certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

Maybe my Words will sink into your Heart  شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
Syed Shamshad Ahmad Nasir, New Age Islam

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیارے آقا نے فرمایا ہے کہ کسی کو بھی آگ کا عذاب مت دو۔ حتّٰی کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ چیونٹیوں کے بھٹ کو بھی آگ سے نہ جلاؤ۔ اگر کسی کا کوئی ایسا فعل ہی ہے جسے پر اسے آگ کی سزا دینی ہے تو وہ خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ گویا کسی دوسرے کو آگ کی سزا دینے کی اجازت نہیں۔ یہ سزا کلیۃً خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور جو اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ ایک عرصہ سے دنیا کے مختلف اخبارات، کالم نویس، تجزیہ نگار اور ملک کے شرفاء دہشت گردی کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ اگرچہ دہشت گردوں کے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے مگر وہ شاذ و نادر کے طور پر اور اکّا دکّا۔ مگر اب تو ہر جگہ یہی حال ہو رہا ہے اور مسلم ممالک اس کی زد میں زیادہ ہیں۔ خدا معلوم کہ ان دہشت گردوں کے مقاصد کیا ہیں؟

 

Bhagat Singh's Secular Legacy  بھگت سنگھ کی سیکولر وراثت
K.C. Tyagi

بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے لکھی تحریر جون 1928 میں شائع مضمون میں ان کے خیالات کی کار کردگی ظاہر ہے ۔ ‘ ہندوستان  کی حالت اس وقت بڑی قابل رحم ہے۔ ایک مذہب کے پیروکار دوسرے مذہب کے پیروکار وں کے جانی دشمن ہیں ۔ اب تو ایک مذہب کا ہوناہی دوسرے مذہب کا کٹر دشمن ہونا ہے  ۔ اگر اس بات ہوناابھی یقین نہ ہو تو لاہور کے تازہ فسادات ہی دیکھ لیں ۔ کس قسم مسلمانوں نے بے گناہ سکھوں، ہندوؤں کو مارا ہے او رکس طرح سکھوں نےبھی بس چلتے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ مار کاٹ اس لئے نہیں کی گئی کہ فلاں آدمی مجرم ہے ،بلکہ اس لئے کہ فلاں آدمی ہندو ہے یا سکھ ہے یا مسلمان ہے۔ صرف کسی شخص کاسکھ یا ہندو ہونامسلمانوں کی طرف مارے جانے کے لئے کافی تھا اور اسی طرح کسی شخص کا مسلمان ہونا ہی اس کی جان لینے کے لئے کافی تھا ۔

 

Violation of Minority Rights in Pakistan is brazenly Un-Islamic  پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی انتہائی  غیر اسلامی  عمل ہے
Syed Shamshad Ahmad Nasir, New Age Islam

آنحضرت نے مسلمانوں کو کتنی واضح ہدایات اور طریقہ کار وضع کرکے احکامات دیئے۔ کاش اس پر عمل کیا جائے تو دنیا میں اور خصوصاً پاکستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں تو نہ ہی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو جینے کا حق ہے بلکہ ان کے قتل کے فتوے دیئے جارہے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ کسی کی ہوئی زیادتی پر جا کر مل بھی لیا جائے تو اسے بھی گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ سلمان تاثیر گورنر پنجاب کے قتل کی بہت واضح مثال موجود ہے۔ پھر فرمایا کہ ان کی مقدس چیزوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہے خاص طور پر اقلیتوں کے حقوق نہ صرف مارے جاتے ہیں بلکہ ان کی مقدس کتابوں کو ان کے بزرگوں کو بہت برا بھلا کہا جاتا ہے اور ان کے جذبات سے آئے دن کھیلا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ مقدس چیز تو ان کی عبادت گاہیں ہیں۔ جن پر حملہ کرنا، بموں سے اڑا دینا، آگ لگا دینا، ان کی املاک لوٹ لینا تو آئے دن کا کھیل ہے۔ اور وہ ریاستی مشینری اس سلسلہ میں خود بے بس ہے۔ ملک میں قانون کا کچھ بھی تو احترام نہیں۔ ہر شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے…….

 

Why Are We So Afraid Of Empowering Women?  ہم خواتین کو بااختیار بنانے سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟
Alina Zaman

خواتین کے حقوق سے متعلق تمام مباحث میں جو پہلو نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح خواتین نادانستہ طور پر زن بیزاری کو فروغ دیتی ہیں اور دوسرے خواتین کے لیے زندگیاں دشوار بنا دیتی ہیں۔ اگر ہم واقعی اس کے بارے میں سوچیں تو صحیح معنوں میں خواتین کے احترام کا تصور عورتوں کی ہی جانب سے پیدا ہونا چاہئے۔

 

کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس دن نامحرموں کے ساتھ عشق کا اظہار کیا جاتا ہے اور یہ عیاشیاں اسلامی اقدار کے خلاف ہیں اس لیئے یہ دن منانا نہیں چاہئے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام میں عیاشی ممنوع ہے محبت نہیں۔ پسند کی شادی پہ اسلام پہرے نہیں لگاتا۔ اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہیں آپ کو ایک case نہیں ملے گا جہاں کوئی عورت اور مرد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں اور ایک دوسرے کو جیون ساتھی بنانا چاہتے ہوں اور اللہ کے رسول نے ان کی پسندیدگی کو نا پسند فرمایا ہو؟ ہاں مختلف ادوار میں آپ کو نام نہاد مولویوں کی ایسی کئی مثالیں ضرور مل جائیں گی جنہوں نے بے حیائی کے نام پر محبت کرنے والوں کو اپنے فتوؤں اور جبر سے جدا کیا۔ کیا یہ لوگ اللہ کے رسولؐ سے زیادہ دین جانتے ہیں یا نعوذ باللہ ان سے زیادہ خدا کے قریب ہیں؟ اللہ کے رسول نے تو یہاں تک فرما دیا کہ ـ’اگر دو لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں تو ان کے لیئے اس سے بہتر اور کچھ نہیں کہ وہ شادی کرلیںـ‘ (صحیح الجامی 5200)۔

 

میرے بہت سے دوستوں نے اس بات کی کوشش کی کہ میں اپنا راستہ چھوڑ دوں لیکن میں ہمیشہ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر راہ حق کی ہدایت اور اس پر استقامت کی توفیق کے لیے دعا گو ہوتی ہوں۔ اور اللہ نے میری دعاؤں کو شرف قبولیت سے بھی نوازا۔ میں نے اپنے لیے جو راستہ اختیار کیا اس پر نہ تو مجھے افسوس ہے اور نہ ہی کبھی ہو گا۔ میں اپنی زندگی سے تنگ آ گئی تھی، لیکن اب مجھے امن و سکون حاصل ہو ہی گیا۔ الحمد للہ، میرے سامنے ایک راستہ ہے اور میں نے اس کا انتخاب بھی کر لیا ہے۔ اسلام نے مجھے حلم و خاکساری عطا کی ہے۔ اس مذہب پر چلنے میں مجھے نیکی اور طہارت محسوس ہوتی ہے۔

 

Is It Jihad Or Sexual Exploitation?  یہ جہاد ہے یا جنسی استحصال؟
Abdulrahman al-Rashed

ایک عرب صحافی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر عراق کے لیے روانہ ہو نے والی ایشیا کی خدیجہ، شمیمہ اور امیرہ نامی تین برطانوی طالبات منفی پراپیگنڈے کا شکار ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے اس سفر کو "جنسی جہاد" قرار دینا سراسر افتراء اور کذب بیانی پر مبنی ہے جس کا مقصد جہاد کی ساکھ کو بگاڑنا ہے! اس کے بعد انہوں نے داعش کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ وہاں ایک "مکمل خاندان" آباد کر  سکتی ہیں اور زندگی گزار سکتی ہیں اور یہ کہ تنظیم ان کو مفت رہائش عطا کرے گی، یہی وجہ ہے کہ ایک 15 سالہ لڑکی مانچسٹر سے اپنے گھر کو چھوڑ کر شام میں رقہ کو روانہ ہو گئی ہے!

 

Moderate Muslims Must Denounce Armed Jihad  مسلح جہاد کی ملامت کرنا اعتدال پسند مسلمانوں کے لیے ناگزیر
Farzana Hassan

اسلامو فوبیا سے لڑنے کے لیے اعتدال پسند مسلمانوں کے پاس سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ قدم آگے بڑھائیں اور ان حقیقی مسائل پر توجہ دیں جو کینیڈا میں اور بیرون ملک میں پھیل چکے ہیں اور جو مسلم کمیونٹی کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔ اب تک اس طرح کی کوششیں بے دلی کے ساتھ انجام دی گئی ہیں جو کہ انتہا پسندوں کی فریب کن سحر انگیزیوں کے سامنے بڑی حد تک لاحاصل رہی ہیں۔

 

The Islamic way of Protecting Women  خواتین کے تحفظ کا اسلامی طریقہ
Maulana Ja’far Mas’ood Hasani Nadvi

بے پردہ خواتین میں پردہ کا رواج اس تیزی سے بڑھ رہا  ہے کہ پردہ کے مخالفین کی نیند حرام ہوتی جارہی ہیں، فلمی ایکٹرس ، ماڈلس ، گلوکاراؤں او رنائٹ کلبوں میں رقص  و سرود کی محفلیں سجانے والی خواتین  کے تائب ہونے اور شرعی اصول و ضوابط کےمطابق زندگی گزارنے کی خبریں آئے دن اخبارات و رسائل  میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہاں مشرق کے مسلم نوجوان تعلیم یا ملازمت کی خاطر مشرق  کی سر حد پار کرکے جب مغرب کی سرحدوں میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے چہرے داڑھی سے صاف ہوتے ہیں، لیکن جب یہی  نوجوان مغربی ماحول میں ایک دو سال چھٹیاں منانے کے لیے اپنے وطن لوٹتے ہیں تو ان کے چہروں پر گھنی  او رلمبی داڑھی دیکھ کر ان کو پہچاننا مشکل ہوتاہے ۔

Jihadists Cherry-Picking Qur’anic Verses to Defame Islam   انتہا پسند جہادی عناصر  اسلام، قرآن اور جہاد کو بدنام کرنے کے لیے قرآنی آیات کا غلط استعمال کرتے ہیں: مولانا یٰسین اختر مصباحی

ہندوستان کے ایک مشہور و معروف سنی صوفی عالم دین مولانا یٰسین اختر مصباحی نے اسلام اور جہاد کے نام پر انجام دیے جانے والے دہشت گردی کے مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے اپنے ریسرچ سینٹر اور پبلشنگ ہاؤس، دارالقلم، جامعہ نگر، نئی دہلی میں ایک خصوصی اجلاس کی میزبانی کی۔ مسلم ممالک میں حالیہ ہنگامہ خیز حالات اور ناخوشگوار واقعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ: ‘‘کچھ شر پسند عناصر نے اسلام، قرآن اور جہاد کو بدنام کرنے کے لیے قرآنی آیات اور احکام کی غلط تشریح اور ترجمانی کر کے جہاد کا ایک مکروہ تصور قائم کر دیا ہے’’۔ موصوف نے کہا کہ اس کا نتیجے یہ ہوا کہ آج ہندوستان یا دنیا کے دیگر حصوں میں انجام دیے جانے والے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کو عام طور پر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ مولانا موصوف نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ایسے دور میں کہ جب اسلامو فوب اور مسلم مخالف عناصر اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ جہادی سرگرمیوں کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف عمل ہیں، مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں گمراہ مسلم نوجوانوں کے چند گروپ غلط طریقے سے لیکن پوری دلیری کے ساتھ اپنے عسکریت پسند مقاصد اور پر تشدد سرگرمیوں کو جہاد سے منسوب کر رہے ہیں"۔ "در اصل وہ چند لوگوں کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے ان کا مہرا بنے ہوئے ہیں"۔

 

In the name of government and caliphate  !تو پھر کس کی حکومت اور کیسی خلافت...
Sabeeh Ahmad

ہم اسلام کی تبلیغ کی بجائے فرقے اور عقائد کی تجارت کرنے لگے ہیں، عالم پیداکرنے کےبجائے خود کش آور  تیار کرنے کی آوازیں  اٹھنےلگی ہیں، صحافی سچ بتانے اور خبر دینے  کی آڑ میں پروپیگنڈوں میں مصروف نظر آنےلگے ہیں ، ادیب جذبات بیچتا  ہے اور شاعروں کو ہجو لکھنے اور قصیدہ گوئی سے ہی فرصت نہیں، سیاستداں اپنی راجدھانیاں بچانے کےلئے اپنے نظریات داؤ پر لگا دیتے ہیں اور ملک کی جغرافیائی  سرحدوں کے محافظ جنہیں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے تھے ، وہ اب ایسی  ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ہاتھ ڈالےبیٹھے ہیں جو دریاؤں کے دریا ہڑپ کی جارہی ہیں ۔ ہمارا معاشرہ برائیوں  میں لتھڑا ہوا ہے، انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی  ذمہ داری کی سطح تک ہر کسی نے ان برائیوں  سے چشم پوشی کی اور اس پر مستزاد یہ کہ معاشرے میں پنپنے والی ان برائیوں کو ہم ملت، طبقہ، قوم اور مذہب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کےعادی ہوچکے ہیں ۔

 

موصوف لکھتے ہیں: "مسلمان اپنی جانوں کی بازی لگا کر ISIS کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ چونکہ مرکزی دھارے کی صحافت کا کردار اس معاملے میں بنیادی طور پر منفی ہے اسی لیے ان انسانیت سوز اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ISIS اور دیگر جہادی تنظیموں کے بارے میں خاموش ہیں۔ جبکہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ " اس کے بعد موصوف نے ایسے مسلم علماء کی متعدد مثالیں پیش کی ہیں جنہوں نے یا تو تحریری طور پر یا زبانی طور پر ISIS کی بربریت کے خلاف اپنی آوازوں کو بلند کیا ہے۔

 

Muslim Critique of IS Ideology  داعش کے نظریات پر مسلم دانشوروں کی تنقید
Von Hazim Fouad

نظریاتی اعتبار سے مسئلہ جہاد کو انتہائی تفصیل کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپسی جنگ کے معاملے میں ایک اصطلاح کے طور پر جہاد کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبداللہ عزام جیسے جہادی نظریہ سازوں کے دعووں کے باوجود جہاد ایک معاشرتی ذمہ داری ہے کوئی انفرادی ذمہ داری نہیں۔ اس خط میں جہاد کی دوہری نوعیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک محاذ جنگ سے واپس گھر آنے کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک معروف حدیث کا حوالہ پیش کیا گیا ہے کہ: "اب ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف واپس آ چکے ہیں"۔

 

Religious Seminaries Can Certainly Become Islam's Forts  دینی مدارس اسلام کے قعلے ضرور بن سکتے ہیں؟
Ghulam Ghaus

مذہبی حضرات یہ کہتے نہیں تھکتے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں، مگر سچائی یہ ہے کہ وہ 1958 کی جنگ آزادی سے پہلے ضرور اسلام کے قلعے تھے مگر آج نہیں ہیں ۔ 1958 سے پہلے ہندوستان میں موجودہ طرز کے نہ اسکول تھے اورنہ ہی کالج، صرف مدرسے تھے جہاں دینی اور عصری دونوں علوم پڑھائے جاتے تھے ۔ ظہور اسلام سے لے کر 1958 تک ہر اسلامی ملک میں خصوصاً ہندوستان میں تعلیم کو الگ الگ دو شعبوں میں نہیں رکھا گیا تھا ، یہ بدلاؤ صرف انگریز وں کے دور حکومت میں آیا، اس سے پہلے مدرسوں ہی سے حافظ قرآن، عالم، مفتی ، انجینئر ، ڈاکٹر ، ملٹری جنرل، سیاسی ماہرین  اور بزنس  مین سب نکلتے تھے اور اپنی اپنی فیلڈ میں کام کرتےتھے ، انگریزوں کو اپنی حکومت چلانے کے لئے شدت سے ایسے لوگوں  کی ضرورت محسوس ہوئی جو انہیں کی زبان انگریزی   میں یہ کام کرسکتے تھے۔

 

Facing The Jihadist Challenge   جہادی چیلنج کا مقابلہ: مسلمان مذُہبی منافرت، تفوق پرستی اور ہزاری نظریہ پر مبنی جہادیوں کے عقائد کے رد میں اسلامی تکثیریت پر زور دیں، جنیوا میں سلطان شاہین کا خطاب
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

اگرچہ صدر امریکہ باراک اوباما نام نہاد اسلام پسندوں کی سفاکیت کو پر تشدد انتہاپسندی (extremism violent) سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ سکتے، تاہم سنی اسلام کی سب سے قدیم درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب مکہ معظمہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ‘‘انتہا پسندی قرآن و سنت کی غلط تشریح کی وجہ سے پھیل رہی ہے’’ اور اس لئے اسلامی درسیات میں تبدلی ناگزیر ہے۔ جامعہ الازہر سے آنے والی نصابی اور درسی اصلاحات کی یہ آواز خوش آئند اور امید افزا ضرور ہے، لیکن مطلوبہ اصلاحات کے لئے ایک نیم دلانہ انداز فکر سے کام نہیں ہو گا- مسلمانوں کو درپیش مسائل بہت بنیادی ہیں اور درسی متن کی کتابوں کے ساتھ محض ایڈجسٹمنٹ کر لینے سے ان کو حل نہیں کیا جا سکتا. عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی کو خود احتسابی کرنی پڑے گی. مثال کے طور پر، ایک سوال جو بار بار کیا جاتا ہے وہ قرآن کی سیاق وسباق سے متعلق بعض آیات کے بارے میں ہے، جن جہادی عناصر ہمارے نوجوانوں کی برین واشنگ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔  جہادی عناصر  ان متعلقہ آیات کو سیاق وسباق سے الگ کر کے مسلمانوں کے لئے ایک ابدی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ یہ قرآنی آیات اسلام کے ابتدائی سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان جنگوں میں رہنمائی کے لئے نازل ہوئی تھیں جو کہ ان پر مسلط تھیں۔ یہ آج ہمارے طرز عمل کی رہنمائی کے لئے نہیں اتری ہیں. لیکن شاید ہی کوئی عالم عملی میدان میں اتر کر یہ باتیں کھلے لفظوں میں کہنے کی جسارت کرے ۔ یہی وہ محرک ہے جو جہادی عناصر کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم سیاق وسباق سے متعلق قرآن مجید کی ان آیات اور موجودہ دور میں ان کی مطابقت کے  تعلق سے بات نہیں کر سکتے، تو ہم کس طرح جہادیوں کی طرف سے درپیش ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا کر پائیں گے. اسی طرح کا چیلنج ان جہادیوں کے سفاکانہ، غیر روادارانہ، علیحدگی پسند، تفوق پرست اور علم یوم القیامۃ سے متعلق ان کے مذہبی نقطہائے نظر کی طرف سے درپیش ہے، جن کو دراصل وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واحادیث سے مربوط کرکے پیش کرتے ہیں۔

 

Allah is All-Aware of Everything Human Being Does  اللہ انسان کے ہر کام سے با خبر ہے

اللہ نے قرآن حکیم میں بیشتر مقامات پر یہ بات بھی کہی ہےکہ جو کچھ انسان کہتا ہے ہم اسے لکھ لیتے ہیں ۔ سورۃ یٰسین میں إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ ( 36:12) جو کچھ انسان اپنے اعمال آگے بھیج دیتا ہے ہم اسے بھی لکھ لیتے ہیں اور جو نقوش اپنے اعمال اپنے پیچھے چھوڑ جاتاہے انہیں بھی محفوظ کرلیا جاتاہے، ہم اس کی ہر بات کو ایک کھلے ہوئے رجسٹر میں درج کرتے جاتے ہیں ۔ انسان تو بھول جاتاہے کہ اس نے کیا کہا اور  کیا کیا تھا لیکن اللہ کے اس قلم بند محفوظ دستاویزی ثبوت ( Record) سے ایک حرف بھی محو نہیں ہوتا ۔ کہیں اس حقیقت کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ہمارے مقرر ہیں جو اس کی ہر بات کو بحکم اللہ محفوظ کئے جاتے ہیں ۔ کوئی لفظ اس زبان سےنہیں نکلتا کہ یہ ٹیپ ریکارڈ ا سے ریکارڈ نہ کر لیتا ہو ۔

 

Quran and the Wives of the Prophet  قرآن اور ازواج مُطہرات

مقصد  تحریر یہ کہ مضمون ھٰذا لکھتے وقت خاکسار کادل خون کے آنسو رو رہا ہے ، کیونکہ ملوکیت کے درباری مولوی نے تعداد کے حوالے سےجناب خاتم النبین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے کچھ ایسی باتیں بھی منسوب کی ہیں جن کاکوئی وجود ہی نہیں  تھا ۔لیکن ان باتوں کو غلط ثابت کرنابھی بہت مشکل ہورہا ہے اور مشکل بھی اس لئے ثابت ہورہا ہے کہ ہمارے اکابرین آئمہ  کرام رحمۃ اللہ علیہ فقہ و حدیث بھی ان باتوں میں درباری مولویوں کے ہم خیال معلوم ہوتے ہیں ۔

 خاکسار پہلے ہی اس بات کی وضاحت کرچکا ہے کہ ہمارے یہ قابل آئمہ کرام رحمۃ اللہ علیہ تو پہلی صدی ہجری کے اوآخر میں اور اس کے بعد پیدا ہوئے ہیں،جب کہ عجمی درباری مولوی قرآنِ کریم میں موضوع روایات کے ذریعہ معنوی تحاریف کر کے ان کو رواج دے چکا تھا ۔

 

Shariah, Ordinance and Factionalism  شریعت آرڈ یننس اور فرقہ بندی

دین اسلام کا قیام فرقوں اور اختلافات کو مٹا ناہوتا ہے، فرقوں کی پرورش کرنا اور فرقوں کو بر قرار رکھناعین خلاف اسلام ہے ۔ دین کا منبع اللہ کی کتاب یعنی قرآن حکیم ہے جس کا نزول بذریعہ وحی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا اور جس میں جملہ قوانین و احکام، مقصد و ہدایات اور اصول و اقدار اللہ تعالیٰ نے مومنین کےلئے ارشاد فرمادیئے ہیں جو بالکل محکم اور اٹل ہیں ۔ ان میں تا قیامت کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ یہی قانون خداوندی ہمارا ضابطہ حیات ہے ۔ قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کی کتاب یعنی قانونِ خداوندی پر ایمان لاؤ تو سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رہو۔الگ الگ بٹ نہ جاؤ۔ فرقے نہ بناؤ۔

 

We and the Support of the Shrines   ہم اور مزارات کا سہارا

جب اسلام کی اشاعت روم، ایران،  اور ہند تک پہنچی تو اس کی تعلیمات ان اقوام کے ذہن و قلب میں بار نہ پاسکیں کیونکہ یہ اقوام صدیوں سے ایسی روایات  اور رسوم کی پابند تھیں جو آریائی مزاجِ عقلی سے مخصوص ہیں اور جس کے لئے اسلام کی سامی  تعلیمات اجنبی  تھیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے پردے  میں تصوف حلول تناسخ سریان و جودیت اوتار وغیرہ کے افکار و روایات برابر پنپتے رہے اور رفتہ رفتہ اس حد تک سرایت کر گئے کہ ان کو اصل مذہب سے جدا کرنا نا ممکن  ہوگیا ہے ۔ ایرانیوں میں زر تشتی رسومات زندہ رہیں مثلاؑ آتش پرستوں کا نوروز آتش بازیاں لے کر ہمارے ہاں شب برات بن گیا بہت  سے عقائد بارپا گئے جیسے تقدیر بخت قسمت کا عقیدہ یہی حال ہند کا ہے  ہمارے بہت  سے عقائد ہندوانہ ہیں۔

 

Islamic Revolution and Our National Structure  اسلامی انقلاب اور ہمارا ملکی ڈھانچہ

پاکستان میں دین بس فرقے کا نام بن کر رہ گیا ہے مساجد کا بٹوارہ ، فساد، کردار کشی ، نفرت کی زبان اور حیلہ بازی یہاں کی مذہبی ٹکسال کے رائج سکے ہیں او رنیکی  صرف پوجا پاٹ کے ذریعے حصول تسکین کا نام ہے سیاست، معیشت  اور معاشرت دین اور اس کی حدود وقیود سے آزاد ، جب کہ دین اپنی فکری سادگی، فطری راستی ، بنیادی تعلیمات اور خالص مفہوم کے اعتبار سےایک انقلابی قوت کا نام ہے جو استحصال ،ظلم ، بدعنوانی اور موروثیت وملوکیت کے خلاف ایک زبردست وسیلہ اورذریعہ ہے جسے بروئے کار لاکر خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اس انقلابی قوت کو سنی، شیعہ ،مقلدکا عنوان نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کا عنوان صرف اسلام اور اس کے کارکنان صرف مسلمان ہیں۔

 

Pakistan Has Turned Into a Factory of Kufr   پاکستان کفر کی فیکٹری بن گیا ہے
Syed Shamshad Ahmad Nasir, New Age Islam

مجھے وطن عزیز کے بارے میں کچھ عرض کرنی ہے کہ پاکستان میں اس وقت جتنی دہشت گردی ہو رہی ہے اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ہر شخص بے چین ہے، ہر گھر بے سکونی کا مسکن ہے اور آنکھ آنسو بہا رہی ہے، ہر دل اشکبار ہے۔ جگر پارہ پارہ ہو چکے ہیں۔ اور ارباب حل و اقتدار بیان بازی کرتے چلے جارہے ہیں کہ اسے جڑ سے اکھیڑ پھینکیں گے، مگر اس دہشت گردی کو پنپنے کس نے دیا؟ کیا آج معلوم ہوا ہے کیا گزشتہ ہفتہ یا گزشتہ ماہ یا گزشتہ سال میں ہی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں۔ نہیں بالکل نہیں۔ یہ دہشت گردی 1974ء سے شروع ہے۔ اور اس وقت سے اب تک ہر صاحب اقتدار مولوی کی جھولی میں پڑا ہے۔اور وہ مولوی کے ہر برے اچھے کی تائید کر رہا ہے۔جس نے مذہبی رواداری کی بجائے عدم برداشت پیدا کر دی ہے۔ گویا بقول بی بی سی۔ یہ پاکستان کفر کی فیکٹری بن گیا ہے........

 

Reason within Self  سبب اپنے اندر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اُحد کی جو لڑائی ہوئی اس میں مسلمان ابتداً جیت رہے تھے ، مگر اُن کی جیت بعد میں ہار میں تبدیل ہوئی ۔اس کی وجہ خود مسلمانوں کے ایک گروہ کی غلطی تھی ۔ چنانچہ قرآن میں جب اس واقعہ پر تبصرہ ناز ل ہوا تو فریق ثانی کے ظلم اور سرکشی کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا قرآن کے تبصرہ آل عمران 152۔میں ساری تنبیہ صرف مسلمانوں کو کی گئی ۔ تاکہ مسلمانوں کے اندر اپنی کوتاہی کا شدید احساس پیدا ہو۔وہ اپنی کوتاہی کی اصلاح کے ذریعہ اس بات کو ناممکن بنادیں کہ آئندہ کوئی شخص ان کے خلاف کاروائی کرکے ان کے اوپر غلبہ پا سکے ۔

 
What is Extremism? انتہا پسندی کیا ہے؟
Maulana Wahiduddin Khan for New Age Islam

What is Extremism?  انتہا پسندی کیا ہے؟
Maulana Wahiduddin Khan for New Age Islam

مذہب کی معنویت کے بارے میں انتہا پسندی کبھی نہیں ہوتی۔ بلکہ، انتہاء پسندی ہمیشہ مذہب کے ظاہری معمولات اور روایات کے بارے میں ہوتی ہے۔ مذہب کی معنویت پر زور دینا ہمیشہ ضروری ہے، در حقیقت قرآن کی بھی یہی تعلیم ہے اور حدیث سے بھی ہمیں یہی درس ملتا ہے۔ اس سے کسی شخص کی زندگی میں ایمان کی روح ڈالنے میں مدد ملتی ہے۔ اور جب ایسا کیاجاتا ہے ایمان کے دوسرے پہلوؤں میں بھی خود بخود زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔

 

دینی تربیت کےمشمولات کو ہم بڑے چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں : پہلا عقائد، عبادت، اخلاق و آداب اور چوتھا معا ملا ت ۔ یہ چاروں شعبے یکساں اہمیت کے حامل ہیں یہ بات ذہن نشین کرنی ہے کہ اگر ہم نے ان میں کسی ایک شعبہ کو زیادہ اہمیت دی تو دوسرے پہلو نظر انداز ہوسکتے ہیں اکثر مدارس میں زیادہ زور عبادت و ذکر پر دیا جاتا ہے یا مضامین میں زیادہ زور عربی زبان یا تفسیر پر دیا جاتاہے جب کہ اکثر مدارس میں سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرکم توجہ دی جاتی ہے دراصل ہمیں غیر متوازن رویہ سےپرہیز کرناچاہئے  اور ہر ایک پہلو کو یکساں طور پر اپنی اہمیت دینی ہے۔ یہ بھی کہہ سکتےہیں کہ یہ چاروں پہلو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لئے اخلاق و آداب میں خامی رہی تو معاملات بھی بہتر نہیں ہوسکتے ۔

 

God's Words Are His Way to Communicate With Humanity  اللہ تعالیٰ کا انسانیت سے رابطے کا ذریعہ اس کا کلام ہے

آپ قرآن کریم سے جتنے بھی تراجم و تفاسیر ملاحظہ فرمالیں ان تمام تراجم او ران تمام تفاسیر نے اللہ تعالیٰ اور بشریت کے رابطہ کو صرف کلام الہٰی  تک محدود کردیا ہے۔ کلام الہٰی  کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا انسانیت سے اور کسی طرح رابطہ ہوہی نہیں  سکتا اور اسی وجہ سے قرآن کریم کلام اللہ ہے۔ صحاحستہ کی کوئی کتاب یا کسی بزرگ کے الہام کو کلام اللہ نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ  اور انسانیت کے رابطے کااصول بہت واضح کردیا ہے کہ اس ذاتی عالی مرتبت کا رابطہ صرف کلام کے ذریعے ہوسکتا ہے اور اس بات کو واضح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ کلام کے لئے الفاظ کا ہونا ضروری اور لازمی شے ہے الفاظ کے بغیر کلام ہو ہی نہیں سکتا ۔ امام راغب نے لکھا ہے ‘‘ کلام کا اطلاق منظّم و مرتب الفاظ اور ان کے معانی دونوں کے مجموعہ پر ہوتا ہے’’۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Naseer Saheb, you have said: "While Allah does not consider all of them as kafir but simply as people without....
    ( By Sultan Shahin )
  • Urdu is not good. Many errors of imla, faulty construction of sentences...
    ( By Shahid )
  • Naseer SB, I am by nature a poet so I see poetry in Quran. You are a scientist....
    ( By arshad )
  • hats off, you jumped off to make a silly comment. Read the comment again. I said "no human being can...
    ( By arshad )
  • if a murtad doest not covet even jannat, what can s/he covet from mere mortals.'
    ( By hats off! )
  • Shahin sb, Neither your anonymous scholar nor those who followed the methodology of Taqlid, appear to be aware that the Quran does not accept the excuse ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • The purpose of my asking only Muslims that question was so obvious and so guileless that even a murtad should....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Requiring one's spouse to convert to one's religion is barbaric and shows disrespect for one's spouse...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Aayina, you should be ashamed of yourself for bringing my personal life into the comment box. That is none of your business. However, now that ...
    ( By Sultan Shahin )
  • Naseer Saheb, the scholar who wants to remain anonymous has sent me the following response to your questions. It's not a point by point....
    ( By Sultan Shahin )
  • if by that profound one liner mr ghulam mohiyuddin DID not mean murtads. nice to know where one stands with religionistas.
    ( By hats off! )
  • pakistan has nothing to do with islam.
    ( By hats off! )
  • Thanks Mr S. Arsad. Non-Muslim((((a negativity and bullying way of addressing for not believing.....
    ( By Aayina )
  • hats off, comment was too short. See the pattern Maulana Whayuddin has been telling all this from Gita or wide spread thoughts among the...
    ( By Aayina )
  • Hi Parvez hoodboy. Let's add to your story. We neither Hindus nor did ramanujan claim publicly that Hinduisim....
    ( By Aayina )
  • Recent situation: Na koi Hindu na koi Musalman but me to Sikh Hoga, Hindu Ko hate karne vaste.
    ( By Aayina )
  • Addition to Hatts off. Do even non-Muslim majority but Muslim dominated minority Areas in non-Muslims countries....
    ( By Aayina )
  • The "questioned" were the Muslims in this forum.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Great! Such historical facts brining to the knowledge of masses will help in strengthening inclusive society and will counter hate politics....
    ( By Mohammed Turab )
  • do the minorities in an islamic nation have the right to preach and convert the momeen to polytheism?
    ( By hats off! )
  • Thank you Ghaus Siddiqi sahab, I want to now something more on this topic, though ....
    ( By Shahzad )
  • nishkaama karma?'
    ( By hats off! )
  • i wonder who is the 'questioned'. if mr. ghulam mohiyuddin wants an answer from me here it is -a very loud "YES". i hope he hears ...
    ( By hats off! )
  • Shahin sb, Another relevant comment: Shahin sb,The anonymous Islamic scholar's protest lacks substance as he has not ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Shahin Sb, The following is also from the tafsir of Ibn Kathir: And fight them until there is no more Fitnah
    ( By Naseer Ahmed )
  • Gulam Moyuddin can produce example apart from the Israel in Jerusalem had produce any Muslim vs(All faith on Mother Earth) has produced ...
    ( By Aayina )
  • To Arshad Alam (For Hindu Readears) Exposing one sided bias attitude of Arshad Alam....
    ( By Aayina )
  • Na ko Hindu, Na Musalman۔۔۔
    ( By smile )
  • islam is just arabian imperialism masquerading as faith.....
    ( By hats off! )
  • Not a single answer to a simple question! I am not surprised
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer Saheb, just to pick your brain, if this translation and context (shaan-e-nuzool) described...
    ( By Sultan Shahin )
  • Dear shahzad, you can also look at the following characterization to understand the areas covered in the classical study of the Usul al-Fiqh (Science of ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Fasting for one month in a year is prescribed so that we may learn self-restraint (taqwa). Verses 2:183, 184. ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "Quran is God's word and no human being can encompass God's mind completely."...
    ( By hats off! )
  • Has a Hindu/Muslim dialogue solved any problem before? Has a Hindu/Hindu...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • People like Salman Nadvi, Sjaad, or Gilani who proudly declared themselves as outsiders linage, want to declared...
    ( By Aayina )
  • Quite appropriate and relevant discourse! That's probably how such deep conflict...
    ( By Meera )
  • Today Mathina is known as Yathrip when Mohammed preached Islam.Yathrip "s inhabitants were Jews...
    ( By dr.A.Anburaj )
  • Maruf and Munkar do not literally mean good and evil. So confining the words to a single....
    ( By arshad )