certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 42

حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پرپہلی مستند تصنیف ہے۔ مولونی ممتاز علی نےنہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں، بلکہ ان مفسرین کے ذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism) کے شکار تھےاس کتاب کی اشاعت نے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نےاس تصنیف کو خیر مقدم  کیا اور کچھ نے خاموشی ہی میں بہتر سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات میں مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا  جائے گا۔ایڈیٹر

 

ایسی حالت میں شوہر وزوجہ میں کوئی حقیقی انس نہیں ہوتا او ر وہ صرف حیوانی خواہشوں کےپورا کرنے کے لئے شوہر وزوجہ بنتے ہیں ۔بلکہ ایسے چاہئے ۔ وہ صرف نرمادہ ہوتے ہیں ۔مگر ان خرابیوں کا علاج بعد نکاح کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اور قبل ازنکاح اگر انتخاب میں پوری کوشش کی جائے تو ان خرابیوں سے بچنا بخوبی ممکن ہے۔

لیکن شوہر زوجہ کے درمیان جو عموماً رنجشیں پیدا ہوتی ہیں بعض ان میں ایسی بھی ہیں جن کا علاج بخوبی ممکن ہے ۔ اس کے اسباب عموماً حسب ذیل ہوتے ہیں۔

(۱)شوہر کا بد وضع ہونا جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی کی طرف پورا التفات نہیں کرتا۔

(۲)شوہر بدوضعی کی وجہ سے یا محض بے اعتباری کے سبب بیوی کو کافی خرچ نہیں دیتا اور جس قدر دیتا ہے ا س کا حساب ناواجب سختی سے لیتا ہے۔

(۳) شوہر ناعاقبت اندیشی سے مہر زیادہ مقرر کروالیتا ہے ۔ بعد نکاح وہ اپنی بیوی سے مہر معاف کروانا چاہتا ہے بیوی مہر معاف نہیں کرتی تو میاں بیوی کے دل میں فرق آجاتا ہے ۔اور سچی محبت واخلاص مبدل نہ خود غرضی ہوجاتا ہے ۔

(۴) بعض شوہر باوجود لائق ہونے کے عورت کے باب میں نہایت سپست خیالات رکھتے ہیں اور بیویوں کا زیادہ خواندہ ہونا پسند نہیں کرتے۔ ایسے نوجوان جب والدین کے دباؤ سے شادی کرتے ہیں اور کوئی بدنصیب پڑھی لکھی لڑکی ان کے پلے پڑجاتی ہے تو آپس میں سخت ناموافقت ہوتی ہے۔

اس صورتوں میں مرد کو اپنے عادات کی اصلاح کرنی چاہئے اور ان ہدایات پر کار بند ہونا چاہئے جو خاتمہ کتاب پر لکھی جائے گی۔ متاہل شخص کے لئے بالخصوص بدوضعی روسیاہی ہے اور شوہر کو محض بیوی کی دلجوئی اور خوشی کے لئے نہیں بلکہ خوف خدا سے بد چلنی سے بچنا چاہئے کہ اس سے زیادہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ خانہ داری کی خوشی کو تباہ کرنے والا۔ بچوں کے لئے بدراہی کا نمونہ دکھانے والا ۔دنیا میں ذلیل وخوار اور آخرت میں عذاب دوزخ میں  گرفتار کرنے والا شوہر کو غور کرنا چاہئے کہ جس لڑکی نے تمام دنیا سے ایک طرح کا قطع تعلق کر کے اپنے تئیں تمہارے سپرد کردیا ہے جو اب صرف تمہاری کہلاتی ہے جس کی قسمت کا فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے جس نے تمہیں خود اس قدر اختیار دیا ہے کہ تم چاہو تو اس کو مار ڈالو چاہو تو اس کی جلادو۔ جو تمہاری خدمت ا س درد مندی سے کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی نہ کرے گا جو تمہارے بچوں کو اس شفقت سے پالتی ہے کہ اورکوئی نہیں پال سکتا اور جو باوجود ان سب باتوں کے اپنے تئیں تمہاری کنیز اور تمہیں اپنا سرتاج کہتی ہے کون سی غیرت اور انسانیت اجازت دیتی ہے کہ ایسی عاجز مخلوق کو ستایا جائے اور اس مظلوم کا دل دکھایا جائے ۔تم بد وضعی اختیار کرو راس بیچاری کی امانت میں خیانت کرو۔ اور اس کا حق چھین کر باز اری عورت کو دو ۔ اس کے کلیجہ میں چھریاں مارد اور پھر ا س بیکس کی شکایت کرتے ہو کہ وہ ناخوش رہتی ہے کیا تم چاہتے ہو کہ اس کا دل انگاروں بر بھونو اور اس میں سے دھواں نہ نکلے ۔ اس کا دل چیر واور خون نہ بہے ۔ اس کا جگر چاک اور جان ہلاک کرو اور وہ اف نہ کرے۔

نئی تاکید ہے ضبط محبت کی وہ کہتے ہیں ۔جگر ہوتو فعال کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو ۔

ذرا دھیان سے تصور کرو ایک بے زبان کی کیفیت قلبی کا ۔ جب ایک جفا کا ر کسی کسی کو اپنی بیٹھک میں بلاتا ہے اور اپنی ولفگار رفیق سے اس کے لئے کھانا پکواتا ہے اور اپنا منہ اور عاقبت سیاہ کرتاہے اور وہ اشرف زادی اس حرامکاری کی جابرانہ اور کافر انہ حکموں کی تعمیل کررہی ہے۔ آنسو کی لڑی اس کی آنکھوں سےجاری ہے اور وہ اس بیدرو سفاک کے خون سے جلدی جلدی اپنی آنکھیں پونچھتی ہے کہ وہ کہیں دیکھ نہ لے اور ایسا ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ چولہے کے دھویں سے آنکھوں سے آنسو نکلے ہیں ۔ ارے ظالم اس لڑکی کی آہیں نہیں ہیں جلے بھنسے دل کادھواں آنسو نہیں ہے ۔جگر پانی ہوکر آنکھوں کے راستہ سے بہ رہا ہے۔

بترس آز آہ مظلوم ماں کو ہنگامہ دعا کردن ۔ اجابت از درحق بہر استقبال مے آید

ان اسباب رنجش کے بعد وہ اسباب ہیں جو شوہروں کے رشتہ داروں سے تعلق رکھتے ہیں خصوصاً ساس اور نند سے بہت کم گھر ایسے ہوں گے جن میں ساس بہو میں یا بھاوج اور نند میں اتحاد دلی اور محبت قلبی ہو۔مختلف خاندانوں میں مختلف وجوہات ان رنجشوں کی نکلتی ہیں لیکن اصول رنجش سب جگہ ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ شوہر کے سب عزیز چاہتے ہیں کہ بہ وہم سب میں سے ایک ایک کی تابعد اری اور فرمانبرداری اس طرح کرے جس طرح وہ شوہر کی کرتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔بعینہ جس طرح کسی فوجداری حاکم یا افسر پولس کے عزیز واقارب ناجائز فائدہ اپنے رعب خلاف قانون سے اٹھاتے اور بیگناہوں کو ستا کر اپنی حکومت جتلایا کرتے ہیں اس طرح شوہر کے اقاربیچاری بہو کو ستاتے ہیں ۔ وہ ساسیں جو بہت منتوں اور مرادوں کے مانگنے اور بڑی بڑی آرزوں اور تمناؤں کے بعد بہو بیاہ کر لاتی ہیں۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ صحافت، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-42/d/2250


 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content