FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

‘Muslims Attack’ another Revered Shrine in Damascus  یہ کیسی درد ناک ستم ظریفی ہے
Saeed Naqvi

یہ پریشان کن خبر چند دنوں قبل گردش کررہی تھی لیکن جیسا کہ سخت گیر عناصر کا دعوی ٰ ہے ، روضہ مبارک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ فسک کا کہنا ہے کہ ‘ مورٹا ہمارے ارد گرد گرج رہے تھے، لیکن ان حملوں میں  چوکور پتھر وں سے تعمیر  روضہ جوں کا توں محفوظ رہا۔ باہر سڑک کے کنارے T-72 ٹینک اور حکومت  کےفوجی جوان  کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ تصور آج کی ہے۔ کل کیا ہوجائے گا کچھ یقین کے ساتھ نہیں  کہا جاسکتا ۔ یہ شرارت  ، جس کی منصوبہ  بندی دمشق میں ہو رہی ہے، اس سلسلہ کی کڑی ہے جس کے سبب بامیان  بدھا اور ٹمبک ٹو کی یادگار وں کو تباہ کیا  گیا۔ لیکن یہاں ایک بڑا اور واضح فرق بھی ہے۔ بامیان اورٹمبک ٹو ک واقعات  تھے ۔ جب کہ دنیا کا قدیم ترین اور تسلسل  کے ساتھ جاری رہنے والا شہری مسکن  دمشق  ، کچھ  عرصہ سے طوفان کی زد میں ہے۔

Boston Bombing and American Muslims  بوسٹن بم دھماکے اور امریکی مسلمان
Azeem M Mian

اگر خدانخواستہ وہ فوری طور پر القاعدہ یا کسی ایسے گروپ کی نشاندہی کردیتے تو امریکہ کے مسلمانوں کے لئے برے دنوں کا آغاز آج ہی سے شروع ہوجاتا۔ جس مسلمان سے بھی میری بات ہوئی وہ سب ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں کہ خدا کرے اس واقعے کے ذمہ داروں کی نشاندہی اور گرفتاری جلد از جلد ہوجائے اور خدا کرے اس کا نام اور مسلک بھی غیرمسلم ہو ورنہ گزشتہ گیارہ سالوں میں امریکی شہروں، ریاستوں اور وفاقی حکومتوں کی مشینری میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے بعض وہ عناصر جو مسلمانوں کی سخت نگرانی اور امیج کو منفی شکل دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں وہ کھل کر کہتے کہ ہمارے موقف اور رائے کتنی درست ہے۔

 

The Salafi Wave in South Asia - 3rd Episode  جنوبی ایشیاء میں پھیلتی ہوئی سلفیت ۔قسط ۔3
Khama Bagosh Madzallah, New Age Islam

پاکستان میں اب یہ ایک عام بات ہے کہ کسی کو بھی توہین کا الزام لگا کر بے دردی کے ساتھ قتل کردو۔لاتعداد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں بے گناہوں کو قتل کیا گیا،اِن میں جہاں مسلمان بھی شامل تھے وہاں اقلیتوں کو بھی پوری قوت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ایسے تمام واقعات میں جماعت الدعوہ کے عسکری ونگ لشکر طیبہ نے بھرپور حصہ لیا ہے اور اقلیتوں پر منظم حملوں سے لے کر توہین رسالت کے الزام کی زد میں آنے والے عام لوگوں کو بھی قتل کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔مثال کے طور پر تازہ ترین واقعات میں بہاول پور میں ایک پاگل شخص کو تھانے پر حملہ کرکے اغواء کیا گیا اور پھر بھرے بازار میں اینٹوں اور پتھروں سے مار مار کر زخمی کیا گیا۔جب وہ مرنے کے قریب تھا تو اس پر تیل چھڑک کر آگ لگادی گئی۔

 
To Be Authorized From God! اللہ کی طرف سے مُجاز ہونا
Alaa al-Aswany, Tr. New Age Islam علاء الاسواني

مخالفین پر تشدد اور ان کا خون بہاتے وقت ‘‘اخوان’’ کو احساسِ جرم کیوں نہیں ہوتا؟ جواب یہ ہے کہ ‘‘اخوان’’ خود کو سیاستدان نہیں سمجھتے جو صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی، بلکہ ان کا ایمان ہے کہ اللہ نے انہیں مصر کو کفر سے بچانے کے لیے بھیجا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کی مرضی کا نفاذ کر رہے ہیں چنانچہ ان عام لوگوں کی طرح جو اپنے ذہن سے سوچ کر عمل کرتے ہیں ان کا محاسبہ نہیں ہوسکتا۔۔ ‘‘ اخوان’’  کا خیال ہے کہ اللہ نے اپنے نام کی سر بُلندی اور احکام کی تعمیل کے لیے انہیں مُجاز بنایا ہے، چنانچہ جو بھی سیاسی طور پر ان پر تنقید کرے گا ان کی نظر میں وہ اسلام کا دشمن ہوگا کیونکہ وہی اسلام ہیں اور ان کے سوا کوئی اس کی نمائندگی نہیں کرتا۔

 

How Obama has Boxed Himself into a Corner over Terrorism   ‘دہشت گردی’ کے معاملے میں  اوباما نے کس طرح خود کو محصور کر لیا
Saif Shahin, New Age Islam

امریکی صدر نے پیر کے دن بوسٹن بم دھماکے کو  ‘‘دہشت گردی کا عمل’’ قرار دینے میں  ابتدائی بے اعتنائی کے ذریعہ غم و غصہ کو دعوت دی ہے۔ ایسا ہی انہوں نے گزشتہ سال،  لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کو"دہشت گردی" قرار دینے  میں بے رغبتی کا اظہار کر کے، کیا تھا، جس میں امریکی سفیر جاں بحق ہوئے تھے ۔ ٹی لفظ سے ان کا  خوف کھانا کس بات کی وضاحت کرتا ؟

 
Sufi, Sufism and Islam صوفی۔ تصوف اور اسلام
Mohammed Akhlaq, New Age Islam محمد اخلاق

اسلام میں تصوف ترکِ دنیا کا نا م نہیں ۔اس بارے میں محبوبِ الیٰ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔‘‘ ترکِ دنیا کے یہ معنی نہیں کے، کو ئی اپنے آپ کو تنگ کرے اور لنگوٹ با ندھ کر بیٹھ جا ئے ، بلکہ ترکِ دنیا یہ ہے کہ لبا س بھی پہنے ، کھانا بھی کھا ئے اور حلال کی جو چیز یں انہیں پہنچے اسے رواں رکھے لیکن ان کے جمع کر نے کی طرف رغبت نا ہو ں اور دل کو اس سے نا لگائے۔ (فوئد الفائداز۔نظام الدین اولیاءرحمۃ اللہ علیہ ) ۔ترکِ دنیا ہے’’۔

 

یہ بات ضرور ہمارے ذہن میں  رہنی چاہئے کہ اسلام دوسرے مروجہ مذاہب کی طرح موم کی ناک نہیں ہے کہ اس کو جیسے چاہے موڑ دیں، بلکہ ایک مستقل  دین اور مستقل تہذیب ہے اور کچھ متعین اعمال  و افکار کا مجموعہ  ہے، اسلام کو عیسائیت  او رہندو مت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، جس میں  مذہب  کی تبدیلی  سے کچھ  معبودؤں کا اضافہ تو ہوجاتا ہے ، لیکن ان کی زندگی  میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی  ، ان کا رہن سہن ، لوگوں سے تعلقات ، مذہبی تقریبات  میں شرکت ، سماجی رسم و رواج  یہاں تک کہ پوجا پاٹ ان سب میں کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوتا، اسلام ایسی ہمہ رنگی  کو قبول نہیں کرسکتا ، اس لئے ہمیں دعوتی  مصالح کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے، مگر اس قدر نہیں کہ اس کی سرحد یں مداہنت  سے مل جائیں۔

 

