certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (22 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ایک دودھاری تلورا کے مانند

ظفر آغا

آخر رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پارلیمنٹ  میں پیش ہوگئی ۔ گویا ابھی اس رپورٹ کے کوئی خاص معنی نہیں ہیں،کیونکہ یہ محض ایک رپورٹ ہے اور جب تک  اس رپورٹ میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان باتوں کے مطابق پارلیمنٹ میں قانون نہیں وضع ہوجاتا ہے ، تب تک رنگناتھ مشرا رپورٹ سے ہندوستانی مسلمانوں کا کچھ خاص بھلا نہیں ہونے والا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں بھی رنگناتھ مشرا رپورٹ نہ صرف آزاد ہندوستان ،بلکہ 1857سے اب تک کی تاریخ کا ایک سنگھ میل ہے۔ آخر وہ کیسے؟ اس بات پر بعد میں روشنی ڈالی جائے گی ، پہلے یہ تو دیکھیں کہ آخر رنگناتھ مشرا رپورٹ کہتی کیا ہے؟

حقیقت پوچھئے تو میں نے بھی ابھی تک پوری رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا ہے، لیکن خبروں کےمطابق دو اہم باتیں ،جو تمام اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے تعلق سے اس رپورٹ کے ذریعہ سامنے آئی ہیں، اولاً رنگناتھ مشرا رپورٹ یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ مسلمانوں کو باحیثیت وسرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن ملنا چاہئے۔ جیسا کہ آپ واقف ہیں کہ اس رپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں جو کل 50فیصد کوٹہ مقرر ہوا ہے، اس کوٹے کا 1فیصد حصہ اقلیتوں کو اور اقلیتوں کے کوٹے سے 10فیصد حصہ مسلمانو ں کا ہونا چاہئے، یعنی ملک میں سرکاری ملازمتوں میں 10فیصد حصہ مسلمان کا ہونا چاہئے ۔رنگناتھ مشرا رپورٹ کی سب سے اہم بات یہی ہے کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار کسی مسلمانوں کو با اختیار مسلمان (یعنی ان کی مذہبی بنیاد پر) سرکاری ملازمتوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دیئے جانے کی بات  کو نہ صرف ان کا حق تسلیم کیا ہے، بلکہ رنگناتھ مشرا رپورٹ کے مطابق حکومت کو مسلمانوں کو ریزرویشن جلد از جلد دینا بھی چاہئے۔

دوسری اہم بات جو رنگناتھ مشرا رپورٹ نے تسلیم کی ہے ،وہ یہ ہے کہ ملک میں جس سطح پر بھی دلت کو ٹہ مقرر ہوا ہے وہ کوٹہ بغیر شرط مذہب تمام دلتوں پر لاگو  ہوگا ،یعنی ابھی تک آئینی اعتبار سے دلت کوٹے کے مستحق محض ہندودلت تھے اور وہ دلت جو مذہبی اعتبار سے عیسائی یا مسلمان کہے جاتے تھے وہ دلت کوٹہ کے مستحق نہیں ہوئے تھے ،لیکن رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے مطابق حکومت ہند کو آئینی طور پر ایسے قدم فو راً اٹھانے چاہئیں ،جس کے ذریعہ عیسائی اور مسلم دلتوں کو بھی ہر سطح پر ویسے ہی دلت کوٹہ میسر ہو، جیسے کہ ہندو دلتوں کو یہ کوٹہ میسر ہے، یعنی ایک مسلمان دلت اب دلت ریزروڈ حلقوں سے اسمبلی یا پارلیامنٹ کا الیکشن لڑنے کا ایسےہی مستحق ہوسکتا ہے ، جیسے ہندو دلت مستحق ہیں اور یہی سہولت مسلم یا عیسائی دلتوں کو سرکاری ملازمتوں میں بھی مل سکتی ہے۔ دلت کوٹہ میں مسلم یاعیسائی کوٹہ ملنے سے تبدیلی مذہب کا معاملہ بھی آسان ہوجائے گا، کیونکہ وہ دلت جو فی الحال مذہب تبدیل کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کو یہ خوف ہوتا تھا کہ وہ اگر مسلمان یا عیسائی مذہب اختیار کرتے ہیں تو وہ دلت کوٹہ سے مبرا ہوجائیں گے، اب ان کا ریزروڈ کوٹہ ختم ہوجائے گا، کیونکہ رنگناتھ مشرا رپورٹ کے مطابق اب ہندو دلت یا مسلم وعیسائی دلت میں کوٹہ کے تعلق سے کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ دلتوں کا مسلم یا عیسائی عقیدہ اختیار کرنے کا راستہ بھی نکل گیا ہے اور رنگناتھ مشرا رپورٹ کی بات سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے پیٹ میں سخت درد بھی ہورہا ہے۔

الغرض اگر رنگناتھ مشرا رپورٹ من وعن لاگو کردی گئی تو آئندہ چند دہائیوں میں سیاسی ،سماجی ،تعلیمی اور معاشی اعتبار سے ہندوستان اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ میں نے رنگناتھ مشرا رپورٹ کو نہ صرف آزاد ہندوستان ،بلکہ 1857کے بعد سے اب تک کی مسلم تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیاہے۔ 1857وہ سال تھا، جب مسلمان کے ہاتھوں سے اس ملک کا اقتدار گیا اوراس کے بعد یہ بھی طے ہوگیا کہ آزاد ی کے بعد ہندوستانیوں کو جو اقتدار ملے گا وہ شاہی نظام نہیں ،بلکہ جمہوری نظام کی شکل میں ہوگا۔ تب سے کانگریس کی قیادت میں آزادی کی جنگ چھڑی۔ اس جنگ آزادی میں پہلے تو ہندو۔مسلمان کانگریس کے پرچم تلے آزادی کی جد وجہد کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ جیسے جیسے آزادی کے قدموں کی آہٹ قریب تر ہوتی گئی، ویسے ویسے یہ مسئلہ بھی کھڑا ہوتا چلا گیا کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کا اقتدار اور نظام میں باحیثیت مسلمانوں کا کوئی حصہ ہوگا یا نہیں ۔پہلے تو انگریز وں نے اس تضاد کو Divide and ruleکے طور پر خوب استعمال کیا،پھر جیسا کہ ہم واقف ہیں آزاد ہندوستان میں مسلم حقوق کے مسئلے پر ہی جنگ آزادی میں پھوٹ پڑی اور ایک فکر کانگریس کا نظریہ لے کر سامنے آئی۔ اس نظریہ کے مطابق آزاد ہندوستان ایک سیکولر ہندوستان ہوگا، جس میں مذہبی بنیاد پر کسی بھی گروہ کو کوئی حق حا صل نہیں ہوگا۔ اس نظریہ کی قیادت آخر میں مہاتما گاندھی ،جواہر لعل نہرو ، سردار پٹیل او رمولانا آزاد کررہے تھے، جبکہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر اقتدار اور سرکاری ملازمتوں میں حق ملنے کی مانگ محمد علی جناح مسلم لیگ کے پرچم تلے کررہے تھے۔ آخر اس مسئلے نے اتنا طول پکڑا کہ نہ صرف 1947میں ملک تقسیم ہوا،بلکہ ہندو۔مسلم کھائی کچھ اتنی بڑھی کہ آج بھی بی جے پی اور سنگھ اس حال میں ہیں کہ گجرات جیسے فسادات بپا کر وادیتے ہیں۔

یعنی 1857کے بعد مسلمانوں نے باحیثیت مسلمان نظام میں اپنے حصے کی جو مانگ کی تھی ، رنگناتھ مشرا رپورٹ نے کسی حد تک اس مانگ پر اپنی مہر ثبت کردی ہے۔گو ابھی اس کی کوئی آئینی اہمیت نہیں ہے، لیکن فی الحال رنگناتھ مشرا رپورٹ کی مسلمانوں کےکئے وہی حیثیت ہے، جو منڈل کمیشن رپورٹ کی اس رپورٹ کے نافذ ہونےسے قبل پسماندہ ذاتوں کے لئے تھی۔رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ کے کچھ معنی تب ہی ہوں گے ، جب حکومت آئینی طور پر بھی اس پر مثبت کردے ،لیکن جیسا میں نے عرض کیا کہ رنگناتھ مشرا نے اصولی طور پر مسلمان کو باحیثیت نظام میں اس کا حق دیئے جانے کی مانگ کر تسلیم کرکے یقیناً ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے اور منموہن سنگھ حکومت نے اس رپورٹ کو پارلیامنٹ میں پیش کرنے کی جو جرأت دکھائی ہے، وہ یقیناً ایک تاریخی قدم ہے۔

دراصل منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی میں نظریاتی اعتبار سے مسلمانوں کے سیاسی وسماجی پس منظر میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ ایک انقلابی تبدیلی ہے۔ 2004سے قبل مسلمان اپنے تشخص کی مانگ (مثلاً اردو کا جائز حق ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار، پرسنل لا وغیرہ) اور اپنے تحفظ کی مانگ کے آگے کچھ سوچنے کا بھی اہل نہ تھا ، لیکن ڈاکٹر منموہن سنگھ ،مسز سونیا گاندھی نے پہلے سچر کمیٹی رپورٹ پیش کرکے مسلمانوں کو ان کی سماجی ومعاشی ترقی اور منشور عطا کردیا۔ یہ سچر کمیٹی رپورٹ کا ہی کمال ہے کہ آج مسلمان محض تحفظ کی ہی مانگ نہیں ،بلکہ اپنی ترقی کی بھی مانگ کررہا ہےاور اس کے لئے سونیا گاندھی ، منموہن سنگھ قابل ستائش ہیں۔ پھر اب رنگناتھ مشرا رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر کے حکومت نے مسلمانوں کو باحیثیت مسلمان اور حقوق حاصل کرنے کے بھی راستوں کو ہموار کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کے لئے منمو ہن سنگھ وسونیا گاندھی قابل مبارک باد ہیں۔

لیکن یاد رکھئے ہندوستانی مسلمان دلت یا ہند و پسماندہ ذاتوں میں سے نہیں ہے کہ جس کو حکومت نے اس کے حق دے دیئے اور اعلیٰ ذات ہندو نظام خاموش تماشائی بنارہا۔ ارے جب منڈل کمیشن رپورٹ نافذ ہونے پر اسی نظام نے نہ صرف وی پی سنگھ حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور ملک میں ایک کہرام بپا کردیا تھا تو پھر رنگناتھ مشرا رپورٹ بھی آسانی سے لاگو ہونے والی نہیں ہے۔ یہ یاد رکھئے کہ باحیثیت مسلمان نظام میں اپنا حق مانگنے پر ہی نہ صرف اس کا بٹوارا ہوگیا  ،بلکہ آج تک مسلمان کو اس ملک میں پاکستانی کہہ کر غدار ٹھہراد یا جاتا ہے ،یعنی اب جب جب رنگناتھ مشرا کمیشن کو نافذ کئے جانے کی مانگ ہوگی تب تب سنگھ پریوار ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہندو رد عمل پیدا کرنے کی ویسے ہی کوشش کرے گا، جیسا کہ منڈل رپورٹ نافذ ہونے کے بعد بابری مسجد رام مندر مسئلہ کھڑا کر کے ہندو ردعمل کیا گیا تھا۔

 رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ میں دوسرا اہم سیاسی پیچ یہ ہے کہ یہ رپورٹ یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں ملازمتوں کا کوٹہ 50فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے اور اب اسی کل 50فیصد کوٹے میں یہی رپورٹ اقلیتوں کو 15فیصد کوٹہ دینے کی بھی بات کرتی ہے، یعنی وہ پسماندہ ذاتیں اور دلت جو ابھی تک 50فیصد کوٹے کے مستحق ہیں، ان کے حصے میں سے 15فیصد کوٹہ کم ہوجائے گا۔ رنگناتھ مشرا رپوٹر کے ذریعہ مسلمانوں او رپسماندہ دلت ذاتوں کے درمیان بھی کھائی پیدا ہونے کا وسیع امکان ہیں۔ اس لئے رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ایک دودھاری تلوار کی مانند ہے۔ اس رپورٹ نے پہلی بار نظریاتی سطح پر مسلمانوں کو باحیثیت مسلمان ان کا حق دیئے جانے کے اصول کو تسلیم کرلیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے سروں پر نہ صرف ہندو ردعمل ،بلکہ دلت پسماندہ ذاتوں کے رد عمل کا خطرہ بھی کھڑا کردیا ہے۔کیا مسلم قیادت سوجھ بوجھ سے ان خطروں کو ٹال کر رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ نافذ کروا سکتی ہے ؟ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کہیں کوئی مسلم قیادت ہے، نہیں اور اس سوال کے جواب سے آپ بخوبی واقف ہیں ۔ اس لئے دیکھئے رنگناتھ مشرا رپورٹ آگے کیا گل کھلاتی ہے؟

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/رنگناتھ-مشرا-کمیشن-رپورٹ-ایک-دودھاری-تلورا-کے-مانند/d/2259





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content