Urdu Section(24 Dec 2013 NewAgeIslam.Com)
Illogical Claim on Using the Word Allah لفظ اللہ کے استعمال پر غیر معقول مطالبہ

 

اسحاق یعقوب

20نومبر 2013

تمام مخلوق ایک کائنات ہے اور اس کائنات کی تخلیق کرنے والا خدا صرف ایک ہی ہے ۔ اللہ نے اپنے فنکارانہ دست قدرت سے انسانوں کو ان کے پورے شاہکار کے ساتھ پیدا کیااور وہ تمام انسانوں کاخالق ہے جو  تمام انسان اپنے خالق کے طور پر اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ دنیا  میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہی کر سکتا کہ صرف وہی خدا کی مخلوق ہے اور  دوسرے لوگ اس کی مخلوق نہیں ہیں ۔  ہر شخص یہ دعویٰ  کر سکتا ہے کہ  اللہ اس کا خالق ہے اور  اسے اپنے معتقدات اور طریقے کے مطابق اس کی عبادت کرنے اور اس کی فرمابرداری کرنے کا حق حاصل ہے ۔ لہٰذا یہ بات اب تمام لوگوں کے لئے واضح ہو گئی کہ خدا سب کے لئے ہے اور وہ تمام انسانوں سے اسی طرح محبت کرتا ہے جس طرح انسان اپنی اولاد سے۔ یہودیت کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب تمام لوگوں کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں  کوئی بھی ان مذاہب پر عمل کر سکتا ہے ۔

آج   پوری دنیا ایک عالمی گاؤں (global village)بن  چکی ہے اور تمام لوگ یکجا ہو چکے ہیں  ۔ اور یہ سب کچھ میڈیا اور لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے ہوا ہے ۔ میڈیا کے ذریعہ اب کچھ بھی پردہ خفا میں نہیں رہا  ۔ ہر چیز بالکل عیاں ہے اور تہذیبیں ایک دوسرے مین خلط ملط  ہو چکی ہیں ۔ یہاں تک کہ اسے مخلوط  تہذیبوں کا ملک  بھی کہا جاتا ہے ۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں کافی علم ہے ۔ ان عالمی مظاہر کے تعلق سے کوئی بھی حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ زبان ایک بہت بڑا آلہ کار ہے اس لئے کہ یہ ایک انتہائی اہم حقیقت ہے ۔ زبان  ہی کی وجہ سے لوگ دوسری  تہذیبوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں اور انہیں اپنا رہے ہیں ۔ لوگ ہر زبان کو جانتے ہیں یہاں تک کہ دوسرے ممالک کی زبانوں کو بھی جانتے ہیں ، لہٰذا اسی حقیقت کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے تک رسائی حاصل کر رہے ہیں ان کے پاس دوسری تہذیبوں کا بھی کافی علم ہے۔

ملیشیا میں 14 اکتوبر 2013 کو ایک عدالت نے یہ  فیصلہ دیا ہے کہ عیسائی لفظ‘‘ اللہ’’  کا استعمال نہیں کر سکتے ۔ یہ نام مسلمانوں کے لئے  ہی خاص ہے۔ چیف جج  محمد اپینڈی نے کہا کہ  لفظ ‘‘اللہ ’’ عیسائیت میں مذہب کا لازمی حصہ نہیں رہا ہے ۔ عیسائی اخبار کے ایڈیٹر  فادر. لارنس اینڈریونے کہا کہ یہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ کیوں کہ عیسائی ملیشیا کے اسٹیٹ بننے سے پہلے لفظ اللہ استعمال کیا کرتے تھے ۔ دوسری طرف  100 سے زیادہ مسلمان بینر  وغیرہ کے ساتھ ان کی اپیل کی حق میں موجود تھے ۔ ان میں لکھا ہوا تھا کہ اللہ صرف اسلام کے ساتھ خاص ہے۔

اس فیصلے کے بعد پوری دنیا میں بہت سارے لوگ دنیا کے اتحاد کے بارے میں  سوچ رہے ہیں اور یہ گمان لگا رہے ہیں کہ اس فیصلے کا اس دنیا پر کیا اثر  ہوگا ۔ کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لئے یہ فیصلہ درست ہے ؟ ایسالگتا ہے کہ لوگوں نے اس فیصلے کو پسند نہیں کیا اس لئے کہ اس دنیا  میں لوگ دوسرے مذاہب کے تئیں بہت زیادہ سنجیدہ ہیں ۔انہیں اس فیصلے کی کوئی معقول وجہ نہیں ملتی ۔

اس لئے کہ اللہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی تمام مخلوقات کے لئے ہے ۔ اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہی کہ لفظ اللہ صرف مسلمانوں کے لئے ہی مخصوص ہے تو خطے کے ان لوگوں کا کیا جن کا تعلق وہیں سے ہے اور جن کی زبان بھی وہی ہے  اور جن کی بنیادیں بھی  اسی خطے میں ہیں ؟ ملانی زبان ان کی مادری زبان بھی ہے ۔

اگر مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لفظ اللہ صرف مسلمانوں کے لئے  خاص ہے تو انہیں اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ یہ لفظ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے ۔

یہ امر بھی انتہائی واضح ہے کہ  ظہور اسلام سے پہلے ہی لفظ اللہ کا وجود تھا  اور اس خطے کے لوگ اس ذات باری کے لئے لفظ اللہ کا استعمال کیا کرتے تھے ۔

دوسری طرف عیسائی لوگ انگریزی میں ‘‘اللہ’’ کے لئے  لفظ  ‘‘گاڈ ’’ کا ا ستعمال کرتے ہیں ۔ جس کا مطلب دنیا کا خالق ہے ۔ یہ عبرانی زبان میں لفظ Elohim  کا ترجمہ ہے ، اس کا مطلب اس کائنات کا خالق اور  خدا ہوتا ہے ۔ بالکل اسی طرح لفظ ‘‘اللہ ’’ کا مطلب ہے، خالق یا سبحان ۔ عربی زبان کا لفظ اللہ انگریزی کے لفظ ‘‘گاڈ ’’ کے برابر ہے ۔لہٰذا لفظ اللہ کے جمع کا صیغہ نہیں بنایا  جاسکتا اور نہ ہی اسے کسی جنس کا ساتھ  متصف کیا جا سکتا ہے ۔

اگرعدالت عیسائیوں کو لفظ ‘‘اللہ’’ کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ اس فیصلے کی وجہ سے ایک مسئلہ پید اہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ گفتگو کے دوران بات چیت کے لئے کس لفظ کا استعمال کیا جائے گا ۔ ہر تہذیب و ثقافت میں خدا کا نام وہاں کی مقامی زبان کے اعتبار سے ہے۔‘‘ گاڈ’’ یا‘‘اللہ’’ انسانوں کی اس کائنات کے اسی خالق کے نام ہیں ۔اور عیسا ئی اور مسلمان ایک ہی خدا  کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ لہٰذا اس میں کوئی ابہام یا  پیچیدگی نہیں ہونی چاہئے ۔

عیسائیوں کو لفظ اللہ کے استعمال سے روکنے کی بات معقول نہیں لگتی ۔ ایسی باتیں کہی گئیں ہیں کہ اگر وہ لفظ اللہ کا استعمال کرتے ہیں تو ملک  میں  مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور کچھ دوست یہ کہتے ہیں کہ لفظ اللہ کا استعمال کرتے  ہوئے عیسائی مسلمانوں کو  عیسائی بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔ یہ معقول بات نہیں ہے، پیارے ! اب وقت اور حالات بدل چکے ہیں ۔ اب لوگ مذہب کی کار کردگی یا ذاتی باطنی  رویہ کی بنیاد پر مذاہب  سے وابستگی پیدا کرتے ہیں ۔ وہ گزرے وقت کی بات تھی ، اب لوگ بغیر کسی تفریق کے اس دنیا کی خدمت کرتے ہیں ۔ اور پوری دنیا یہ جان گئی ہے کہ انسان سب سے زیادہ اہم ہیں ۔

تاہم لفظ اللہ  عربی زبان کا ایک لفظ ہے لیکن اس خطے میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی پیدائشی اور نسلی اعتبار سے اقامت پذیر ہیں ۔ ملیشیائی حکومت کو حالات کا جائزہ لینا چاہئے ۔ جیساکہ  فادر. لارنس اینڈریو کا کہنا ہے کہ اگر اس لفظ کا استعمال بائبل میں کیا جا رہا  ہے تو وہ لوگ اس لفظ کا استعمال اپنی اشاعتوں اور طباعتوں میں کیوں نہیں کر سکتے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.pakistanchristianpost.com/viewarticles.php?editorialid=1812

URL for English article:

 http://newageislam.com/islam-and-politics/ishaq-yaqub/illogical-claim-on-using-the-word--allah-/d/14256

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ishaq-yaqub,-tr-new-age-islam/illogical-claim-on-using-the-word-allah-لفظ-اللہ-کے-استعمال-پر-غیر-معقول-مطالبہ/d/34984