FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔حصہ 3

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 
The Paradox of Protest احتجاج کا متناقصہ
سیف شاہین،نیو ایج اسلام

The Paradox of Protest   احتجاج کا متناقصہ

مصر میں امریکی سفارت خانے کے باہر کئے گئے مظاہرے نے ۲۰۰ لوگوں سے بھی زیادہ کو خطرے میں ڈال دیا ۔زیادہ سنگین مظاہرے ایران، عراق ،موروکو،سوڈان اور بنگلہ دیش میں وقوع پذیر ہوئے ۔اور لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک روکیٹ حملے میں امریکی سفیر Chris Stevens سمیت  سفارت خانہ کے چار اسٹاف مارے گئے ۔اس فلم کا معتدل اور معقول جواب یہ ہوتا  کہ اس کلپ کو YouTube سے ہٹانے کی درخوست کی جا تی ۔اور معاملہ یہیں رفع دفع ہو جاتا ۔لیکن ایسا نہیں ہوا،اور رنجیدگی سے رکارڈ کی گئی  کلپ سے زیادہ اثر انداز،ان پر تشدد مظاہرہ کرنے والوں اور ان دہشت گردوں کی سر گرمیاں ہونگیں جنہوں نے امریکی  سفارت خانے کے عملہ کی جانیں لیں۔

 

Martyrdom of Imam Hussain The Greatest Great Human Tragedyشہادت امام حسین تاریخ انسانی کا بہت بڑا المیہ
Prof. Akhtarul Wasey

کربلا کا واقعہ نہ صرف اسلامی بلکہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً چودہ سو سال گزرنے کے باوجود یہ واقعہ لوگوں کے ذہنوں میں اس طرح تازہ ہے جیسے یہ بس کل کی بات ہے ۔ انسانی تاریخ کے بہت سے ایسے واقعات ہیں جنہوں نے انسانی عقل و ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ جو اس کےحافظے کا انمول اور انمٹ نقش بن کر رہ گئے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا یہ واقعہ ایسا ہی ہے ۔

 

Qasab’s Real Sentence Will Begin Nowقصاب کی سزا تو اب شروع ہوگی
Shakeel Shamsi
قصاب کے خاتمے کے بعد آج ان مسلمان خانوادوں نے بھی چین کی سانس لی ہوگی اور وہ یہ سوچ کر خوش ہورہے ہوں گے کہ وہ مجرم آج اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا حساب دینے کے لئے پہنچ گیا ہے جس نے نہتے مسافروں کوگولیوں سے چھلنی کرتے وقت ایک ذرا سی انسانیت نہیں دکھائی ۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ قصاب اور اس کے جیسے تمام دہشت گردوں کو جہنم کی آگ کا حصہ بنائے گا اور قصاب کی اصل سزا تو موت کے بعد شروع ہوگی۔

 

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔حصہ 2

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا  گیا  فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔۔۔۔حصہ ۱

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔

سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

Terrorism, An Abuse for any Religion دہشت گرد ، کسی بھی مذہب کو سب سے سنگین گالی
Asad Mufti

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر کاکہنا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ریڈیکل (انتہا پسند) اسلام ہے ۔ دوبرس قبل ٹونی بلئیر کی خود نوشت شائع ہوئی ہے ۔ جس میں انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ مغربی ملک کی غیر متوازن پالیسیاں انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں ۔ اپنی خود نوشت کی اشاعت کے موقع پر بی بی سی کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق برطانوی وزیراعظم جنہوں نے صدام حسین کے پاس نیو کلیئر ہتھیاروں کی بھاری کھیپ ہے کہہ کر عراق پر چڑھائی کی تھی۔بی بی سی کو بتایا ہے کہ انتہا پسند اپنے اسلام کو کمیونزم سے جوڑتے ہیں  وہ اپنے نظریات کو بنیاد بنا کر اپنا ہر فعل درست سمجھتے ہیں ۔

 