قرآن مجید  آسمانی  صحیفہ  ہے۔ یہ اپنا منصبی  فریضہ  سمجھتا ہے کہ لوگوں  کے عقائد و افکار  کی اصلاح  کرائے اور بتائے  کہ زندگی بسر  کرنے کا صحیح مطابق  فطرت  طریقہ  کیا ہے۔ دوسری طرف اس مقصد  کے حاصل کرنے کی غرض  سےذہن  انسانی  کی وسعتوں اور افہام و تفہیم کی صلاحیتوں  میں اضافہ کرنے کیلئے  وہ کبھی  زمین و آسمان اور ستاروں  کی منظم  خلقت  میں غور و خوض  کرنے کی دعوت  دیتا ہے تو کبھی  پودوں ، جانوروں اور پہاڑوں  کے دامن میں چھپے  ہوئے بھید وں کی طرف  واضح اشارے کرتاہے۔ اسی قرآن میں کہیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ بادلوں  ، بارشوں ، سمندروں اور ہواؤں کے وجود کی مصلحتیں بتائی جارہی ہیں ۔ کسی  مقام پر یہ بیان ہورہا ہے کہ چاند،  سورج، ستاروں ، دن رات، ماہ وسال  اور زمین کی گردش  کا فلسفہ  کیا ہے.

 

سیاسی اسلام کے ظہور کی ایک وجہ عرب دنیا میں بالخصوص اور اسلامی دنیا میں بالعموم جمہوریت پسندوں کی طرف سے بیسوی صدی کے دوسرے نصف میں اسلامی جماعتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ہیں جس کی وجہ سے رائے عامہ میں ان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوگیا، مثلاً 1955ء میں اخوان المسلمین کی جملہ قیادت کو پھانسی دے دی گئی، 1966ء میں سید قطب کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا، صالح سریہ کو 1974ء، شکری مصطفی کو 1977ء جبکہ اسی سال ❞الجہاد❝ نامی تنظیم کے محمد عبد السلام کو بھی پھانسی دے دی گئی اور 1982ء میں شام کے شہر حلب اور حماۃ میں اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنوں کو قتل کردیا گیا۔۔۔۔۔

 

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  سے مسجد نبوی میں بڑے مجمع  کے درمیان  اور شاگردوں  کے سامنے چالیس سوالوں کے بارے میں فرمایا: مجھے  نہیں معلوم  ، اس سے امام مالک کا مقام گھٹا نہیں، بلکہ اہل علم کی نظر میں  بڑھ گیا اور آج بھی ان کے اس عمل کی مثال دی جاتی ہے، اس کی ایک مثال  ماضی  قریب میں احمد دیدات ہیں جنہوں نے اپنے مناظروں کے ذریعہ بڑے بڑے عیسائی  مناظرین کو مہر بلب کردیا تھا، لیکن دوسری طرف اگر کوئی  معمولی  فقہی  مسئلہ  بھی پوچھا جاتا یا قرآن  و حدیث  کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ صاف کہہ دیتے کہ یہ میرا  میدان نہیں ہے،  اس کے لئے آپ علماء اور ارباب  افتاء  سے رجوع کریں، میدان  سے ہٹ کر گفتگو کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتاہے کہ آدمی شخصیت  نزاعی  بن جاتی ہے اور اصل  دعوتی کا ز کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔

 

سر سید احمد خان (17 اکتوبر 1817 ء تا 27 مارچ 1898ء ) دلی میں پیدا ہوئے اور یہیں تعلیم و تربیت حاصل کی، دلی صدیوں  سے ہندوستان کا سیاسی، علمی اور ادبی  مرکز رہی ہے، سرسید مرحوم  کاگھرانہ مغل  دور سے ملک کی سیاست سے وابستہ چلا آرہا تھا ، مغلیہ حکومت  کی تحلیل  سے ان کو بھی اقتدار  سے ہاتھ دھونا پڑا، سر سید مرحوم کی دور بین نظر  دیکھ رہی تھی کہ اب ملک میں مسلمانوں  کی کامیابی اور ترقی جدید تعلیم کے بنا ممکن  نہیں، انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اہل وطن  سے جدید تعلیم حاصل کرنے کی اپیل کی ابتداء میں انہیں سخت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ آہنی  حوصلہ اور فولادی عزم کے ساتھ میدان میں اترے تھے لہٰذا  الزامات اور مخاصمتوں کے طوفان ان کے پیر نہ اکھاڑ سکے،بالآخر فتح نے سید مرحوم کے قدم چومے۔

 

Tarek Fatah and Jamia Episode طارق فتح  اور جامعہ   کا واقعہ
Shamshad Elahee Shams

میرا واضح طور پر ماننا  ہے کہ طارق فتح ہندوستان میں کسی بھی جگہ مسلمانوں کے درمیان آزادانہ  طور پر اپنے خیال عوامی طور پر نہیں رکھ سکتے۔  ہندوستان کے مسلمانوں میں تنقید سننے کی ہمت  نہ تو پہلے تھی نہ اب ہے۔  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو یا جامعہ ... دونوں کے کیمپس  میں اسلام کے تئیں کسی تنقیدی آواز کو سننا ممکن ہی نہیں ہے۔

دو سال قبل میرٹھ یونیورسٹی کے کیمپس  میں نیو ایج اسلام ڈاٹ کام کے بانی اور صوفی اسلام کے ترجمان سلطان شاہین کو جماعتی مسلمان طلباء نے تین منٹ بھی نہیں بولنے دیا تھا،  اسی کیمپس میں  اسلام کے عالمی شہرت یافتہ  عالم مولانا وحيدالدین  خان صاحب کے ہاتھ سے مائک چھین لیا گیا تھا اور انہیں بے عزت کر کے  کیمپس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔   اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اسلام کی سیکولر تشریح کرنے والے دانشوروں تک کے لیے کوئی جگہ  نہیں چھوڑی  جا رہی ہے۔  

 

وہ لوگ جو عورتوں کے ذریعہ مردوں اور عورتوں کی نماز کی امامت  کے حق میں ہیں ، وہ ام ورقہ  کی مثال پیش کرتے ہیں ، جنہیں  مبینہ طور پر اپنے  دار (برادری، قبیلےاور خاندانوں کے مجمع ) کی امامت کرنے کی اجازت دی گئی تھی ، بلکہ حکم دیا گیا تھا ۔ یہاں دار سے  ایک مخلوط جماعت مراد لیتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ، ایک عورت اپنے  گھر میں نماز کی امامت کر سکتی ہے، جہاں اس کے خاندان کے مرد اور خواتین اراکین موجود ہوں ۔ لیکن جدید دور  میں مغرب میں مخلوط جماعت  کی خواتین کے ذریعہ امامت کی روایت نہیں رہی ہے بلکہ  یہ نظیر خارجیوں کے دورمیں بھی پائی جا تی ہے   جو بد قسمتی سے  مسلم فرقوں میں سب سے زیادہ قدامت پسند ہیں ۔

 

Pakistan: Deconstructing Tears of Corrupt and Ruthless Politicians  پاکستان: بدعنوان اور بے رحم سیاستدانوں کے آنسوؤں   کا تجزیہ

بہر حال؎ پاکستان میں  کچھ بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں، اگرچہ یہ بہت بڑے پیمانے پر نہیں ہیں۔ لیکن مثبت تبدیلیوں کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، اگر چہ وہ چھوٹی ہوں ۔ اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ ، کم از کم صورت حال اگر بہتر نہیں ہو رہی ہے،  تو بگڑ بھی نہیں رہی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں عام لوگوں میں سیاسی شعور بیدار ہوا ہے۔ بڑے  پیمانے پر احتجاجوں نے، بدعنوان حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا  کر دیا ہے، اگرچہ یہ احتجاج  تحریر اسکوائر اور شاہ باغ اسکوائر کے پیمانے پر نہیں تھے۔ طاہر القادری کے لانگ مارچ نے بھی کچھ مثبت اثر ڈالا ہے، اس لئے  کہ  اس نے ایک عام انسان کو بھی اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے،  تبدیلی کا مطالبہ کرنے، اور  سیاست دانوں کی سخت بد عنوانی  کے خلاف احتجاج کرنے کا حوصلہ بخشا ۔

 

The Law of Al Taqiya in Islam  اسلام میں تقیہ کا قانون
Naseer Ahmed, New Age Islam

ہندو صحیفے  کسی بھی دوسری مذہبی کتابوں سے  کہیں زیادہ وسیع اور زیادہ قدیم ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ معلومات اور علم و حکمت کا سب سے زیادہ دلچسپ ذریعہ ہیں، اور مسلمانوں کا ان صحیفوں کا مطالعہ بہت زیادہ فائدہ مند ہو گا ۔ اللہ تعالی نے قرآن میں ان چیزوں کو  چھوڑ دیا ہے، جو ہم مسلمان دوسرے صحیفوں سے سیکھ سکتے ہیں، اور یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اللہ کا راستہ ہے۔ میرے عقل کے مطابق، دوسرے صحیفوں سے فائدہ حاصل کرنے اور  مطالعہ کرنے سے انکار بھی کفر ہے، اس لئے کہ  یہ اللہ کے ذریعہ دیگر کمیونٹیز کو  عطا کردہ مہربانی کا  انکار ہے۔

 

The Salafi Wave in South Asia - 2nd Episode جنوبی ایشیاء میں پھیلتی ہوئی سلفیت ۔  دوسری قسط
Khama Bagosh Madzallah, New Age Islam

مثال کے طور پر پاکستان میں سلفیت کے زیراثر سماجی تبدیلی بہت نمایاں ہے۔صدیوں سے عام مسلمانوں کے روزمرہ استعمال کا لفظ ’’خدا حافظ‘‘ تبدیل ہوکر اللہ حافظ بن چکا ہے۔کچھ عرصہ پہلے اس حوالے سے باقاعدہ ایک مہم چلائی گئی کہ خدا حافظ میں موجود خدا کا لفظ فارسی اور ہندو خداوں سے ماخوذ ہے اور خدا وہ ہوتا ہے جس کا بت بنایا جاتا ہے جبکہ اسلام کا رب اللہ ہے خدا نہیں۔خدا کی جمع خداوں ہے اور ہندو اساطیر میں بہت سے خدا ہیں جبکہ اسلام میں صرف ایک اللہ ہے اور لفظ اللہ کی جمع موجود نہیں۔

 
The Necessity Of Interfaith Dialogue بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت
Fethullah Gulen, Tr. New Age Islam فتح اللہ گولن

The Necessity Of Interfaith Dialogue بین المذاہب  مکالمہ کی ضرورت
Fethullah Gulen, Tr. New Age Islam

کامیاب بین المذاہب  بات چیت کے لئے، ہمیں ماضی کو بھولنا ، حجت کو  نظر اندازکرنا ، اور مشترکہ  نکات  پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے ۔ مغرب کا  نقطہ نظر تبدیل ہو گیا ہے۔ Massignon پر غور کریں، جس  کا کہنا ہے کہ اسلام "ابراہیم علیہ السلام کا مذہب ہے جس کی تجدید  محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی  ہے۔" ان کا یقین  تھا کہ اسلام ایک مثبت ،عیسائی دنیا کے بعد تقریبا ایک نبوی  مشن ہے، اس  لئے کہ  "اسلام ایمان کا دین ہے، یہ خدا میں فلسفیوں کے قدرتی ایمان کا دین نہیں ہے، بلکہ یہ ابراہیم ، اسحاق، اور اسماعیل کے خدا میں ایمان کا دین ہے ،ہمارے خدا میں ایمان کا دین ہے ۔ اسلام مرضی قدرت   کا ایک عظیم اسرار ہے ۔ " انہوں نے  قرآن کے  الہی تصنیف ہونے ،اور محمد کی نبوت پر یقین کیا ہے ۔ [3]

 

Islam Promotes Education and Liberation   اسلام خواتین پر خصوصی توجہ کے ساتھ تعلیم اور آزادی کو فروغ دیتا ہے
Aiman Reyaz, New Age Islam

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو کا رچلانے سے عورتوں کو  منع کرتا ہے  ۔  مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح  یہ مصنوعی  خیال (مقصود بالاستہزاء)آیا ہے۔ یقینا اس وقت کاریں موجود نہیں تھیں ۔ وہ تمام  فتوے جو کہ آج ہم افغانستان اور سعودی عرب اور کچھ دیگر نام نہاد 'اسلامی' ممالک میں دیکھ رہے یا سن رہے ہیں ،   خواتین کی تعلیم پر پابندی لگانے اور کاروں کی ڈرائیونگ  پر  ہابندی لگانے کے بارے میں وہ آج  کے حکام کے فیصلے ہیں اور ان میں سے اکثر ، اگر سب نہیں تو ، اسلام سے کوسوں دور ہیں ۔

 

میں یہ نہیں جانتا کہ شیطان ہے یا نہیں، لیکن اگر کوئی مجھ سے اس کی موجودگی کے بارے میں استفسار کرے تو میں یقینی طور پر اقرار میں جواب دوں گا، اگر شیطان شر کی علامت ہے تو مذہبی رہنما یقیناً شیطان ہیں، کیونکہ یہی وہ واحد گروہ ہے جو ہمیشہ سے وہ کام کرتا چلا آرہا ہے جو اصولاً شیطان کو کرنا چاہیے، اگر آپ کسی عبادت گاہ میں چلے جائیں تو آپ کو میری بات سمجھ آجائے گی، اس سے قطع نظر کہ یہ لوگ تقدس وعفت کی چادر اوڑھے ہوتے ہیں لیکن در حقیقت یہ انسانی شکل میں شیطان ہی ہیں۔

Islamic State Is Responsible For Financial Misery of Its Minorities  اسلامی ریاست اپنی اقلیتوں کے مالی مصائب کے لئے ذمے دار ہے

اپنی خلافت کے دوران، حضرت عمر نے ایک بار ایک بہت ضعیف یہودی کو دیکھا جس کی حالت بہت بری تھی ۔ انہوں نے اپنے حکام میں سے ایک سے کہا، "یہ ہماری لئے  مناسب نہیں ہے کہ ہم ان سے انکی جوانی میں جزیہ وصول کریں  اور جب وہ بوڑھے اور غریب ہوں تو ہم انہیں بدحالی اور غربت میں مرنے کے لئے چھوڑ دیں"۔ اسی بنا پر ،انہوں نے حکم دیا کہ، یہودی کو اس کی موت تک ریاست کے خزانے سے ماہانہ وظیفہ (جدید قانونی زبان میں، اولڈ ایج پینشن) ادا کیا جائے ۔

 

God Is With Those Who Endure Patiently   اللہ ان لوگ کے ساتھ ہے جو صبر کرتے ہیں
Rashid Samnakay, New Age Islam

ایک عام انسان جو  زندگی کے ہر پہلو میں اچھائی کے لئے  ،  نیک عمل کے متعلق ، قرآن کے اصول  اور اور نیک عمل  پر اس کے زور دینے سے  واقف ہو ، اسے اس دلیل کی اصل کو قبول کرنے میں کوئی مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک سادہ آیت:  39-53 اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ، یہ مطلوبہ ردعمل حاصل کرنے کے لئے منصفانہ اور مثبت کارروائی کرنے کا عہد  خود کرنا بہت اہم ہے ، اس بات  کو یاد رکھتے ہوئے  کہ ہر اچھے یا برے کام کا  ایک متناسب ردعمل ہوتا ہے ۔

 

This Is The Way To Hell, Not To Heaven  یہ جنت کا نہیں، جہنم کا راستہ ہے
Sarwat Jamal Asmai

عراق میں شیعہ سنّی اختلافات کو جانی دشمنی میں بدل دینے کا تجربہ مسلسل سازشی حربوں کے بعد بالآخر کامیاب ہوگیا۔ مارچ 2003ءمیں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے فروری 2006ءتک شیعہ سنّی متحد ہوکر امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔ اس دوران ریکارڈ پر موجود واقعات کے مطابق استعماری ایجنٹوں کی جانب سے دونوں مسالک کے افراد اور عبادت گاہوں کو دہشت گردی کا ہدف بناکر یہ تاثر دینے کی بارہا کوشش کی گئی کہ یہ دوسرے مسلک کے لوگوں کا کام ہے۔تین سال تک یہ سازشی کارروائیاں تقریباً بے نتیجہ رہیں لیکن22 فروری2006ءکو سامرا کی مسجد عسکری میں اس طرح بم دھماکہ کرایا گیا کہ بعض مقدس ہستیوں کے مزارات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کی جو تفصیلات سامنے آئیں ان سے پوری طرح واضح ہوگیا کہ یہ کسی بیرونی خفیہ ایجنسی کا کام تھا لیکن اس سے فوری طور پر جو اشتعال پھیلا ،چند گھنٹوں میں سیکڑوں سنّی مساجد اور افراد اس کا نشانہ بن گئے۔

