certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 27

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

تب اہل زبان ایک اور بڑا بھاری غلاف جمع کا چڑھاتے ہیں اور قبائلان بائے بولنے لگتے ہیں۔ لیکن خداجانے جب اس لفظ کا بھی وہ ہی حال ہوگا تو پھر کیا کریں گے ۔غرض کوشش کی جاتی ہے کہ بیوی کو ایسی تاریکی درتاریکی میں رکھا جائے اور وہ اس پر اس قدر لحافوں کی تہہ چڑھائی جائے کہ اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہوجائے کہ ان لحافوں میں کون ہے ، کوئی انسان ہے یا حیوان ہے۔

ہمارا مطلب ان امور کے اظہار سے یہ ہر گز نہیں کہ جس طرح اخباروں میں پڑھ کر سیکڑوں مضامین لکھے جاتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں اور کچھ عمل ان پر نہیں ہوتا یا نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح ہماری یہ تحریر بھی ضائع ہوجائے ا س لئے ہم اس کے ہر پہلو پر نظر کرنا اور لوگوں کے دل کے چھپے ہوئے اعتراض ظاہر کرنا اور ان کو سمجھانا اور طریق شریعت صاف کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگر پورے پورے طور پر فی الحال ا س طریق پر آنا مشکل ہے تو وہ تدریجی سبیل نکالی جائے جو کچھ عرصہ بعد ان کو خاص طریق محمدی پر لے آئے ۔پس ہم لوگوں کے خطروں کو تسلیم کرکے اور زمانہ کی بدوتوضعی پر خیال کرکے او رمصلحت وقت کا بھی اندازہ کر کے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ فی الحال پردہ کے بے حد تشدد کو جوڑا جائے اور اس کے لئے ایک قسم کی اعتدال کی راہ نکالی جائے جو نہ آزادی کے اس پر  لے کنارہ تک پہنچتی ہے  جہاں مغربی تہذیب سے پہنچاتی ہے نہ اس میں وہ تنگی اور دقت ہو جس سے شرعی حکم جومحض حیاداری کی حفاظت کے لئے ہے۔ جس بے جاکی حد تک پہنچ جائے ۔باوجود اس کے کہ اہل اسلام ہند نے پردہ کے تشدد کو درجہ غلوتک پہنچا یا ہے۔ تاہم یہ تعجب کی بات ہے کہ اس غلو کے لئے انہوں نے کوئی اصول یا ضابطہ مقرر نہیں کیا۔ عام ضابطہ جو بظاہر پردہ مروجہ کی بنیاد پر معلوم ہوتاہے، یہ ہے کہ غیر محرم عزیزوں سے جس قدر شریعت نے پردہ حکم دیا ہے اس حکم شریعت میں ہمارے علمانے اتنی اور ترمیم کی ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں کی بھی ان اعضا میں داخل کرلیا۔ جن کے چھپانے کا درحقیقت حکم دیا گیا تھا۔ مگر یہ ضابطہ بھی کلی نہیں معلوم ہوتا اور سیکڑوں خاندانوں میں ہم خالہ زاد بھائی بہنوں او رپھوپھی زاد او رماموں زاد بھائی بہنوں میں پردہ نہیں پاتے ۔ ایک اور ترمیم حکم شریعت میں یہ ہوئی ہے جو سب سے عجیب اور بہت ہی بیہودہ ہے کہ بہو کا پردہ خسر سے کرایا جاتاہے۔ تیسری ترمیم حکم شریعت میں یہ ہوئی ہےکہ پہلی ترمیم میں جس کے بموجب شوہر کا بھائی ایسا رشتہ دار قرار پاتا تھا ۔ جس سے پر دہ لازم ہے یہ استثنا کیا ہے کہ شوہر کا چھوٹا بھائی اس حکم کی پابندی سے معاف ہے۔ بیمار ی کی حالت میں مستورات کو پردہ کی وجہ سے اور بھی مشکلات واقع ہوتی ہیں اور اس کی حفاظت میں جان عزیز کاتلف کردینا تمغا ئے شرافت سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی مریضہ کو دیکھنے کے لئے یعنی صرف نبض دیکھنے کے لئے حکیم آتا ہے تو بڑے سے بڑے لحاف مو ٹی تہ مریضہ کے پردہ کے لئے کافی نہیں سمجھی جاتی بلکہ مزید احتیاط کےلئے مریضہ کے پلنگ کے محاذی ایک چادر تانی جاتی ہے اور معالج اس چادر کے اندر ہاتھ ڈال کر مریضہ کی نبض ٹٹولتا ہے ۔

لطیفہ: ایک ہمارے دوست حسین بیوی رکھتے تھے ۔ اس بیچاری کے ہاتھ کی پشت پر رسولی نکل آئی اور ضروری ہوا کہ ہاتھ ڈاکٹروں کو دکھایا جائے۔ ہمارے دوست کو اس قدر فکر رسولی کے مرض کا نہ تھا جس قدر یہ فکر تھا کہ ان کی بیوی کے حسین ہاتھ پر ڈاکٹر کی نظر پڑے گی۔ ہم نے ان کو اس فکر میں غلطیاں وہ پیچا ں پاکر ان کو یہ تجویز بتائی کہ مقام ماؤف کے سوا باقی کل ہاتھ پہونچے تک نیل یا سیا ہی میں رنگ دیا جائے ۔مگر ہمارے دوست نے اس کو تمسخر سمجھ کربہت برامانا ۔ سینہ کے امراض مثلاً دق یا سل میں جو عموماً مستورات کو زیادہ ہوتے ہیں مہلک ہیں اور سینہ کا امتحان ایک امر لابد ہے جس کو بہت ہی کم شرفا کم گوارا کرتےہیں۔

ستر شرعی کے باب میں بھی احکام شریعت کا پاس بالکل اٹھ گیا ہے اور سوائے معدود ے چند متقی خاندانوں کے لباس بلحاظ قطع ایسا چھوٹا یا تنگ ہوتا ہے کہ جو ستر شرعی کے لئے کافی نہیں ہوتا اور اس کےلئے عموماً کپڑا ابھی ایسا استعمال کیا  جاتا ہے جوان کے جسم سے وہ ہی نسبت رکھتا ہے جو ٹریسنگ کلاتھ نقشہ یا تصویر سے رکھتا ہے ۔غرض پردہ ستر اور حجاب دونوں حیثیت سے اصلاح طلب ہے ۔ ہماری رائے میں ستر اور حجاب میں جو اصلاحیں فی الحال عمل میں آنی ضروری ہیں ان کے لئے تجاویز مندرجہ ذیل قابل غور ہیں:۔

1۔ جو عورت بڑے پائینچے کے پاجامے پہنیں ان کو لازم ہے کہ گھنٹوں تک  کی جرابیں پہنیں ۔

2۔ کرتی کم از کم اس قدر لمبی ہونی چاہئے کہ نیفہ کو بالکل ڈھک لے اور کسی حالت میں شکم ظاہر نہ ہونے پائے۔

3۔ کرتی یا تو ایسے کپڑے کی ہو کہ ا س میں سے بدن نظر نہ آسکے یا اگر باریک کپڑے یا ریشم کی ہوتو اس کے نیچے جسم چھپا نے کے لئے بدن سے چسپا ں اور صدری یا بنیان ہونی چاہئے ۔

4۔ کرتوں کی آستینیں اسی ہونی چاہئیں جس سے جسم کی صورت نہ معلوم ہوسکے۔

5۔ جن عورت کو چھوٹی آستین کی کرتیوں کی عادت ہے ان کو چاہئے کہ اسی نیم آستین لمبے آستین کے کرتوں یا قمیضوں پر پہنیں ۔(جاری)

بشکریہ  روز نامہ صحافت ، ممبئی

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-27/d/2177

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content