Movie 'Innocence of Muslims' Based on Saudi Arabia-distributed Islamic History Books مسلمانوں کی معصومیت' فلم سعودی عرب کی تقسیم کردہ اسلامی تاریخ کی کتابوں پر مبنی ہے'
Dr. Afaq Siddiqi

عرب مسلمانوں نے یہودیوں کے خلاف پوری امت مسلمہ میں نفرت کے جذبات بیدار کرنے اور اسے باقی رکھنے کے لیے بے شمار نفرت انگیز قصے اپنے مدارس کی کتابوں میں جمع کردیے ہیں جن کو پڑھ کر مسلمان بچے یہودیوں کو گالی دینے کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دنیا کی تمام مساجد میں خطبۂ جمعہ میں یہود و نصاریٰ پر لعنت بھیجنے اور ان کی بربادی کی دعا کرنے کو جزوِ ایمان سمجھا جاتا ہے۔ ……

ام قرفہ کے قتل اور بنو قریظہ سے انتقامی کارروائی میں مسلمانوں نے پورے قبیلہ کا صفایا کردیا۔ یہ بات تمام مورخین کے مطالعہ سے ثابت ہے۔ اس کی روایت ابن اسحق واقدی، طبری ابن ہشام، ابن کثیر اور ہم سے بہت قریب صفی الرحمن مبارک پوری کی سعودی حکومت سے سیرت کے انعامی مقابلے میں اول نمبر حاصل کرنے والی کتاب ’الرحیق المختوم‘ میں سب نے اپنے اپنے طرز اور فہم کے مطابق اپنے ایمان کی روشنی میں اس واقعہ کو قلم بند کیا ہے۔….

س طرح کے مناظر فلم کے پردہ پر دیکھ کر مسلمانوں کو پہلے شرمندگی اور پھر غصہ آنا ایک فطری بات کہلائے گی۔ لیکن ایک غیر مسلم یا ایسا مسلمان جو حالات اور کوائف پر بلا احترام نظریں ڈال کر ان کی حقیقت سے روشناس ہونے والا ذہن رکھتا ہے وہ ایسے واقعات کا جب ذکر قرآن میں پڑھتا ہے اور پھر ائمہ اور مفسرین کی تاویلات پڑھتا ہے تو اسے اس کے اندر علمی اور عقلی دیانتداری کے فقدان کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ میرے سامنے جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ علاّمہ محمد جونا گڑھی کے اردو ترجمہ اور تفسیر کا وہ نسخہ موجود ہے جسے بے حد عالمانہ تصدیق اور تحقیق کے بعد سعودی حکومت کے سربراہ شاہ فہد بن عبد العزیز آل سعود کی طرف سے تمام اردو داں مسلمانوں کے لیے مفت تقسیم کرایا گیا ہے میرے اقتباسات اسی ترجمہ اور تفسیر سے ماخوذ ہیں۔

---------------------

ایڈیٹر کا ​​نوٹ: کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ  نیو ایج اسلام  اس مضمون میں شامل کئی  بیانات سے اتفاق نہیں کرتا ہے لیکن  چونکہ بہت سے مسلمان  مفت  میں کئی زبانوں میں دستیاب کرائی جانے والی  اسلامی تاریخ  کی کتابوں کو مانتے ہیں، اس لئے   قارئین کو یہ مطلع کرنا  ضروری سمجھا گیا کہ  جو لوگ سعودی عرب کے ذریعہ  تقسیم کی جانے والی  کتابوں پر انحصار کرتے  ہیں ، ان لوگوں کو  ’’مسلمانوں کی معصومیت‘‘فلم (Innocence of Muslims)  کے بنانے اور  اور اس کے وسیع پیمانے پر سرکولیشن  پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔  ایسے لوگ اپنا احتساب کریں  اور خود سے سوال کریں کہ کون اصل دشمن ہے،  غیر مسلموں  کے درمیان وہ  لوگ  جو   دشمن کے طور پر جانے جاتے  ہیں یا   وہ لوگ ہیں جو سلف کے اسلام،  اسلام کی پہلی نسل کے نام پر حقیقی اسلام  کے محافظ  کے لبادہ میں چھپے رہتے ہیں ، جن کا  عوام  اسلام کی  اصل اور سب سے کٹر ّ  شکل کے ضامن  کے طور پر احترام کرتے ہیں  اور  جو سلفیوں کی نمائندگی کر نے کا   دعوہ کرتےہیں  جن کے ذریعہ  سے اسلام ہم تک پہنچا ہے۔

