certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (09 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Madrasa and Curriculum مدرسہ اور نصاب تعلیم

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ، مسلمان حکمرانوں نے علماء کو ریاست میں ضم کرکے انہیں ریاستی عہدے دئیے اور خاص طور سے محکمہ انصاف و قانون ان کے حوالے کردیا۔ اس لئے علماء کو ان عہدوں کےلئے تیار کرسکیں ۔ اس مقصد کےلئے ابتداء میں سلجوق وزیر نظام الملک طوسی نے ایسے مدرسوں کی بنیاد ڈالی جو اسلامی حکومتوں کی ضروریات کو پوری کرسکیں۔ بعد میں اس کی دوسرے مسلمان حکمرانوں نے بھی سرپرستی کی ۔

ہندوستان میں اس قسم کے نصاب کی تیاری میں ملا نظام الدین (وفات 1748) کا بڑاحصہ ہے کہ جن کا تعلق فرنگی محل خاندان سے تھا ، اور جن کی شہرت بحیثیت استاد کے ہندوستان بھر میں تھی ۔ انہوں نے جو نصاف تیار کیا وہ ‘‘درس نظامیہ’’ کہلاتا ہے۔ یہ نصاب اس قدر مقبول ہواکہ ایک سو سال تک بغیر کسی تبدیلی کےہندوستان میں پڑھایا جاتارہا اور آج بھی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اسے پاکستان و ہندوستان کے مدرسوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

درس نظامیہ کی تدوین اس غرض سے کی گئی تھی کہ اس سے فارغ التحصیل طلباء مسلمان حکومتوں میں قاضی، مفتی، اور صدر کے عہدوں پرکام کرسکیں۔ اس نصاب کو اس طرح سے تیار کیا گیا تھاکہ 20 سال کی عمر میں طالب علم فارغ التحصیل ہوجاتا تھا، جو کہ دوسرے نصابوں میں نہیں تھا، اور طالب علموں کو عمر کا بڑا حصہ ان کے مطالعہ میں گزا رنا پڑتا تھا۔

اس وقت تک مدرسہ میں جو نصاب رائج تھے ان میں دو قسم کےعلوم پڑھائے جاتے تھے ۔ معقولات وہ علوم کہ جن کا تعلق عقلیت سےتھا، اور منقولات کہ جو احادیث پرمنبی تھے ۔ درس نظامیہ کی یہ خصوصیت تھی کہ یہ معقولات پر منقولات سے زیادہ زور دیتا تھا، اور اس میں پہلی مرتبہ دوسرے علماء کی کتابوں کےساتھ ساتھ ہندوستانی علماء کی تحریر کردہ کتابیں بھی شامل کی گئیں تھیں۔

درس نظامیہ میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں صرف ونحو، منطق ، حکمت ، ریاضی، بلاغت، فقہہ، اصول فقہہ، کلام ، تفسیر اور حدیث شامل تھیں۔

شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان نے مدرسہ رحیمیہ میں اس کےمقابلہ میں جو نصاب تیار کیا اس میں انہوں نے معقولات سے زیادہ زور منقولات پر دیا او ر فقہہ کی تعلیم کے بجائے قرآن و حدیث کی تعلیم کو زیادہ ضروری قرار دیا۔ اس طرح ہندوستان میں یہ وہ نصاب دو رجحانات کی نشان دہی کرتے تھے: فرنگی محل، مسلمان ریاستوں کےلئے علماء تیار کرتا تھا کہ جنہوں نے اٹھارویں صدر میں ان مختلف ریاستوں میں اہم کردار اداکیا اورجیسا کہ مٹکاف نے لکھا ہےکہ ‘‘جہاں کہیں بھی مسلمان ریاست تھی، فرنگی بھی اس کے دربار میں کوئی عہدہ چاہتے تھے " ( 32۔33)

اس کےمقابلہ میں مدرسہ رحیمیہ ہندوستانی مسلمانوں میں مذہبی بے حسی کی شکایات کرتے تھے، او راس لئے علماء کو اس بات پر تیار کرتے تھےکہ وہ مسلمان معاشرہ میں مذہبی اصلاحات اور احیاء کے ذریعہ ان میں مذہبی جذبہ اور روح کو پیدا کریں۔

مدرسہ رحیمیہ کے اس ماڈل کو 1867ء میں دیوبند میں اختیار کیا گیا۔ اس میں جو مضامین رکھے گئے تھے وہ یہ تھے صرف و نحو، بلاغت، عربی، ادب، اسلامی تاریخ ، منطق، یونانی و عرب فلسفہ، علم مناظرہ ، علم کلام، اقلیدس ، طب یونانی، فقہہ ، اصول فقہہ حدیث، تفسیر ۔ بعد میں منطق اور فلسفہ کو نصاب سے نکال دیا گیا ۔ اس پورے نصاب میں جدید تقاضوں کے تحت علوم کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی یورپی زبان کو نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں کچھ علماء نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ علی گڑھ کی جدید یورپی تعلیم، اور دیوبند کےقدیم نصاب کے درمیان ایک ایسا نصاب تیار کریں کہ جو موجودہ ضروریات کو بھی پورا کرے، اور قدیم روایات کو بھی برقرار رکھے ۔ اس مقصد کے لئے 1890 کی دھائی میں ندوۃ العلوم کی بنیاد رکھی گئی، لیکن علما ء کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی اور ندوۃ نے بھی جدید یت کو چھوڑ کر قدیم راستہ کو اختیار کر لیا۔

جیسا کہ ان نصابوں سے ظاہر ہے جو طالب علم ان مدرسوں سے فارغ التحصیل ہو کر نکلے، وہ ذہنی طور پر اس قابل نہیں تھے کہ جدید حالات کو سمجھ سکیں، اور سیاسی و معاشی مسائل کو حل کرسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے کچھ نے تو اس بات کی کوشش کی کہ وہ مسلمان ریاستوں میں ملازمتیں حاصل کر کے وہاں خاموشی سے زندگی گزار دیں مگر علماء کی اکثریت وہ تھی کہ جنہیں ملازمتوں کے مواقع نہیں تھے اور وہ اس بات پر مجبور تھے کہ وہ اپنی روزی کےلئے درس و تدریس کے پیشہ کواختیار کریں، یا مبلغ کے طور پر کام کریں، یا پھر مسجدوں میں امام اور موذن بن کر زندگی کے دن گزاریں۔ اس لئے ان علما ء کےلئے اس کےعلاوہ اورکوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کہ وہ اپنی روزی کےلئے مذہب کا استعمال کریں ۔

اس لئے نو آبادیاتی دور میں بہت سی مذہبی جماعتیں اور فرقے پیدا ہوئے جو لوگوں سے چندہ حاصل کرنے کے لئے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کےلئے ان کے مذہبی جذبات کو ابھارتے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں جگہ جگہ نئے مدرسے کھلنا شروع ہوگئے اور نئی مسجدیں بننا شروع ہوگئیں تاکہ لوگوں کے چندوں سے ان کوپھیلایا جاسکے اور علماء کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ان میں کھپا یا جاسکے ۔ اس کی وجہ سے نہ صرف مختلف فرقوں میں لڑائی جھگڑے شروع ہوئے بلکہ اس نے فرقہ واریت کوبھی ہوا دی، اور ہندو و مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو گہرا کیا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content