certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (06 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Akbar and Ulema اکبر اور علماء

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

اکبر جب تخت پربیٹھتا ہے تو اس وقت مخدوم الملک عبداللہ سلطان پوری اور صدر الصدور عبدالنبی سلطنت میں اہم علماء تھے کہ جو مذہبی امور اور معاملات کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی دخل اندازی کرتے تھے۔ صدر کا عہدہ اس وقت انتظامیہ کےاہم عہدوں میں سے ایک تھا اور یہ ملک میں سے اعلیٰ فقہی اور قانونی اتھارٹی تھا اور اس لحاظ سے تمام عدالتی نظام اس کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ تمام قاضی اور مفتی اس کے ماتحت ہوتے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ وقف کی زمینوں ’ جائدادوں’ اور وظیفوں کا بھی انچارج ہوا کرتا تھا ۔

اس حیثیت سےشیخ عبدالنبی مغل سلطنت کی اہم شخصیت تھے ۔ اکبر ان کی ابتداء میں بہت عزت کرتا تھا اور ان کے گھر پر جاکر ان کے در س میں شریک ہوتا تھا بلکہ جہا ں گیر کو نوجوانی میں ان کی شاگردی میں دے دیا تھا ۔ اپنے علم اور سیاسی طاقت کے زعم میں یہ انتہائی مغرور اور بد ز بان ہوگئے تھے۔ اس کااظہار وہ ایسے موقعوں پر ضرو رکرتے تھے کہ جب ضرورت مند اپنی مجبوریوں کی وجہ سے کام کےلئے ان کے پاس آتے تھے۔

مثلاً جب اکبر نے یہ حکم صادر کیا کہ جب علماء کے پاس معاش کے طور پر زمینیں ہیں وہ صدر کےدفتر سے آکر ان کی تصدیق کرائیں۔ اس کی وجہ سے پورے ملک سے علماء دارالحکومت میں جمع ہوگئے، ان میں سے وہ لوگ کہ جن کے تعلقات تھے انہوں نے تو آسانی کے ساتھ اپنی جائیدادوں کی تصدیق کرالی ۔ مگر وہ علماء کے جن کی کوئی سفارش نہیں تھی انہیں صدر الصدور کے سیکرٹری عبدالرسول کو رشوت دےکر اپنا کام کرانا پڑا اور اس سلسلہ میں انہیں شیخ کے چوکیدار وں ’ کلرکنوں’ اور صفائی کرنے والوں کی جھڑکیاں سننی پڑیں ۔ ( بدایونی ’II ۔ ص ۔ 206۔208)

خود شیخ عبدالنبی کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے تھے اور ان کی بے عزتی کرتے تھے، بدایونی نے اس کا حال لکھتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ اپنی نشست پر غرور و تند مزاجی کےساتھ بیٹھے تھے تو وہ چاہے بڑا امیر ہو یا عالم ان سب کے ساتھ انتہائی بدادبی کاسلوک کرتے تھے اور کسی کے ساتھ تہذیب و مروت کا برتاؤ نہیں کرتے تھے۔

ظہر کی نماز کے لئے جب وہ وضو کرتے تھے تو اس وقت پانی کے چھینٹے اس قدر زور سے اڑاتے تھے کہ وہ امراء اور حاضرین کے کپڑوں اور چہروں کو تر کردیتے تپے ف( بد ایونی ’ II ۔ ص 208) ظاہر ہے کہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے لوگ ان سے نالاں تھے او ران کی عزت محض اس لئے کرتے تھے کہ ان کے پاس سیاسی اختیارات تھے ۔

