FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Dialogue on social and political issues in Lyon France    لیون فرانس میں انسانیت پر مباحثہ
Asghar Ali Engineer Tr. New Age Islam

لیون درمیانے سائز کا شہر ہے اور اسے اس کے پاس سے دو دریاؤں کے  بہنے کا  امتیاز حاصل  ہے اور اس طرح وہ   ایک نیم جزیرہ ہے۔ یہ رومیوں  کا ایک جائے قیام  تھا اور وہاں اب بھی اس زمانے کے  کھنڈرات موجود ہیں۔ یہ ایک بڑا ہی خوبصورت شہر ہے اور  شہر کے قلب میں تقریباً 700 ایکڑ کا  ایک بہت بڑا پارک ہے ۔ یہ اس ہوٹل سے صرف چند منٹ کے  فاصلے پر تھا  جہاں میں بہت سے دوسرے نمائندوں کے ساتھ قیام پذیر تھا ۔

System Based on Atheism and Democracy is not Acceptable Part 2 (ہمیں نظامِ کفر قبول نہیں (قسط 2

The author of this article Asmatullah Muawiyah is the former head of the banned terrorist organisation Sipah-e-Sahaba (Militia of the Companions of the Prophet) and the emir of Punjabi Taliban, Pakistan. In this article, he reiterates the Taliban’s ideological stand echoing Maulana Maududi’s view on democracy that it is an un-Islamic form of government and a system based on Kufr (non-belief). Of late, he has been trying to have a ‘meaningful dialogue’ with the Pakistan government for reasons known to him since his organisation Taliban has declared the Pakistan government a government of Kafirs though the majority  of the ministers are Muslims and Islamic Shariah is the basis of the law of the land.

In this article the Maulana has tried his best to drive home the point that all the social, political and economic ills of Pakistan are the result of the 65 years of this democratic system based on non-belief (Kufr) and only a system governed by the Taliban will rid the country of the corruption the country is mired in.

It should be noted that in their writings, the Talibani scholars harp on common issues of the people of the Pakistan and shed crocodile tears for them by mentioning the poverty, corruption of their leaders, plundering the wealth of the country by the feudal lords and Nawabs who have captured power, and never ever say anything on the issues of killing of Shias, destroying the Sufi shrines and carrying out suicide attacks on civilians in the residential and commercial areas.  In this article the Maulana has tried to show the human face of Taliban (though it has none) by shedding tears on the plight of the common people. Like most Urdu writers, he has used rhetoric and emotional rants spiced by Urdu couplets to arouse public sympathy in favour of the Taliban covering up their inhuman terrorist activities killing everyone who disagrees with them. They did not hesitate even to attack a 13 year old Muslim girl for peacefully opposing their policy. This article shows their duplicity in the worst form. We at New Age Islam will keep exposing this duplicity of these terror mongers and enemies of Islam.—Edit Desk, New Age Islam

اس مضمون کے مصنف  ممنوعہ دہشت گرد تنظیم  سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ اور پنجابی طالبان کے  امیر  عصمت اللہ معاویہ ہیں۔ اس مضمون میں  انہوں نے جمہوریت پر طالبان کے موقف  کا اعادہ اور مولانہ مودودی کے اس  نظرئیے کی تائید کی ہے کہ جمہوریت  ایک غیراسلامی اور کفر پر مبنی نظام حکومت ہے۔ فی زمانہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ‘معنی خیز ’ گفتگو کے خواہاں ہیں جو کہ ناقابل فہم  بات ہے کیونکہ طالبان حکومتِ پاکستان کو  کافروں کی حکومت قرار دے  چکے ہیں جبکہ اس میں وزیروں کی اکژیت مسلما ن ہے اور ملک کے قانون کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے۔

اس مضمون میں مولانا نے  یہ باور کرانے کی جی توڑ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل اسی 65 سالہ جمہوریت کا ثمرہ ہے جو کفر پر مبنی ہے اور یہ کہ صرف طالبان ہی   اس ملک کو بدعنوانی کے دلدل سے نکال  سکتے ہیں۔

یہ امر قابل  غور ہے کہ  طالبانی علماء پاکستان کےعوام کے  عام مسائل کا تذکرہ تو کرتے ہیں   اور غریبی ، لیڈروں کی بدعنوانی، حکومت پر قابض جاگیرداروں اور نوابوں کے ذریعہ ملک کی دولت کی لوٹ پر عوام کی ہمدردی میں گھڑیالی آنسو بھی بہا تے ہیں  مگر وہ شیعوں کے قتل ، صوفیوں کے مزاروں  کی تباہی اور رہائشی اور تجارتی علاقوں میں  شہریوں پر  خود کش حملوں کا کبھی  ذکر نہیں کرتے۔ لہذاٰ، اس مضمون میں مولانا نےعوام کے دکھوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر  انہیں  طالبان کا انسانی چہرہ  ( جو سرے سے ہے ہی نہیں ) دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اردو کے بیشتر شعراء کی طرح  انہوں نے جذباتی نعروں اور لچھے دار زبان کے ساتھ ساتھ اشعار کااستعمال کر کے طالبان کی انسانیت سوز سرگرمیوں اور مخا لفین کے قتل کی پالیسی  پر پردہ ڈالنے اور  طالبان کی حمایت میں عوامی ہمدردی بٹورنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ انہیں  انکی پالیسی کی پرامن طور پر مخالفت کرنے والی ایک 13 سالہ لڑکی  پر جان لیوا حملہ کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ اس مضمون میں بھی انکی  دوغلی پالیسی پوری طرح ظاہر ہو گئی ہے۔ نیو  ایج اسلام انکی اسی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔۔۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ  ڈسک  

Let’ s mourn together آیئے مل کر ماتم کریں
Editorial in the Sawtal Haque اداریہ

جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے وطن عزیز میں ایک رجحان چلا آرہا ہے او رہر بار یہ رجحان پختہ تر ہورہا ہے کہ جو نہی محرم الحرام کی آمد ہوتی  ہے تو ایک غیر معمولی او رہنگامی نوعیت کی صورتحال  پیدا  ہوجاتی ہے ۔ جس  طرح بجٹ کی آمد سے قبل اشیاء کی قلت ، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کے  امراض قوم کو لاحق ہوجاتے ہیں اسی طرح محرم کے آغاز میں مذہبی فضا میں تناؤ او رکھنچاؤسا آجاتا ہے ، حکومت کی طرف سے بعض علماء کی زبان بند ی ، بعض علماء پر دوسرے علاقوں میں جانے  کی ممانعت ، دفعہ 144 کا نفاذ ، اور انتظامیہ کو الرٹ کردینے کے احکام جاری کردیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہند سے پہلے یہ بغض ، کینہ اور عداوت نہ تھی ۔

 

Sheikul Islam, Sit In, Sectarian Perception and Current Situation شیخ الاسلام، دھرنا، مسلکی مناقشت اور حالات کا جائزہ
Mujahid Hussain, New Age Islam
اسلام آباد میں موسمی شدت اوردھرنے میں تیزی کے ساتھ کم ہوتی ہوئی لوگوں کی تعداد کے باوجود شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری آخر کارپاکستان میں ایسی صورت حال پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جو پاکستان کی پارلیمانی و مذہبی سیاست کو اپنا اگلارُخ متعین کرنے میں مدد دے گی۔اگرچہ ابھی تک بہت سے اندازے ہیں اور کوئی واضح تصویر دکھائی نہیں دیتی لیکن ایک بات بہت حد تک طے شدہ ہے کہ علامہ طاہر القادری نے پاکستان کے مسلح دیوبندی اور اہل حدیث دھڑوں کو پریشان ضرور کردیا ہے۔

 

Don’t give in to the detractors of followers of Sufism   صوفیوں کے پیروکاروں  کی تنقید کرنے والوں کے آگے سرنگوں نہ ہوں
Sadia Dehlvi Tr New Age Islam

اب، مسلم علماء کی  ایک جماعت نے  televangelist ذاکر نائیک کی تقریر کی مذمت اور ان پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اور قابل  تحسین قدم اٹھایا ہے۔ گزشتہ دسمبر کو  ذاکر نائیک کے خلاف مسلمانوں کا غم و غصہ  اس وقت واضح ہوگیا  جب اس نے یزید کے لئے    جملہ "رضی اللہ عنہ " کی دعا  یئیہ ترکیب استعمال کی  جو کہ ایک عیاش  حکمران اور امام حسین رضی اللہ عنہ ، جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں اور جنہیں کربلا  کی جنگ میں شہید کیا گیا تھا،  کا قاتل تھا ۔ پوری اسلامی تاریخ میں، یہ خاص لفظ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قابل اعتماد صحابہ کرام  کے لئے استعمال کیا گیا  ہے۔ ذاکر نائیک نے یہ کہا ہے کہ  حضرت محمدﷺ سے مانگنا  اور خدا کے ساتھ ان کی شفاعت تلاش کرنا کفر ہے ۔

 

System Based on Atheism and Democracy is not Acceptable Part 1 (ہمیں نظامِ کفر قبول نہیں (قسط 1

اس مضمون کے مصنف  ممنوعہ دہشت گرد تنظیم  سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ اور پنجابی طالبان کے  امیر  عصمت اللہ معاویہ ہیں۔ اس مضمون میں  انہوں نے جمہوریت پر طالبان کے موقف  کا اعادہ اور مولانہ مودودی کے اس  نظرئیے کی تائید کی ہے کہ جمہوریت  ایک غیراسلامی اور کفر پر مبنی نظام حکومت ہے۔ فی زمانہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ‘معنی خیز ’ گفتگو کے خواہاں ہیں جو کہ ناقابل فہم  بات ہے کیونکہ طالبان حکومتِ پاکستان کو  کافروں کی حکومت قرار دے  چکے ہیں جبکہ اس میں وزیروں کی اکژیت مسلما ن ہے اور ملک کے قانون کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے۔

اس مضمون میں مولانا نے  یہ باور کرانے کی جی توڑ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل اسی 65 سالہ جمہوریت کا ثمرہ ہے جو کفر پر مبنی ہے اور یہ کہ صرف طالبان ہی   اس ملک کو بدعنوانی کے دلدل سے نکال  سکتے ہیں۔

یہ امر قابل  غور ہے کہ  طالبانی علماء پاکستان کےعوام کے  عام مسائل کا تذکرہ تو کرتے ہیں   اور غریبی ، لیڈروں کی بدعنوانی، حکومت پر قابض جاگیرداروں اور نوابوں کے ذریعہ ملک کی دولت کی لوٹ پر عوام کی ہمدردی میں گھڑیالی آنسو بھی بہا تے ہیں  مگر وہ شیعوں کے قتل ، صوفیوں کے مزاروں  کی تباہی اور رہائشی اور تجارتی علاقوں میں  شہریوں پر  خود کش حملوں کا کبھی  ذکر نہیں کرتے۔ لہذاٰ، اس مضمون میں مولانا نےعوام کے دکھوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر  انہیں  طالبان کا انسانی چہرہ  ( جو سرے سے ہے ہی نہیں ) دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اردو کے بیشتر شعراء کی طرح  انہوں نے جذباتی نعروں اور لچھے دار زبان کے ساتھ ساتھ اشعار کااستعمال کر کے طالبان کی انسانیت سوز سرگرمیوں اور مخا لفین کے قتل کی پالیسی  پر پردہ ڈالنے اور  طالبان کی حمایت میں عوامی ہمدردی بٹورنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ انہیں  انکی پالیسی کی پرامن طور پر مخالفت کرنے والی ایک 13 سالہ لڑکی پر جان لیوا حملہ کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ اس مضمون میں بھی انکی  دوغلی پالیسی پوری طرح ظاہر ہو گئی ہے۔ نیو  ایج اسلام انکی اسی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔۔۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ  ڈسک

 

ہمارے ہاں سیکولر ازم تو ایسی گالی ہے کہ ایک دوست اخبار میں کسی عزیز پر سیکولر ہونے کا الزام لگاتے ہیں تو دوسرے بھائی مدافعت میں لکھتے ہیں کہ نہیں جناب، آپ نے انہیں سیکولر قرار دے دیا۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں ، وہ تو نہایت دین دار اور شریف انسان ہیں۔ بالواسطہ مفہوم یہ کہ سیکولر  ہونا تو گویا مذہب مخالف ہونے یا بد باطن ہونےکا  اعلان ہے۔نہیں بھائی ، سیکو لرازم تو ایک سیاسی نظام کا نام ہے جس میں سب عقائد کے یکساں احترام کی ضمانت دی جاتی ہے ۔ سیکولر نظام میں کسی عقیدے کے ماننے والوں کو غلط یا صحیح  قرار دیئے بغیر سب شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کی جاتی ہے ۔

 
Hamas is Israel's Creation حماس اسرائیل کی پیدا وار ہے
Farooq Sulehria Tr. New Age Islam فاروق سولہریا

Hamas is Israel's Creation   حماس اسرائیل کی پیدا وار ہے
Farooq Sulehria

عام طور پر، غزہ شہریوں کی  زندگی اوسط سے بہت  زیادہ مشکل ہو گئی  ہے  اس لئے کہ حماس نے بڑا اثر و رسوخ حاصل کرنا  شروع کر دیا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں یہ  یاد ہونا چاہئے کہ حماس اسرائیل کی ہی پیداور  ہے۔ یہ سچائی فلسطین کےباہر اچھی طرح   مشہور و معروف نہیں ہے۔ اسرائیل نے  چاہا  کہ اسلامی تحریک حتمی شکل اختیار کرے،مضبوطی حاصل کرے ،فلسطینی سیکولر حریفوں کو چیلنج پیش کرنا شروع کرے اور اس کے بعد حماس نے جو شکل اختیار کیا وہ آج ہے ۔ اسرائیل نے  غزہ کے اسلام پسندوں، کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے PLO اور یاسر عرفات کی الفتح کی بیخ کنی کرنے کے لئے کئی سالوں سے انہیں برداشت کیا اور ان کی  اور حوصلہ افزائی کی ۔

 

70 کے عشرے میں ‘تہذیبی تصادم’ کی اصطلاح وجود میں آئی، مالی اور فرانس انہی تہذیبی  تصادم کے لپیٹ میں ہے اور مالی حکومت بیچ  میں کٹھ پتلی کی مانند  ہے جس میں نہ انتہا پسندوں کو پسپا کرنے کی صلاحیت  ہے او رنہ ہی فرانسیسی  حملہ آوروں کو روکنے کی طاقت ۔ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو مالی  کے انتہا پسند اور فرانس دونوں کلچرل انتہا پسندی پر اتر آئے ہیں۔ آزادی اور مساوات انسان کا بنیادی کا حق ہے اور دونوں ہی ان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں ۔ فرانس میں حجاب پر پابندی ہے حالانکہ اگر کوئی خاتون اپنی پسند سےحجاب پہنے تو یہ اس کا حق ہے لیکن اس پر جرمانہ انتہا پسندی  ہی تو ہے اس کے برخلاف مالی  کے انتہا پسند وں نے زبردستی عورتوں کو حجاب پہنا  ناشروع کردیا یہ بھی انتہا پسندی ہی ہے

 

Why Is It Not Possible To Stop Sectarian Killing In Pakistan?  پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کو روکنا کیوں ممکن نہیں رہا؟
Mujahid Hussain, New Age Islam

کراچی کے ایسے مدارس میں بنوری ٹاون،نیو ٹاون اور جامع فاروقیہ کا حصہ سب سے زیادہ ہے کیوں کہ مذکورہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل علمائے اکرام اور طالب علموں نے پورے ملک میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔اگر فرقہ وارانہ لڑیچر کا جائزی لیا جائے تو بھی کراچی کے مذکورہ مدارس سرفہرست نظر آتے ہیں۔وہ چاہے مولانا منظور نعمانی کی فرقہ وارانہ کتب کی پاکستان سے دوبارہ اشاعت ہو یا مولانا محمود عباسی کے نفرت انگیز مقالات ہوں یاپھر مولانا یوسف لدھیانوی کے ادبی چاشنی سے لیس فرقہ وارانہ مضامین، حتی کہ مولانا اعظم طارق جن کی علمی و فکری نشو ونما کراچی کے مدارس اور ماحول میں ہوئی۔

 

کیا زمانہ آگیا ہے کہ شادی کو کاروبار  ، طلاق کو کھلواڑ اور تعدد ازدواج کی مشروط اجازت کو فرمان سمجھ لیا گیا ہے۔ اسلام ‘‘ہمیں دوسروں تک تعلیمات عام کرنے کا حکم دیتا  ہے لیکن آج غیر مسلم ہمیں اپنا سبق یاد دلارہے ہیں ، اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہیں ہوسکتی ۔ ویسے یہ پہلا موقع نہیں  ہے اس سے پہلے بھی ایسے  کئی فیصلے نظروں سے گزر چکے ہیں جن میں عدلیہ نے مسلمانوں کو آئینہ دکھایا ہے۔

 

EWS to felicitate the education of poor children غریب والدین  بچوں کی تعلیم کے لئے EWSاسکیم کا فائدہ اٹھا ئیں
Tariq Anwar
ابتدائی تعلیم اور اس کے نشیب  و فراز اور والدین و سرکار کی ذمہ داریوں پر اجما لاً گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ میرا اقلیتوں کی ہمدردی کا دعویٰ بھرنے والی تنظیموں  ، جماعتوں اور پارٹیوں کو بھی مشورہ  ہے کہ وہ اب میمورنڈم اور قرار داد کی  سیاست سے اوپر اٹھ کر بچوں کو اسکول تک لائیں اور یہ سمجھ لیں کہ ‘‘ Each one teach one’’ میں ہی غنیمت  ہے، کیوں کہ کامیابی  کی منزل تک جانے والا ہر راستہ تعلیم سے ہوکر گزرتا ہے ۔

 

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-10   نوائے افغان جہاد فتویٰ اور اسکی حقیقت ۔(قسط10..
یوسف العبیری امام حجر کا قول نقل کرتے ہیں  جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ‘‘ جمہور ’’ نے   دشمن کے کھجور کے درختوں  اور گھروں کو جلانے کے جواز کو اپنا یا ہے جب کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ،  اللیث رحمۃ اللہ علیہ ،ابوثور رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مکر وہ جانا اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی اپنے لشکروں کو کی جانے والی اس وصیت کو دلیل بنایا کہ وہ ان میں سے کوئی کام نہ کریں۔’’ خود  اوپر منقول اقتباس سے ظاہر  ہے کہ علماء جمہور نے درختوں اورگھروں کو جلانے کو ناپسند دیدہ قرار دیا ہے اور اس سلسلے  میں حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کی وصیت کو ہی قابل تقلید مانتے ہیں اور ان کی یہ رائے قرآن اور حدیث  کی تعلیمات کے عین  مطابق ہے ۔

 

Dowry- An Enemy of Human Being جہیز زندگی کا دشمن
Fazal Hadi
اسلامی تعلیمات کی روشنی  میں تو شادی کے موقع پر بیٹی کے باپ کاایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس ضمن  میں اگر قرآن و حدیث پر عمل کیا جائے تو اتنی نا انصافی ، غیر اسلامی روایات اور ظلم دیکھنے میں نہیں آئے گی۔ ہماری دین میں قانون سے بالاتر نہیں، لیکن قانون کے نفاذ میں ہمارے حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے یہ ذکر کرتے ہیں خلفائے راشدین کا اور ان کی حرکتیں  اس کے منافی ہیں۔

 

Salmaan Taseer’s Fight Against Blasphemy Laws Is Slowly Fading   توہین رسالت قوانین کے خلاف سلمان تاثیر کی جنگ بتدریج زوال پذیر ہو رہی ہے
Abdul Majeed

یہ تاریخ آپ کو یہ نہیں جاننے دے گی کہ ہندوستان کے خلاف تمام جنگوںکو بھڑکانے والاپاکستان ہی ہے ،طاقتور  USSRکے  ٹوٹنے  میں تھوڑا ہمارے  معزز جہادیوں کا  کو ئی رول نہیں تھا  اور یہ کہ   ،طالبانیوں کا وجودپاکستان ہی کی تخلیق ہے اور یہ کہ  ہندوستان  نے میں1995 ہمیں سب سے پسندیدہ ملک (MFN)  کا درجہ   دیا ، یہ تاریخ   یہ نہیں بتائے گی کہ پاکستان میں ایسے فل برائٹ  اسکالرز کی اچھی تعداد ہے جو  امریکہ میں امریکہ کے پیسے پر پڑھ رہے ہیں ،  اور نہ وہ یہ  بتائے گی  کہ اسامہ اپنے آخری گھر میں سکونت اختیار کرنے سے پہلے کئی گھر  تبدیل کر چکا تھا ،اور اس قسم کے بہت سارے حقائق ہیں  جو نظریاتی برتری کو چیلنج کرتے ہیں

Education and the Muslims مسلمان اور علم
Zafar Agha
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک غفلت کا شکار رہیں گے؟ آخر میں مسلمان تعلیم جیسے فریضے کی تکمیل کب کریں گے ؟ آج تعلیم سےدوری کے سبب اس اکیسویں صدی میں مسلمان دنیا کی سب سے  پسماندہ قوم ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمان تعلیمی میدان میں دنیا کی دیگر قوموں سے پیچھے  ہیں۔ حد یہ ہے کہ ہندوستان میں ہم  دلتوں سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ ابھی ڈیڑھ سو برس قبل انگریز افسران نے ہندوستانی مکاتب کے بارے میں  یہ لکھا تھا کہ ان اداروں کا تعلیمی معیار کسی آکسفورڈ کیمبرج یونیورسٹی سے کم نہیں لیکن آج ہمارے اسلامی  اسکولوں کی یہ حالت ہے کہ معمولی سا بھی پڑھا لکھا مسلمان اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخلہ دلوانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

 

Attack on Malala - Islamic or Un-Islamic?    ملالہ پر حملہ اسلا می ہے یا غیر اسلامی؟
Asghar Ali Engineer

تحریک طالبان پاکستان نے مذہبی سطح پر ملالہ پر حملے کو حق بجانب قرار دیا اور اسے‘‘ مغرب کا ایک جاسوس ’’بتایا ۔طالبان نے حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے  کہا کہ  ‘ اس جاسوسی کے’ لئے کافروں نے اسے انعامات و اکرامات سے نوازا ہے ۔اور اسلام نے ان لوگوگوں کے مارنے کا حکم دیا ہے جو دشمنوں کی جا سوسی کر تے ہیں۔دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ  ‘‘وہ  طالبان کو بد نام کرنے کے لئے مجاہدین کے خلاف افواہ پھیلا تی تھی ۔ قرآن  کا کہنا ہے کہ جو لوگ اسلام اور اسلامی افوج کے خلاف افواہ پھیلاتے ہیں انہیں مار دیا جانا  چاہئے ۔’’

 

Terrorist Taliban turns saviour for Pakistan  خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Mujahid Hussain, News Age Islam

تو صاحب ،اہل جہاد کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے ہزاروں افراد اور ان کے لواحقین سے انتہائی معذرت کے ساتھ یہ عرض ہے کہ ریاست پاکستان سرنگوں ہوچکی ہے ، اہل جہاد غالب آچکے ہیں اور اب اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں کہ ریاست ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔جو اہل جہاد کے ہاتھوں مارے گئے ان کا قصہ تمام ہوا،ریاست ان کے خون کے بدلے میں اہل جہاد سے کوئی مطالبہ نہیں کرسکتی۔ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کی اطلاح کے لیے عرض ہے کہ آپ جتنی جلد ممکن ہوسکے اپنے ہاں سے جاری تعلیم کو اہل جہاد سے منظور کروالیں بصورت دیگر اہل جہاد اب آپ کے تعلیمی اداوں کو بم لگا کر مسمار کرنے تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ آپ کو دین مخالف تعلیم دینے کے جرم میں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

Taliban Fatwa on Terrorism That Needs To Be Refuted دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔ حصہ 7

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

بلاشبہ ملکی قیادت اور جمہوریت کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار معیاری تعلیم پر منحصر ہے۔ ملکی ترقی کے تمام پہلوؤں پرمعیاری نظام تعلیم ہی براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ چاہے وہ صنعت زراعت کی ترقی، قانون کے نظام کی انجام آوری ہو، صحت یا سماجی ذمہ داری  کا احساس ہو۔

 

پاکستان  فرقہ پرستی  ، نسلی اور سیاسی تشدد کی گرفت میں آچکا ہے ۔ وہاں کوئی دن ایسا نہیں  گزرتا جب طالبان مسجدوں ، امام باڑوں درگاہوں ، گرجا گھروں ، مندروں ، گرودواروں ، لڑکیوں کے اسکولوں ، میڈیا والوں ،اقلیتی طبقات ، پولیس اور سیکوریٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر خود کش حملے نہ کئے جارہے ہوں۔ بیشتر ایسے حملوں کے لئے پاکستان طالبان ذمہ داری قبول کر تے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی  نہیں ہوپاتی ہے ۔

Seven Virtues of the Believers مومنین کی سات صفات
Nasim Akhtar Shah Qaisar نسیم اختر شاہ قیصر

آج ہم کہاں  کھڑے ہیں اور قرآن کے مطابق ہمارا وقت بھی گزر رہا ہے یا نہیں  اس کا جائزہ باریک بینی  او راپنے آپ سے ہمدردی  کے جذبات کے ساتھ لینا چاہئے اس لیے کہ جو لوگ اپنا محاسبہ کرتے رہتے اور اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں  اور پھر صراط مستقیم کی طرف رخ کر لیتے ہیں اگر ان سے اپنے ماضی  میں کچھ غلطیاں بھی ہو ئی ہو ں او رکچھ کمزوریاں  بھی رہی ہوں تو ان کا ازالہ ممکن ہے اور مستقبل کو تابناک بنانے کے امکانات ہر لمحہ موجود ہیں۔

 

Time To Abolish Polygamy   تعدد ازدواج کو منسوخ کر نے کا وقت آ گیا
Arshad Alam for New Age Islam

میں یہاں اسی  سے متعلق ایک مسئلہ اٹھانا چاہوں گا ، نزول قرآن کے زمانے میں اسلامی ریاست ایک ابھرتی ہو ئی ریاست تھی ۔اسلام کو طاقت و قوت کی فراہمی ایک نیک معاشرے سے ہوئی جس کی بنیاد بھائی چارگی اور پارسائی پر رکھی گئی تھی  اور جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی  عورتوں کی مفلسی اور  غریبی  وغیرہ ، جیسے اہم پہلؤں پر غور کرنا ایک نوخیز ریاست کے لئے  ممکن نہیں تھا ۔ان حالات میں اس بات کا تقاضا با معنی تھا کہ سوسائٹی سے  ایک ایسا اصول حیات مرتب کرنے کو  کہا جائے  جو  غیر محفوظ عورتوں کی حفاظت کر سکے ۔ ایسے حالات میں تعدد ازدواج اس کا سب سے آسان جواب تھا ، اس لئے کہ  جنسی محرک کے علاوہ  اس نے بے شمار عورتوں کو جذباتی اور اقتصادی طور پر غذا فراہم کیا ۔

 

Delhi Trial Court’s Recent Judgment on Polygamy تعدد ازدواج سےمتعلق دہلی ٹرائل عدالت کاحالیہ فیصلہ
Abdul Hameed Nomani
اگر اپنے حالات اور ضرورت کے مد نظر ایک سے زائد (4 تک) شادی کی ضرورت  محسوس کرتا ہے، تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس کی اسلامی شریعت نے اجازت دی ہے۔ آج کی تاریخ میں یہاں  یہ سوال قابل  توجہ ہوگیا ہے کہ کیا دوسری شادی کے لیے آدمی کو پہلی بیوی  کی اجازت اور رضامندی  حاصل کرنا ضروری ہوگا اور یہ شرط پوری کیے بغیر دوسری شادی نہیں کرسکتا ہے۔

 

Horrible Consequences Of Ill-Treatment Of Girls  لڑکیوں کے ساتھ منفی سلوک کے بھیانک نتائج

زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ در گور کیا جاتا تھا مگر اسلام نےاس برسوں پرانی قبیح رسم کا خاتمہ کردیا اور لڑکیوں کو جینے کاپورا حق دیا بلکہ لڑکیوں پر خصوصی توجہ دینے کی تاکید کی اور اس کے لئے بڑے اجر کی نشاندہی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ جو شخص بہترین طریقے سےلڑکیوں کی سر پرستی کرے ، ان کی تربیت کرے اور اچھا برتاؤ کرے وہ جہنم میں نہ جائے گا۔’’ (صحیح بخاری جلد دوم) ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ‘‘جو شخص دو یا تین بہنوں ، یا لڑکیوں کی بہترین طریقے پر تربیت کرے اورکسی طرح کی زیادتی نہ کرے وہ جنت میں جائے گا۔’’ (ترمذی) اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں لڑکیوں کو کتنے عظیم مقام سے نواز ا گیا ہے ۔

 
1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 71 72 73


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS