FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Kiswah, Pall of Kaabah for Sale in Pakistan  غلاف کعبہ برائے فروخت

ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس میں خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے کروڑوں میں فروخت کرنے والا لوگوں کی لعن طعن سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کا ان صاحب کو ادراک ہے تبھی تو انہوں اشتہار میں اپنا فون نمبر اور ایڈریس نہیں دیا۔ انکی نیت کے بارے میں مکمل تفصیلات کے سامنے آنے تک کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ یہ صاحب تو غلافِ کعبہ کے دو ٹکڑے ہی فروخت کر رہے ہیں‘ بلاشبہ دینِ حنیف کی حفاظت کیلئے جہاں کفن بردوشوں کی کمی نہیں‘ وہیں وطن فروشوں، ملت فروشوں اور مزیدبراں قلم فروشوں کی بھی بہتات نظر آتی ہے۔ آباءتو بت شکن تھے‘ ملت ِ اسلامیہ نے اپنے اندر کعبہ شکن بھی دیکھے۔ عبداللہ بن زبیر نے خدا کے گھر میں پناہ لی تو حجاج بن یوسف نے خانہ کعبہ پر سنگ باری کرادی۔ حج کے ایام میں غلاف کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ کر تبرک کے طور پرمحفوظ کر لیتے تھے بعض بخشش کےلئے میت کی آنکھوں میں ڈالتے تھے۔ ایک طرف غلاف کعبہ سے عقیدت کی یہ انتہا ہے تو دوسری طرف آج ملت اسلامیہ کے ایک فرزند نے اسکے غلاف کی قیمت لگا دی ہے۔

 

Towards A Progressive Interpretation Of Islam  اسلام کی ایک ترقی پسند تشریح کی طرف

ایک اہم فیصلے میں گزشتہ ماہ (ریاست  بنام ندیم خان کیس) دہلی کے ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر کامنی لاؤ نے  مذہبی سربراہان، پیشوؤں  اور مولویوں  پر زور دیا کہ  ‘‘ اوہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذہبی نصوص کی ترقی پسند  تشریح کی گئی ہے  اور اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے کہ  یہی وہ  فائدہ مند طرز عمل ہے جو انسانیت کے تمام طبقوں کے مفاد میں ہیں جس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور مشاہدہ کیا گیا  ہے۔’’ وہ ایک ایسے مولوی کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر رہی تھیں جس پر  ایک نوجوان مسلم لڑکی کا پہلے سے شادی شدہ ایک آدمی سے زبردستی نکاح کروانےکا الزام تھا  جس نےنکاح کے فوراً بعد ہی اس کی عصمت دری کر دی  ۔

 

آج کی خواتین کا دائرہ عمل اُن کے گھر کی چہار دیواری ہو یا کھُلی پڑی دنیا کی بسیط فضا، دونوں ہی میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے خود اعتمادی کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ اور اُسے محنت، لگن ، قابلیت سے  جلا ملتی  ہے۔ آج کی ہنگامی زندگی کا ہر دن غیر متوقع سانحوں سے دو چار ہوتا ہے، گھر ہو یا باہر حادثات  ہونے میں دیر نہیں لگتی   ، نہ کوئی واقعہ  پہلے سے آگاہ کر کے آتا ہے ،بار ہا خواتین کو تن تنہا  اُن  کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اُن کی خود اعتمادی معاون  و مددگار ثابت ہوتی ہے ۔

 

Prepare Muslim Youth to Behead Ahmadis  خود کش حملوں کے ذریعے احمدیوں کے قتل کے لئے مسلم نو جوانوں  کو تیار کریں، پنجاب میں بنیاد پرست  ملاؤں کا مطالبہ

حال ہی میں، احمدیہ مخالف تحریک‘   تحفظ ختم نبوت  کانفرنس ’کے سربراہ مولانا حبیب الرحمان ثانی لدھیانوی نے کہا کہ مسلمانوں کو تصوف کو خیر باد کہنا چاہئے ۔ احمدیہ فرقے  کو جڑ سے اکھاڑنے کی  ضرورت پر بولتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ مسلم والدین کو اپنے بچوں کو جہاد کے لئے تیار کرنا چاہئے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان  میں خود کش حملوں کے ذریعہ احمدیوں کا قتل کرنے کے لئے مسلمان ماں باپ کواپنے بچوں کو تیار کرنا چاہئے جیسا کہ  وہ پاکستان میں کر رہے ہیں ۔ ہندوستان جیسے سیکولر اور غیر مسلم اکثریت والے ملک میں اس طرح کے قتال  (غیر مومنوں کا قتل) کی کھلی دعوت دی جا سکتی ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ  مسلمانوں میں جہادی اور انتہا پسند عناصر ہندوستان میں بھی تاک میں ہیں اور ایک ایسے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں جب وہ خود مسلمان بچوں کو، احمدیہ ،شیعہ، ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف اور ان لوگوں  کے خلاف بھی  جو  جمہوریت کی حمایت کر رہے ہیں ،خودکش حملے کرنے کے لئے  تربیت دیں ۔

 

The Duty to Enjoin Good and Forbid Evil – Part 2  فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ قسط ۔دوسری

شریعت کا نفاذ طالبان کا مشن ہے مگر اس  مشن کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ  ان کے خیال میں شریعت کے نفاذ کا مطلب  شریعت کے ان  کی تفسیر  یعنی وہابی اسلام  کا جبری اور پر تشدد نفاذ  ہے جس میں دین کے معاملے میں انسان کی شخصی آزادی  جو کہ قرآن میں واضح طور سے موجود ہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کی حکومت میں ہر موڑ، ہر گلی ، بازاروں ، مدرسوں ،اسکولوں حتی کہ گھروں میں  لوگ کوڑوں اور بندوقوں کے ساتھ گھومتے ملیں گے  اور لوگوں کو نیکی اور بدی کے اپنے تصور کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ مثال  کے طور پر گلیوں میں ‘امر با لمعروف نہی عن المنکر’  کے لوگ  لڑکیوں کو اسکو ل جانے سے روکیں گے کیونکہ ان کے مذہب میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا  غیر شرعی عمل ہے۔ لہذا، اسی  ۔نہی عن المنکر۔ کے تحت انہوں نے  پاکستان میں ایک اسکول  جانے والی  لڑکی پر جان لیوا حملہ کیا۔ شریعت کے پر تشدد اور جان لیوا نفاذ کی  مثالیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی دکھائی دیں گی۔اس مضمون کی بنیاد حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں مسلم معا شرے میں ایک ایسے گروپ  کی وکالت کی گئی ہے جو لوگوں کو بھلے کاموں کی ترغیب دے اور برے کاموں سے منع کرے۔ مگر اس حدیث کو  طالبانی عا لم نے  ایک ایسے گروپ کی تشکیل کی بنیاد بنا یا جو قانون ہاتھ میں  لیکر لوگوں کو سزا دینے کا مجاز ہوگا  اور اس طرح سے ہر شخص سماج  میں پولس میں بن جائیگا۔ پاکستان، افغانستان اور سیریا کے  خانہ جنگی کے شکار علاقے میں  اس طرح کے واقعات کی خبریں آئی ہیں کہ جہادی تنظیموں نے  ’امر بالمعروف ‘ کے نام پرقانون اپنے ہاتھ میں لیکر   انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور شریعت کی   ‘خلاف ورزی ’ کرنے والوں کو سزا دی۔ اسی طرح کے ایک گروپ  کا ایک ممبر ایک شخص کے مکان میں بلا اجازت گھس گیا اور اس سے کہا کہ تم نے اسلامی شریعت کی  خلاف ورزی کی ہے اس لئے تمہیں سزا دی جائیگی۔ جب مکان مالک نے اس سے پوچھا کہ آپ بلا اجازت میر ے مکان میں کیسے  دا خل ہوئے تو  اس  خدائی فوجدارنے فلمی انداز میں جواب دیاکہ ۔ ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔لہذا، طالبان  کے یہ خدائی فوجدار لوگوں کے مکان میں بھی  شریعت کی خلاف ورزی کی تفتیش کرنے کے لئے بلا اجازت داخل ہو جائیں گے اور مجرموں کو اپنی مرضی کے مطابق سزا دیں گے۔

ہم ذیل میں طالبان  کے ترجمان رسالے نوائے افغان جہاد  شمارہ جون  2013 میں مطبوعہ مضمون فریضۂ امر با لمعروف ونہی عن المنکر۔ قسط ۲ پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ ہوسکے کے طالبان اور ان جیسی دہشت گرد تنظیمیں شریعت کے نفاذ کے نام پر کس طرح  کا نظام قائم کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

 
Is Religion Itself a Problem? کیا مذہب ہی مسئلہ ہے؟
Nastik Durrani,New Age Islam ناستک درانی

فیس بک پر ایک مباحثے میں زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اپنی طویل تاریخ میں انسانیت نے جو سب سے بری شئے دریافت کی وہ مذہب ہے، اور یہ کہ انسانیت مذہب کے نام پر ہونے والے اندوہ ناک جرائم کی روک تھام مذہب کو ختم کیے بغیر نہیں کر سکتی کیونکہ یہ اندھیرے دور کی باقیات ہے جبکہ کچھ دیگر لوگوں کا خیال تھا کہ مسئلہ مذہب میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہے جو مذہب کے نام پر اقتدار اور وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں آپ دین کے تاجر بھی کہہ سکتے ہیں۔

 

اگر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش پر عجمی قرآن دے کر بھیجتے یعنی کسی دوسری زبان میں تو وہ کہتے کہ اس کا ترجمہ کر کے ہمیں بتاؤ کہ ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا، اگر اللہ نے قریش پر قرآن ان کی اپنی زبان میں ہی نازل کیا جبکہ وہ ساری دنیا کی آبادی کے حساب سے اقلیت تھے کیونکہ دوسری صورت میں وہ پیغام کو ہی نہ سمجھ سکتے تو کیا یہ معقول بات ہے کہ اللہ ایک عربی رسول کو عربی قرآن کے ساتھ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے بھیجیں گے جو چھ ہزار سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں؟

 

مجھے سو فیصد یقین ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے صرف مغرب اور ان کی جدید علمی ترقی کی مخالفت کی بنیاد پر ڈی این اے ٹیسٹ کو مسترد کیا ہے۔ ورنہ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جو علماء اسلام، اللہ کو تمام کائنات کا خالق مانتے ہوں تو وہ یہ بھی مانتے ہوں گے کہ ہر جاندار کے جسم میں ڈی این اے کا وجود بھی تخلیق الٰہی ہے تو اگر اس قدرت کے اس شاہکار کی بنیاد پر ایک مظلوم خاتون کو انصاف میسر آ سکتا ہو تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟لیکن چونکہ ڈی این اے ٹیسٹ بھی مغرب سے درآمد شدہ ہے اس لئے ناقابل اعتبار ٹھہرا۔

 

اٹھارہویں صدی تک، ایک طرف  صفوی  شیعہ خاندان کے درمیان اور دوسری طرف  سنی عثمانیہ اور مغل سلطنتوں کے درمیان پریشان کن بقائے باہمی کا غلبہ تھا ۔ بصرہ، بغداد اور بیروت کی گلیوں میں شیعہ اور سنی دونوں نظریات اور اصول سے بے فکر ہو کر  شاید ہی فرقہ بندی کے کسی بھی  جذبات کے ساتھ ان کے روز مرہ کے معمولات پر عمل کرتے تھے۔ مصر میں اسماعیلی فاطمیوں کی  حکمرانی کے دوران بھی اکثریت سنی آبادی نے اپنے  حکمرانوں کو نظر انداز کیا اور مداخلت کئے بغیر اپنی روز مرہ زندگی گزارتے تھے ۔ دنیا کی مشہور الازہر مسجد اور یونیورسٹی شیعہ فاطمیوں کے  ذریعہ  قائم کی گئی تھی، اور وہ اب بھی پوری دنیا میں سب سے زیادہ اہم سنی ادارہ ہے۔

 

بعض شوہر اپنی بیوی کو غیر مردوں  کے سامنے لے جاتے ہیں بلکہ ان سے مصافحے  کراتے ہیں  اور اسے ماڈرن  تہذیب و سوسائٹی  کا حصہ مانتےہیں  ، کبھی  بیوی آزادی  نسواں  کے نام پر روشن  خیالی کے دعوے  کی وجہ سے غیر محرموں  سے اختلاط کرتی ہے تو ایسا شوہر جو اپنی بیوی  کے بے پردہ غیروں کے سامنے جانے یا غیر محرموں  سےمیل جول پر روک نہیں لگا تا او راس کو پسند یا برداشت کر  لیتا ہے ایسے شخص کو حدیث پاک میں دیوث کہا گیا ہے۔

 
Modern Science Is The Gift Of Islam But! !جد ید سائنس اسلام کی دین ہے مگر
Dr. Ghitreef Shahbaz Nadvi ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی

Modern Science Is The Gift Of Islam But! !جد ید سائنس اسلام کی دین ہے مگر
Dr. Ghitreef Shahbaz Nadvi

کیا یہ کوئی محض اتفاق تھا کہ امام ابو جعفر صادق کے شاگرد جہاں ایک طرف امام اعظم ابو حنیفہ ہیں وہیں جابر بن حیان جیسا عظیم کیمیاداں بھی  امام صادق کی مجالس کا حاضر باش ہے!اس دور میں جہاں سیاسی مسائل  اور انقلابات تمدن سے بے نیاز علماء و ادباء نے قرآن کے علوم کی ، حدیث  کے علوم کی خدمت کی ، فقہ کے گیسو سنوارے ، ادب و شعر کی بزم آراستہ کیں وہیں  ابن سینا ، فارابی ،ابن مسکویہ ، جابر بن حیان، موسیٰ رازی، بتانی، یعقوب بن اسحاق  الکندی ، ابو عمر و الجاحظ ، عباس بن فرناس ، ابو حنیفہ دینوری، ابو الحسن المسعودیب ، ابو بکر المقدسی ، ابن  بطوطہ ،محمد بن موسی دمیری، ابن ماجد ،البیرونی ، محمد الادریسی  ،ابو القاسم زہراوی، ابن الیہثم ، ابن بیطار ، ابن خلدون اور ابن رشد اور ان جیسے کتنے ہی اساطین علم و فکر  ہیں جنہوں نے اسلامی جوش و جذبہ کے ساتھ علوم و فنون کی گرم بازاری کی ایک نئی سائنس کی دنیا آباد کردی۔

بہائی مذہب  کے بانی  بہاءاللہ  کے بیٹےعبد البہاءنے یہ کہا کہ  "وجود کے تمام حقائق میں، سب سے زیادہ ممتاز اور معزز انسانیت کو حاصل  حکمت  اور عقل ہے۔ فلسفہ، فن، سائنس، ایجادات اور صنعت تمام اسی سے ظہور پذیر ہوئے ۔ " وہ یہ دعویٰ کرتےہیں کہ  انسان کی خوشی اور کامیابی ، اپنی فوری ضروریات سے اوپر ٹھ کر  خود غرض  مفادات کے حصول کے بجائے  لیاقت و استعداد کے عروج میں مضمر ہے۔

 

اوامر و نواہی کی ایک فہرست، عام قارئین کو، اسلام کی آسان لیکن مؤثر تعلیمات کے بارے میں مدد فراہم کرے گی ۔ ان اوامر و نواہی کی فہرست پیش کرنے  سے پہلے مجھے قارئین کو یہ یاد دلانے دیں ، کہ  ایک "امر" 10 کے برابرشمار کیا جائے گا، اور ایک ‘‘نہی’’ 1 شمار کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، ایک نیکی کا اجر دس گنا ہو گا، لیکن ایک گناہ کی سزا صرف ایک ہی ہو گی۔

 

Why Sufis Deliberately Disguise Themselves  صوفی عمداً کیوں خود کو پردۂ خفا میں رکھتے  ہیں
Osho,Tr. New Age Islam

صوفی اپنی  توانائی کے معاملے میں انتہائی کفایت شعار ہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ یہاں زیادہ وقت تک موجود نہیں رہ سکتے ، ان کی زندگی کے ایام متعین ہیں ۔ ان چند دنوں میں جن میں  وہ یہاں  زمین پر رہیں گے  ۔۔۔۔ ایک صاحب بصیرت انسان یہاں پھر  واپس نہیں آ رہا ہو گا، وہ یہاں  صرف ایک مختصر وقت کے لئے ہے - یہاں تک کہ اگر اس کی  عمر  تیس، چالیس، یا پچاس سال ہے تو اگر  وقت کے دوام پر نظر ڈالی  جائے تو یہ  ایک بہت مختصر عرصہ ہے ۔ وقت کے ابدی تسلسل کے مقابلے میں پچاس سال کیا  ہے؟

 

تعلیم کی اہمیت سے آج تک نہ کوئی انکار کرسکا ہے اور نہ آج کے بعد کوئی ایسا کرنے کی جرأت کرسکے گا تاہم جس طرح پانی اور ہوا  کے ساتھ زہر یلے اور انسانی صحت کے لیے تباہ کن جراثیم وابستہ  ہوتے ہیں اور انہیں ختم کرنے کی ہر آدمی اپنی جیسی کوشش ضرور کرتا ہے اسی طرح تعلیم اور ذرائع  تعلیم کے ساتھ بھی بہت سارے جراثیم  ہمہ وقت لگے رہتےہیں جن سے حفاظت کے طریقے سیکھنا  نہ صرف لڑکیوں  کی اور ان کے والدین کی ذمہ داری  بنتی ہے بلکہ متعلقہ ادارے  اور متعلقہ  حکومتیں  بھی اس بات کی پابند ہیں کہ وہ لڑکیوں  کے لیے نسبتاً محفوظ مامون ماحول فراہم کریں۔

 

میٹروپولیٹن واشنگٹن، کے انٹر فیتھ کانفرنس  (IFC) بورڈ کے  ممبر کی حیثیت سے میں نے  بہت سے بین المذاہب اجتماعات میں شرکت کی ہے ۔ اللہ (خدا) نے، اسرائیل کے بچوں، عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں اور مریم کے بیٹے کے حوالے سے،  قرآن میں اہل کتاب جیسی ایک معزز اصطلاح استعمال کی ہے ۔ لیکن، اکثر میں نے سنا ہے لوگ  خود کے حوالے سے ،خود کو "غیر مسلم" "غیر عیسائی " یا "غیر یہودی " کہتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی تعریفیں ہیں جو " نہیں ہیں" ۔ اگر میں ایک دعوت طعام میں شرکت کروں اور میزبان مجھے اپنے " غیر سفید دوست " کے طور پر متعارف کرائے، مجھے  نہیں لگتا ہے کہ میں مصافحہ کرنے کے لئے وہاں زیادہ دیر تک رہ پاؤں گا۔

 

سعودی عرب بہت سے ممالک میں مساجد اور اسلامی تعلیمات کو  فنڈز مہیا کراتا ہے ، ایک ایسامشن جس کی بنیاد  18 ویں صدی کے وسط میں  پرنس محمد ابن سعود اور ایک مسلم عالم، محمد ابن عبد الوہاب کے درمیان معاہدہ ہے ۔ اس اتحاد نے   مکی  اور مدنی  مقدس مقامات کو وہابی گھرانے کے  حفاظت میں قانونی طور پر دے دیا اور بدلے میں وہابی اسلام کا  فروغ  ہوا جو کہ مذہب کی انتہائی متشدد شکل ہے۔ وہابیت  ریاستی قانون اور مذہبی  پولیس میں عیاں  ہے۔ ایران کے ساتھ رقابت نے ریاست کو اور زیادہ  صالح شبیہ  اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

 

یوں تو نذر ایک طرح سے اللہ سے وعدہ ہے اور وہ  کبھی  بھی پوری ہوسکتی ہے ۔ اور نیاز اظہار بندگی ہے جو  کبھی  بھی ہوسکتا ہے ۔ ہم مسلمانوں کے یہاں  یہ تین مہینے جمادی الثانی، رجب المرجب اور شعبان المعظم  میں نذر و نیاز  کی بہار رہتی ہے ۔ جس  کے سلسلے کی اہم تاریخیں گیارہویں  شریف، خاتون جنت کے ولادت کےموقع پر دستر خوان ، مولاعلی کےجشن ولادت کے موقع پر 13 رجب کا جشن اور اس سلسلے میں نذر و نیاز  پھر 22 رجب کو حضرت امام جعفر صادق کی نذر میں عام مسلمانوں میں بڑی دھوم دھام رہتی ہے۔

 

چند ہفتوں قبل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک کوبم باری سےنشانہ بن کر شہید  کردیا گیا اور ابھی  جاری ماہ مئی کے پہلے ہفتہ میں شام کے دارالحکومت  دمشق کے ‘‘عذرا’’ نامی علاقے میں واقع صحابی رسول حضرت حجر بن عدی کا مزار شہید کردیا گیا ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جو قوتیں  ملک شام میں مزارات اولیا کو بموں کے ذریعے  مسمار کررہی ہیں  انہیں ابھی  تک دمشق  کے قدیم قبرستان میں واقع ‘‘ امام الوہابیہ ’’ شیخ ابن تیمیہ کی قدِ آدم  کے برابر پکّی بنی ہوئی ‘‘مزار’’ اب تک وہابی دہشت گردی سے محفوظ ہے۔ یہ بات کس ذہنی  وفکری  اور اعتقادی  رشتہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ، اس کا فیصلہ  ہم قارئین  پر چھوڑ تے ہیں۔

 

The Unbearable Heaviness of Being Muslim  مسلمان ہونے کا ناقابل برداشت  بوجھ
Saif Shahin, New Age Islam

ایک مرتبہ  "مسلمان ہونے" کی ان الفاظ میں تعریف کر دی گئی  تو مدارس میں منفی ذہن سازی کی گئی  یا دہشت گرد کیمپوں میں جن کی تربیت کی گئی ہے  ان انتہا پسندوں  کا تشدد محدود نہیں رہ جائے  گا ۔ ایک  کے بعد ایک مسلمان افریقہ کے صحراء سے  یا امریکہ کی تنگ گلیوں سے  اٹھیں گے  اور ایسے جرموں کا ارتکاب کر کے ایک "مسلم" کے طور پر زندگی میں اپنا  کردار ادا کریں گے جسے دوسرے لوگ دہشت گردی سمجھتے ہیں ۔ انہیں  درجنوں کافروں کا قتل عام کر نے میں   یا کسی دوسرے انسان کا سر قلم کرنے میں کوئی اخلاقی پشیمانی نہیں ہو گی۔

 

Can the New Pakistan Government Hold Discussions with Taliban?  کیا نئی حکومتیں طالبان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرسکتی ہیں؟
Mujahid Hussain, New Age Islam

اگلی حکومتوں کے مقدر کا فیصلہ فوج، مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کی تگڑم کے باہمی تعلقات کریں گے اور میڈیا اس میں اہم ترین کردار ادا کرے گا۔طالبان اور فرقہ پرستوں کے پاس سوائے دہشت کے کوئی دوسر ی شناخت نہیں اور یہ ممکن نہیں کہ وہ متاثرہ علاقوں میں اپنی دہشت کی شناخت کے علاوہ کسی دوسری شناخت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کریں۔کیوں کہ دہشت اور لاقانونیت کے اس اجتماع کے ساتھ ساتھ منشیات، اغواء برائے تاوان، بھتہ اور دیگر جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں اور انتہا پسندوں کے مکمل خدوخال وضح کرتے ہیں۔ایسی صورت حال میں کوئی بھی سیاسی جماعت جو قومی سطح کے سیاسی دھارے میں شامل ہو وہ ایسے عناصر کے ساتھ خود کو نتھی کرنے سے اجتناب برتے گی اور ’’علیحدگی‘‘ کے شکار انتہا پسند اپنی پرانی روش پر قائم رہنے میں ہی اپنی بقاء سمجھیں گے۔یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور اجتماعی طور پر امن وامان کی صورت حال مخدوش رہے گی۔

 

تہذیبیں انسانی کارنامے ہیں اور یہ تب تک قائم نہیں ہوتیں جب تک کہ ان کے قیام کے لیے مادی اور موضوعاتی اسباب دستیاب نہیں ہوجاتے، اور یہی پہلے عباسی دور کے نصف میں ہوا، جہاں مملکت وسیع ہوئی، اور حزبِ اختلاف کو کچل دینے کے بعد جنگوں اور عسکری معرکوں کی شدت کم ہوئی، مملکت کی حدود (بارڈر) متعین ہوگئیں، امن قائم ہوا اور یوں ملک مضبوط ہوا اور ہر طرف سے وسائل کی بھرمار ہوگئی، لوگ امن واطمنان سے زندگی گزارنے لگے، کسی شئے کا خوف نہیں تھا، ثقافتی تنوع کی وجہ سے آزادیء فکر کا ماحول پیدا ہوا، اس ثقافتی تنوع کی وجہ مملکت کی غیر عرب قوموں کی ضرورت تھی تاکہ قومی سلامتی کو امویوں، علویوں اور دیگر سے محفوظ بنایا جاسکے، یوں عقل کو کام کرنے کا موقع ملا کہ وہ مختلف علوم وفنون وسرگرمیوں میں اچھوتے کارنامے دکھائے، اس طرح ترقی کا ایک دور شروع ہوا اور بغداد سمیت عرب کے کئی دیگر شہر اس وقت کے عجوبے قرار دیے جاسکتے تھے۔

 

Vivekananda’s Legacy of Universalism   ویویکانند کی آفاقیت کی وراثت

ویویکانند کی زندگی اور تعلیم کا اہم نقطۂ نظر  مذہبی آفاقیت  تھا۔ ان کی نظروں میں جو آفاقیت میں یقین رکھتے ہیں ، مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ تمام مذاہب آفاقی ہیں برابر اور درست ہیں ۔ تاہم، ویویکانند، نے کہا کہ  ہندومت میں، آفاقیت کی مثالی طرز گفتار کا  پتہ چلتا ہے۔ اور اس وجہ سے روحانی معاملات میں وہ ایک لیڈر تھے ۔ اتنا ہی اہم  سماجی خدمت کے لئے ان کا تصور بھی تھا، جس کے لئے انہوں  راماکرشنا مشن قائم کیا ۔ اس مشن نے اصلاح کے لئے مکمل طور پر ایک نیا  ماحول پیدا کیا ۔

 

We’ll Hoist the Islamic Flag on Red Fort   ہم لال قلعہ پر اسلامی پرچم لہرائیں گے  :طالبان کا  خواب

پاکستان کے بلوچی اپنی تاریخی اور نسلی پس منظر کو ترک کرنے اور  پاکستانی قومیت  میں خود کو ضم کر دینے  کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے بنگالی غیر بنگالی پاکستانیوں کے   ساتھ ہم اہنگی نہیں قائم  کر سکے ۔ پھر وہ کس طرح   پوری دنیا کے مسلمانوں کے تمام اقوام اور نسلی گروہوں سے اس بات کی  توقع کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں اور ایک امیر المؤ منین  کی قیادت  میں زمین پر ایک واحد خلافت قائم کر سکتے ہیں  ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے  کمال اتا ترک کے ذریعہ  خلافت عثمانیہ کی تحلیل کا خیر مقدم کیا بلکہ اسے اسلامی دنیا میں ایک نئے آغاز کے طور پر بیان کیا  اس لئے کہ   ترکی نے پرانے نظام اور خیالات کو  ختم کر دیا تھا  اور ایک جدید دنیا کی سمت میں ایک پیش رفت کی تھی  ۔

 

مسلمان بحیثیت ایک قوم سیاسی، معاشرتی اور معاشی طور پر انتہائی پسماندہ ہیں، حج کے ذریعے کبھی مسلمانوں کے کسی اجتماعی مسئلے کا حل نہیں نکالا جا سکا۔ حج مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق قائم کرنے میں بھی بالکل بے اثر ثابت ہوا ہے۔ موجودہ دور میں صورت حال یہ ہے کہ ہر سال لگ بھگ تیس تا چالیس لاکھ لوگ حج کرتےہیں، جس پر مجموعی طور پر کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ سعودی حکومت نے ملکی قوانین کچھ اس طرح وضع کر رکھےہیں کہ مسلمانوں کی عمر بھر کی کمائی جو حج پر خرچ ہوتی ہے اس کا بیشتر فائدہ سعودی حکمران طبقے کو پہنچتا ہے، اور یہ حاصل شدہ فائدہ کہاں اور کس مصرف پر خرچ ہوتا ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 82 83 84


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS