FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section (03 Nov 2011 NewAgeIslam.Com)
اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی

اصغر علی انجینئر  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

کئی لوگ خاص طور سے خواتین مجھ سے پوچھتی ہیں کہ کیا اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی جائز ہے۔وہ بتاتی ہیں کہ امام اور علماء کہتے ہیں کہ قرآن خاندانی منصوبہ بندی کو منع فرماتا ہے اور ایک آیت کا حوالہ دیتے ہیں جو کہتی ہے:’اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔(کیونکہ)ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا سخت گناہ ہے۔(17:31)‘کسی بھی طرح اس آیت سے مراد خاندانی منصوبہ بندی نہیں ہے کیونکہ اس میں قتل کی بات کہی گئی ہے اور اسے ہی مارا جا سکتا ہے جس کا وجود ہے۔دنیا میں کوئی بھی قانون جو پیدا ہو چکا ہے اس کے قتل کی اجازت نہیں دے گا اور اس لئے قرآن بجا طور پر بچوں کے قتل کی مذمت کرتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی مراد لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی روایت سے ہے اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی پرورش نہیں کر سکتے ہیں اور تب اللہ کہتا ہے ’ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں‘۔لیکن امام رضی کے مطابق اس سے مراد لڑکے اور لڑکیوں سے ہے جنہیں جاہل رکھا گیا۔اس لئے قتل کرنے سے مراد ان کے جسم نہیں بلکہ دماغ سے ہے جو جسم کے قتل سے زیادہ برا ہے۔یہاں پر ’ اولاد‘لفظ کا استعمال کیا گیا ہے یعنی بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں، صرف لڑکیاں نہیں۔

امام رضی کی تجویز کافی معقول لگتی ہے اور حقیقت میں بڑے خاندان کا مطلب ہے کہ غریب والدین بچوں کو مناسب تعلیم نہیں دے سکتے ہیں اور اس لئے والدین ان کو جاہل رکھ کر ذہنی طور پر مارتے ہیں۔وہ ان کو نہ تو مناسب کپڑے دے سکتے ہیں اور نہ ہی مناسب رہائش دے سکتے ہیں۔ایسے حالات میں اچھے مسلمان پیدا نہیں ہوں گے اور صرف تعداد سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔بہتر خصوصیات صرف تعداد کے مقابلے زیادہ ضرور ی ہے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان دنوں میں خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی آبادی کنٹرول کرنے کا مسئلہ تھا۔یہ جدید دور کا مسئلہ ہے جو ملکوں کو درپیش ہے۔تیسری دنیا کے زیادہ تر ممالک کے پاس اس تعداد میں اقتصادی وسائل نہیں ہیں کہ وہ بڑی آبادی کی ضرورت کو پورا کر سکیں، اور جب ہم ضرورت پوری کرنے کی بات کر رہے تو اس کا مطلب صرف کھانا نہیں بلکہ ان کو تعلیم دینا اور انہیں طبی خدمات بھی مہیا کرانا ہے۔یہ دور حاضر کی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

دراصل وسائل کی کمی کے سبب خاندانی منصوبہ بندی کو اپنانا ضروری ہو گیا ہے۔جب قرآن نازل ہورہا تھا اس وقت نہ تو کوئی منظم ریاست تھی اور نہ ہی تعلیم یا طبی خدمات ریاست کی کسی ایجنسی کی جانب سے مہیا کرائی جاتی تھیں۔ یہ غور کرنا کافی اہم ہے کہ قرآن کریم نے زکوٰۃ کو خرچ کرنے کے آٹھ طریقے بتائے ہیں لیکن تعلیم یا طبی خدمات کو شامل نہیں کیا، جوآج دور حاضر کی ریاستوں کے لئے مہیا کرانا نہایت اہم ہے۔اس لئے امام رضی کی تجویز نہ صرف درست ہے بلکہ جدید دور میں خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت میں اضافہ کرتاہے، کیونکہ چھوٹے خاندان بہتر تعلیم اور طبی خدمات کوحاصل کر سکتے ہیں۔

یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہوگا کہ آیت4:3(جسے مسلمان کئی نکاح کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں)کو امام شافعی مختلف انداز میں تشریح کرتے ہیں۔اس آیت کا اختتام الا تعولو لفظ پر ہوتا ہے جس کا عام طور پر ترجمہ’تم ناانصافی مت کرو‘یعنی ایک سے زیادہ نکاح مت کرو تاکہ تم ناانصافی سے بچ جاؤ۔ لیکن امام شافعی اس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:’تاکہ تمہارا خاندان بڑا نہ ہو۔‘قرآن نے پہلے ہی ذکر کر دیا ہے ’اگر تمہیں ناانصافی کا خدشہ ہو تو ایک نکاح کرو‘ اور اس لئے اسے دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسی لئے امام شافعی کو لگا کہ اس کا ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے’تاکہ تمہارا خاندان بڑا نہ ہو۔‘

قرآن کی فہم کے معاملے میں ہر نامور علماء اور عظیم اسکالر کا ایک دوسرے سے اختلاف دیکھا جا سکتا ہے۔ایک آیت کے ایک معنی کو تمام مسلمانوں کو ماننے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ایک آیت کا متعدد لوگوں کے ذریعہ اپنے ثیاق و سباق اور حالات میں مختلف تشریح ہو سکتی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی جدید دور کی ضرورت ہونے کے ناطے یوں ہی درکنار نہیں کیا جانا چاہیے اور قرآن کی آیت کو بغیر کسی ثیاق و سباق کے پیش نہیں کرنا چاہیے۔

دراصل خاندانی منصوبہ بندی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بچے کو پیدائش کے بعد قتل کیا جائے بلکہ بچوں کی پیدائش کی اس طرح منصوبہ بندی کی جائے تاکہ والدین مناسب طریقے سے بچے کی تعلیم ،طبی و رہائش وغیرہ کی ضروریات کے تمام اخراجات برداشت کر سکیں۔قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ ایک بچے کو کم از کم دوسال تک ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک ایک ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے وہ حاملہ نہیں ہو سکتی ہے۔اس طرح قرآن بھی بالواسطہ طور پر بچوں کے درمیان وقفہ رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہاں تک کہ ہم حدیث میں پاتے ہیں کی پیغمبر محمدﷺ بعض حالات میں حمل کے روک تھام کی اجازت دی ہے۔جب ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے عذل کی اجازت مانگی کیونکہ وہ اپنی بیوی کے ہمراہ ایک لمبے سفر پر جا رہا تھااور نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس دوران حاملہ ہو تو نبی کریمﷺ نے اسے اس کی اجازت دی۔ان دنوں میں عذل ہی وہ ایک طریقہ تھا جس سے بچوں کی پیدائش کی منصوبہ بندی کی جا سکتی تھی۔آج کئی طریقے موجود ہیں جیسے کنڈوم کا استعمال۔

مشہور عالم اور فلسفی امام غزالیؒ نے ماں کی جان کو خطرہ ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کی اجازت دی ہے اور اسقاط کے لئے کئی طریقوں کو بتایا ہے۔یہاں تک کہ انہوں نے صحت خراب ہونے کی بنیاد پر یا ماں کی خوبصورتی کو خطرہ لاحق ہو اسقاط حمل کی اجازت دی ہے بشرطے کی اس کے شوہر سے مشورہ کیا گیا ہو۔کچھ علماء کرام آیت23:14 کو بطور حوالہ پیش کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ تین ماہ تک کے حمل کا سقاط کیا جا سکتا ہے،کیونکہ قرآن نے اس آیت میں ماں کے شکم میں نطفے کی نشو نما کے مراحل کا ذکر کیا ہے اور اس کے مطابق جان پیدا ہونے کے لئے تین ماہ کی مدت درکار ہوتی ہے۔

تاہم کئی علماء اسقاط حمل کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں۔بہر حال کوئی بھی اسلام میں خاندانی منصوبہ بندی کو ممنوع قرار نہیں دے سکتا ہے کیونکہ یہ نہ تو ایک پیدا ہوئے بچے کے قتل کے مترادف ہے اور نہ اسقاط حمل ہے لیکن یہ اپنے مالی وسائل کے مطابق حمل کو روک کر بچے کی پیدائش کی منصوبہ بندی ہے تاکہ بچوں کے درمیان وقفہ ہو۔

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/NewAgeIslamIslamicIdeology_1.aspx?ArticleID=5752

URL for this article:

 http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=5824

 



TOTAL COMMENTS:-    

Compose Your Comments here:

Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the below text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.