 

Muslims Have To Play A Positive Role In 21st Century  ملّی حکمت عملی: ہمیں پیادے سے فرزیں بننا ہوگا
Dr.Syed Zafar Mahmood

پچھلے 65 برسوں میں مسلمانوں کو ان کے وجود کے منفی  پہلوؤں میں الجھا ئے رکھا گیا ہے۔ مسلمانوں کا ووٹ ان کے تحفظ کی ضمانت کی بنیاد پر مانگا جانا ہے۔ دوسری طرف غیر مسلموں سے یہ کہہ کرووٹ مانگا جاتا ہے کہ اگر ہمیں ووٹ نہیں دیا تو مسلمان تمہیں  بھسم کردیں گے۔ مسلمان کو غیر ملکی یا دہشت گرد قرار دینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مسلم نوجوانوں کو سالہا سال تک جیل میں رکھ کر پھر عدالت میں ان کے خلاف جرم ثابت نہ ہونے کی صورت میں جیل سے آزاد کر کے اس کے بارے میں  بالکل بھول جانا قومی ثقافت کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ اسکولی کتابوں میں بالواسطہ مسلمانوں کو نیچا دکھانا قومی نصاب کا زیر آب دھارا بن گیا ہے۔

 

تعصب اور جنون کی ایک بدترین مثال اس وقت سامنے آئی جب مجاہد آزادی شہید بھگت سنگھ کے نام سے لاہور کے ایک مشہور چو ک کو منسوب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ فیصلہ ‘‘سٹی  ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور’’( سی ڈی جی ایل) نے کیا تھا ۔ اس فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی متعصب  اورتنگ نظر حلقوں میں کھلبلی  مچ گئی اور ایسا طوفان برپا ہوا کہ گویا ایک چوک کا نام بھگت سنگھ کے  نام پر پڑ  گیا تو پاکستان کا وجود ہی  ہی خطرے میں پڑ جائے گا یاد رہے کہ اس جگہ کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ  ہوا تھا جہاں  وہ قید خانہ واقع تھا جس میں شہید بھگت سنگھ کو پھانسی  دی گئی تھی۔ انہیں پھانسی  1931 میں دی گئی تھی ۔ یعنی  پاکستان بننے سے بہت پہلے ! بھگت سنگھ  مجاہد آزادی تھے اور پورے بر صغیر کی آزادی  کے لئے انہوں نے دار و رسن کو گل لگایا تھا ۔ ظاہر ہے اس میں پاکستان بھی شامل تھا ۔

 

اسلام میں سب سے پہلے دشمن ملک کی مقاتل (Combatant) اور غیر مقاتل  (Non-Combatant) آبادی کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ جہاں  تک غیر مقاتل آبادی  کا تعلق ہے (یعنی  جو لڑنے والی نہیں ہے یا لڑنے کے قابل نہیں ہے مثلاً عورتیں، بچے ، بیمار، اندھے، اپاہج وغیرہ)  اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہیں : لا تقنلو اشیخا فانیاو لا طفلا دو صغیر اً صغیرا و لا امراۃ (ابو داؤد ، کتاب الجہاد) ‘‘ کسی بوڑھے، کسی بچے  اور کسی عورت کو قتل نہ کرو’’ ۔ لا تقنلو اصحاب الوالد ان ولا الصو امع( مسند احمد) ‘‘بچوں کو قتل نہ کرو عبادت گاہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو نہ مارو’’۔جنگ میں ایک موقع  پر حضور نے ایک عورت کی لاش دیکھی تو فرمایا ‘‘ یہ  تو نہیں لڑرہی  تھی ’’ ( صحیح البخاری ، کتاب الجہاد ، باب قتل النسا ء فی  الحرب)  اس سے فقہا ئے اسلام نے یہ اصول اخذ کیا کہ جو  لوگ غیر مقاتل  ہوں ان کو قتل نہ کیا جائے ۔

 
1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 77 78 79


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS