھوں سنادیتے ہیں وہ

دیتے ہیں طعنہ امیری کا مجھے ہربات میں

غنچہ دل کو مرے ہر دم بجھا دیتےہیں

بات وہ کرتے ہیں جو مانند نشتر کے چبھے

زخم دل پر اور اک چرکا لگادیتے ہیں وہ

 یادآتے ہیں انہیں باوا کے گھر کے قورمے

 کھاؤ گر کھانا نہیں تو یہ جتادیتے ہیں وہ

 راقمہ وہ ہی تمہاری دکھیاری بھتیجی لو

مسلمان مردوں کے ا س وحشیانہ طریق نے جو وہ عورتوں کے ہمراہ جائز رکھتے ہیں ،عیسائیوں کے دلوں میں ایک عجیب غلط خیال اسلام کی نسبت پیدا کردیا ہے جو ان کی تصانیف  میں بھی پہنچ گیا ہے۔ عیسائیوں نے سمجھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب کے روسے عورتوں میں روح نہیں ہوتی۔ اس غلطی کا منشا ومبنی صرف یہ ہی امر ہے کہ مسلمان مردوں کا طریق عورتوں کے ہمراہ اس قسم کا ہے جیسا انسانوں کا غیر ذی روح حیوان کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ کبھی یہ خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ بی بی بوجہ تعلیم یافتہ ہونے کے صرف امور خانہ داری کے انتظام اور پیدائش اولاد کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی وہ خدمتگار او رمادہ حیوان سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتی اور تعلیم یافتہ شخص کی روحانی خواہشوں کو پورا کرنے اور خوش خیال رفیق بننے کے قابل نہیں ہوتی ۔ لاچار مرد ازدواج ثانی یا فسق کی طرف فائل ہوتا ہے اور دونوں سے بہت برے تنائج اور تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں اورتمام عمر کلفت میں گذارتی ہیں۔ مگر سب سے زیادہ ان خرابیوں کا موجب یہ ہوتا ہے کہ نکاح مرد جہ کی رو سے بی بی حسب خواہش وپسند ےخاطر نہیں ملتی اور فریقین ازدواج طوطی رابا زاغے درقفس کروند کا مصداق بنتے ہیں۔ کوئی مصیبت زدہ صبر کے ساتھ اپنی پر آشوب زندگی کا جو ں تو ں کرکے تیر کردیتا ہے ۔ کوئی تیز مزاج اپنے گھر وں میں کسبیاں ڈال کر اپنے ان ناقبت اندیش بزرگوں کو جنہوں نے اس کا بلامرضی آفت میں پھنسا یا ہےواجبی سزا دل آزاری کادیتا ہے ان سب آفات کی روک ان اصطلاحات سے ہوسکتی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-44/d/2261


 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content