New Age Islam
Fri Jan 23 2026, 02:27 PM

Urdu Section ( 18 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Myanmar’s Muslims Rohingya's Killings کچھ ہندوستانی مسلمانوں کے ذریعہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل کی جوابی کارروائی کے طور پر بدھ مت کے پیروکاروں کے بائیکاٹ کی غیر اسلامی اپیل

ایمن ریاض، نیو ایج اسلام

18 اگست، 2012

(انگریزی سے ترجمہ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اردو کے ایک معروف اخبار میں شائع ایک مضمون جس میں دہلی کے کچھ مسلم نوجوانوں نے  مبینہ طور پر بدھ مذہب کے پیروکاروں کی  دکانوں کے بائیکاٹ اور دہلی میں ہی  مجنوں  کا ٹیلہ پر واقع بودھ مناسٹری مارکیٹ  سے کچھ بھی خریدای نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔  اس مہم کو وہ لوگ ایک دوسرے کو ایس ایم ایس اور ای میل  کے ذریعہ چلا رہے ہیں (صحافت، دہلی، 16 اگست، 2012)۔  ان لوگوں کا خیال ہے کہ  بدھ مذہب کو ماننے والی ہونے کے سبب  میانمار کی حکومت مسلمانوں کی  صورتحال بہتر کرنے کے لئے جان بوجھ کر  کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

 ایک دیگر خبر  جسے ہم لوگوں نے پڑھا کہ  لکھنؤ اور الہ آباد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ان کا احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ ان لوگوں نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، لوگوں سے مار پیٹ کی اور میڈیا والوں کے کیمرے توڑ دئے۔  لکھنؤ میں بدھ پارک میں لگی بدھ کی مورتی ان شرپسند عناصر کا نشانہ بنی، جو خود کو 'مسلمان'  کہتے ہیں۔  انہیں اس  بات کا  احساس ہی نہیں کہ بدھ اس دنیا میں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے تمام  انبیاء کرام   (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سے ایک ہو سکتے ہیں اس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے مورتی کی شکل کو بگاڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

الہ آباد اور کانپور میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ تاہم پولیس کی  بجا طور پر سخت کارروائی کے سبب حالات قابو میں لایا گیا۔

میانمار کے رکھائن صوبہ میں  جون کے ابتدائی دنوں میں   شروع ہوا  یہ فرقہ وارانہ تشدد نہ صرف اس کےآس پاس کے علاقوں  کو بلکہ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے۔ صوبہ کی بدھ  رکھائن اکثریت  اکثر روہنگیا مسلمانوں کے  ساتھ تصادم کر رہی ہے، جنہیں بنگالی  کہا جاتا ہے اور انہیں  ساتھی نسلی برادری تصور نہیں کیا جاتا ہے۔

تاریخ کے اوراق کو دیکھیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ  1978 اور 1991-92 میں سرحد پار کر  آنے والے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو ڈھاکہ ان کے ملک واپس بھیجنے میں ناکام رہا ۔ میانمار نے   پناہ  گزینوں کی شناخت پر سوال اٹھا کر انہیں  اپنے ملک میں واپس لینے سے بارہا  انکار کرتا رہا۔ میانمار میں پناہ گزینوں کی وطن واپسی شناخت کے تعین پر اصرار کے سبب سست رہی، کیونکہ ان میں سے  یا تو کئی نے  حکومت  کی طرف سے کوئی شناختی دستاویز حاصل نہیں کیا تھا یا  اپنی جان بچانے کے لئے سب کچھ چھوڑ کر  آگئے تھے۔  روہنگیا  مسلمانوں کو  1982 کے ایک قانون کے تحت بے وطن شہریوں کے طور پر ان کی درجہ بندی کی جاتی تھی اور میانمار میں ان کے ساتھ  غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر سلوک کیا جاتا تھا۔

میانمار 60 ملین آبادی والا ایک کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں  89  فیصد بدھ مت کے پیروکار ہیں۔  باقی کے لوگ  مسلمان، عیسائی، ہندو اور بہائی مذہب کے ماننے والے ہیں۔ برطانوی حکومت کے دوران  ہندوستانی بر صغیر سے  مسلمانوں کی آبادی کا بڑا حصہ اس وقت کے برما میں گرمٹیوں  کے طور پر ( باضابطہ  دستاویز کے ساتھ مزدوری کرنے والے ) داخل ہوئے۔

میانمار میں حالیہ بدامنی کا آغاز ریاست میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے بدھ مت کو ماننے والی ایک عورت کی عصمت دری اور اس کےقتل کے سلسلے میں تین روہنگیا مردوں کو حراست میں لینے کے بعد  پھیلی۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ  روہنگیا لوگ ہی  اس جرم کے لئے ذمہ دار ہیں، بدھ مذہب کے ماننے والوں نے  جوابی کارروائی میں  10 مسلمانوں پر حملہ کر انہیں ہلاک کر دیا، جو کہ روہنگیا نہیں تھے۔ اس کے بعد ہوئی انتقامی کارروائی میں بڑی تعداد میں لوگوں جاں بحق ہوئے اور آتش زنی اور لوٹ کے بہت سے واقعات ہوئے، اس نے حکومت کو  شورش زدہ علاقوں میں ایمرجنسی  (ہنگامی حالت) کا اعلان کرنے کی  ترغیب دی۔

میانمار کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سو کی  سے  بدلے سیاسی منظر نامے میں مفاہمانہ  کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے  قوم کی اکثریت سے  اقلیتی گروپ کے لوگوں کے تئیں  ہمدردی دکھانے پر زور دینے کو کہا ہے۔ صدرتھین سین بھی ملک کے نسلی اقلیتوں کے ساتھ طویل عرصے سے مسلح تنازعات کو ختم کرنے کے لئے مثبت اقدامات کر رہے ہیں۔

ایک طبقاتی  تنازعہ کو مسلمانوں کے ذریعہ  خوف کی نفسیات کا استعمال کرتے ہوئے فرقہ وارانہ شکل دی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی  خود کو شکار بتانے کی عادت ہے  اوراس طرح برتائو کرتے ہیں جیسے غیر مسلمانوں کی طرف سے ان پر مسلسل ظلم ہو رہے ہیں۔ لہذا،  وہ  دلیل دیتے ہیں، اگر وہ جوابی کارروائی نہیں کرتے تو وہ تمام ممالک جہاں وہ اقلیتوں کے طور پر رہ رہے ہیں، وہاں پر انہیں  محکوم بنا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے غیر مسلم  اکثریت والے ممالک میں ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، لہذا یہ ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں۔

 شاید، یہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ  دنیا بھر میں زیادہ تر  مسلم ممالک غیر مسلموں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بہترین مثال سعودی عرب اور پاکستان ہوں سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں صرف دو ہی متبادل  دئے جاتے ہیں: یا تو آپ ایک بنیاد پرست مسلمان بن جائو یا آپ ایک انتہاپسندمسلمان بن جائو۔  کوئی تیسرا آپشن (متبادل) نہیں ہے۔ دراصل یہ اس دنیا میں واحد ایسا ملک ہے جو  مسجد کے علاوہ کسی اور مذہبی عمارت کے تعمیر کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ یہ قرآن کو بھی نہیں جانتے ہیں جو ان کی اپنی مادری زبان میں لکھی ہے، جو کہتا ہے:

 " اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں" (22:40)۔

پاکستان میں کسی بھی اعلی عہدے پر  کبھی بھی کوئی غیر مسلم فائض نہیں ہوا۔  غیر مسلمانوں، خاص طور پر پاکستان میں ہندوئوں کی حالت انتہائی مایوس کن ہے۔ اس میں  کوئی تعجب نہیں کہ وہ ہندوستان میں  رہنا چاہتے ہوں۔

 ہندوستان میں  چار  مسلمان صدر جمہوریہ رہ چکے ہیں  جو  ہمارے سیاسی نظام میں سب سے اعلی سرکاری  عہدہ  ہے۔ بالی وڈ پر  مسلمانوں کی تقریباً حکمرانی ہے۔ انسانی کوشش کے تمام شعبوں میں ، چاہے وہ کھیل ہو یا سائنس اور ٹیکنالوجی، مسلمانوں نے  ہر میدان میں اپنی پہچان بنائی ہے۔  بہت سے  غیر مسلم ممالک میں جہاں  اقلیتوں  کو معزور بنایا جا رہا ہے، اس کے بر عکس ہندوستان میں مسلمانوں نے  صرف اپنی لیاقت کی بنیاد پر ہی ایسا نہیں کیا ہے بلکہ انہیں مواقع  بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

 بدھ مذہب ماننے والوں کی دکانوں کے بائیکاٹ کرنے  کی بات کرنے والے مسلمانوں کی  "منطق "،   اگر اسی " منطق"  کا اطلاق  ہندوستان کے ہندو مسلم  بھائیوں پر  پاکستان میں   ہندوئوں کے ساتھ مجموعی  بدسلوکی  کے خلاف احتجاج کے طور پر کریں ، تو  تصور کریں کہ کیا ہوگا۔ اگر انہیں مسلمانوں  کی "دلیل " کا استعمال کریں تو   ان لوگوں کو ایسا کرنے کا شاید 'حق' حاصل ہے۔   یہ ذاتی پسند کا معاملہ ہے۔ ہندوستان میں اگر ہمارے ہندو بھائی مسلمانوں کی دکانوں یا بازار سے  کچھ بھی نہیں  لینا چاہتے ہیں تو ہم انہیں نہ تو مجبور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے غیر قانونی کہہ سکتے ہیں۔  صرف ایک ہی چیز ہے جو ہم کر سکتے ہیں اور ایسے مواقع یا بغیر کسی موقع کے یہ دعوی   کرتے رہے ہیں کہ ،  'اس دنیا سے اسلام کو ختم کرنے کی یہ کافروں کی طرف سے ایک سازش ہے'۔

ہمیں حقیقی معنی  حاصل کرنے کے لئے کسی تصویر کو اس کے مختلف پہلوئوں سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حقوق سب کے لئے ہیں، ہم  حقوق کو کھانوں میں  نہیں بانٹ سکتے ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ مخصوص طور پرصرف  مسلمانوں کے لئے ہے۔ ہم صرف مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن شاید ہی کبھی ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔ مسلمان میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ بد سلوکی  کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، لیکن وہ غیر مسلم ممالک، خاص طور سے پاکستان میں اپنے  ہندو بھائیوں کے ساتھ بد سلوکی کے خلاف کیوں  احتجاج نہیں کر رہے ہیں؟

 مسلمانوں کو تصویر کا صرف نصف حصہ یعنی تصویر کا  صرف  اپنی جانب کا حصہ دیکھنے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔  ہم منافق ہیں، ہم لوگوں کے درمیان تفریق ان کے  عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ہم تبھی تک اپنے حقوق کے مطالبہ کا حق رکھتے ہیں جب تک کہ ہم دوسروں کو ان کے حقوق  دیتے ہیں۔  مذہبی آزادی کی ہماری باتوں کا  کوئی فائدہ نہیں  ہے جب تک کہ ہم دوسروں کو ان کے مذہب کی آزادی نہیں دیتے ہیں۔ میں قرآن  کی ایک آیت کا حوالہ دے کر اپنی  بات  ختم کرنا چاہوں گا: لکم دینکم ولی دین  (سو) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ہے"۔  لیکن  المیہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان اسے قرآن کے  درست یا جائز حصے کے طور پر   قبول  کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔   نیو ایج اسلام پر اکثر کمنٹ کرنے والے محمد یونس  ( نیو ایج اسلام  کے  مضمون نگار  اور قرآنی تفسیر پر  ایک مشہور کتاب کے شریک مصنف محمدنوس نہیں ) نے ایک حالیہ پوسٹ میں کہا کہ :  "آپ اور جناب یونس صاحب (1) اور دیگر کچھ دوسرے لوگ جو کچھ بھی  اظہار کر رہے ہیں وہ مکّی آیات پر مبنی ہے۔ بدقسمتی سے مکّی آیات کو مدنی آیات نے منسوخ کیا ہے۔ لکم دینکم ولی دین   قابل  قبول نہیں ہیں  کیونکہ بعد کی  آیات کا کہنا ہے کہ اللہ کی نظروں میں صرف قابل قبول دین اسلام ہے۔

اس دنیا میں یہ نظریہ رکھنے والا میں اکیلا نہیں ہوں۔ مسلمانوں کے مطابق قرآن ہر مقام اور  زمانے کے لئے ہے۔ اسی طرح مدنی آیات بھی ہیں۔" 

اس طرح آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو  اپنے کثیر تعداد  میں مسائل کو حل کرنے کے لئے  کافی جدو جہد کرنی ہوگی۔ جیسا اس ویب سائٹ کے مدیر سلطان شاہین  نے ایک بار اقوام متحدہ کے پر وقار فورم سے مسلم دنیا کو بتایا تھا ، میں اس کی توضیع کر رہا ہوں:  "ہم مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سالوں سے اپنا  کام نہیں کیا ہے، ہمیں ضرورت ہے کہ  اس کام میں ہم  بہتر طریقے سے پوری سنجیدگی کے ساتھ  فوری طور پر اس میں لگ جائیں۔"

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/aiman-reyaz,-new-age-islam/some-indian-muslims’-un-islamic-appeal-to-boycott-buddhists-as-retaliation-for-rohingya-killings/d/8321

URL: https://newageislam.com/urdu-section/myanmar’s-muslims-rohingya-killings-/d/8332

Loading..

Loading..