certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (17 Nov 2018 NewAgeIslam.Com)




TOTAL COMMENTS:-   6


  • ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ میلاد النبیﷺ کو مانیں یا اسکا انعقاد کریں۔ یہ تو اپنی اپنی قسمت ہے۔ لیکن اگر تم نے ہمیں عید میلاد النبیﷺ منانے پر مشرک یا بدعتی کہا تو پھر ہم تمکو قبر تو کیا حشر تک نہیں چھوڑیں گے۔ ہم رسول پاک ﷺ کے غلام ہیں سمجھ لو اس بات کو۔ نبیﷺ کا غلام پکا توحید پرست ھوتاہے مشرک یا بدعتی ھو ہی نہی سکتا۔ تمہارے جھوٹ اور بہتان کے جواب میں ہمیں سچ کا دفاع کرنا ھو تا ہے۔
    We do not force anyone to celebrate our Prophet's (peace be upon him) birthday. Its your choice. But when someone calls us Pagan (Mushrik) Innovator (Bidatee) because we love to celebrate the birth of our prophet (pbuh) then we will expose and oppose that person until his grave and also on the Judgement Day. We are the servants of Prophet Muhammad (peace be upon him). We cannot be Mushrik OR Bidatee. We have to defend the truth against the lies and false accusations. Stop the hate and lies.

    By Syed Soharwardy - 11/18/2018 7:34:08 PM



  • The Saudi hate towards Eid Milad un Nabi ﷺ is the root cause of extremism & intolerance among some Muslims. Those Muslims who celebrate Eid Milad un Nabi ﷺ (Prophet Muhammad's (pbuh) Birthday) the Saudi Clergy and their followers call them pagans (Mushrik), Innovators (Bid'atee). This is where the division among Muslims starts. This is what creates extremism, intolerance and violence towards fellow Muslims which spreads out towards non-Muslims as well. This is the starting point of ISIS, Taleban, AlQaedah, Al Shabab, Lashkar Taibah, Lashkar Jhangvi, Boko Haram, etc.. All these terrorists are the followers of Saudi Clergy. But all Western countries including my country Canada is selling lots of weapons to Saudi Arabia. Saudi Arabia is still exporting Wahabism. No one dare to stop it. Insha Allah we will do everything in our power to expose and oppose these hate mongers.
    By Syed Soharwardy - 11/18/2018 5:55:34 PM



  • Mohammad Shabbir:
    سوال ارباب افتاء وقضاء سے
    _____________________
    جس طرح شہادت ہلال سلسلے میں 'ٹی وی' ویڈیو' تصویر' موبائل فون کالینگ' موبائل ویڈیو کالینگ' اوڈیو تقریری اعلان یہاں تک کہ لیٹر پیڈ بذریعہ میڈیا جو وائرل کیا جاتا ہے'یہ سب جدید ذرائع دلیل شرعی کے طور پر نہ مقبول و محمود نہ قابل اعتماد ہو تا ہے تو کیا کسی پر حکم کفر جیسا عظیم فتوی لگانے کیلئے یہ سب دلیل شرعی بن سکتا ہے؟اگر بن سکتا ہے تو انکے لئے کن کن شرائط سے گذرنا ہوگا؟اور جو مفتیان کرام حضرات کسی کی صرف ویڈیو دیکھکر کسی کی صرف تقریر سن کر کسی کی صرف تصویر دیکھکر کسی کی صرف  موبائل کالینگ رکارڈینگ سن کر کسی کی صرف موبائل کالینگ ویڈیو سن کر حکم کفر لگادیں نہ صاحب معاملہ سے اسکی تصدیق کرے نہ تحقیق کرے اور کفر و فسق وفجور وغیرہ کا حکم لگا دے تو ایسے مفتیوں پر کیا ہوگا؟ اور جو حضرات لوگوں کو اعتماد دیلانے کیلئے کسی کی ویڈیو خوب عام کرے تصویریں خوب عام کرے کسی کی ویڈیو نیٹ پر خوب تلاش کرے اور پھر اسکو لوڈ کرکے  میڈیا میں خوب پھیلائے ایسے لوگوں پر کیا حکم 
    ہے 
    سائل محمد کلیم رضا/

    By محمد کلیم رضا - 11/17/2018 7:57:54 AM



  • میرا سوال یہ ہے کہ ‘‘النعمۃ الکبری علی العالم فی مولد سید ولد آدم ’’ کیا واقعی علامہ ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ کی ہے ؟

    یا کسی نے اس کتاب کو ان کی طرف منسوب کرد یا ہے ؟

    سوال یہ ہے کہ انتساب درست ہے کہ نہیں؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں


    By Khalid - 11/17/2018 3:36:48 AM



  • شفا شریف کی روشنی میں یہ واضح کردیں کہ علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کی مذکورہ تفسیر اور شفا شریف میں کی عبارت میں بظاہر تضاد اس میں کیسے  مطابقت ہوگی ؟


    By Bassam Shafi - 11/17/2018 3:34:12 AM



  • ھاروت اور ماروت کا جو یہ واقعہ مشہور ہے کہ ان سے بد فعلی ہوئ جس کی سزا میں ان کو بابل کے کنویں میں لٹکا یا گیا حالانکہ دونوں فرشتے تھے جیسا کہ تفسیر نعیمی میں درج ہے یہ سب باتیں معتبر ہے یا نہیں اور دیگر تفسیر وں سے اس کو ثابت فرما کر شکریہ موقع فراہم کریں –

    ایک جگہ میں نے جواب میں پڑھا

             صورت مستفسرہ میں سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیمات اسلاف کرام کی روشنی میں یوں تحریر فرمایا ہے :

    قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکارشدید ہے، جس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ نے فرمایا:

    ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم۔

    یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔ ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔ سیدناخضروسیدناالیاس وسیدناعیسٰی صلوات ﷲ تعالٰی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔

     الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ،۲/ ۱۷۰

    اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ :انما نحن فتنۃ فلاتکفر۔ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ 📚 القرآن الکریم،۲/ ۱۰۲

    اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔

    بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف۔

    اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے(ت)

     الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی، فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ، المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۱۷۱ (📘بحوالہ فتاویٰ رضویہ ،کتاب الفرائض، جلد ٢٦، صفحہ نمبر ٣٩٥)) والله و رسوله عزوجل و ﷺ أعلم بالصواب

    برائے کرم کیا بہتر ہے ضرور جواب عنایت فرمائیں


    By Bassam Shafi - 11/17/2018 3:31:49 AM