اکبر کے دربار کے دوسرے بڑے عالم مخدوم الملک عبداللہ سلطانپوری تھے، جن کی عزت و شہرت سوری خاندان کے زمانہ سے تھی مگر یہ مذہبی معاملات میں اس قدرمتشدد تھے کہ اپنے مذہبی مخالفوں کو اذیتیں دےکر مروا دیتے تھے ۔ ان کی یہ بھی شہرت تھی کہ انہوں نے بڑا مال جمع کرلیا ہے۔ اسی لئے ان کےمرنے کے بعد ان کے ترکہ کی جانچ کےلئے بھیجا تو پتہ چلا کہ انہوں نے سونے کی اینٹوں کو اپنے گھر میں قبروں میں دفن کر رکھا تھا، بعد میں یہ اینٹیں اور ان کی کتابیں ضبط ہوئیں اور شاہی خزانے میں داخل ہوئیں ( بدایونی’ II ۔ ص۔ 321)

ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ زکوٰۃ سے بچنے کی خاطر یہ حیلہ کرتے تھے کہ سال کے ختم ہونے سے پہلے یہ اپنی تمام جائداد اپنی بیوی کے نام کردیتے تھے اور سال کے خاتمہ پر دوبارہ اسے لے لیتے تھے ۔ اس طرح حج کے بارے میں ان کا یہ فتویٰ تھا کہ یہ فرض نہیں ہے کیونکہ خشکی کے راستہ شیعوں کی سرزمین یعنی ایران سے گزرنا پڑے گا اور سمندر کےراستہ میں پر گریوں کی پناہ میں آنا پڑے گا۔

پھر یہ دونوں علماء ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے او راس کو شش میں رہتے تھے کہ کسی طرح سے موقع ملے تو ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جائے۔ علماء کے درمیان اس قسم کے ذاتی اختلافات اس وقت ابھر کر آئے جب اکبر نے عبادت خانہ کی بنیاد رکھی ۔ ( 1574)

عبادت خانہ کی بنیاد رکھتے وقت اکبر روایتی طور پر مذہب کا پابند تھا ۔ علماء سےاور صوفیا سے اس کی عقیدگی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی ۔ وہ خواجہ معین الدین اجمیری کے مزار پر زیارت کی غرض سے جاتا’ سلیم چشتی کا اس قدر معتقد کہ جہانگیر کی پیدائش پر اس کی ماں کو ان کی درگاہ میں بھیجا تاکہ اس سے برکت ہو’ اور اس کی پیدائش پر اس کا نام سلیم رکھا’ بلکہ ان کی درگاہ کے قریب اس نے فتح پور سیکری کی تعمیر کرائی تاکہ ان کی برکت کے سایہ میں رہے۔

اس لئے عبادت خانہ کی تعمیر کامقصد یہ تھاکہ علماء کو جمع کرکے مذہبی امور معاملات پر بحث و مباحثہ ہو’ اور ان کے مذہب کے بارےمیں سیکھا جائے’ لیکن خود علماء کے سلوک ’ ان کی گفتگو’ ان کی ایک دوسرے پر تنقید’ اور ان کے رویہ نے اکبر پر دوسرے ہی اثرات ڈالے ۔

ابتداء میں صرف خاص خاص علماء کو مدعو کیا جاتا تھا ، اوریہ جلسہ جمعہ کی نماز کے بعد ہوا کرتا تھا ۔ اکبر جب کبھی کبھی کسی عالم کے علم اس کے تقدس پرہیزگاری اور کردار کے بارے میں سنتا تو اسے عبادت خانہ میں آنے کی دعوت دیتا اور ذاتی طور پراس کا استقبال کرتا ۔

لیکن جلد ہی علماء نے اس بات پر جھگڑا شروع کردیا کہ کون کس جگہ پر بیٹھے گا ’ اس مسئلہ کو حل کرنے کےلئے اکبر نے نشستوں کا انتظام خود سنبھالا ۔ اور اس منصو بہ کے تحت درباری مشرق میں سید’ مغرب میں’ علماء جنوب میں’ اور شیخ شمال میں بیٹھائے گئے ۔

جب بحث و مباحثہ ہوتا تو بادشاہ خود ہر جماعت کے پاس جاتا ان کے درمیان بیٹھتا اور ان کی گفتگو میں شریک ہوتا’ یہ ہر جماعت کے لوگوں کو انعام و اکرام سےبھی نوازتا ۔

لیکن نشستوں کے اس انتظام کے باوجود علماء کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،اور انہوں نے گفتگو کے دوران چیخنا ’ چلانا’ اور بد تمیزی کامظاہرہ کرنا شروع کردیا’ اکبر جو ان کے علم اور زہد و تقویٰ سے متاثر تھا ۔ ان کو اس حال میں دیکھ کر بڑا مایوس ہوا اور اس کے دل سے ان کا احترام کم ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے بدایونی سے کہاکہ اگر ان میں سے اب کوئی بھی بد تمیزی کرے’ یا بکواس کرے تو اس کو عبادت خانہ سے نکا ل دو۔ اس پربدایونی نے کہاکہ اگر میں نے اس حکم کی تعمیل کی تو پھر کوئی بھی عالم اس جگہ باقی نہیں رہے گا’ اور ہر ایک کونکالنا پڑے گا۔ ( بدایونی’ II ۔ ص ۔ 204۔205)

مزید اختلافات کی ابتداء تب ہوئی کہ جب ایک دن تعداد ازواج پر گفتگو ہوئی’ اکبر کی اس وقت چار سے زیادہ بیویاں تھیں اس پر سوال پیدا ہوا کہ چار کو رکھ کر باقی ناجائز ہوئیں، تو ان سےجو اولاد ہوئی وہ بھی ناجائز ہوئی’ اس کی یہ بیویاں اکثر راجپوت شہزادیاں تھیں’ ان کو اس طرح ناجائز رکھنا ان کی عزت و حمیت کا سوال تھا اسی لئے اکبر اس مسئلہ پر پریشان ہوگیا’ اور اس نے علماء سے درخواست کی کہ اسے کسی طرح سےاس صورت حال سے نجات دلائی جائے۔ اس نے علماء کو یہ بھی بتایا کہ شیخ عبدالنبی صدر نے ایک مجتہد ابن ابی لیلہ کا حوالہ دیا ہے کہ جن کی 9 بیویاں تھیں ۔

اس پر علما ء نے مذہبی تاویلات کا سلسلہ شروع کردیا کچھ نے قرآن شریف کی اس آیت کا حوالہ دیا کہ جس میں کہ دو اور دو’ تین اور تین اور چار اور چار شادیاں کرو’’ ان کی تاویل کے مطابق اس کا مطلب ہوا۔

2+2+3+34+4+18

یا

2+3+4=9

اس موقع پر بدایونی نے بادشاہ کو مشورہ دیاکہ اگر مالکی قاضی یہ فتویٰ دے دے کہ متعہ کی شادی جائز ہے تو یہ فتویٰ شیعوں اور سنیوں دونوں کے لئے ہوگا۔ اس پر اکبر نے فوراً حنفی قاضی کو ہٹا کر اس کی جگہ قاضی حسن عرب مالکی کو قاضی مقرر کر دیا، جس نے اس وقت متعہ شادی کے بارےمیں فتویٰ دے کر بادشاہ کی تمام شادیاں جائز قرار دے دیں۔

مگر اکبر نے مالکی قاضی کو بھی فوراً ہٹا کر دوبارہ سے حنفی قاضی کو تقرر کردیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی مثال کی دوسرے بھی تقلید کریں ( بدایونی۔ II۔ ص۔ 211۔213)

اکبر کو ان مذہبی مباحث سے اس قدر دلچسپی بڑھی کہ وہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنے لگا، خاص طور سے جمعہ کی رات کو وہ مذہبی تنازعات کو سمجھنے میں گزارتا ۔ اس دوران میں علماء کا رویہ اسے دیکھنے کو ملا جو بحث کےدوران غصہ میں آکر اپناذہنی توازن کھو بیٹھتے ’ ان کی آوازیں بلند ہوجاتیں اور وہ ایک دوسرے کو کافر و مشرک کہنے لگتے ۔ سب سے بڑا ستم تو یہ تھا کہ اس کے دربار کے دو بڑے عالم مخدوم الملک اور عبدالنبی ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے ۔ مخدوم الملک نے عبادت خانہ میں ہونے والی بحثو ں پر تنقید کرتے ہوئے ، عبدالنبی پر کفر کا فتویٰ صادر کیا کہ اس نے خضر خاں شروانی کو رسول اللہ کے خلاف برا کہنے کا الزام لگا کر اور میر حبش کو شیعہ قرار دے کر قتل کروا دیا’ جب کہ دونوں باتیں جھوٹی تھیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیخ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں کیونکہ اول تو انہیں والد نے عاق کردیا تھا ’ دوئم انہیں خونی بواسیر ہے۔

شیخ عبدالنبی نے جواب میں مخدوم الملک پر اعتراضات کئے ’ اس کا نتیجہ یہ ہواکہ دربار میں دو جماعتیں بن گئیں اور ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہو گئیں ’ ان کے اس رویہ سےاکبر بڑا دل گرفتہ ہوا’ اور اس کی نظروں میں علماء کی عزت گھٹ گئی۔

اس کے بعد سے اکبر نے عبادت خانہ میں دوسرے فرقوں اور مذاہب کے لوگوں کو دعوت دی۔ جن میں ہندو، جین، بدھ، عیسائی، مجوسی، اور کئی دوسرے مذاہب کے علماء شامل تھے، انہوں نے اپنے اپنے مذاہب کی خصوصیات بتائیں اور اکثر بحثوں میں انہوں نے علماء کو لاجواب بھی کردیا۔

اکبر کو اس وقت علماء سے سخت مایوسی ہوئی، جب کہ ان میں سے کچھ نے ایک چیز کو جائز قرار دیا اور دوسروں نے اسے حرام، اسی طرح جب اس نے قاضی جلال اور دوسرے علماء نے قرآن کی تفسیر لکھنے کو کہا تو وہ ہر بات پر ایک دوسرے سے اختلافات کرنے لگے۔

ایک شیعہ عالم ملا محمد یزدی نے جب شیعہ نقطہ نظر سے ابتدا ئی اسلامی تاریخ کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو بادشاہ نے اس پر تاریخ کی کتابیں سنیں اور صحابہ کے اختلافات نے اس کا ایمان اور کمزور کردیا۔

اسی دوران میں ایک صوفی عالم شیخ تاج الدین اس کے دربار میں آئے، اور انہوں نے بادشاہ کے لئے سجدہ جائز قرار دیا ، انہوں نے بادشاہ کو کعبہ مرادت اور قبلہ حجت قرار دے کر سجدہ کو تثطیمی بنا دیا کہ جو مذہب کے خلاف نہیں تھا ۔ (بدایونی ۔ II۔ص۔266)

1579ء میں ایک واقعہ پیش آیا کہ جس نے اکبر کو مکمل طور پر علماء کے خلاف کردیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ متھرا کے قاضی نےیہ شکایت کی کہ ایک برہمن نے مسجد کے تعمیر مواد میں کچھ اٹھا لیا’ جب اس سے یہ واپس مانگا گیا تو اس نے یہ کہ نہ صرف دینے سے انکار کردیا بلکہ رسول اللہ کی شان میں گستاخی بھی کی۔شیخ عبدالنبی نے صدر کی حیثیت سےبرہمن کو دربار میں حاضر ہونے کو کہا ، مگر وہ نہیں آیا اس پر اکبر نےابوالفضل اور راجہ بیربل کو متھرا تحقیقات کےلئے بھیجا ۔ انہوں نے برہمن کے خلاف لگائے ہوئے الزام کو درست پایا۔اس پر علماء میں اختلاف ہوگیا کہ اسے کیا سزا دی جائے کچھ اس کے حق میں تھے کہ اسےسزا ئے موت دی جائے، مگر کچھ کہتے تھے کہ اسےکوڑے لگائے جائیں ۔ اکبر چاہتا تھا کہ اس کی زندگی بچ جائے لیکن شیخ عبدالنبی نے اسے سزائے موت دےکر قتل کرا دیا اس واقعہ نے علماء اور بادشاہ کی طاقت کوبالکل واضح کردیا کہ بادشاہ علماء کے آگے بے بس ہے۔ اس لئے نہ صرف اکبر بلکہ اس کی ہندو بیگمات اور درباریوں نے بھی اس پر تنقید کی کہ علماء اپنی طاقت سے زیادہ تجاوز کر گئے ہیں۔

اس پر اکبر نے عبادت خانہ میں علماء سے برہمن کے مسئلہ پر رائے لی، تو علماء کی اکثریت نے عبدالنبی کے خلاف فیصلہ سنایا ۔ لہٰذا اس پر اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ علماء جس طرح سلطنت کے معاملات میں دخل دے رہے ہیں وہ اس کی صلح کل اور رواداری کےبالکل خلاف ہے’ اور یہ بات اس کے سامنے بالکل واضح تھی کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے، اور ہندو اس کی سلطنت کےحامی ہیں، وہاں وہ علماء کی یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کے خلاف عمل کریں۔

لہٰذا اکبر نے اس موقع پر شیخ مبارک ابوالفضل کے باپ کو دربار میں بلایا، اور اس سے کہا کہ وہ اسے مولوی سے نجات کیوں نہیں دلاتا۔ اس پر شیخ مبارک نے کہا کہ آپ مجتہد اور امام عادل کی حثییت اختیار کرلیں، اور ان تمام علماء سےایک محضر پر دستخط لے لیں۔ اس کے بعد ان کی کوئی طاقت و اختیار نہیں رہے گا او رآپ تمام مسائل پر اپنافیصلہ دے سکیں گے۔ چنانچہ یہ محضر تیار ہوا اور اس پر تمام علماء سےدستخط کرائے گئے ان پر مخدوم الملک او ر عبدالنبی بھی شامل تھے ۔

اس پر ہی بس نہیں ہوا بلکہ کچھ علماء نےاکبر کی خوشنوی حاصل کرنے کےلئے اسے صاحب الزماں بنا دیا، کہ جو اسلام کے تمام فرقوں کو متحد کرے گا۔ شریف آملی نے ایک پرانی دستاویز دکھا کر یہ ثابت کیا کہ 900 ہجری میں ایک شخص آئے گا جو دنیا سےتمام برائیوں کا صفایا کردے گا۔ خواجہ مولانا شیرازی ایک پمفلٹ لے کر آئے جو کسی شریف مکہ کا لکھا ہوا تھا اور اس میں مہدی کےظہور کی خوش خبری دی گئی تھی، اس کے بعد انہوں نے خود ایک رسالہ لکھ ڈالا جس میں اکبر کو مہدی قرار دے دیا۔( بدایونی ۔ II۔ص۔695)

اس کے بعد تو حالت یہاں تک ہوگئی کہ علماء ، مفتی،اور قاضی بادشاہ کو خوش کرنے کےلئے دربار اور شاہی پارٹیوں میں شراب تک پینے لگے۔ ( بدایونی ۔ II۔ ص ۔319)

اکبر نے جب علماء کے رویہ سے مایوس ہوکر مذہبی معاملات میں آزاد خیالی اختیار کی تو اس پر بھی کچھ علماء میں بے چینی پھیلی اور یہاں تک ہوا کہ اس پر کفر کے فتوے لگنا شروع ہوگئے ۔ ان حالات میں اکبر نےفیصلہ کیا کہ علماء کی مخالفت سلطنت میں ان کی دخل اندوزی اور ان کے فساد کو ختم کیا جائے اس لئے اس سلسلہ میں تین باتوں پرعمل کیا۔

اول ۔ ایسے علماء کو جنہوں نے اس کے خلاف کفر کے فتوے دیئے تھے، اور عوام کو بغاوت پر اکسایا تھا، ان علماء کو اس نے گرفتار کراکے کسی نہ کسی طریقے سے انہیں قتل کرادیا ۔مخدوم الملک اور شیخ عبدالنبی کو حج پر جانے کاحکم دیا، اور ساتھ میں ان سے کہا کہ وہ بغیر شاہی اجازت کےواپس نہ آئیں۔ لیکن جب وہ اس امید میں واپس آئے کہ اکبر کے خلاف بغاوتیں شروع ہوگئی ہیں اور شاید وہ دوبارہ سےاقتدار حاصل کرلیں تو اکبر نے دونوں کو قید میں ڈلوا دیا اور پھر انہیں بھی قتل کرادیا۔

دوم۔ پنجاب کے علماء جن کے بارے میں اکبر کو خیال تھاکہ اس کےخلاف ہیں، انہیں ہندوستان کے مختلف حصوں میں بھیج دیا۔ اور اس طرح سےان کی اس طاقت و اثر کو ختم کردیا کہ جو ایک جگہ رہنے کی وجہ سے تھا۔

سوم۔ اکبر نے تمام مشہور علماء کو دربار میں طلب کیا، ذاتی ملاقات اور گفتگو کے بعد انہیں مدد معاش کے طور پر زمینیں دیں، اس طرح سے اس نے اول ان کی وفاداری کو جانچا اور پھر ان کی مالی امداد کو جاری رکھا۔

اس طرح اکبر نے صرف ان علماء کو ریاست کی ملازمت میں رکھا کہ جو اس سے وفادار تھے اس نے ان کے مذہبی خیالات سےکوئی غرض نہیں رکھی لیکن اس بات کا خیال رکھا کہ وہ لوگوں میں بغاوت و فتنہ و فساد پیدا نہ کریں۔

اس کے بعد اس کا دوسرا قدم یہ تھا کہ سلطنت کےاہم معاملات کو علماء کے بجائے دانشوروں کےہاتھوں دیا جائے، اس لئے حکیم ابوالفتح ، حکیم حمام، حکیم علی، حکیم عین الملک اور شیخ فیضی وہ لوگ تھے جو دربار میں اہم ہوگئے اور بادشاہ کو مشورے دینے لگے۔ اکبر نے اسی قسم کےدانشوروں کو کہ جن کے مذہبی خیالات لبرل ہوں، انہیں بڑے شہروں میں اہم عہدوں پر مقرر کیا تاکہ وہ وہاں قاضیوں او رعلماء پر نظر رکھیں ۔ ( احمد شبیر ۔157)

اکبر کی اس پالیسی کانتیجہ یہ ہوا کہ ایک تو دربار سے علماء کے اثر و رسوخ کا خاتمہ ہوگیا، او راسے اس بات کاموقع مل گیاکہ وہ آزادی کےساتھ صلح کل اور رواداری کےساتھ حکومت کرسکے ۔ علماء کےزوال کے ساتھ ہی لوگوں میں اکبر کے عقائد کےبارے میں جو باتیں پھیلیں تھیں ان کا بھی آہستہ آہستہ خاتمہ ہوگیا، اکبر اور اس کے بعد اس کےدو جانشیں جہانگیر شاہ جہاں ان کے اثر سے آزاد رہے، اور مغلوں نے ایک ایسی سیکولر پالیسی کو اختیار کیا کہ جس میں مذہبی تنگ نظری اور تشدد نہیں تھا ۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content