Editor’s Note: Needless to say, New Age Islam does not agree with many of the formulations in this article, but since many Muslims go by Islamic history books circulated and distributed free in many languages, it was considered essential to inform our readers that those who rely on Saudi distributed books have no reason to be outraged on the production and wide circulation of the film “Innocence of Muslims.” They should look within and ask who is the real enemy, the declared enemies of Islam among non-Muslims or the people who hide within the cloak of being the protectors of real Islam, the Islam of the Salaf, the first generations of Islam, who are revered by all Muslims as the real guarantors of the purest, most orthodox form of Islam and the people through whom Islam came to us? 

J&K High Court on Right to Talaq (Part II)(طلاق کا اختیار : جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی نظر میں  (حصہ دوم
Syed Mansoor Agha

طلاق کا راستہ صرف اسی صورت میں اختیار کیا جانا چاہئے جب تعلق اس حد تک ٹوٹ گیا ہو کہ کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہ ہو اور صورت یہ پیدا ہوگئی ہو کہ فریقین اور معاشرے کے مفاد میں یہی ہوکہ ان میں علٰیحدگی کرادی جائے تاکہ وہ دونوں نئی زندگی شروع کرسکیں ۔ اس میں بھی فریقین ، خاندان اور سماج کا بھلا ہی پیش نظر ہے ۔

 

Jihadism Gets Sustenance From Verses Of  War In the Quran جہادی نظریہ کو جہاد سے متعلق قرآن کی آیتوں سے تقویت فراہم ہوتی ہے
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں نے پر زور انداز میں عالمگیر سطح پر اسکا  رد نہیں کیا ۔اس طرز عمل نے لازمی طور پر ہمارے پڑوسیوں کے ذہن و دماغ میں شکوک و شبہات پیدا کر دیا ہے،خاص کروہ لوگ جن کا  تعلق دیگر مذاہب سے ہے ،جو قرآنی آیات کے حالات اور اس کی نوعیت کو نہیں سمجھتے وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کا ہر حرف ،فل اسٹاپ اور کومہ نا قابل تغیر ہے اور ایک عالمگیر اہمیت کا حامل ہے ۔اس سے جہادیوں کا کام اور بھی آسان ہو جاتا ہے ؛وہ آسانی کے ساتھ ہمارے نو جوانوں کی منفی  ذہن سازی  کر سکتے ہیں، یہا ں تک کہ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ  اور ذی عقل ہیں ان کی بھی۔

 

Muslims must shed victim mentality: Tariq Ramadan مسلمان احساس مظلومیت کے خول سے باہر آئیں: طارق رمضان
Saif Shahin, New Age Islam

اس میں  پوری سچائی نہیں ہے کہ دہشت گردی اور تشدد کا تعلق اسلام سے ہے ،عربوں عرب  مسلم پر امن ہیں ،لیکن ہاں،بہت چھوٹی اقلیت دو  وجہوں سے اس میں ملوث ہے۔پہلا، اسلامی تعلیمات کے تعلق سے ان کی سمجھ انتہائی محدود ہے ،جبکہ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ بھی غلط ہے ،اس  چیز نے انہیں تشدد کی طرف پھر دیا ،جس پر ہمیں قدو غن لگانے کی ضرورت ہے ۔

 اسلام نے عورت کو بڑی عزت و رفعت سے نوازا ہے، اس کا ذکر قرآن کریم میں بڑے اچھے انداز سے کیا گیا ہے اس کے حقوق واضح کئے گئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت کا نام ‘‘ سورہ ٔ مریم ’’ رکھا ہے، نیز ایک مکمل طویل سورت کا نام ‘‘ سورہ نساء ’’ رکھا ، جس میں عورت کے مکمل حقوق بیان کئے گئے ہیں۔

 

Making Sacred Spaces Unfair: Arshad Alam on the creeping Wahhabisation of Islam مقدس مقامات کو نا مناسب قرار دینا :ارشد عالم کی وہابیائی اسلام میں در اندازی
Arshad Alam for New Age Islam
مزارات پر عورتوں کے داخلہ کی پا بندی پر یہ دلیل دی جا تی ہے کہ ایسا کر نا شریعت کا مطا لبہ ہے ۔در حقیقت اسکا مطلب یہ ہے کہ شریعت نا قابل تغیر ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ یہ کہنا کہ شریعت ہمیشہ کے لئے تشکیل دی گئ ہے نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ اس سے شریعت  کی مختلف تشریحات کی نفی بھی ہو تی  ہے ۔اس  لئے کہ اسلام میں کو ئی  کنیسہ نہیں ہے ،اور نہ ہی کو ئی ایسا حکم ہے جوعالمگیر سطح پر تمام مسلمانوں کے لئے نا فذ کیا جا سکے ۔

 

Maulana Abul Kalam Azad’s Politics Based on Religionمولانا ابو الکلام آزاد کی سیاستِ دینی
Firoz Bakht Ahmed
مولانا آزاد اس بات پر صدق دل سے یقین رکھتے ہیں کہ مذہب کا تحفظ سیاسی اقتدار کے بغیر نہیں  ہوسکتا اور اس سیاسی اقتدار کے لئے عالم اسلام کا اتحاد ناگزیر ہے۔ عالم اسلام کے اتحاد کے بارے میں مولانا آزاد اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ اقوامِ مغرب کو پسند نہیں ہے اور تاریخ کے ادراق پکا ر پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اقوامِ مغرب کو موقع مل جاتا تو وہ اسلام کے ماننے والوں کو دنیا سے فنا کردیتیں اس لئے مولانا آزاد نے عالم اسلامی کے اتحاد کے لئے علم دین کے حصول پر زور دیا اور مسلمانوں کو اخلاص کے ساتھ مالی اور جانی جہاد کے لئے آمادہ کیا۔

 

Support for Obama: Positivity of Muslim Attitudes براک اوبامہ کی حمایت امریکہ کے متعلق مسلمانوں کے مثبت رویہ کی ترجمانی ہے
Saif Shahin, New Age Islam

سہی ہو یا غلط ہو فائدے مند ہو یا نا موافق ہو ،مسلم ایک امریکی صدا رتی امید وار کی حمایت پر شور اندازمیں کر رہے ہیں ،جومسلم معاشرے کیلئے ایک پیغا م ہے ،اور وہ پیغام یہ ہیکہ امریکی حکومتوں کے مسلسل اسلامی مخالف رویہ کے با وجود ،فلسطیوں پر مظالم کے کے پہاڑ توڑنے والے مکارانہ اور عیارانہ کردار کے با وجوداور یہاں تک کہ افغانستان اور عراق کی طرح خود ان کے مسلم ممالک میں تباہی اور غارت مچانے کے با وجود امریکہ میں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کو ابھی امریکی مخالف ہو نا ہے۔

 

The Right to Divorce: In the Eyes of J&K High Court طلاق کا اختیار: جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی نظر میں
Syed Mansoor Agha

اسلام میں میاں اوربیوی ایک دوسری کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ قرآن ان کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے ۔ (تمہاری عورتیں لباس ہیں تمہارا اور تم لباس ہو ان کا : 1872) یہ آیت مبارکہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں کا رشتہ کس قدر قربت اور بے تکلفی کا ہے ۔ یہاں بھی قرآن شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ لباس صرف گرمی، سردی یا بیرونی زد سے ہی حفاظت نہیں کرتا، بلکہ ایسی چیز ہے جس سے زیادہ قریب کوئی دیگر چیز انسان کے بدن سے ہوتی ہی نہیں ۔

 

اتر پردیش میں پچھلے دنوں جو فسادات ہوئے ہیں، ان میں بھی اسی طرح کے اشارے ملے ہیں۔ بے قصور مسلمانوں کے پنڈال میں مورتی رکھنا، اس پنڈال کو آگ کی نذر کردینا اور اس کا الزام مسلمانوں کے ہی سر پر رکھ کر افواہوں کا بازار گرم کرنا اور پرسکون ماحول میں شر پسند ی کا زہر گھول کر اشتعال انگیزی کو فروغ دینا اور پھر مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو خاکستر کرنا اور تہوار کے موقع پر بھی خوفزدہ رہنے پر مجبور رکھنا وغیرہ جیسے واقعات اتفاقیہ نہیں ہوسکتے۔ تھوڑا بھی غور کریں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب وار داتیں کچھ کہتی ہیں؟اگر با لفرض مان لیا جائے کہ ان کے منہ میں بھی زبان ہے تو ان کے کہے کو سنے گا کون؟ کوئی ایسا سننے والا چاہئے جو انہیں ان کا حق دلا سکے۔

 

 

لارڈ میکالے کے تعلیمی مشن اور اسلامی نظام تعلیم میں حق و باطل کا فرق ہے۔ میکالے نظام جزوی ہے اور اسلامی نظام کلی ہے ۔ اسلام کا دیباچہ تعلیم لاالہٰ ہے جو تمام معبود ان ِ باطل کے خلاف بغاوت کا انقلابی نعرہ ہے ۔ یعنی نفس پرستی ، غلط رسم ورواج ، نظام طاغوت جو انسانوں پر اپنی بندگی اور فرماں برداری کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ ان تمام معبودوں کو اسلامی نعرۂ لا الہٰ اکھاڑ پھینکتا ہے۔

 

انسانی حقوق کی اہمیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اسلام میں خالقِ کائنات کی تمام تر عظمت کے باوجود حقوق کے باب میں بہ مقابلہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ، انسانوں کے حقوق کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلووم ہوتا ہے کہ اللہ کے حقوق تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کردیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حد رحیم و کریم ہیں لیکن انسانوں کے حقوق معاف نہیں کئے جائیں گے اور انسان کو اس کی سزا مل کر رہے گی....

 

Muslim- Atheist First and Momin Next! مسلمان  پہلے ملحد ہیں اور  بعد میں مومن
Rashid Samnakay, New Age Islam

خاص طور سے امیر شہر، اشرافیہ طبقہ  اور مندر کے نگراں اور کافروں نے  سختی سے  اس عقیدہ کی مخالفت کی،  نہ صرف اس لئے کہ  یہ ان کی روزی روٹی  کے لئے خطرہ  تھا، کیونکہ مکہ شہر کی معیشت ، ایک اہم مندر شہر ہونے کے  سبب  مذہبی کاروبار پر مبنی تھی  اور ساتھ ہی  قوم میں  ان کی حیثیت اور  اشراف میں سے ہونے کا درجہ  اور طرز زندگی  ختم ہو جاتی۔   یہ سب سے اہم تبدیلی تھی اور اس نے  اہم انقلاب برپا کیا۔

 

How long will Muslims kill each other? مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان کا قتل! آخر کب تک؟

اسلام تو وہ مذہب ہے ، جو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی کسی مسلمان کا ہاتھ حتیٰ کہ ایسے کسی غیر مسلم کے خلاف بھی نہیں اٹھ سکتا جو مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہو۔بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے ساتھ تو ویسے ہی رعایت سے پیش آنے کا حکم ہے۔ اسلام مذہب کسی معصوم غیر مسلم کو بھی مارنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ایک 14 سالہ بچی پر قاتلانہ حملہ محض اس لیے کرنا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے یا کسی خاص سوچ کی داعی نہیں، کون سا اسلام اور کیسا جہاد ہے؟ کوئی شخص یا گروہ یہ فیصلہ کرنے کا کیسے حق دار بن سکتا ہے کہ کون اچھا مسلمان ہے اور کون برا اور یہ کہ کون بچہ مستقبل میں اچھا یا برا مسلمان بنے گا اور کس کو جینے کا حق ہے یا نہیں؟ یہ فیصلے تو اللہ ہی کرسکتا ہے ۔

 

قارئین محترم ایک سوال میں آپ سے بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جو اپنے آپ کو تحفظ اور انصا ف نہیں دے سکتی کیا ایسی حکومت اور ایسی عدلیہ عوام کو تحفظ اور انصاف فراہم کرسکتی ہے؟اب بات کرتے ہیں بلوچستان کی خراب صورتحال پرجیسا کہ ہم سب دیکھتے ہیں  کے نیوز چینلز ہر وقت بلوچستان کی خراب صورتحال کو عوام کے سامنے رکھتے رہتے ہیں ۔ مختلف سیاست داں اور اینکر پرسن بڑا ہی خوبصورت میک اپ کر کےا سکرین کے پردے پر نمودار ہوتے ہیں اور کچھ اس انداز سے تبصرے  تجزیئے پیش کرتے ہیں کہ جیسے سب جانتے ہیں او رمنٹوں سیکنڈوں کے اندر سارامسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ ان لوگوں کے پروگرام میں اس قدر شور ہوتا ہے کہ پورا گھنٹہ سننے والوں کے پلے کچھ نہیں پڑتا ۔

 

Shariat and Wisdom Both against Forced Marriage شریعت اور عقل دونوں جبری شادی کے خلاف ہیں

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے حوالے سے بھی خبر آچکی ہے ۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ حکومت جبری او ربوگس شادیوں کے خلاف سخت اقدامات کرے گی ۔ علاوہ ازیں نائب وزیر اعظم نے بھی یوروپین اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پھر کہا ہے کہ منظّم گروہ بوگس شادیاں اور سہولت کی شادیاں کرواکے بھاری رقم بٹور رہا ہے ۔ میرے نزدیک یہ بھی جبری شادیوں جیسا جرم ہے اور ایسی شادی کے لیے کسی بھی ایشیائی ملک سے آنے والے کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس لیے قانون کے تحت کسی ایشیائی والدین کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی یا بھائی بہن کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کرسکے۔

 

علم نیبوں اور رسولوں کی میراث ہے ، علماء اس کے وارث ہیں اگر وارثین ہی اپنی وراثت کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو وہ کسی بھی صورت میں نائب رسول کہلانے کے حقدار نہیں ہوسکتے ۔ انبیاء کا ورثہ نہ دینا ر ہوتا ہے نہ درہم اور نہ ہی دنیاوی دیگر سازو سامان ، ہمارے اسلاف اور صلحائے اُمت کی زندگیاں زہد و تقویٰ پر مبنی ہوتی تھیں اس کے لیے انہیں چاہے فاقہ کرنا پڑے یا صعوبتوں و اذیتوں سے ہی کیو نہ گزرنا پڑے، وہ ہر کربلا سے گزر کر دین و ملت کی آبیاری کرتے رہے ہیں ۔

The Most Significant Event in Muslim History Lost in Religiosity! !مسلم تاریخ کا  سب سے زیادہ اہم واقعہ مذہبیت میں ضائع  ہو گیا
Rashid Samnakay, New Age Islam

قرآن کی آیت 9-40  فرماتی  ہے کہ: " اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا..." اور  ہجرت  کے تاریخی واقعہ کا حوالہ دیتی ہے جب اللہ کے رسول  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے ، 'ایک' قابل اعتماد صحابی  کے ساتھ مکہ کے دشمنوں سے  بچایا تھا،  ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں  قتل کرنے کامنصوبہ بنایا تھا،  جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش اور  آپ کے  آباؤ اجداد کا شہر تھا۔

 
1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 68 69 70
Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS