certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ راجدھانی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انجنیئرنگ کالج اڈیٹوریم میں اتحاد  بین المسلمین پر ایک پانچ روزہ پروگرام منعقد کیا گیا ۔ ایک مشہور عالمی تنظیم (جس کانام ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے) کے تعاون سے ہورہی اس کانفرنس میں ملک بھر کے علمائے کرام او ر دانشوروں  کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے ۔ اس کانفرنس کے آخری دن بھی علماء کی دھواں دھار تقریریں جاری تھیں ، اتحاد بین المسلمین کےنعرے بلند کئے جارہے تھے ، علماء اپنی تقاریر میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کا پیغام دے رہے تھے ، تقریروں میں بار بار بتایا جارہا تھا کہ شیعہ سنی کو آپس میں لڑوانا یورپ امریکہ کی سازش ہے اس لئے ،اس سے بچو۔

 

ایک بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ باچا خان نے جد وجہد کا آغاز کیا تو ا سکا ایک ہی مقصد تھا ، کہ کسی طور پختون   خطہ میں تبدیلی آجائے ۔  اور یہ جانتے ہوئے کہ تبدیلی صرف تعلیم سے آسکتی ہے ، موصوف نے اسے باقاعدہ تحریک  کی شکل دینا چاہی ۔ سیٹلڈ اضلاع میں انگریز نے اجازت نہ دی، تو اپنے ایک دوست فضل محمود مخفی کے ہمراہ ریاست دیر میں  اسکول کھولا ۔ جو اس تیزی سے مقبول ہوا کہ نواب صاحب گھبر ا گئے اور پولیٹیکل ایجنٹ کی مدد سے نہ صرف اسکول بند کروایا، اس کی عمارت بھی گرادی ، اور باچا خان کو ساتھیوں سمیت علاقہ  بدرکر  دیا ۔ مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور کچھ ہی عرصہ بعد ہشت نگر او رگرد و نواح میں اسلامیہ مدرسہ کے نام سے کئی اسکول کھولے ۔ جن کا الحاق جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کے ساتھ کرادیا گیا ۔ ان کے اور ڈاکٹر خان صاحب کے بچے بھی اسی مدرسہ میں پڑھتے رہے۔ 

 

Islamic Preachers Need to Strengthen the Foundational Islamic Principle of Moderation  !مسلم مبلغین اعتدال پسندی کے بنیادی اسلامی اصول کو نہ بھولیں
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

خدائے تعالی سے دعاء کرنے کے لیے مسلمانوں کو سب سے بہترین راستہ دکھاتے ہوئے قرآن کریم مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے: ‘‘اے اللہ ہمیں سیدھے راستے (صراط مستقیم) پر چلا’’۔ (سورہ الفاتحہ آیت: 6)۔ صحیح معنوں میں پورا قرآن اس آیت کی توضیح و تشریح ہے، کیوں کہ اس کتاب الہی کا بنیادی مقصد ہی ہدایت اور اعتدال کا راستہ دکھانا ہے۔ اس آیت کا مطالعہ کر نے کے بعد ایک سچے مسلمان کو ہمیشہ ‘‘صراط مستقیم’’ کی طرف اللہ کی ہدایت کا متلاشی ہونا چاہیئے جسے بجا طور پر اعتدال پسندی، یسر وآسانی، توازن، وسعت ظرفی اور فکری کشادگی کا راستہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

Can a Prophet Misunderstand a Revelation or a Dream? And How did the Lamb Replace Hz. Ismael (as)?  کیا ایک پیغمبر وحی یا خواب کے معنی غلط بھی سمجھ سکتا ہے ۔ اور حضرت اسمٰعیل کی جگہ دنبہ کہاں سے آیا

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا کے ذیل ہیں ‘‘ تدبر قرآن ’’ میں مرقوم ہے کہ ‘‘ خواب میں جوکچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل و تفسیر ہوتا ہے’’  جلد6، صفحہ 486۔ تدبر قرآن کے علاوہ ہمارے اکثر مفسرین کایہی نظریہ ہے کہ خواب کی تعبیر وحی ہوتی ہے لیکن یہ بات قرآن کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحی ہر تاویل و تعبیر سے بلند ہوتی ہے ۔ اس کے الفاظ واضح او رمبین ہوتے تھے ۔ تدبر قرآن میں یہ بھی تحریر ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو ایک سے زیادہ مرتبہ نظر آیا ۔ اگر ایک ہی بار نظر آتا تو اس کے اظہارکے لئے اِنّی رایت فی المنام  کا اسلوب زیادہ مناسب تھا ۔ اکثر مفسرین کا یہی خیال ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ خواب کئی مرتبہ نظر آیا لیکن حیرت کی بات ہے کہ اگر خواب وحی ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی ہورہی تھی اور وہ اس کی تعمیل نہیں کررہے تھے اگر خواب وحی ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلی مرتبہ  ہی خواب کی تعمیل کر چکے ہوتے۔

 

ویسے تو مکہ او رمدینہ میں اسلامی تہذیب کے بیشتر آثار سعودی عرب حکومت کے ہاتھ تباہ ہوچکے ہیں لیکن اب سرزمین حجاز میں ان آثار کا صفایا کرنے کے کام کو تیز رفتاری کے ساتھ آگےبڑھایا جارہا ہے اور لگتا ہے کہ گویا سعودی حکمراں اس مہم کو سر کرنے کے سلسلے میں ‘ کسی ’ معاہدے پر عمل کررہے ہیں جس کی مدت پوری ہونے والی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرزمین حجاز میں اسلام کے آثار قدیمہ  کا 95 فیصد حصہ مٹا دیا گیا ہے ، مکہ معظّمہ میں برطانوی ماسونیوں ( Freemasons) نورمن فوسٹر اور زہا حدید کے ہاتھوں بیت اللہ الحرام کے توسیعی منصوبے پر کام ہورہا ہے جنہوں نے اسلامی آثار کے ویرانوں پر شیطانی علامتوں سے بھر پور لمبی چوڑی عمارتیں   تعمیر کی ہیں۔

 

اپنوں کا ستم اور غیروں کا کرم اگر دیکھنا ہو تو اردو زبان کو دیکھ لیجئے کہ کس طرح محبت کی یہ زبان ہم ہندوستانیوں کے درمیان نظر انداز ہوتی چلی جارہی ہے اور اغیار کس طرح اس کی اہمیت اور ضر ورت کے قائل ہوتے جارہےہیں ۔ بہت  دنو ں کی بات نہیں بلکہ اسی ہفتہ منظر عام پر آنےوالی  اُن دو خبروں  کا سر سری  جائزہ لینا مقصود  ہے جو اردو کی بڑھتی مقبولیت کے حوالہ سے بھی قابل قدر کہلا سکتی ہیں اور اردو کی جڑیں  کاٹنے کے معاملہ میں غیر معمولی  اہمیت کی حامل سمجھ میں آتی ہیں ۔ چند دنوں کے درمیان اردو زبان کے تعلق سے اخبارات  میں شائع ہونے والی درجنوں خبروں کے درمیان دو خبروں  پرہماری توجہ ٹھہر گئی جس میں ایک طرف یہ بتایا گیا کہ ہندوستان کی واحد اردو یونیورسٹی جو مولانا آزاد کی شخصیت سے معنون ہے، اس کی ویب سائٹ  میں اردو کیلئے کوئی جگہ باقی  نہیں رکھی گئی ہے۔

 

20 اکتوبر کو اس اسلامی مملکت میں ایک ایسے عوامی رہنما  نے حلف  صدارت اٹھایا جو صرف دکھی انسانیت کو سہارا دینے سیاست میں آئے ۔ وہ سیاسی رہنما بن کر دولت چاہتے تھے اور نہ عزت و شہرت جس کے پیچھے بیشتر لیڈر پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں ۔ جو کوویدودو  (Joko Widodo) کی بے مثال داستان  حیات  یہ سبق دیتی ہے کہ ایک سیاست داں کو کس انداز میں ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئے ۔ 53 سالہ جو کوویدودو 21 جون 1961 کو انڈونیشی شہر’ سوراکارتا (Surakarata) میں پیدا ہوئے ۔ والد نوتو مہر دیجو معمولی بڑھئی تھے ۔ انہیں فرنیچر بنا کر بہ مشکل اتنی آمدنی ہوتی کہ روز مرہ آخراجات پورے ہوسکیں ۔ خاندان کرائے کے گھر میں مقیم تھا ۔ جو کوکی پیدائش کے چند سال بعد نوتو مقروض  ہوگیا ۔ حتیٰ کہ کرایہ ادا کرنے کو رقم نہ رہی۔ جوکو کی والدہ سد جیا متی  نے شوہر کو وہ قیمتی  برتن دیئے جو انہیں اپنے باپ سے پہلے بیٹے کے پیدائش پر تحفتاً ملے تھے ۔ مدعایہ تھا کہ شوہر انہیں بیچ کر رقم حاصل کرلیں ۔ یہ ایک خاتون خانہ کی طرف سے بڑی قربانی تھی ۔

 

Takfirism Violates Islam  (تکفیری گروپ  اسلامی تعلیمات کے خونخوار  دشمن  اور طالبانی میگزین ‘نوائے افغان جہاد’ کے  مضمون  ‘ کفر و ارتداد کا مجاہدین اسلام کے خلاف اتحاد’ کی سخت  تردید (حصہ1
Ghulam Ghaus, New Age Islam

قابل توجہ امر یہ ہے کہ طالبانی دہشت گردوں کے مطابق جہاد کا مطلب مرکزی دھارے میں شامل تمام غیر وہابی صوفی مسلمانوں اورسنی بریلویوں سمیت تمام شیعوں کا قتل کرنا ہے۔ کاشف علی الخیری صاحب کی طرح دیگر تمام طالبانی اور وہابی بھی ان  مسلمانوں کو مشرک اور مرتد مانتے ہیں۔ صوفی مسلمانوں کو "مشرکوں کی جماعت" اور پاکستانی شیعوں کو " متعہ کی پیداوار اور حرام کی اولاد" قرار دیکر طالبانی نظریہ ساز کاشف علی الخیری صاحب نے مضحکہ خیز انداز میں یہ کہا ہے کہ طالبانی دہشت گردوں نے دنیا کے تمام مشرکین کو شکشت دے دی ہے۔ اسی وجہ سے "فاتحہ خوانی کرنے والے، حلوہ  کھانے والے، تیجہ اور چالیسواں ماننے والے" ان دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

 

Search for Truth   حقیقت کی تلاش

تمام مذاہب دنیا کی زندگی کو اہمیت نہیں دیتے، کہتے ہیں دنیا کی زندگی ایک سراب ہے، آنکھوں کا دھوکا ہے ، اس دنیا سے دل نہ لگاؤ۔ اصل زندگی وہ ہے جو آنے والی ہے۔ اس کے برعکس قرآن  کہتا ہے ‘‘ یہ زندگی بہت اہم ہے ، آنے والی زندگی تو اِس کا نتیجہ ہے ’’ یہ زندگی وہ درخت ہے جس پر وہاں کا پھل لگے گا، جیسا درخت ہوگا ویسا ہی پھل لگے گا۔ دنیا کی زندگی  میں رچ بس جاؤ، اس سے ہم آہنگ ہوجاؤ ، اس زندگی میں توازن پیدا کرو، سکھی رکھو، سکھی رہو ، علم حاصل کرو، اپنے کردار سے اپنا مرتبہ بلند کرو، ہمدردی ، محبت، خلوص اپناؤ ، جو لوگ آس پاس مفلس ہوں، بے سہارا  ہوں، مسافر ہوں ان سب کے طعام و قیام اور خاطر داری کا بندوبست کرو، دولت کماؤ مگر سب سے لقمے بانٹ کر کھاؤ آخرت کی زندگی کا خوشگوار ہونااِسی بات پر منحصر ہے کہ تم یہاں کی زندگی کیسے گزارتے ہو ! مذہب دوسرے مذاہب کے خلاف زہر اُگلتا ہے ، تعصب پیداکرتا ہے ، کہتا  ہے صرف میں سچا ہوں باقی تمام مذاہب جھوٹے ہیں۔

 

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں وحدانیت اور للّٰہیت  پورے طور پر عیاں تھی، ان کی شاعری کا مقصد لوگوں کو صحیح راستے پر لانا تھا، اس کے لیے انہوں نے اپنی شاعری میں طرح طرح کے حربے استعمال کئے، جس کی وجہ سے ان کی شاعری میں تلخی محسوس کی جاتی رہی  اور طنز و مزاح کا عنصر  بھی  ان کی شاعری  میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ اکبر کی شاعری سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی شاعری میں تو حید اور وحدانیت کاپہلو بھی کافی حد تک پایا جاتا ہے ، چونکہ اکبر کی  زندگی میں مذہب کو خاص اہمیت  حاصل تھی ، وہ مذہب کو انسانی زندگی کا محور جانتے تھے، ان کاعقیدہ تھا کہ مذہب ہی وہ ادارہ ہے جو انسان کی صحیح  رہنمائی کرسکتا ہے، انہیں مذہب اسلام سے گہرا  لگاؤ تھا ، وہ مذہب اسلام کے ارکان کی بھی پابندی کرتے تھے، مگر ان کے خیالات میں کٹر پن نہیں تھا۔

 

The Concept and Reality of Science   سائنس کا مفہوم اوراس کی حقیقت

دنیا میں جب انسان کا وجود عمل میں آیا اور زمین پر اس نے اپنی آنکھ کھولی تو خود کو خوفناک ترین او ربھیانک ماحول میں گھرا ہوا پایا ۔ چاروں طرف دہشت خیز جنگلات ، وحشی اور خوفناک خونخوار درندے ، سر بفلک پہاڑ، ندی نالے، سمندر اور ان کی طوفان انگیزیاں ، بادلوں کی چمک، کڑک او ر گرج، طغیانیاں ، سیلاب اور زلزلے الغرض یہ ناتوں ، کمزور اور بے سرو سامان انسان ہمیشہ پریشان رہتا ۔ اس  کی سمجھ میں نہ آتا کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہورہا ہے اور اس سے محفوظ رہنے کا کیا طریقہ ہے۔

 

Islam wishes to establish not only Peace but also Justice  اسلام کو دنیا میں صرف سلامتی نہیں بلکہ انصاف بھی قائم کر نا ہے
Ghulam Ghaus,Bangalore

ایک طرف شعہ سنی اختلافات نے اسلام کو کافی نقصان پہنچایا تو دوسری طرف غیروں نے ایک کی طرفداری کر کے دوسرے کو ختم کیا اور آخر میں تمام کو ختم کر کے خود فائدہ اٹھا لئے . یہ کام اسپین میں شاہ فرڈینینڈ نے کیا تو بیسویں صدی میں انگریزوں نے عرب ممالک میں کیا . آج جو مسلمان انگریزوں کی ایمانداری اور خلاص کی تعریف کر تے نہیں تھکتے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہی وہ انگریز ہیں جنہوں نے مکاری ، چھوٹ اور دھوکے سے بھارت کی مسلم حکو مت اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا اور وہاں کی تمام دولت لوٹ کر لے گئے . ہر طرف مسلمان اپنی ناعاقبت اندیشی کے سبب انکا شکار بن گئے . آج ہم لاکھ ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں ہم حضرت علیؓ اور معاویہ کے واقعات کو بدل نہیں سکتے ، کربلا کے واقعات کو بدل نہیں سکتے ، چنگیز خان اور ہلاکو خان کو شکست نہیں دے سکتے ۔

 

تقسیم ہند کے بعد تفہیم اقبال کی سمت ہی بدل گئی۔ ہندوستان میں اقبال کا نام لینا بھی جرم ٹھہرا۔اس کی پوری تفصیل پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے اپنے مضامین میں درج کی ہے۔ تشکیل پاکستان کے محرک اور تصور پاکستان کے بنیاد گزار کی حیثیت سے علامہ اقبال کا نام پیش کیا جا نے لگا اور ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘جیسا ’ترانہ ‘بھی اس ’لن ترانی‘ کوروک نہ سکا۔ علامہ اقبال پاکستانی بنا دیے گئے جبکہ ان کی وفات( 21اپریل 1938)کے وقت پاکستان کا کوئی جغرافیائی وجود ہی نہیں تھااور اب طرفہ تماشا یہ ہے کہ علامہ اقبال کوطالبانی فکرکے پیش رو کی حیثیت سے پیش کیا جانے لگاہے۔

 

Miracles of the Quran Part- 20  اعجاز القرآن ۔  قسط بیس

گزشتہ ابواب میں ہم قرآن کریم کو وحی الہٰی ثابت کرنے کے دلائل پیش کرتے چلے آرہے ہیں اس سلسلے  میں ہم نے مختلف ابواب قائم کئے ہیں ان ابواب  کا تعلق  مختلف علوم ہے اگر چہ ہم نے اپنی  استطاعت کے مطابق دلائل پیش کئے ہیں لیکن سچ یہ ہے ان ابواب کا حق وہ حضرات ادا کرسکتے ہیں جو ان متعلقہ علوم کے ماہر ہوں ۔ البتہ  ہم نے اس بارے میں پہل کردی  ہے کہ قرآن کریم کے وحی الہٰی ہونے کے دلائل ان خطوط پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اردو  میں اس مختصر رسالہ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کا ہے جو انہوں نے ہندوؤں کے ایک فرقہ آریوں سے مناظرے کے دوران تحریر فرمایا تھا۔ یہ رسالہ تقریباً 140 سال پیشتر تحریر کیا گیا ہے۔ دوسری  کتاب جناب محترم علامہ تمنا عمادی رحمۃ اللہ علیہ  کی ہے۔ یہ دونوں کتابیں مذہبی و روایتی نظر سے تحریر کی گئی ہیں۔ اگر چہ ان  دونوں کتابوں کے مصنفین بڑے بالغ نظر عالم تھے ۔ لیکن یہ دونوں کتابیں موجودہ دور کے ذہن کو مطمئن نہیں کرتیں خاص طور پر مغربی علوم سے متاثر حضرات کے ذہن کو اس دور میں ضرورت اس بات  کی ہے کہ ایک شخص صرف ایک ہی علم میں مہارت تامہ حاصل کرے۔

 
The Second Pillar ستون ثانی
Aiman Reyaz, New Age Islam

The Second Pillar  ستون ثانی
Aiman Reyaz, New Age Islam

نماز کیوں ادا کی جانی چاہیے؟ قرآن مجید ہر وقت اور ہر لمحے خدا کو یاد کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ اٹھنا بیٹھنا اور تمام برے کام کرنا نماز نہیں ہے۔ دوسری وجہ رسوم پرستی سے گریز کرنا ہے جسکی وضاحت خود قرآن کرتا ہے۔ یقینا نماز انسانوں کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اسی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے "کہ اگر نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے نہیں روکتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نماز مقبول نہیں ہوئی"۔

 

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 14  (روحانیوں کے عالمی  پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن( حصہ 14

رومی دنیا ئے تصوف کے بانیوں  میں ہیں،  وہ سماع کے موجد ہیں، روحانی رقص ان کی اختراع ہے۔ انہوں نے اپنی بانسری کی سریلی  آواز سےایک عالم کو رُلایا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ  کہ انہوں نے اہل تصوف کی بائبل لکھی ہے۔ جسے مثنوی معنوی  کی شکل  میں تمام ہی صوفی حلقوں میں اعتبار حاصل ہے۔ اہل دل کی مجلسوں میں اس کتاب کی باقاعدگی سے تعلیم ہوتی ہے ۔ بہتوں کی نظر  میں مثنوی کی حیثیت ‘ ہست قرآن درزبان پہلوی’  کی ہے۔ ابن عربی جنہیں تصوف کاشیخ اکبر کہا جاتاہے ، کے بعد اگر کسی شخص نے اہل سلوک کے قلب  و نظر پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے تو وہ مولانا رومی کی ذات ہے جسے اقبال جیسے نابغہ عصر کے ہاں بھی پیر رومی کی حیثیت  حاصل ہے۔

 

تبلیغی جماعت کو کارکنوں کی تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ کے لحاظ سے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک  کہا جاتاہے ۔ یہ جماعت ہر اس ملک میں متحرک  ہے جہاں مسلمان کسی بھی  قابل لحاظ تعداد میں بستے ہیں۔ اس کی بنیاد 1920 میں شمالی بھارت  کے  علاقے میوات میں رکھی گئی تھی اور اس نے عامۃ الناس سطح پر اسلامی تعلیمات سے آگاہی  اور شعور کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ چند سال قبل بمبئی میں میری ملاقات چند تبلیغی بھائیوں سےہوئی جنہوں نے مجھے تبلیغی کام کے لئے کچھ  وقت نکالنے کی ترغیب دی۔ آئندہ سالوں میں  ، میں نے کئی تبلیغی دورے کیے  اور دور  دراز دیہات  اور قصبوں کا سفر کیا جہاں  میں نے ایسی مسلمان برادریاں بھی دیکھیں جو اسلام کے متعلق  کچھ بھی نہیں جانتی تھیں ۔

Role Saudi Women Can Play  ایک  بہترین معاثرہ کی تعمیر میں سعودی خواتین بھی کردار ادا کرسکتی ہیں
Talal Alharbi

در اصل وہ رپورٹ اور تجزیے انسانی حقوق کے مغربی تصور کے مطابق لکھے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ انسانی حقوق کا ان کا معیار ہر ملک کے لئے موزوں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تصور یکسر غلط ہے۔ سماجی، روایتی اور مذہبی اقدار ہر ملک میں افراد کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے میں اپنا منفرد کردار ادا کرتے ہیں۔ جو لوگ سعودی عرب میں انسانی حقوق سے محرومی کی باتیں لکھتے ہیں وہ ہمارے معاشرے اور روایات کو نہیں سمجھتے۔

 

مدارس میں جمہوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ نصابی سطح پر بھی اصلاحات کی بہت گنجائش ہے۔ آج منطق اور فلسفے کی بحثیں بہت دور نکل چکی  ہیں لیکن چونکہ مدارس کی ‘ نصابی کتابیں ’ آج سےبہت پہلے لکھی جاچکی  اور نئی کتابیں شامل نصاب نہیں ہوئیں  اس لئے طلبہ منطق  و فلسفہ پڑھ کر بھی دور قدیم میں جی رہے ہیں ۔ یہاں پر ایک اور اہم بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی جہاں کہیں بات ہوتی ہے ‘ صاحبان مدارس’ ببانگ دہل احتجاج پر آمادہ ہوجاتےہیں ۔ ایسے میں جب کہ بڑی بڑی دانشگاہیں  پابندی سے ‘ نصابی کمیٹی ’ کی میٹنگ کرتی ہیں  اور نصاب میں ضروری  رد و بدل ہوتا رہتا ہے تو کیوں نہ ہمارے مدارس بھی اس روش کو اپنائیں تاکہ مدارس کے طلبہ کو فائدہ حاصل ہوسکے ۔

 

Islamic State and Pakistan  دولت اسلامیہ اور پاکستان
Mujahid Hussain, New Age Islam

پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔ پنجاب میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے مخصوص تعلیمی و تنظیمی مرکز کبیر والا(خانیوال) اور ملتان میں مقامی انتظامیہ ششدر ہے کہ کس طرح راتوں رات ’’نامعلوم‘‘ افرادنے پورے شہر کی دیواروں پر دولت اسلامیہ کے نعرے لکھ دئیے۔ملتان میں دولت اسلامیہ کے لیے چاکنگ کرنے والوں میں شامل گرفتارافراد پہلے ہی مقامی پولیس کو بعض سنگین جرائم میں مطلوب تھے اور اُن کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور عراق میں مصروف دولت اسلامیہ کے فرقہ وارانہ تصورات اور قتل و غارت سے فوری طور پر متاثر ہونے والوں میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی شامل ہیں، جنہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان میں دولت اسلامیہ کے حقوق حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔

 

مولانا آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے اندر ایک خوبی  یہ تھی کہ مولانا اپنی عمر سے زیادہ بڑے کام بڑی آسانی سے انجام دیتے تھے ،انہوں نے نہ صرف بارہ سال کم عمر ہی  میں ایک لائبریری ، پڑھنے کے لئے ایک مخصوص کمرہ ( ریڈنگ روم) اور بحث و مباحثہ کے لئے ایک سوسائٹی قائم کی تھی ۔ بلکہ مولانا نے 13 سال سےلیکر  18 سال کی عمر میں کئی رسالوں کی نمائندگی بھی کی اور مولانا پندرہ سال کی عمر میں اپنی عمر سے دو گنی عمر کےطالب علموں کو تعلیم دیا کرتے تھے ۔ جب مولانا 16 سال کے ہوئے تب ایک رسالہ اپنی ادارت میں شائع کرنا شروع کیا، 1923 میں جب مولانا کو انڈین کانگریس کا صدر منتخب  کیا گیا تو پنڈت جواہر لال نہر و نے مولانا کے صدر منتخب ہونے پر کہا تھاکہ ‘‘ مولانا کانگریس کے سب سے کم عمر صدر ہیں ’’۔1901 میں وہ کمزور سانوجوان لیکن بلند حوصلہ والا سلگتے دل لیکن ٹھنڈے دماغ والا ، نفاست کا عادی لیکن فیصلہ کا اٹل، بلا کا ذہن مگر نرم مزاج ، عظیم ہندوستانی سپاہیوں کی اس فوج میں شامل ہونے کاارادہ  رکھتا تھا جو قوم کی آزادی کی راہ کی طرف گامزن تھی ۔

 

اردو کے تحفظ و ترقی کے لیے مولانا آزاد  کی مساعی جلیلہ بڑی حد تک ملّی اداروں کی بقا  کی ضمانت ، اُن کی حیاتِ دوام اور ان کےتحفظ  کے مستقل اہتمام سےعبارت تھیں ۔ ملک کے طول  و عرض میں قائم دینی مدارس  بشمول دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلما، دارالمصنّفین اعظم گڑھ ، دائرۃ المعارف عثمانیہ ، حیدر آباد، رضا لائبریری رام پور، خدا بخش لائبریری پٹنہ، کتب خانہ ٹونک اور انجمن ترقی اردو( ہند) کے علاوہ انہوں نے مسلم یونیورسٹی  علی گڑھ اور جامعہ ملّیہ اسلامیہ ، دہلی کی بقا ، نشو ونما ، فروغ اور پائیدار تحفظ کے لیےبڑے منصوبہ بند، دانش ورانہ اور دور رس نتائج کے حامل اقدام کیے، جن کی تفصیل قدرے اختصار کے ساتھ یہاں پیش ہے۔

 

1984 میں جب ملک کی راجدھانی میں قتل و غارتگری کا جنون اپنے عروج پر تھا، اس وقت مشرقی دہلی میں واقع  مزدور پیشہ افراد کی بستی ترلوک پوری میں 300 سے زائد سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ جمنا کے اُس پار واقع اس بستی کو سب سے پہلے آزادی اور ملک کے تقسیم کے بعدپاکستانی حصے سےنقل مکانی  کر کے آنےوالے ہندوستانیوں  نےآباد کیا ۔ اس کے بعد 1976 میں ایمرجنسی کے دوران جب سنجے گاندھی نے جھوپڑ پٹیوں کو تباہ کرنے کی مہم چلائی تو بے گھر ہونے والوں نے تر لوک پوری میں پناہ لی اور اس بستی کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ 1984 کے قتل عام کے بعد سےمتوسط طبقہ کی اس بستی میں مختلف عقیدوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے اور دہلی کے دیگر علاقوں کی طرح اس علاقے میں بھی گزشتہ 3 دہائیوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی او رامن و امان قائم تھا۔

اردو زبان کے شیدائیوں  کیلئے آج  جشن کا دن ہے؟  ہمیں نہیں معلوم  مگر ہم نے برسوں یہ روایت ضرور دیکھی  ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم ولادت کی مناسبت اردو برادری  اُردو کا مرثیہ نہیں پڑھتی بلکہ اس کی عظمت اور مقبولیت کا خواہ مخواہ ڈنکا بھی بجاتی ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دراصل یہی وہ دن بھی ہے، جب اردو کے ادیبوں  ،شاعروں، دانشوروں او رمفکروں  کو بزم سجانے اور اردو کی کسمپرسی  کا قصہ بیان کرنے کابہترین موقع دے دیا جاتا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر ہمیں ذرا بھی حیرت  نہیں ہوگی، اگر ایک بار پھر محبان اردو آج مجمع لگائیں اور حسب روایت اردو کے  ماتمی  اجلاسوں کے انعقاد کے ذریعہ اردو نوازی کا دم نہ بھریں کیونکہ یہ دن اُن  کا ہے! البتہ یہ سوال ضرور کھڑاہوجاتا ہے کہ ‘‘ یوم اردو’’ اردو والوں کی عیاریوں ، مکاریوں، فریب کاریوں اور اردو کے تئیں اُن کی تمام تر بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کاذریعہ ہے یا پھر اردو کے حق میں نعرے بازیوں سے دو قدم آگے بڑھ کر خود احتسابی کا ایک موقع اور عملی دنیا آباد کرنے کا وسیلہ ؟ یوم اردو کے انعقاد کے جواز  پر کوئی تبصرہ کئے بغیر ہم یہ ضرورکہناچاہیں گے کہ اردو زبان بہ حیثیت مجموعی زوال کے دور سے گزررہی ہے اور اس کی دنیا بہ سرعت تمام محدود ہوتی چلی جارہی ہے ۔

 

برطانیہ کی سابق خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے کمیونزم کے زوال کے بعد کہا تھا کہ امریکی نیو ورلڈ آرڈر اور مغرب کے لئے اب سب سے بڑا خطرہ اسلام ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کو بھی اس خطرے کا احساس رہا ہو، مگر تاریخ میں امریکہ وہ بد قسمت سوپر پاور ملک ہے جو ابھی افغانستان میں اپنی فتح کے بعد اپنےعروج کے جشن کی تیاری میں مصروف ہی تھاکہ اس کے اپنے ہی ساتھیوں نے اس کے زوال کو پیشنگوئی  کرناشروع کردی۔ یعنی جس خطرے سے مارگریٹ تھیچر نے آگاہ کیا تھا اور جس افغانستان سے اس نے اپنے عروج کا اعلان کیا اسی افغانستان میں اس نے اپنے انجام کو بھی دیکھ لیا او ر ممکن  ہے کہ کچھ عرصے میں ہی اس کی ساری فوجیں امریکہ واپس لوٹ جائیں ۔



Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Yusuf sahib, The history of perfect compilation and total integrity of the Book that has been passed down to us from generation to generation ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Dear Vijay Prakash! e Nothing is good in Qur'an for this era when the animal self of man dominates his activities and aspirations - for the ....
    ( By muhammd yunus )
  • Dear Taslima Ansari, If NAI does not publish such articles, you do not have the opportunity of show-casing your ...
    ( By muhammad yunus )
  • Dear Ghulam Mohiuddin Sahab, This is how my jt publication attempts to capture the process of recording and compilation of the Qur'an and argues about ...
    ( By muhammd yunus )
  • In this otherwise brilliantly written ‘history’ there is one important factor missing and that is the West’s ....
    ( By Rashid Samnakay )
  • I have also once stated in one of my comments that in London a school has been established where anti-Islamic people are trained .....
    ( By Tasleema Ansari )
  • This view and belief is absolutely kufr. Why does New Age Islam publish such kufr-based articles? The study of all environment around the world ...
    ( By Tasleema Ansari )
  • Naseer sahib says that Najid Hussain did not say anything new but he ignores the key paragraph: "The final compilation....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Constitutionally guaranteed freedom of thought and freedom of speech pretty....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • @Abdulqadir Shora, Mir Moiz Iqbal I have heard that in Burma at first Muslims killed Buddhists. Humanity is above all religion...
    ( By Vijay Prakash )
  • Which among d 200million muslims of India ever terrorized other community...
    ( By Abdulqadir Shora )
  • @Vijay Prakash Muslims are being killed in Burma, Kashmir,Israiel and many parts of world.Tell me why Israel...
    ( By Mir Moiz Iqbal )
  • What is good in Quran? Terror? Halala? Burka? Talak? Wedding in close relationship?
    ( By Vijay Prakash )
  • Shahin Sb, If completed was meant, this is how the verse would have read...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Half-truth.writer has not talked about the other truths which discriminate bet women n men.2 women witnesses are equal to 1 male witness;...
    ( By Shehnaz Naikk )
  • The Quran does not contain the word "tasawuf" and the Sufi cannot therefore appropriate any part of the Quran as belonging ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Islam didn't require any reform, it automatically it reforms itself as and when needed.
    ( By Ghulam Hassan Bhat )
  • Islam should stop propagating hatred against followers of other religions. No propagation of religion ...
    ( By Scagarwal Agarwal )
  • Is the problem in Islam or bible or geeta or in the human mind/conciosness.dont change books tranform man.MAN IS A VIOLent ANIMAL!
    ( By Sarvadaman Krishna Banerji )
  • There is no God, no Allah, no Vishnu...nothing. All preachers of a new religion started out as greedy pretenders looking for power, and nothing ...
    ( By Abhijit Baruah )
  • Shahin Sb, الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا Translated by Yusuf Ali as “This day have I perfected your religion ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • It is truth that the word Jihad is not mean for non Muslims but Muslims believed and have faith on hole Qurran we accepted jihad ...
    ( By Guilty Gul )
  • Quran is perfect.......no changes needed..... U r not goed.....
    ( By Parvez Ishaq Ansari )
  • Word of God ???? How can a shapeless and formless God reveal a religion to human,???? If God needs to reveal the RELIGION to humans ....
    ( By Venugopal Bhat )
  • False flag holders you better find solace in Zionism,Christianity or worshipping Lings it is your problem.
    ( By Ghulam Ahmed )
  • Truth is only one where as its interpretation or understanding is depending ....
    ( By Shylaja J Nambiar )
  • We dont care about quran those follow quran nuts
    ( By Ram Mahendra )
  • Quran word preserved in space time you should change your life style according to Quran if you need to protect universes properly.
    ( By Ibrahim Muhammed Sulaiman )
  • Islam is Lamp of Truth and with your wimps it doesn't get off. We know who are behind these baseless ....
    ( By Hakeem Iftikar Ahmad )
  • All major religions Christianity Judaism Hinduism Buddhism have gone through transformation ....
    ( By Anil Kumar Sharma )
  • Is there any point discussing this if its been started by non islamist or those who don't believe in tauheed.......unless somebody ....
    ( By Faran Siddiqui )
  • An idiot of high standard
    ( By Drmushtaq Wani )
  • What rubbish r u discussing
    ( By Drmushtaq Wani )
  • The best thing abt the followers of islam is that they don't see any4hing wrong in their religion unlike in hindu religion we have ....
    ( By Navin Sethia )
  • Stipidity.Theres no new age or old age Islam. Islam is one and all. You are a FAKE I.D. TO CREATE PROBLEM IN ISLAM. TO HELL ...
    ( By Ahmed Kabeer Shahabudeen )
  • Sir you all are requested to go through your own religion very minutely then make discussion.
    ( By Mohd Yunus )
  • I like the views shared by Akhtar Alam, Muhammad Aslam & Muhammad Rafique.The writer Hasan Radwan seems to be more...
    ( By Wakeel Khan )
  • No one has the authority to ask for reform in the quran. Quran is not a ramayan or mahabharath is a ....
    ( By Irfan Khan )
  • They will never allow sane people to understand the reality of Islam as Prophet Mohammed wanted. Interpretations by different people ...
    ( By Madhusudan Kannan )
  • Not at all,.capacity and limit of a man is well defined in the Quraan.It is up to him understand.
    ( By AfZal Er Mohammad )