FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section
Imran Khan’s Peace March عمران خان کا امن مارچ
Hussain Amir Farhad حسین امیر فرہاد

Imran Khan’s Peace March  عمران خان کا امن مارچ

ہمیں عربوں کی طرح ملائشیا کی  طرح مختلف قوانین کاجائزہ لینا چاہیے جہاں  ہمیں اچھائی نظر آئے  اسے اختیار کر لینا  چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اچھی بات مسلمان کی گم شدہ اونٹنی  ہے جہاں نظرآئے مہار پکڑ کر گھر لے آئے۔ بلا شبہ  اسلام میں پیوند  کاری جائز نہیں ہے۔ مگر اچھی  بات پیوندکاری  نہیں ہے یہ  تو مسلمانوں  کی میراث  ہے۔

 

Why Have The Muslims Ignored Kabir    مسلمانوں نے کبیر کو کیوں نظر انداز کردیاہے ؟
Vidya Bhushan Rawat, New Age Islam

کبیر کے بارے میں میرے نزدیک  تعجب خیز پہلو اس کی پیدائش اور اس کےپیروؤں کے درمیان اس کی مقبولیت  ہے۔ میں اس متولی  شبیر حسین کے پاس  گیا جو خاموشی سے اس جگہ کے سامنے بیٹھا ہوا  ہے جہاں ان کے مطابق کبیر کو دفن کیا گیا تھا ۔اس  کا دعوی ہے کہ  اس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں کبیر رہتے تھے اور ان کے آباؤ اجداد نے  ان کے مزار کی  بڑے خلوص کے ساتھ خدمت کی ہے ۔ شبیر حسین آج ایک نا امید  انسان ہے۔

 
God’s intervention نصرتِ خداوندی
Azhar Abbas Khawaja ازہر عباس خواجہ

God’s intervention  نصرتِ خداوندی

اللہ تعالیٰ کی نصرت فرداً فرداً کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی  اس کا واحد ذریعہ  اور واحد طریقہ  اقامتِ دین کی جد وجہد  ہے۔ جو گروہ یا جماعت اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش  کرےگی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ ہوگی اور پھر کوئی طاقت اس پر غالب نہیں  آسکے گی۔ تفہیم القرآن میں ارشاد ہے ‘‘ دین اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید  اکثر مقامات پر ‘‘ اللہ کی مدد کرنے’’ سے تعبیر کرتاہے۔

 

Refutation of Misleading Ideas of Punjabi Taliban’s Emir on Democracy – Part 3 (جمہوریت سے متعلق  امیر پنجابی طالبان کے جاہلانہ نظریات : ہمیں نظام کفر قبول نہیں ( قسط سوم
Sohail Arshad, New Age Islam
علامہ اقبال جنہوں نے مبینہ طور پر دو قومی نظریہ پیش کیا تھا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے الہ آباد میں جو صدارتی خطبہ دیا تھا اس میں انہوں گرچہ مسلمانوں کے لئے ہندوستان کے اندر ہی ایک خود مختار صوبے کا تصور پیش کیاتھامگر اس میں انہوں نےدین سے عاری   یوروپی جمہوریت  پر تنقید تو کی تھی لیکن خودمختار مسلم صوبے کے لئے کہیں بھی  خلافت کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ دوسرے لفظوں میں وہ ایسی وفاقی  جمہوریت کو قبول کرنے کو تیار تھے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔

 

Muhammad’s prophetic model and his teachings  محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا نبوی  ماڈل اور ان کی نصیحت
Sadia Dehlvi

تمام عظیم مذہبی رہنماؤں کی طرح، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متبعین کے درمیان اخلاقی اقدار کی سر بلندی کے  لئے جدوجہد کی ۔ انہوں  نے سکھایا کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ مہربانی، نیکی، صبر، معافی اور اعتدال پسندی کا راستہ  ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کا احترام کیا جائےاور یہ  اعلان کرتے ہوئے ماؤں کو  ایک اعلی درجہ عطا  کیا کہ ‘‘ جنت ماؤں کے قدموں  کے نیچے ہے ’’۔

 
Hajj -- Some Afterthoughts حج پر کچھ ثانوی خیالات
Syed Rizvi, New Age Islam سید رضوی ، نیو ایج اسلام

Hajj -- Some Afterthoughts   حج پر کچھ ثانوی خیالات
Syed Rizvi, New Age Islam

ہر مہینے  لاکھوں کی تعداد میں یہ بھیڑیں  بڑے بڑے سمندری جہازوں  میں  ٹھونس دی جاتی ہیں  ، اور کئی دنوں تک اس سمندری سفر کے دوران  اذیتوں سے دوچار ہوتی ہیں ۔ جگہ کی تنگی کے باعث  وہ حرکت کرنے کے قابل بھی  نہیں ہو تیں  اور   ان  میں بہت سی تو بیماری یا بھوک سے مر  جاتی ہیں۔ عام طور پر بیمار اور زخمی جانور وں  کی دیکھ بھال اور علاج  نہیں کیا جا تا  ہے۔ جو اس صبر آزما بحری سفر میں بچ بھی جاتی ہیں    ان میں سے اکثر جہاز سے زندہ  نہیں اتر سکتیں کیونکہ  جب جہاز بندر گاہ پر پہونچتی ہے تو اس وقت اسکا   ونٹیلیشن نطام  بند  ہو چکا ہوتا ہے۔

Evolution Of The Concept Of Imamate In Shia Theology  (رسالہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  گروہی اسلام (باب سوم

اثبات امامت کے شوق میں روایتوں پر غیر معمولی اعتماد اور ان کی تاویلا ت کو کلمۂ حق سمجھنے کا نیتجہ  یہ ہوا کہ قرآن  مجید کا شیعی  مطالعہ بڑی حد تک قضیۂ امامت کی تاویلات میں محصور ہوکر رہ گیا ۔ ایسا محسوس ہونے لگا گویا وحی ربّانی کے نزول کا بنیادی  مقصد اہل بیت کی امامت پر دلائل لانا ہو۔تاویل و تعبیر کے شوقِ نامسعود میں بالآخر شیعہ  مفسرین تحریف کی وادیوں  میں جا نکلے ۔ گو کہ وہ تعبیرات جو سراسر تحریف متن پردال ہیں عام طور پر ثقہ علمی بحثوں  میں مباحثہ کی میز پر نہیں ہوتیں لیکن تفسیر ی اور تعبیری ادب  میں ان کی  جابجا موجودگی شیعہ ذہن پر مسلسل اثر انداز ہوتی رہی ہے۔

 

Karachi: The Centre Of Communal And Extremist Activities فرقہ واریت، انتہا پسندی اور تنازعات کا مرکز کراچی
Mujahid Hussain, New Age Islam

کراچی بہت حد تک ریاست کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور اب اس شہر کو کسی پُرامن شہر میں بدل دینا بہت مشکل نظر آتا ہے۔آج فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لے کر سیاسی ولسانی جنگ سے جڑے ہوئے تقریباً تمام کردار اس شہر سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ ہیں۔فوج اچھی طرح جانتی ہے کہ کراچی طالبان اور دوسرے مذہبی و مسلکی انتہا پسندوں کا مرکز ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سیاسی ولسانی تنازعات کا مرکز بھی کراچی ہے، اس لیے کراچی کو کسی ممکنہ آفت سے بچا لینا ممکن نہیں رہا۔

 

ویلن ٹائن ڈے کا پس منظر کیا ہے، یہ جھوٹی اور نفسیاتی خواہشات میں لتھڑی ہوئی داستان ہے جس کی حقیقت کو شیطانی محبت  کے متوالے اور شیدائی نہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ابلیس لعین  ہر برائی  کو اتنا خوش نما اور دلفریب  بنا کر پیش  کرتا ہے کہ انسان کی عقل پر دبیز پردے پڑجاتے ہیں۔

 

How Gen. Zia transformed Pakistan into hell for women  ایک سیاہ دن کے نام
Dr. Sughra Sadaf

ضیاء الحق دور کی اس بنیاد پرستی کا پہلا شکار حقیقی مذہبی اقدار اور دوسرا عورت تھی۔ اس نے انسانیت کے مذہب کو ایک قوم تک محدود کرنے کی کوشش کی اور عورت، جو اسلام کے اولین دور میں ہر قسم کی معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں حتیٰ کہ جنگوں تک میں بھی حصہ لیتی تھی، کو چادر اور چار دیواری کے حوالے کر کے بطور انسان نہ صرف اس کی صلاحیتوں سے انکار کیا بلکہ چند ملّاؤں سے حرفِ شاباش اور اپنے خود ساختہ نظامِ اسلام پر سند ِ توثیق حاصل کرنے کے لئے اس کے لئے ایسے امتیازی قوانین بنائے جن کی توجیہہ دینی حوالے سے بھی موجود نہیں تھی۔

 

حضرت  رافع رضی اللہ عنہ  بن خدیج  فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ تشریف لائے تو ہم کھجور کی پیوندکاری  کر رہے تھے، فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید زیادہ بہتر  ہو۔ چنانچہ  لوگوں نے اس کو ترک کردیا لیکن  پیداوار میں کمی واقع  ہوگئی ۔ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میں بھی بند  ہ بشر ہوں اگر  میں تمہارے  دین کے متعلق کوئی بات بتلاؤں تو اسے لازم  پکڑو اور اگر اپنی رائے  سے کوئی بات کہوں تو یاد رکھو ، میں ایک بشر ہی ہوں جس کی رائے صحیح  بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔

Niyaz Fatehpuri’s Struggle against Islamic Fundamentalists   اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف نیاز فتحپوری کی جدو جہد

زیر تبصرہ  کتاب، War Within Islam( اسلام کی اندرونی جنگ) نیاز فتحپوری  کی فکری اساس  کو پیش کرنے  اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے  ، خصوصاً موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں جس میں اسلامی تہذیب  کا دوسری بڑی تہذیبوں کے ساتھ تصادم دیکھا جا رہا ہے  ۔ مصنفہ، جوہی شاہین نے  کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی   اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے ۔فی الحال وہ  ایک امریکی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں ۔ یہ کتاب میک گل یونیورسٹی میں پیش کئے گئے  ان کے  MA کے مقالے کا  نظر ثانی شدہ  متن ہے۔

 

The ‘Islamic’ Principle Of Parity In Marriage Is Just A Cover For Caste-Supremacism  غیر کفو میں ،برادری سےباہر شادی ، مسئلہ یا مسئلے کا حل؟

اسلام شاد ی کے لئے رشتہ طے کرنے کے معاملے میں مسلک، برادری ، حسب نسب اور رنگ کی بنیاد پر تفریق برتنے کا حامی نہیں ہے۔ وہ اعلی یا کمتر برادریوں  میں شادی کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر بھی شادی بیاہ میں کفو کا معاملہ مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی میں ایک مسئلہ اور رکاوٹ بن گیا ہے خاص کر جب خود لڑکا یا لڑکی برادری سے باہر اپنی پسند کے لڑکی یا لڑکے سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ معاملوں میں تو اس قسم کی غیر کفو میں شادی کا نتیجہ قتل یا خاندان میں قریبی رشتہ داروں میں قطع تعلقات تک ہو جا تاہے۔ کسی لڑکی کے اپنے ولی یا سرپرست کی مرضی کے بغیر اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کے فیصلے  پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ صرف کفو کے اصول کی بنا پر ایسی شادیوں کی مخالفت کرنا گویا اسلام کا مذاق ا ڑانا ہے۔ذات یا برادری کی برتری کا احساس سنگین مسائل پیدا کرتا ہے اور  اور بین برادری شادیوں کی مخالفت کی راہ ہموار کرتا ہے اور اس طرح اسلامی مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے جسے مسلمان اسلام کی خصوصیت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس مضمون میں مولانا عبدالحمید نعمانی نے کفو میں شادی کے مسئلہ پر مثبت نقطہء نظر سے سیر حاصل بحث کی ہے اور مسلم لڑکوں خصوصاً ان  لڑکیوں کی شادی میں کفو مٰیں کے اصول کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے جو کفو میں مناسب رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

 

دنیا کے کسی بھی مذہب کو لیجئے اس نے نہ صرف  انسانی  زندگی  کو بلکہ کائنات کے ہر شعبے  کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے مادی، اور روحانی ، یہ دونوں شعبے نہ صرف ایک ووسرے  سےمختلف ہیں۔ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم  ہیں صرف  یہی نہیں  بلکہ ان دونوں کو یکجا  کرنا ناممکن ہے۔ مذہبی  لوگ مادی  دنیا کو قابل نفرت  سمجھتے ہیں اور ما دیت کو مذہب کا دشمن قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف مادی دنیا کے علماء جنہیں سائنس داں کہا جاتا ہے مذہب کو ایک علمی تنزل اور توہمات کا ملغو بہ قرار دیتے ہیں ۔

The land of injustice سرزمین غیر معدّل
Hussin Ameer Farhad حسین امیر فرہاد

حضرت  رافع رضی اللہ عنہ بن خدیج فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہم کھجور کی پیوند کاری کررہے تھے، فرمایا اگر  تم ایسا  نہ کرو تو  شاید زیادہ بہتر ہو۔ چنانچہ لوگوں نے اس کو ترک کردیا لیکن پیداوار میں کمی  واقع ہوگئی ۔ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں بھی بند ہ بشر ہوں اگر میں تمہارے  دین کے متعلق کوئی بات بتلاؤں تو اسے لازم  پکڑو اور اگر اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو یاد رکھو ، میں ایک بشر ہی  ہوں جس کی رائے صحیح  بھی ہوسکتی  ہے اور غلط بھی ۔ (مسلم،جلد سوم، باب نمبر 296 ،حدیث نمبر 1598 ، صفحہ نمبر 599)

 

Message of CA Topper Prema سی اے میں سرفہرست پریما کا پیغام
Syed Mansoor Agha
دوسری اہم بات یہ ہے کہ بچیاں فطری طور سے محنتی ہوتی ہیں۔ ان کو اچھی تعلیم دی جائے۔ گھر کا ماحول چست و درست رکھا جائے تووہ بھی خاندان کا نام روشن کرسکتی ہیں۔ آج تعلیم کا غلغلہ عام ہے اور لڑکیاں لڑکوں سے آگے نکل رہی ہیں۔اس کے باوجودبعض گھرانوں میں لڑکوں کو غیر ضروری ترجیح اور ان کے مقابلے لڑکیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ مسلم گھرانوں میں یہ امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے رسول صلعم کا فرمان ہے کہ جس نے لڑکیوں کی اچھی طرح تعلیم و تربیت کی وہ یوم آخرت میں مجھ ؐسے اتنا ہی قریب ہوگا جتنی انگشت شہادت سے درمیانی انگلی۔

 
Answer to a Query about Shirk شرک کے متعلق ایک سوال
Hussin Ameer Farhad حسین امیر فرہاد

ہمارے ہاں ہر شخص کا ایمان  ہے کہ مسلمانوں  کا قبلہ اول  بیت المقدس  ہے۔ وزیر ہو، سفیر ہو ، مولوی ہو، عالم ہو، یا امی  ہو جس سے بھی پوچھو وہ قبلہ اول ا س عمارت  کو کہے گا جو اسرائیل  میں ہے۔مگر رب کافرمان ہے۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّۃ مُبَارَكًا وَھدًى لِّلْعَالَمِينَ (96۔3) سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ۔ وہ گھر  ہے جو مکّہ میں ہے، برکت والا۔ ہدایت گاہ ہے پورے عالم کےلئے ۔ کتنا واضح  انکشاف  ہے اللہ کی طرف سے ۔ لیکن  اللہ کہتاہے کہ تو کہتا رہے  بندہ کہہ رہا ہے کہ وہ شہر قدس میں ہے جو اسرائیل  کا شہر ہے۔ یہ بھی شرک  ہے اور توہین  الہٰی  بھی ہے۔

The truth behind Taliban fatwa justifying killings of innocent civilians – Concluding part    نوائے افغان جہاد فتویٰ  اور اس کی حقیقت ۔  آخری قسط
Nawa-e-Afghan Jihad

اسلام جنگ کے دوران دشمن کے حملوں کا بھر پور جواب دینے  کی حوصلہ افزائی کرتاہے ۔ اسلام  دہشت گردانہ کارروائیوں اور بزدلانہ حملوں کا مخالف ہے۔ قرآن مسلمانوں کو  میدان جنگ سے شکست قبول کرکے بھاگنے سے منع کرتا ہے۔ اور جنگ کے تمام تر حربے اور ہتھیا ر جو میسر ہوں انہیں استعما ل کرکے دشمن سے دوبدو جنگ کی اجازت دیتا ہے۔ ۔ لہذا جب منجنیق  (جدید توپ کی ابتدائی شکل ) کی ایجاد ہوئی تو مسلمانوں نے اس کا بھی استعما ل کیا۔

 

Mercy and Respect to Animals in Islam   اسلام  میں  جانوروں کے حقوق
Aiman Reyaz, New Age Islam

اللہ نے جانوروں کو ہماری طرح معاشرے  میں رہنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس  نے  ان کے لئے بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذرائع پیدا کئے ہیں۔ جانور ہماری طرح معاشرے  میں رہتے ہیں، اور وہ ہماری طرح خدائے تعالی کی عبادت کرتے ہیں لیکن اپنے طریقے سے ، جوکہ خدا تعالی نے ان کے لئے مقرر کیا ہے اور یہی انہیں ایک آزاد زندگی کا حق دار بناتا ہے ۔  

 

یہ بات عام طور پر سب لوگ اور خاص طور پر مسلمانوں خوب جانتے ہیں کہ ہر انسان پر اس کےپیدا کرنے والے اللہ کابھی حق ہے اور دنیا میں بے شمار انسانوں کا بھی اس پر حق ہے ۔ مگر کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ کسی کاحق ادا کرنا انسان کا فرض ہے اور اس کو اس فرض میں کوتاہی ،غفلت یا بد دیانتی کے لئے اللہ کے سامنے جواب دہ ہوناپڑے گا اور اس کے عوض عذاب کا حقدار بننا پڑےگا۔

 

Taliban Fatwa on Terrorism That Needs To Be Refuted (دہشت گردی کی حمایت میں طالبان کا  فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: وہ حالتیں جن میں کفاّر کےعام لوگوں کا قتل جا ئز ہوتا ہے (آخری قسط

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔

 اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا آخری حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

The Quran Speaks: Protect the Rights of the Non-Muslims  غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کریں:قرآن کا حکم
Aiman Reyaz, New Age Islam

اسلام انصاف پر زیادہ زور دیتا ہے۔ یہ اس بات کو وسعت دیتا ہے کہ انصاف کے لئے ہمیں خود کے خلاف جانے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے :"اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ 

 

System Based on Atheism and Democracy is not Acceptable Part 3 (ہمیں نظامِ کفر قبول نہیں (قسط 3

The author of this article Asmatullah Muawiyah is the former head of the banned terrorist organisation Sipah-e-Sahaba (Militia of the Companions of the Prophet) and the emir of Punjabi Taliban, Pakistan. In this article, he reiterates the Taliban’s ideological stand echoing Maulana Maududi’s view on democracy that it is an un-Islamic form of government and a system based on kufr (non-belief). Of late, he has been trying to have a ‘meaningful dialogue’ with the Pakistan government for reasons known to him since his organisation Taliban has declared the Pakistan government a government of kafirs though the majority  of the ministers are Muslims and Islamic Shariah is the basis of the law of the land.

In this article the Maulana has tried his best to drive home the point that all the social, political and economic ills of Pakistan are the result of the 65 years of this democratic system based on non-belief (kufr) and only a system governed by the Taliban will rid the country of the corruption the country is mired in.

It should be noted that in their writings, the Talibani scholars harp on common issues of the people of the Pakistan and shed crocodile tears for them by mentioning the poverty, corruption of their leaders, plundering the wealth of the country by the feudal lords and nawabs who have captured power, and never ever say anything on the issues of killing of Shias, destroying the Sufi shrines and carrying out suicide attacks on civilians in the residential and commercial areas.  In this article the Maulana has tried to show the human face of Taliban (though it has none) by shedding tears on the plight of the common people. Like most Urdu writers, he has used rhetoric and emotional rants spiced by Urdu couplets to arouse public sympathy in favour of the Taliban covering up their inhuman terrorist activities killing everyone who disagrees with them. They did not hesitate even to attack a 13 year old Muslim girl for peacefully opposing their policy. This article shows their duplicity in the worst form. We at New Age Islam will keep exposing this duplicity of these terror mongers and enemies of Islam.—Edit Desk, New Age Islam

 

An Interview with Allama Tahirul Qadri علامہ طاہر القادری سے ایک ملاقات
Allama Tahirul Qadri

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ سے ہر پاکستانی متفق ہے اور میری اس بات کی تصدیق پاکستان کے سب سے مستند گیلپ سروے نے بھی کر دی ہے جس کے مطابق 80 فیصد سے زائد پاکستانی میرے چارٹرڈ کی حمایت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ ہی گیلپ سروے ہے جس کو لیکر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔ مولانا طاہر القادری نے کہا کہ وہ اس بات سے قطعاً فکرمند نہیں کہ انکے حوالے سے منفی پروپیگنڈا اور رائے پیدا کی جا رہی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق، گذشتہ   چند ماہ سے  ماحول میں کشیدگی تھی  اب افواہوں سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ پردے کے پیچھے سنگین سازش  ہو رہی تھی اور شہر کے شیعوں کے خلاف مسلح کارروائی کے لئے  ایک سازش رچی  جا رہی  تھی تاکہ  انہیں بھی پاکستان کی طرز پر  ایک سبق سکھا یا جا ئے ۔پاکستان میں، ان کے  اجتماعات ان کی مساجد اور ان کے جلوس میں انتہا پسند سنی تنظیموں کے ذریعہ  فائرنگ میں تسلسل  کےساتھ درجنوں بے گناہ شیعوں کا قتل کیا جاتا ہے ۔وہ  شیعہ بچوں کو اسکول لے جانے والی گاڑیوں  پر حملہ  کرتے ہیں  اور انہیں مار ڈالتے ہیں ۔

 
1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 73 74 75


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS