certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (04 Dec 2012 NewAgeIslam.Com)


Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 1

 

(صدائے ضمیر آفاقی)

 

مصنف

آفاق دانش

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ

نام کتاب : تلاشِ حق کیوں؟

مصنف : آفاق دانشؔ

صفحات : ۱۴۸

قیمت : ۲۵۰؍ روپے

اشاعت : ۲۰۱۲

ناشر : بزم روشن خیالاں، دہلی

رابطہ : 9560078961

 

-------------------

فہرست مضامین

ْمقدمہ ۵

غبار خاطر ۱۱

تلاشِ حق ۲۷

مذہب قرآن ۳۹

رزم نامۂ گل گماش ۷۶

فلاطینوس کا مختصر تعارف (انید کے حوالے سے) ۸۳

کیا حکمرانی صرف مسلمانوں کا حق ہے ۱۳۱

عقیدہ کا لفظی مفہوم ۱۴۲

عقائد کی گیند ۱۴۷

----------------------------

 

مَرا دردیست اندر دل اگر گویم زبان سوزد

و گر دم در کشم ترسم کہ مغز اُستخواں سوزد

مقدمہ

وہ لوگ جو تلاشِ حق کے لیے پختہ عزم کیے ہوئے ہیں میں ان کی حمایت اور تائید کا مسلک اختیار کر چکا ہوں، میں نے اپنی عمر کے پچاس سال صرف مطالعہ اور مشاہدہ میں گزارے ہیں اب کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی پوزیشن میں آپہنچا ہوں۔ میری بصیرت کی مدد سب سے زیادہ ڈسکوری چینل کے تحقیقاتی مشن نے کی ہے۔ اس سے وابستہ لوگوں کو ہی میں صحیح معنوں میں الراسخون فی العلم کہے جانے کا حق دار سمجھتا ہوں۔ جس طرح یہ لوگ حقیقت کو خرافات سے الگ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کو اپنی جان پر کھیل کر ہر طرح کا جوکھم مول لیتے ہیں ایسا کبھی کسی سے نہیں ہوسکا۔ ٹیکنا لوجی ہی اس کام میں سب کچھ نہیں ہے۔ اصل چیز تو وہ حوصلہ ہے جو انکشاف حقیقت کے لیے ان لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ ان کی جانفشانیوں اور قربانیوں کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم سبھی لوگ اپنے لیے ایک خدا کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک فرانسیسی مفکر والٹیر نے کہا تھا کہ خدا ہماری اپنے ناقابل تردید ضرورت ہے، اگر وہ واقعی موجود نہیں ہے تو ہم کو اسے ایجاد کرنا پڑتا ہے۔ دینی مدارس میں چاہے وہ کسی بھی مذہب یا عقیدے کے لوگوں سے آباد ہوں سب ایک خاص طرزِ فکر اور رجحان کے افراد ہوتے ہیں انھیں اپنے سے کم عقل لوگوں کو آسمانی عذاب و عتاب سے ڈرا کر اپنے ماتحت رکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ اس کے لیے جو حربہ استعمال ہوتا ہے اسے علمی حلقہ میں فن خطابت کہا جاتا ہے یہ فن جب تحریر میں آتا ہے تو اسے قلم کی جادوگروی کہا جاتا ہے۔ عوام الناس کی عقل جانوروں کی عقل جیسی ہوتی ہے۔ انھیں مجمع کے ساتھ چلنے میں اپنا تحفظ ملتا ہے، تنہائی میں یہ اپنی لاعلمی اور جہالت سے خوف زدہ رہتے ہیں اسی لیے جہاں کہیں بھیڑ دیکھتے ہیں دوڑ کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ کام کبھی کوئی دانش مند نہیں کرتا۔ وہ تو مجمع سے دور رہنے میں ہی اپنی خیریت سمجھتا ہے۔ کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ مجمع کا ایک ذہن ہوتا ہے وہ کس طرف گھوم جائے اس کا پتا کسی کو نہیں چلتا۔ مجمع حق و باطل خیر وشر میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ ایسی صورت میں جو کوئی اس پر قابو کر لے وہ اسے اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ جس مذہبی جماعت میں جتنے زیادہ لوگ شریک ہوں گے وہاں اتنے ہی زیادہ کم عقل لوگ ہوں گے۔ لیکن تمام مذاہب کے رہنما اور ان کے تابعین اپنی بڑھتی ہوئی تعداد کو جان کر یا بتا کر بڑی فخر بھری خوشی سے دوسروں کو بتاتے پھرتے ہیں کہ دنیا میں ان کے عقیدہ یا مذہب کے ماننے والوں کی تعداد ہر ماہ کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ تمام مذاہب کے علما اور ائمہ ہمیشہ یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اب وہ دن قریب ہے جب ان کے مذہب کے ماننے والوں کی دنیا میں اکثریت ہوگی۔ بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے کہ پوری دنیا ان کے ہی مذہب کی سچائی کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ ایسی مہمل پیشینگوئیوں سے تمام احمق لوگ بے حد خوش ہوتے ہیں لیکن کوئی صاحب عقل ایسی باتوں کو صرف کم عقلوں کے خوش کن خواب سے زیادہ کوئی وقعت نہیں دیتا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے کچھ اخبار و رسائل یورپ اور امریکہ میں روزانہ اسلام قبول کرنے والوں کی اوسط تعداد شائع کرتے رہتے ہیں اسے پڑھ کر عام مسلمان اسے اپنے مذہب کے برحق ہونے کی سند کے طور پر دوسروں کو بتا کر بہت خوش ہوتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرنے والا جس نے دنیا کے دوسرے مذاہب کا بھی مطالعہ کیا ہے اور ان کے فروغ اور توسیع کی تاریخیں بھی پڑھی ہیں اس کے ذہن میں پیدا خدا اور انجام زندگی کا جو تصور ابھرتا ہے وہ کسی ایک مقدس کتاب اور صحیفہ میں بیان کردہ تصور سے اتفاق نہیں رکھ سکتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بہت سارے پھولوں کی خوشبوؤں میں کسی کو ایک ہی کی خوشبو سب سے زیادہ پرکشش لگ سکتی ہے۔ اس کی اس پسند میں اس کے اپنے اندر موجود کیمیاوی مرکب کو دخل ہوتا ہے کسی کے مشورہ یا تعریف سے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میرے سامنے ایک عطر فروش نے بہت ساری خوشبوؤں کی شیشیاں رکھ دیں تاکہ میں اس میں سے کوئی پسند کرسکوں۔ ان میں سے مجھے چمبیلی جسے یاسمین کہتے ہیں وہ سب سے زیادہ پسند آئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ باقی پھولوں کی خوشبو میرے نزدیک بدبو تھی۔ سوال صرف ترجیح کا تھا۔ یہی صورت عقائد کے انتخاب میں بھی ہوتی ہے۔ جس کی عقل جتنی بلند ہوگی اس کے پاس اتنے ہی معقول تصورات ہوں گے۔ اس اعتبار سے جن ممالک میں تعلیم کا معیار اور زندگی کا معیار جتنا بلند ہے وہاں اسی اعتبار سے مذہبی عقائد میں معقولیت کا تناسب زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ بنیاد پرستی اور روایت پرستی کا تانا بانا وہاں بہت کمزور نظر آتا ہے۔ ہمارے درمیان روایات پرست لوگ اپنے بچوں کو ہمیشہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنے سے سختی سے منع کرتے ہیں اور اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ ان کی اولاد دوسرے مذاہب کے اثر سے قطعی محفوظ رہے۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہیوں اور انسان دشمنی نے عام لوگوں کے مذہب کو بری طرح متاثر کیا۔ کچھ بڑے مذہبی لوگوں کو خدا کے رحیم و کریم ہونے کا اعتقاد بکھرتا ہوا محسوس ہوا۔ عام معتقدین کے ذہن میں بھی یہ عقیدہ دم توڑنے لگا کہ خدا ظالم کا ہرگز مددگار نہیں ہوگا۔ ایک ہسپانوی فلسفی نے یہاں تک کہہ دیا کہ خدا باقی نہیں رہا۔ لہٰذا ہم کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش تیز کرنی ہوگی۔ اب سجدہ اور تسبیحوں سے اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اس کے جواب میں عیسائی مذہب کے لیڈروں نے خدا کی عدم توجہی کا سبب سیاسی رہنماؤں کی بدعقیدگی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا کسی قوم یا فرد پر بلا وجہ مہربان نہیں ہوتا۔ ہم کو اپنے کردار اور ایمانی قوت سے خود کو خدا کے رحم و کرم کا حق دار بننا ہوتا ہے۔ ہم جب سراسر اس کے احکامات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہماری بدحالی پر اس کو رحم کیوں آئے گا۔ جو لوگ اس جنگ میں شریک نہیں تھے وہ ایسی دلیلوں سے ضرور مطمئن تھے لیکن چرچ کے رہنماؤں میں سے ان دونوں عالمی جنگوں میں کوئی کلیسائی رہنما موت کا شکار شاید ہی ہوا ہو۔ خود کو اپنے خدائے رحیم و کریم کا سچا عبادت گزار بندہ ثابت کرنے کے لیے مہلوکین اور ہلاک کرنے والے دونوں کی نجات اخروی کے لیے گرجا گھروں میں دعائیں ضرور کیں۔ ان کے قول اور عقیدے کے مطابق کوئی کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو اگر وہ سچے دل سے حضرت مسیح کو اپنا دوست سمجھ کر ان کے حضور اقبال جرم کے ساتھ اپنی ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معافی کا طلب گار ہوگا تو وہ خدا سے اس کو معافی دلادیتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے چند سال بعد یعنی ۱۹۴۷ میں ہندوستان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک کا نام بھارت، دوسرا مغربی پاکستان اور تیسرا مشرقی پاکستان کہلایا۔ اس تقسیم کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا ہندوؤں اور ہندوؤں کا مسلمانوں سے آزاد ایک ملک کا تصور تھا۔ ہندو رام راج کے خواب کی عملی تعبیر اور مسلمان نظام مصطفی یا مملکت خدا داد کے خواب کی تعبیر کے متمنی تھے۔ برطانوی سیاست دانوں نے ان کے خواب کو پورا کرانے میں ان کی مدد کی۔ لیکن ان کے خوابوں کی تعبیر معصوم لوگوں کے خون سے پایہ تکمیل تک پہنچی۔ بتایا جاتا ہے اس تقسیم میں خاندانوں اور سماجوں کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ ان کے اراکین کی گردنیں ان کی ایک خاص مذہبی شناخت کی بنا پر اڑائی گئیں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ آدمیوں کا دل کھول کر مذہبی جنون کے زیر اثر آکر قتل کیا گیا۔ لیکن یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ جو مارا گیا وہ شہید یا جو بچ گیا وہ غازی ٹھہرا۔ انھیں مظولمین کا خطاب ضرور دیا گیا۔ یہ سب کچھ دین الٰہی کی سربلندی اور پرچم اسلام کے ایک خطہ زمین پر لہرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ مذہب کے نام پر مخالفین کو بھیڑ بکریوں سے بدتر سمجھ کر ان کے سر قلم کیے گئے۔ اس کے بعد پاکستان میں مسلمان اور اسلام دونوں کا مستقبل روشن ہوگیا، اس کی خبر ساری دنیا کو دے دی گئی۔ اب مسلمان اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہ اس مقدس سرزمین پر جس کا نام پاکستان ہوگیا تھا وہاں شریعت اسلامی کا نفاذ شروع ہوجائے اور پھر یہاں کے رہنے والے خدا کی جنت میں چین و سکون سے اپنی زندگی گزارنے لگیں گے۔ لیکن یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ قیام پاکستان کے ٹھیک ۲۵ سال بعد مشرقی پاکستان کا وجود ختم ہوگیا اور وہ بنگلا دیش بن گیا۔

پہلے پاکستان کے وجود کے لیے بے گناہوں کے خون کی ضرورت اس لیے پڑی تھی کہ اس ملک کے صدر مملکت کے لیے محل کی تعمیر میں پانی کی جگہ خون کی ضرورت تھی۔ ۲۵ سال بعد بنگلہ دیش کی تعمیر کے لیے بھی بے گناہوں کے خون کی ضرورت پیش آئی۔ پاکستانی سپاہیوں نے وہاں پہنچ کر دل کھول کر بنگالی مسلمانوں کو ذبح کیا اور جتنی ضرورت سمجھی ان کو انھیں کی قوم کو ذبح کرکے خون فراہم کر دیا۔ اس کے بدلے میں وہ یہ چاہتے تھے کہ اس ملک کا نام نہ بدلا جائے۔ لیکن روس اور ہندوستان کی مدد نے بنگالیوں کی حمایت کی اور مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا۔ پاکستانی مجاہدین اسلام کی جو دراصل مسلمانوں کی ایک بڑی فوج تھی اس کو فرار کا کوئی راستہ شکست کے بعد نہیں مل سکا تو انھوں نے ہندوستان کی امدادی فوج کے آگے ہتھیار ڈال کر جنگی قیدی ہونا قبول کرلیا۔ اس طرح تقریباً ۹۵ ہزار مسلم پاکستانی جارحیت کے مجاہدین کی زندگیاں محفوظ ہوگئیں۔ یہ لوگ بنگلا دیش سے ہندوستان لاکر مختلف جگہ کے قید خانوں اور خیموں میں نظر بند کر دیے گئے۔ یہاں پر عافیت اور باعزت زندگی ملنے کے بعد انھیں اپنی ظالمانہ حرکتوں پر شرمندگی کے بدلے اپنی مومنانہ صفات سے ہندوستانی ہندوؤں کو مرعوب کرنے کی سوجھی۔ انھوں نے اپنے خیموں اور قید خانوں میں بڑے زور شور سے صلوٰۃ و تسبیح اور قرآن خوانی کی مجلسیں منعقد کرکے اپنے خدا کو خوش کرنے کی مشق شروع کردی۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے راتوں کو ڈھاکہ یونیورسٹی سے اس کے پروفیسروں کو صف بستہ کھڑا کرکے گولی مار دی تھی۔ یہ یونیورسٹی اور اس کا میڈیکل کالج اپنے بہترین معیار کے لیے ساری دنیا میں معروف تھے۔ ان کی نیت یہ تھی کہ اس نئے ملک کی تعمیر نو کے لیے ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ وہ اس مقصد کو حتی الوسع پورا کرکے اپنی نمازوں اور تسبیحوں میں مصروف ہوگئے۔ اور کافران ہند کے مہمان ہوکر چین سے اس وقت تک رکھے گئے جب تک پاکستان میں ان کی جانوں کے محفوظ کرنے کا پورا انتظام نہیں ہوگیا۔

آفاق دانش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی زبان اور ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک استاد کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ 8 سال تک نائجیریا میں سینئر ایجوکیشن افسر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور پاکستان کا کئی بار سفر بھی کر چکے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

 

 

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content