certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

جب جون میں ابو بکر البغدادی  نے خلافت کااعلان کیا او راپنے  لیے خلیفہ  کے لقب  کا انتخاب  کیا تو محسوس  ہواکہ انہوں نے دولت اسلامیہ  کی اس شہرت کی تصدیق کردی ہے کہ یہ تنظیم واقعی بڑائی  کے خبط میں مبتلا ہے اور خود کو عہد رفتہ  کی عظیم روایات کی امین سمجھتی ہے۔ اپنے  بیان میں ابو بکر البغدادی کا اصرار تھاکہ ان کے ہاتھ بیعت  کرنا تمام مسلمانانِ عالم  کی مذہبی  ذمہ داری ہے ۔ اس کے اس دعوے کو پورے مشرق وسطیٰ نے بری طرح رد کرنے میں کوئی تاخیر  نہیں کی تھی ۔ لیکن  کی واقعی یہ سمجھنا کہ دولت اسلامیہ  کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہے خاصا  خطرناک ہوسکتا ہے؟ اس میں کوئی شک  نہیں کہ ابو بکر البغدادی  کی بے رحم حکومت کا اس خلافت کے ساتھ دور کابھی واسطہ نہیں  جس کی تصویر مسلمانوں  کےذہن میں ہے، لیکن دولت اسلامیہ  کے رہنما کے اعلان سے عراق و شام سے دور بیٹھے ہوئے دنیا  بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک امنگ  ضرور پیدا ہوئی ہے۔

 

آخر ادب کیوں پڑھایا جائے ؟ جب ایک محفل میں  مجھے اس سوال کا جواب دینا پڑا تھا تو مجھے سوال کرنے والا بہت فضول آدمی نظر آیا ۔ اب میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو یہ طے کیا کہ فضول آدمی  میں ہوں ۔ سوال کرنے والا شخص تو اپنے زمانے کی ترجمانی کررہا تھا ۔ بات  یہ ہے کہ وہ زمانہ تو گزر گیا جب ایسے  کاموں کو بھی اہم اور بامعنی  سمجھا جاتا تھا جن کی بظاہر کوئی افادیت نظر نہیں  آتی تھی  مگر اب ہم ایک افادیت پسند عہد میں سانس لے رہے ہیں ۔ کاموں اور چیزوں کی اہمیت اور معنویت کاتعین  ہم اس طور کرتے ہیں کہ ان کی ہمارے لئے افادیت کیا ہے۔ اس عمل میں ہم پر یہ کھلا کہ ہماری غزل تو نری گل و بلبل کی شاعری ہے اور یہ گل و بلبل کی شاعری کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے مگر مرغے کی وہی  ایک نانگ ، نت نئی  اصلاحی اور انقلابی تحریکوں کے باوجود ہماری شاعری گل و بلبل سے گلو خلاصی نہیں پا سکی ۔

 

America Can Destroy Any Nation It Wishes  جس کو چاہیں تباہ کر ڈالیں
Asad Mufti

کانگریس  ریسرچ سروس ( سی آر ایس ) کی ایک رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ  عراق اور افغانستان جنگ پر ہر ماہ  13 بلین  ڈالر خرچ کرتی تھی ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف افغانستان پر ماہانہ  اخراجات 10 بلین  ڈالر آتے تھے، جب کہ تین بلین  ڈالر افغان سیکورٹی کے حصے میں آتے تھے رپورٹ  کے مطابق  دیگر چھوٹے موٹے اخراجات اس میں شامل نہیں ۔ سی  آر ایس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اوبامامہ انتظامیہ نے مالی سال 2015 کے لئے مزید فنڈز  کی درخواست کی ہے جس سے 56 بلین ڈالر صرف مڈل ایسٹ پر خرچ ہونگے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا  ہے کہ 2017 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ 1.4 کھرب  ڈالر خرچ کرسکتا ہے ۔

 

Islam's concept of equality is best and the most fair  اسلام کا تصورِ مساوات سب سے بہتر اور مبنی بر انصاف
Maulana Asrarul Haque Qasmi

اسلام نے معاشرتی  زندگی  میں عورت اور مرد کے تعلقات  اور ان  کی نوعیتوں  پر بھی  بھر پور توجہ دی، کیونکہ  ماضی کی جتنی تہذیبیں او رمذاہب  تھے، سبھوں  نے اپنے اپنے  طور پر کوششیں کرلی تھیں،  مگر وہ مسئلہ  زن کی یا حقیقت تک ہی نہیں پہنچ  پائے تھے  یا اگر پہنچے تھے، تو اسے حل کرنے میں ناکام رہے تھے،  اسلام نے عورت کی ہر حیثیت  کو واضح کیا اور اسی اعتبار  سے اس کے حقوق بھی طے کیے اور اس کی ذمہ داریوں سے بھی  آگاہ  کیا، اسلام نے ماں کو انتہائی  بلند مقام دیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ ماں کےقدمو ں کے نیچے جنت ہے، اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا او رنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جس نے اپنی بیٹی کی بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کیا اور پھر  بالغ ہونے کے بعد اس کی اچھی  جگہ شادی  کردی او راپنی ذمے داری کی ادائیگی   میں کسی قسم  کی کوتاہی نہیں کی، تو وہ  جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔

 

Indian Muslims Believe in a Pluralistic Society  .........صد یوں رہا ہے دشمن
Zeen Shamshi

دراصل مغربی میڈیا اور خاص طور پر امریکی و صیہونی  میڈیا کو ہندوستانی مسلمانوں  کے بارے میں  بہت زیادہ فکر ستاتی  رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور دنیا میں ہندوستان  مسلمانوں  کی دوسری سب سے بڑی   آبادی  ہونے کے  باوجود اس کا مزاج  عالم اسلام سے بالکل مختلف  رہا ہے ۔یہاں کے مسلمانوں  کے اپنے مسائل  ہیں اور اسے وہ خود  ہی حل کرنا جانتےہیں  ۔ 11/9 ہو یا ممبئی  میں دہشت گردانہ حملہ  ہو ، مسلمانوں  نے تمام طرح  کی شدت پسندی سے اپنے آپ کو دور رکھا ۔ یہاں  تک کہ بابری مسجد  کی شہادت  اور گجرات  میں بڑے پیمانے  پر ہونے والا  فساد  بھی اسے دہشت گر بنانے میں  ناکام رہا ہے ۔ دہشت گردی  تو دور کی بات اس نے ایسی تنظیموں  سےبھی  اپنا رابطہ رکھنا مناسب نہیں سمجھا جو اسلام  کی بقا اور اسلام  کے خلاف ہورہی  سازشوں کا جواب بم برسا کر کرتی ہیں ۔

 

Significance and Sacredness of the Islamic month: Muharram-ul-Haram  ماہِ محرم الحرام و عاشورہ کی فضیلت و اہمیت
Hafiz Muhammad Hashim Qadri, New Age Islam

اسلامی سال کا پہلا مہینہ جسے محرم الحرام کہا جاتا ہے اپنے گوناگوں پیچ و خم، عشق و وفا، ایثار و قربانی اور بے شمار فضیلت ومرتبت کی دولتِ بے بہا سے معمور و سربلند ہے۔ محرم الحرام کے مہینے میں ایک دن ایسا بھی ہے جسکے مراتب و فضائل کلام الٰہی قرآن مجید و احادیث نبویہ اور سیرت و تاریخ کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ وہ دن ’’ یومِ عاشورہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ارشادِ باری ہے پارہ 10 سورہ توبہ آیت نمبر 36ِترجمہ: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں۔ اللہ کی کتاب میں جب سے آسمانوں اور زمین کو بنایا، ان میں سے چار مہینے حُرمت والے ہیں ۔ یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو،‘

 

Muslim Denial   مسلمانوں کی منفی ذہنیت: خود ساختہ خلیفہ بغدادی سے نمٹنے کےلئے اسے ایک یہودی اور موساد کا ایجنٹ سمجھا جائے، بقول مولانا ابو العرفان فرنگی محلی، لیکن کیا یہ طرز فکر کارگر ہے؟
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

کیا مسلمانوں کا خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی عرف ابراہیم ایک یہودی اور موساد کا ایک خفیہ ایجنٹ ہے؟  کیا وہ مسلمانوں میں انتشار، خون ریزی اور انتشار پیدا کرنے والی یورپی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی ہے؟ کیا وہ مسلمانوں کو تشدد اور غارت گری میں یقین رکھنے والی قوم کے طور پر دنیا بھر میں پیش کرنے کی  منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے؟.....   ہم مسلمان، یا کم ازکم ہم میں سے وہ افراد جو اپنی کمیونیٹی کو تباہی کے اس دلدل سے باہر لانا چاہتے ہیں جس میں ہم خودبہ خود گر چکے ہیں، اب اس حقیقت کا ادراک کر ہی لیں کہ ہم نظریاتی سطح پر ایک گمبھیر مسئلہ سے جوجھ رہے ہیں اور ہمیں خود اس کے حل کے لئے بھرپور جاں فشانی کرنی ہوگی۔ ہمارے مسائل کا حل اس بنیادی سوال کے جواب سے شروع ہوتا ہے کہ: آخر مسلمان کون ہے اور اس کی تعریف کیا ہے؟ ظاہر ہے جس قوم کے پاس اس سوال کا بھی جواب نہ ہو کہ اس کا حقیقی فرد کون ہے اور اس کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے کیا صلاحیت درکار ہے، اسے عہد حاضر کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک طویل مسافت طے کرنے کی ضرورت ہے-

 

مسلمان نہ کبھی  دہشت گرد تھا او رنہ ہی ہوگا کیونکہ جو سچا مسلمان ہوگاوہ کبھی دہشت گرد ہوہی نہیں سکتا ۔ انہیں اپنی امن پسند ی کے لئے  کسی مودی ست سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے مگر  سچ کا جادو سر چڑھ کر بولتاہے اور وہ مودی کےبھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ جب وہ وزیر اعلیٰ  گجرات تھے تو ان کی ریاست  میں کئی بے گناہوں  کا فرضی انکاؤنٹر  کیا گیا تھا مگر آج وہ تسلیم کرنے لگے ہیں  کہ ہندوستانی مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں  اور وہ امن  و سلامتی میں یقین رکھتے ہیں ۔ وہ دہشت گردی اور بد امنی میں بھروسہ نہیں رکھتے ۔  وہ صدیوں سے امن و امان اوربھائی چارہ  کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ بھارت اس لئے متحد ہے اور امن و شانتی کا گہوارہ  کہ مسلمان میل محبت کے ساتھ یہاں رہنا  چاہتاہے ۔ اسے بار بار اکسایا جاتاہے، اسے دہشت زدہ  کیا جاتاہے اور اس کی دیش بھکتی  پر سوال اٹھایا جاتاہے لیکن باوجود  اس کے وہ مظالم  سہہ کر بھی  اس ملک کا بھلا ہی چاہتا ہے ۔

 

بالغ لڑکی کسی  کو بھی  اپنے  نکاح کا وکیل  بنا سکتی ہے اور آپ تو ا س کے ماموں اور سر پرست ہیں، اس لئے آپ بہ درجہ اولیٰ اس کے وکیل بن سکتے ہیں،  البتہ ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کے والد کی حیثیت  اس کے والد ہی کا نام دیا جائے گا۔

 

Muslims to be Proud of   ......ایسی چنگاری بھی یارب میرے خاکستر
Khalid Sheikh

ہر قوم کی شناخت اس کی تہذیب و ثقافت اور طرز معاشرت سے ہوتی ہے او رنئی نسل اس کا چلتاپھرتا اشتہار کہ راہ راست پر ہوتو فخر و امتیاز کا سبب بنتی ہے  ، گمراہ ہو تو ذلت و خواری کا ۔ ہماری نئی نسل کی اکثریت بے راہ روی اور گمراہی کا شکار  ہے اور تہذیب  و اخلاق سے عاری  نظر آتی ہے ۔ اسے ٹی وی، فلموں، موبائل اور انٹرنیٹ کے مضراثرات کہئے یا تربیت کی کوتاہی کےبچے وقت سے پہلے جوان اور جوان وقت سے پہلے بوڑھے ہورہے ہیں ۔ نوجوانوں نے شور  شرابے اور ہنگامے کو زندگی سمجھ  لیا ہے کسی بھی قوم کے نوجوانوں کی شناخت اتنی آسان نہیں جتنی ہمارےنوجوانوں کی ہے۔ ان کی حرکات و سکنات اور طرز تعلیم،  ہر جملے میں گندے الفاظ اور گالیوں کا بے تکلف استعمال چیخ چیخ کر ان کے مسلمان ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔

 

نصاری الفانسوششم نے اس بکھراؤ کافائدہ اٹھایا اس نے الجوریا  ، لیون اور قشتالیہ کی سلطنتوں  کوباہم ملا کر اپنے  تحت  کرلیا اور اپنے اقتدار کو آگے بڑھانے لگا تب اشبیلہ  کے بادشاہ ‘‘ معتمد ’’ نے شمالی افریقہ  کے بڑے بڑے حاکم کو امداد  کے لیے طلب کیا یہ مردانی بادشاہ یوسف بن تاشقین تھا اس نے پہلے الجسرہ پر قبضہ کیا پھر زلافہ  پہنچا اور 479 ھ کو الفانسو حکومت کا خاتمہ کردیا ۔ یوسف بن تاشقین بانی خاندان المرابطہ حکمرانِ  مراکش  449ھ میں حسب وعدہ  مراکش لوٹ گیا اور کچھ فوج یہا ں حفاظت کے لیے چھوڑ گیا  501 ھ میں یوسف نے انتقال کیا اس کے بعد اس کا بیٹا علی جانشین ہوا غرض  یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں چلتا رہا ۔

 

America's Half Truth about ISIS  داعش سے متعلق امریکہ کی نصف حقیقت بیانی
Maulana Asrarul Haque Qasmi

امریکی وزیر خارجہ جان کیری  نے جب دہشت گردی کے اُبھر نے کے لیے اسرائیل کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے تو اسی وقت اگر وہ اپنی حکومت  کا گریبان  بھی جھانک کر دیکھ لیتے تو بہتر تھا ۔ اگر وہ یہ بھی کہہ دیتے کہ امریکہ اسرائیل کی ہر ناجائز حرکت کے اندھی  حمایت کرنے کا ذمہ دار ہے تو کہا جاسکتا تھا کہ انہوں نے پورے معاملے کا ایمان دارانہ تجزیہ کیا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بالکل بھی قبول  نہیں کیا کہ امریکہ  ابھی تک اسرائیل کی ہر غلط حرکت سے چشم پوشی کرتارہا ہے ، اُس کے ہر ناجائز ارادے کو اپنی اندھی حمایت دے کر پایہ تکمیل تک پہنچاتا رہا ہے، اُسے ایک مضبوط  حلیف گردانتا  رہا ہے اور اس حقیقت  سے پہلو  تہی  کرتا رہا ہے کہ اسرائیل واقعتاً ایک شیطان صفت ملک ہے۔

 

Story of the Lady Teacher of Madrasa and Love Jihad  میرٹھ مدرسہ کی استانی اور ‘ لو جہاد’ کی کہانی
Syed Mansoor Agha

سرا وا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں تقریباً ایک سو گھر ہیں ۔ ساٹھ فیصد آبادی مسلم او رباقی غیر مسلم تیاگی رہتے ہیں ۔ ان کے درمیان  اس واقعہ  سے قبل کبھی کوئی فرقہ ورانہ کشیدگی یا شکایت  نہیں رہی ۔ یہی  وجہ تھی کہ ایک اردو میڈیم مکتب اور مدرسہ میں ایک غیر مسلم لڑکی کو بلا تکلف ٹیچر رکھ لیا گیا۔ اس واقعہ  سے قبل اس کے والدین نے بھی مدرس کے اساتذہ یا انتظامیہ کے بارے میں  کوئی شکایت نہیں کی۔ مگر یہ واقعہ پیش آتے ہی وہ بھی ‘ لوجہاد’  کی کہانی سنانے لگا اور اہل  مدرسہ کو مطعون کرنے لگا۔

 

سر سید نے تعلیم پر  اس لیے زیادہ زور دیا کہ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ انگریزوں کو ہتھیار او رمادّی  قوتوں سے شکست نہیں دی جاسکتی  کیونکہ پوری دنیا میں مسلمان دھیرے دھیرے زوال کی طرف جارہے تھے اور یورپ نے 16 ویں  اور 17 ویں صدی میں جو سائنسی بر تری حاصل کی تھی اس کی زد میں دھیرے دھیرے سارے مسلمان ملک آرہے تھے ۔ اسی لیے سر سید نے زیادہ زور جدید تعلیم  پر دیا اُن کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ جدید تعلیم کے بغیر مسلمانوں کامستقبل بالکل تاریک ہے۔ سر سیّد کی دور بین نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ زندگی نے جو رُخ اختیار کرلیا ہے اُس کو بدلانہیں جاسکتا اس میں رکاوٹ پیدا کرکے اس کی رفتار کو بھی روکا نہیں جاسکتا بلکہ ایسا کرنے والے خود تباہ ہوکر رہ جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے تمام تر توجہ جدید تعلیم کے فروغ پر مرکوز کردی ۔

 

Shankarayacharya Vs Sai Baba: Supreme Court's Meaningful Comments  شنکر آچاریہ بنام سائیں بابا معاملے میں سپریم کورٹ کامعنی خیز تبصرہ
Maulana Abdul Hameed Nomani

شنکر آچاریہ بنام سائیں بابا جو تنازعہ شروع ہوا تھا وہ بڑھتے بڑھتے سپریم کورٹ  تک پہنچ گیا،لیکن ان کا فیصلہ سپریم کورٹ یا دیگر عدالتوں میں ہونے کاکوئی معنی مطلب نہیں ہے، اس لیے سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کی ایک رٹ سماعت کرتے ہوئے جس طرح کابتصرہ کیا ہے ، وہ بالکل توقع کےمطابق ہے، جب ( ماہ جون 2014 میں) شنکر آچاریہ سوامی سرو پانند نے کچھ باتوں کو بنیاد بناکر سائیں بابا کے متعلق بیان دیا تھا تو راقم سطور کی بھی کئی ٹی وی چینلوں  نے مذاکرات میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی، مذاکرات میں دونوں فریق کی باتیں اور دلائل سننے کے بعد دونوں کی نظریاتی و فکری کمزوریاں  صاف صاف نظر آئیں ، شنکر آچاریہ نے ہری دوار کے قیام کے دوران میں سنت سائیں بابا  کی پوجا سےر وکنے اور ان کے نام پر مندروں کی تعمیر او ران میں دیگر ہندودیوں دیوتاؤں  کی مورتیوں کےساتھ سائیں بابا کی مورتی رکھنے کی مخالفت کی تھی۔

 

جو لوگ سر سید کی ‘ اسباب بغاوت ہند’ سے پہلے کے تصانیف سے واقف ہیں ورنہ صرف یہ جانتے  ہیں کہ سر سید کی کایا پلٹ لندن جانے سے پہلے ہوچکی تھی بلکہ یہ بھی کہ اس ذہنی  انقلاب سے پہلے سر سید اسی  مکتب فکر تعلق رکھتے تھے جس نے کوئی ڈیڑھ سو سال بعد مولانا  سیف اللہ خالد فاتح ربوہ ٹائپ کے لوگ کو جنم دیا ۔ سر سید کا دوسرا،  اور سفید جھنڈا لہرانے سے بھی بڑا جرم اس نظام تعلیم  کو متعارف کروانا  تھا جس نے گلستان او ربوستان کے حافظوں کے سر سے دستارِ فضیلت  اتار کے اسے پی ایچ ڈی کے ہڈ میں بدل دیا ۔

 

ہندوستان  میں اخبار نویسی  اور خبر رسانی  کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ہندوستان میں اردو صحافت کی باقاعدہ ابتدا مئی 1822 میں جام جہاں نما ہفتہ وار اخبار سے ہوئی ۔ اردو صحافت ، اخبار یا خبر نامہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسری ایجاد وں کی طرح ہی اس کی تاریخ  بہت ہنگامہ  خیز رہی ہے۔ انیسویں  صدی میں ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لئے جد و جہد  کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔ اردو کے اخبارات ہی نےجنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس کا ثبوت ایک نامور صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر کی شہادت سے ملتا ہے۔ اردو اخبارات کے مدیر ان انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ۔

 

بات تو رسوائی کی ہے لیکن با ت کہنا بھی ضروری ہے ۔ موجودہ حالات میں فضا کچھ غداری کی چلی ہوئی ہے ۔ ہر طرف شور ہے کہ غدار کون ہے؟ لیکن سمجھنے کی  بات یہ ہے کہ ہم کسی کو غدار کہہ کیوں رہے ہیں؟ ویسے بھی غداری کچھ فیشن سا بنتا جارہا ہے ۔ جنگ آزادی کو غدر قرار دے کر پہلے مسلمانوں کوجد وجہد کو غداری سے موسوم کیا گیا تھا تو پھر انگریز سرکار نے ہندوستان پر قبضہ کے بعد جد وجہد کرنے والوں کو غدار کہہ کر سزائیں دیں ۔

 

اس اقتباس میں ‘‘ ہم وطنو’’ اور ‘‘ قوم کے بچوں’’ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں کہا گیا ہے ۔ مگر کیا کیجئے جب ذہن کسی تعصب و تحفظ کا شکار ہوجاتاہے تو اس کی سوچ کادائرہ بھی محدود ہوجاتا ہے اور ویسے  ہی محدود ذہنیت کے لوگ سر سید جیسے رہنما ئے قوم کے افکار و اعمال کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں مگر وقت  انصاف پسند ہوتا ہے وہ  کسی نا انصافی کو کب قبول  کرتا ہے ۔ آج ہندوستان ہی نہیں پوری  دنیا کے بڑے سے بڑے دانشور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر سر سید اس وقت  ملک میں تعلیمی و سماجی تحریک کا آغاز نہیں کرتے تو آج ہندوستان تعلیمی شعبے میں سو سال اور پیچھے ہوتا۔ سر سید کے تصور تعلیم پر جب کبھی گفتگو ہوتی ہے تو بعض مبصرین یہ کہتے ہیں کہ سر سید کی تحریک تعلیمِ نسواں کی روح سے عاری نظر آتی ہے ۔

 

جدید تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سرسید نے بنارس میں’’ کمیٹی خواست گار ترقئ تعلیم مسلمانان‘‘ بنائی،جس کا مقصد مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار کرنا تھا اور اس مقصد کے لیے کمیٹی کی جانب سے ایک اشتہار شائع کیا گیا کہ لوگ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر مضامین لکھ کر بھیجیں ۔اچھے مضامین کے لیے تین انعام۔ پانچ سو، تین سو اور ڈیڑھ سو روپیے کے مقرر کئے گئے اور ان مضامین کی بنیاد پر اردو اور انگریزی میں ایک رپورٹ تیار کی گئی۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایک دوسری کمیٹی ’’کمیٹی خزینتہ البضاعۃ‘‘تشکیل دی گئی جس کا مقصد رقم کی فراہمی تھاتاکہ کالج کے لیے زمین خریدی جاسکے۔ کمیٹی کی طرف سے جولائی1872ء میں ایک اشتہار شائع کرکے یہ دریافت کیا گیا کہ مدرستہ العلوم کس شہر میں قائم کیا جائے۔

 

انسان کے اس دنیا میں آنے کے بعد اس کی زندگی میں  جو سب سے اہم واقعہ  پیش آتا ہے ، وہ ہے اس کا ازدواجی رشتہ کے بندھن میں بندھنا ، نکاح کے ذریعہ خاندان وجود میں آتا ہے ، نسلِ انسانی میں افزائش کا تسلسل باقی رہتا ہے اور اسی کی وجہ سے انسانوں کی یہ بسائی گئی  بستی لاکھوں سال سے آباد ہے اور قیامت تک آباد رہے گی، اس کے علاوہ نکاح پاکیزہ اور عفیف زندگی گذارنے میں معاون ہوتاہے، مرد و عورت کے لئے سکون و طمانینت کا ذریعہ بنتا ہے، دو خاندانوں کو ایک دوسرے سے قریب کرتا ہے اور زندگی کی دھوپ کی تپش سے جب آدمی بے چین ہوجاتاہے تو ایک دوسرے کی محبت کی شبنم اس تپش کو بجھاتی ہے اور دلوں کو راحت پہنچاتی ہے، اسی لئے اسلام نکاح کی ترغیب دی ہے اور نکاح میں سادگی اور کم سے کم خرچ کی تلقین بھی کی ہے ۔

 

سرسید اپنے عہد کے نبض شناس تھے ۔ انہوں نے گہری نظر سے اس وقت کے ہندوستان کے سماجی اور سیاسی حالات کا جائزہ لیا تھا ۔ چونکہ ان کا درد مند دل حب الوطنی کے جذبے سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اس لئے وہ اپنے معاشرے کا علاج ایک طبیب کی طرح کرنا چاہتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت  جو سیاسی  حالات تھے اس نازک وقت میں سر سید کوئی بڑی  سیاسی تحریک نہیں چلا سکتے تھے کیونکہ ایک طرف وہ انگریزوں کے خلاف کھل کر آنے کو تیار نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کے سر سید اپنے حکیمانہ فکری بصیرت سے کام لے کر اس مرض کا علاج کرناچاہتے تھے جس میں مبتلا ہوکر ہندوستانی قوم نا امیدی و مایوسی  اور احساس کمتری کے سمندر  میں ڈوبتی جارہی تھی ۔

 

سرسید نے جب فلسفہ اور نیچرل سائنس پر زیادہ زور دیا اور کہا کہ ہمارے دائیں ہاتھ میں فلسفہ ہوگا، بائیں میں سائنس تو شور و شر اور پھیلا ، کیونکہ انہوں نے ایک ایسی دقیانوسی معاشرے میں یہ آواز بلند کی تھی جہاں فلسفہ او رمنطق کو عرصۂ دراز تک الحاد و زندقہ کا باعث سمجھا جاتا تھا ۔جس قوم کی روایت ابن سینا اور ‘ اخوان الصفا’ کی تصنیفات نذر آتش کرنے کی رہی ہو۔ جس قوم میں ابن حبیب اشبیلو ی کو فلسفہ پڑھانے کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہو، جہاں فخر الدین ابن الخطیب رازی پر مصائب کے پہاڑ صرف اس لیے توڑ ے گئے ہوں کہ یہ وہ جید قسم کا فلسفی تھا ۔ جہاں ابن رشد جیسے فلسفی پر بے دینی کا الزام لگا کر جلا وطن کردیا گیا ہو۔

 

سرسید کو لندن میں اپنے قیام کے دوران دو مرتبہ ملکہ وکٹوریہ سے بھی ملنے کا موقعہ ملا۔ پہلی مرتبہ6؍نومبر1869ء کو جب وہ ایک پل کا افتتاح کرنے آئی تھیں اور دوسری مرتبہ11؍مارچ1870ء کو ملکۂ معظمہ کے شاہی محل میں جہاں سرسید نے ملکہ کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔ ملکہ وکٹوریہ سرسید سے دو سال چھوٹی تھیں اور وہ ملکہ کی شان و عظمت کو ان کی مادرِ مشفقہ کی تعلیم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر ہی سرسید نے بھی اپنے اسکول کا افتتاح ملکہ وکٹوریہ کی سالگرہ تاریخِ پیدائش24؍مئی1875ء کو کیا تھا۔سرسید کے ایک خط سے پتہ چلتا ہے کہ1869ء میں ہندوستان میں عورتوں کی تعلیم سے متعلق مضامین اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے تھے۔

 

Clerics Brainstorm Ways to Preserve the Cultural Heritage of Indian Muslims  مزارات اور سنی وقف جائدادوں کا استحصال:  سنی صوفی علماء، سجادگان اور دانشوروں کا ہندوستانی وہابی تحریک کے اثرات پر تشویش

ایک مجلسی گفتگو کے بعد اتفاق رائے سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ قومی وقف ترقیاتی کارپوریشن اور قومی عمارات تعمیراتی کارپوریشن (NBCC )کے درمیان معاہدہ پر عمل درآمد کے دوران حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ صوفی جائدادوں کا کردار ہر قیمت پر برقرار رہے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے واقف کی منشا کی پامالی ہوتی ہے آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے زیر اہتمام مدرسہ اہل سنت امبیڈکر کالونی چھتر پور پہاڑی مہرولی شریف میں منعقدہ اس میٹنگ میں دہلی وقف بورڈ کا رول خاص طور پر زیر غور آیا اور مقررین نے ذور دے کر کہا کہ صوفیا کی سر زمین دہلی میں ایک انتہا پسند فکر کو سرکاری ادارہ کے ذریعہ عوام پر تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ 

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Sharia law supports that a man is allowed to have sex with slave women and women captured in battle, and if the enslaved woman is ...
    ( By zuma )
  • Sharia law mentions that a Muslim man is forgiven if he kills his wife at the time he caught her in the act of adultery. ...
    ( By zuma )
  • In other words, instant triple divorce must be declared constitutionally invalid...
    ( By muhammd yunus )
  • This should be a welcome development for all progressive Muslims۔
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Religious freedom is a good concept but it is beyond the ken...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Well articulated and well argued article.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Legislation criminalizing instant talaq would be ideal but is probably not going to happen in the foreseeable future.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Sharia law supports that a rapist may only be required to pay the bride-money (dowry) without marrying the...
    ( By zuma )
  • Sharia law never abolished slavery, sexual slavery and highly regulates it....
    ( By zuma )
  • You do not need any divine sanction to ask for gender justice and equal human rights. This year, the first two CBSE...
    ( By Ashok Sharma )
  • لحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أما بعد: فسبب نزول هذه الآية: أن مشركي مكة أنكروا على النبي صلى الله عليه وسلم ...
    ( By عبدالرسول )
  • Why man’s chastity is not stressed by the society in general? Because man doesn’t bring any child right into the family. Why woman’s chastity is ...
    ( By Royalj )
  • ISIS was responsible for both dastardly acts mentioned by Hats Off. But he would of course blame all Muslims for it! He....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • the fact that mr. abdel kadir had to fight to save the christians from muslim mobs is a perpetual story...
    ( By hats off! )
  • What is slavery from hadith’s and quran’s point of view? Muhammad is mentioned in the Book #1, Hadith #65 (Sahih Bukhari and the ....
    ( By zuma )
  • a great article on ht idea of moderation by Al Ghazali. thank you.'
    ( By fadlizarli )
  • Today's Islamophobes would much rather erase the memory of our Abdelkaders and call us all ​Al-Baghdadis.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A timely reminiscence on a Muslim freedom fighter, whose sympathy and compassion...
    ( By muhammd yunus )
  • Good article! Short, but compelling. Eloquently and accurately parallels the grandiose scheme to fight terror with appointing the arsonists as fire-fighters
    ( By muhammd yunus )
  • very good brother very knowledgeable, and impressive
    ( By shadab )
  • Does Quran support that women could only be able to have contact with Mahram and none else? If Quran forbids women to travel except ...
    ( By zuma )
  • Instantaneous talaq is not simply an issue of gender equality. If it was so, it can be resolved by giving women also the right to ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Dear Aayina, You are a learned man. I NEVER said that love, mercy, compassion and...
    ( By muhammd yunus )
  • Thank you Master Robert Fisk for giving a lesson in being a Muslim, and....
    ( By Skeptical )
  • Mr Rajdeep should prove how why only prominent Hindus only matter, the killing...
    ( By Aayina )
  • Misleading title
    ( By Aayina )
  • I think Mr Naimat should be aware that critical thinking ageist Islam is prohibited....
    ( By Aayina )
  • To Muhmmad Yunus. Belive it or not politics always effect our life, i had same opinion as you but in democratic country....
    ( By Aayina )
  • The Middle East does not need either new arms or Trumpian intervention. It...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Dear Aayina, I just thought, to be true to your name you will be 'saaf and shaffaf' - neutral in expressing....
    ( By muhammd yunus )
  • Western Governments seldom acted responsibly.America actively supported Yahya khan in his genoside of Bangladeshi ppl.West even today ...
    ( By H.Gangadhar )
  • To Mohmmad Yunus. You asked me question on partisan with Hindus. Here is the answer, the writer Arshad ...
    ( By Aayina )
  • May be with trump having in his Taj Mahal. पिछले साल की चाई की चूसकी मोदी के साथ, इस साल का जूगड ट्रम्प के साथ
    ( By Aayina )
  • As per the Trump-Salman deal 350 billion dollar worth of arms will be delivered to Saudi Arabia in the next 10 years. Who is ...
    ( By muhammd yunus )
  • To Muhmmad Yunus. I write on this website when there is any effect going to happen on Hindus or Hindus are unnecessary dragged or pointed ....
    ( By Aayina )
  • Hatts of is not atleast not munafik, like those Muslims commentators who wasn't to ride on two boats, which twist all meaning that ....
    ( By Aayina )
  • Good article on Trump's disastrous Middle East policy.'
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Terrible state of affairs! What can one say?
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • America should maintain strict neutrality in the Saudi-Iranian conflict. If America sees itself...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Sharia law supports that it is obligatory for a woman to let her husband have sex with her immediately when he ask her and she ...
    ( By zuma )