FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Islam: Identity or Faith?   اسلام کیا ہے :شناخت یا مذہب
Saif Shahin, New Age Islam

چاروں طرف نظر دوڑانے پر دنیا ایسے محمد ابراہیم سے بھری نظر آئے گی جن کا  اصلی نام محمد ابراہیم نہیں ہے ، انہوں نے اسلام  کو ایک دین کی حیثیت سے قبول نہیں کیا ہے ،بلکہ صرف پہچان   بنانے کے لئے  اسلام قبول کیا ہے ۔کیا انہوں نے مذہب میں دلچسپی لیتے ہوئے  اسلام کو اس کی تعلیمات کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ، یہ ان کے لیئے مثبت اور مظہر کامل ہوتا۔  یہ تعلیم اور  غور و فکر کے ذریعہ  خود ان کی اصلاح میں مددگار ثابت ہوتا ، ان کے اندر لبرل اقدار پیدا کرتا ،اور ان کے اندر ان کے ہم عصر  معاشروں میں ضم ہونے اور غیر مسلموں کے ساتھ پرامن بقائے باہم  کی اجازت دیتا ، جیسا کہ اسلام  حکم دیتا  ہے  ۔

 

Jesus Christ in the Quran   قرآن میں عیسیٰ مسیح کا تذکرہ
Aiman Reyaz, New Age Islam

قرآن میں عیسیٰ مسیح (علیہ السلام )کا نام پچیس مرتبہ مذکور ہے جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام (احمد ) صرف پانچ مرتبہ ہی مذکور ہے ۔ ان کا نام قرآن میں اس طرح لیا گیا ہے : ‘مریم کے بیٹے ’ ، ‘مسیحا ’ ،  ‘اللہ کے پیغمبر ’ ، ‘اللہ کی نشانی’، ‘اللہ کی روح’۔ یہ تمام محترم اور معزز نام اس عظیم پیغمبر کے لیئے وضع کئے گئے ہیں ۔ اگر کسی راسخ الاعتقاد عیسائی کو بھی اس کی  منطقی تشریح کرنے کو کہا جائے تو قرآن میں ایک بھی ایسا بیان نہیں ہے کہ وہ  اس پر وہ اعتراض  کرے ۔

 

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-4      نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اس کی حقیقت: (قسط۔4) ۔ طالبانی عالم کاغیر مسلموں کے قتل کا غیر اسلامی فتوی
Sohail Arshad, New Age Islam

وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل جائز ہوجاتا ہے کے قسط اوّل میں مضمون سے پہلے مدیر نے ایک نوٹ لگایا ہے جو اس طرح ہے ۔

‘‘شیخ یوسف العبیری رحمۃ اللہ علیہ جزیرۃ العرب کے معروف اور جید عالم دین تھے۔ شیخ اسامہ رحمۃ اللہ علیہ  ( اسامہ بن لادن) سے آپ کا قریبی تعلق اور قلبی لگاؤ تھا ۔ معرکہ گیارہ ستمبر کے بعد آپ نے ‘مجاہدین ’ کی اس عظیم کارروائی کی بلاخوف تائید کی اور ان عملیات کو شریعت اسلامیہ کی روشنی میں جائز قرار دیا ۔ اسی جرم حق گوئی کی پاداش میں آپ کو سعودی طواغیت نے گرفتار کرلیا ۔ آپ پرشدید تشدد کیا گیا اور آپ دوران قید ہی شہید کردیئے گئے ۔’’

مندرجہ بالا ادارتی نوٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر کا حملہ ‘مجاہدین کی عظیم کارروائی ’ تھا  جس کی تائید اسامہ بن لادن کے قریبی عالم نے کی ۔ دوئم طالبان کی نظر میں سعودی حکام اور پولس طواغیت یعنی ظالم یا شیطان تھے ۔ اور یہی وہ رویہّ ہے جو انہیں خارجیوں کے زمرے میں لاکھڑا کرتا ہے ۔ خارجی بھی اپنے آپ کو حق پر اور ،دوسرے تمام لوگوں کو کافر اور طاغوت و ظالم قرار دیتے ہیں ۔ وہ کسی بھی مسلمان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے او رنہ اپنے سوا دوسرے فرقوں کو مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔

 

What the ‘Hell’ He Is Doing, This Zakir Naik?   ذاکر نائیک کیا تباہی مچا رہے ہیں ؟
Aiman Reyaz, New Age Islam

انہوں نے بے شمار مواقع پر یہ کہا ہے کہ ‘‘ اسامہ بن لادین دشمنان اسلام سے جنگ کر رہا ہے اس لئے میں اس کے ساتھ ہوں ’’۔  انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ‘‘ ہر مسلمان کو ایک دہشت گرد ہونا چائے ’’۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سماج مخا لف عناصر کو دہشت زدہ کرنا   ہر مسلمانو کی ذمہ داری ہے ۔برطانیہ میں اس کا داخلہ ممنوع ہے ، اس لئے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے بولنے کا طریقہ سرکش اور فتنہ انگیز ہے ۔ اگر مسلمان دلی طور پر ان کے خطبات پر عمل کرنا شروع کر دیں تو ایک بڑا انتشار پیدا ہو جائیگا ۔

Child Marriage is Not Allowed in the Quran   قرآن میں بچوں کی شادی کی اجازت نہیں
Aiman Reyaz, New Age Islam

اسلام میں نکاح  سے پہلے تمام شرائط قبول کرنا ضروری ہے ۔ اسلام میں شادی دو ایسے افراد کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہے جو اپنی ذمہ داری اور اپنے فرائض کو سمجھتے ہوں ۔ایک بچہ،  شادی کی الجھنوں اور بچوں کی پرورش کی پریشانیوں سے آشنا نہیں ہوتا ہے ۔شادی کی تمام تفصلات کا جاننا دونوں فریقین کے لئے ضروری ہے اور چھ یا نو سال کی عمر میں اس قدر حکمت و دانائی کا حاصل ہونا نا ممکن کہ وہ اس قسم کے پختہ فیصلے لے سکے ۔ ابھی جلد ہی ،اتغا ‘Atgaa’ (عمر دس سال) ، اور ریمیا ‘Reemya’ (عمر آٹھ سال) کی ایک ساٹھ سالہ آدمی سے شادی کی خبر چونکانے والی ہے ۔ ان کا یہ عمل نہ صرف یہ کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے۔

 

ہمیں افسوس ہے کہ طارق صاحب کے بعض معتقدین اُن کی حالیہ مکر وہ ترین تقریر کی شرعی مخالفت کو مسلکی رنگ دے کر مسئلے کی حساسیت کو ہلکا کررہے ہیں، وہ طارق صاحب کے اس عذر کی ضرورت سے زیادہ وکالت کررہے ہیں کہ مطلب یہ نہیں تھا ، جب کہ یہ بات مان بھی لی جائے تب بھی اُنہیں  یہ ضرور تسلیم کرناچاہئے کہ طارق صاحب کا یہ اندازِ دعوت و تبلیغ قطعاً مذموم او راسلام و مسلمان دونوں کے لیے مضر ہے اور فی الواقع ایسی تقریریں ادیان باطلہ پرنہیں بلکہ براہِ راست اسلام اور کتاب اسلام پر حملہ ہیں

 

Women’s Access to Holy Places مقدس مقامات پر عورتوں کی رسائی
Asghar Ali Engineer

میں نے ایک عالم سے پوچھا  کہ اگر عورتوں پر جمعہ کی نماز فرض ہوتی تو کیا عورتوں کو مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھنی چاہئے جیسا کہ مرد پڑھتے ہیں ؟  انہوں  نے کہا کہ پڑھنا چاہئے  لیکن اگر وہ مسجد میں ہونگی تو دوپہر کا کھانا کون بنائے گا  ؟اس مولانا کو یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ نان و نفقہ کے قوانین کے مطابق  یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ یا تو وہ خود بیوی کے لئے کھانا پکائے  یا روپے دیکر کسی اور سے بنوائے ( فتاویٰ عالمگیری )

The Truth Behind Taliban's Fatwa Justifying Killings Of Innocent Civilians  Part-3   نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اس کی حقیقت: ( قسط۔۳)۔ خود کشی،منشیات اور خارجیت پر مبنی   طالبانی فکر و عمل

مختلف سروے اور رپورٹوں سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ طالبان اپنی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے افیم اور منشیات کی تجارت میں حصہ داری اور اسکے تحفظ  اور جبراً وصولی جیسے غیر شرعی ذرائع سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں ۔  افغانستان کی معیشت کا انحصار افیم کی کاشت پر ہے ۔ افغانستان کی افیم کی تجارت سالانہ چار ارب ڈالر کی ہے اور اسی لئے طالبان کو اپنی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے افیم اور منشیات کی تجارت سے ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو کہ اسلامی شریعت کی رو سے حرام ہے ۔ حال ہی میں گریچین  پیٹرس کے تحقیقی مقالے ‘‘افیم طالبان کو کس طرح نفع پہنچا تاہے ’’ میں تفصیل سے یہ بتایا  گیا ہے کہ طالبان کمانڈروں نے اپنی اس جنگ کو جاری رکھنے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے افیم کی تجارت اور کاشت میں حصہ لیا ۔ اس مقالے میں کہا گیا ہے ۔

 

The Shadowy World of Saudi Politics محل کے دروازوں کے پیچھے سعودی سیاست کی ایک تاریک دنیا
Saif Shahin, New Age Islam

1953ان کے والد ابن سعود کی موت کے بعد جلد ہی سودائریوں اور ان کے سوتیلے بھائیوں کے درمیان رقبت شروع ہو گئی اور اسی میں آدھی صدی بیت گئی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اب مملکت شاہی فتنہ پروری اور دوسری نسل کے دجل و مکر کے دہانے پر ہے ۔جس طرح مشرق وسطیٰ جمہوریت کی طرف مائل ہو رہی ہے اور سعود کے اہل   خاندان اپنے دن گن رہے ہیں ،یہ بتایا نہیں جا سکتا کہ وہ کتنے منحوس اور بد حال ہونے والے ہیں ۔

 

The Truth Behind Taliban's Fatwa Justifying Killings Of Innocent Civilians نوائے افغان جہاد کا فتوی اور اسکی حقیقت۔۔ قسط دو
Sohail Arshad, New Age Islam,

لہٰذا ، طالبان جیسی دہشت گرد اور مسلم حکومت کی اطاعت سے انکار کرنے والی اور کشت و خون اور جدال وقتال کے نظریے میں یقین رکھنے والی تنظیم کے متعلق فقہا و علماء کا مؤقف یہ ہے کہ یہ غیر اسلامی اور غیر شرعی تنظیمیں ہیں اور ان کے ساتھ مسلم حکومتوں کو سختی سے پیش آنا چاہئے اور ان کا قلع قمع کر کے ملک میں امن و امان کی راہ ہموار کی جائے ۔ جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حار ورہ کے خارجیوں کے ساتھ سلوک کیا تھا ۔ قرآن میں بھی ان کے متعلق واضح آیتیں ہیں جو ان  کے اس متشدد نظریات و اعمال کی مذمت و مخالفت کرتی ہیں اور ان کی سر کوبی کا حکم دیتی ہیں۔ سورہ بقرہ میں اللہ فرماتا ہے ۔

 

Israel and the US Key to Peace ا من کی کنجی اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھ میں
Najeeb Jung

لیکن دنیا کو یہ تاریخی موقع گنوانا نہیں چاہیے ۔ صدر اوباما کو جواب دوسری بار منصبِ صدارت پر فائز ہوکر محفوظ ہیںمئی ۲۰۱۱ ء کا ان کا بیان یا ددلایا جانا چاہیے جس میں انھوں نے ۱۹۶۷ ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے قائم سرحدوں پر مبنی فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسے تین کلیدی مسائل ہیں جنھیں لازماً حل کیا جانا چاہیے۔

 

The Truth Behind Talibn's Fatwa Justifying Killings Of Innocent Civilians نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اس کی حقیقت  ( قسط۔1)
Sohail Arshad, New Age Islam

افغانستان او رپاکستان میں ایک گوریلا  اور دہشت  گرد تنظیم کی حیثیت سے سر گرم طالبان نے روس کے انخلاء کے بعد وہاں کی غیر مستحکم سیاسی صورت حال کا فائدہ اُٹھا کر اور وہاں کے بھولے بھالے اور غیر تعلیم یافتہ عوام کو قرآن کی تعلیمات پر مبنی اسلامی حکومت کے قیام کا سبز باغ دکھا کر 1996 میں اقتدار پر قبضہ جما لیا اور 2001 تک  برسر اقتدار رہے ۔ 11 ستمبر 2001 ء کو امریکہ میں دہشت گردانہ حملے کا انتقام لینے اور اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کے بہانے امریکہ نے  افغانستان پر حملہ کردیا اور طالبان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ اگرچہ امریکہ اور عام لوگوں کا ایقان ہے کہ اسامہ بن لادن کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ ان حملوں کے پس پشت کار فرما تھی اور اسے طالبان نے افغانستان میں پناہ دے رکھی تھی ۔ مگر مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کچھ دانشور اس میں سازشی نظرئیے کا پہلو بھی تلاش کرتے رہے اور اسے یہویوں کی سازش قرار دیتے رہے ۔ مگر نوائے افغان جہاد کے اس مضمون میں جا بجا ان دہشت گردانہ حملوں کی ذمے داری قبول کی گئی ہے اور اسے  ‘‘ 11 ستمبر کے مبارک حملے ’’ اور معرکہ  11 ستمبر کا مبارک دن’’ قرار دیا ہے ۔

 

Burglars in Europe Seek to Take over Islam ،یوروپ کے نقب زن اسلام کو زیر کرنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں،بیلجستان میں جلد ہی شریعت نافذ ہونے کی امید

Sharia4belgium کے مضامین میں سے کسی ایک مضمون میں یہ مذکور ہے کہ ‘‘ہم معاشرے سے نا انصافی کو دور کردیں گے اور اسے انصاف سے بدل دیں گے ، اور تم یہ مت بھولو کہ تم ،مسلمان نہیں بلکہ مجرم ہو!’’۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ‘‘کافروں ’’ کو مجرم سمجھتے ہیں ۔سام وان رائے نے کہا کہ شریعت اور اسلام کی موج نہیں رکے گی ، لیکن میں اعتدال  پسند مسلم معاشرے  کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ وہ ان لٹیروں کو اسلام پر حاوی نہ ہونےاور ہمیں کھائی میں گرانے  کا موقہ فراہم نہ کریں ۔ ہمیں ہمارے پر امن اور کثیر ثقافتی مذہب میں انتہاء پسندی کو سرایت کرنے سے روکنا ہو گا ۔

 

Importance of Knowledge in Islam اسلام میں علم کی اہمیت

طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق ‘‘عورتوں کا چہرہ فساد  کی جڑ ہے ’’۔انہیں کا م کرنے کی اجازت نہیں تھی،آٹھ سال کی  عمر کے بعد انہیں تعلیم یافتہ ہونے کی جازت نہیں تھی ۔طالبان کے آتش زن نمائندوں کے ذریعہ اسکولی لڑکیوں ، عورتوں،اساتذہ اور اسکولوں پر لگاتار تیزابی  حملے کئے جا رہے ہیں ۔یونیسیف (UNICEF)کی  ایک رپورٹ  میں یہ مذکور  ہے کہ سال 2007میں افغانستان کے اندر اسکول سے متعلق حملوں میں 236 لوگ مارے گئے ۔ اگست 2010میں ایک رپورٹ میں خون کی جانچ کے ذریعہ یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ پچھلے دو سالوں میں  پورے ملک میں پر اسرار طریقے سے ،لڑکیوں کے اسکول میں ،زبر دست زہریلی گیس کی وجہ سے بڑے  پیمانے پر بیماریاں پھیلی ہیں ۔

 

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔ حصہ 6

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

For Urdu Terminology Consult, www. istelahat.com   اصطلاحات کے لئے  اصطلاحات ڈاٹ کام پر رابطہ کریں
Dr. Quaisar Shamim, Editor, www.istelahat.com

ترجمہ محض ایک جسم کو دوسرا لباس پہنا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک جسم کے مقابلے میں بالکل ویسا ہی جسم تراش کر اسے دوسرے لباس میں اس طرح لے آنا ہے کہ دونوں قالبوں میں ایک ہی روح ہو۔ یہاں لباس، جسم اور روح سے مراد ترجمے کی زبان، اصل عبارت کا مرکزی خیال اور وہ تاثر ہے جو پڑھنے کے بعد دل و دماغ میں قائم ہوتا ہے۔ لیکن ترجمہ کرتے وقت  ایک زبان کی بعض ایسی اصطلاحات ہوتی ہیں جو نہ صرف ایک خاص تہذیب کے پیش کردہ تصور کا اظہار کرتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ دیگر اصطلاحات کے پورے جال سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔  اس تہذیب اور معاشرے میں زندگی بسر کرنے والاان پڑھ اس  طرح  کا لفظ سامنے آتے ہی تمام تفصیلات جان لیتا ہے کیوں کہ وہ اسی تہذیب میں زندہ ہے جہاں اس اصطلاح نے جنم لیا ہے ۔……

 

ہندوستان میں وہابی اور صوفی کی نظریاتی رقابت نئی نہیں ہے ۔دونوں اسلام ی نظریات کے بالکل مخالف سمت میں ہیں ،اور ہندوستان میں تسلسل کے ساتھ  دونوں کے درمیان  مقابلہ ہوا ہے ۔ اس وقت میں نے سنااور دیکھا  کہ کچھ مخصوص لوگ ایک بالکل نئے سماجی اصول کی قیادت کر رہے ہیں :لڑکیوں کو حجاب پہننےپر اور کچھ حالات  میں تو بر قعہ پہننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔لیکن میں نے دیکھا کہ  چھوٹی لڑکیاں ،بچیاںسر کا اسکارف پہنی ہوئی تھیں جو کہ سب سے زیا دہ غضب ناک منظر تھا ۔

 

To Shave or Not To Shave داڑھی منڈ نا چاہئے یا نہیں

بد قسمتی سے ہمارے دماغ اتنے با شعور نہیں ہیں جتنا ہم ان کے با رے میں ہو نا پسند کرتے ہیں۔مسلم ہو نے کی حیثیت سے یہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو نا چاہئے۔اسی لئے ہمیں خود نا معقول وجوہات کی بنا پر غیر مسلموں کے خلاف ،اور مختلف مسلم جماعتوں سے بھی امتیاز اور تفریق پیدا نہیں کرنی چاہئے ۔اس معاملے کی وجہ سے ہر مغربی یا ہر غیر مسلم اسلامو فوبی نہیں ہے جیسا کہ ابھی بھی بہت سارے مسلم  تمام غیر مسلم ممالک پر ‘‘مسلم مخالف ’’ہو نے کا الزام لگا تے ہیں ۔

 

J&K High Court on Right to Talaq (Concluding Part)  (طلاق کا اختیار: جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی نظر میں (آخری قسط
Syed Mansoor Agha

طلاق کو قانوناً درست اور قرآن و سنت کے مطابق ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ مدّت طُہر ( ماہواری ختم ہونے کے بعد بغیر اس کے کہ اس کے بعد خلوت کی ہو) دی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازین یہ کہ اگر شوہر ایام ماہواری کے بعد بیوی سے ہم بستری کر لیتا ہے تو اس کیلئے اس مُدّت طُہر میں طلاق دینا ممنوع ہے۔ اب اگر وہ اپنے طلاق کے ارادہ پر قائم ہی رہتا ہے تو اسے اگلی ماہواری کے ختم تک رکنا پڑے گا۔

 

Jamiat Ulema’s dialogue with former RSS chief K S Sudarshanآر ایس ایس کے سابق سربراہ سدرشن کے حوالے سے درشن کی باتیں
Former RSS Chief K S Sudarshan

سنگھ کے سابق سر سنگھ چالک کپہلی سیتا رمیا  سدرشن کے انتقال کے بعد کئی باتوں کو لے کر میڈیا میں بحث و گفتگو شروع ہوگئی ہے، جماعت اسلامی ہند کے اخبار سہ روز ہ دعوت نے اس تعلق سے کچھ ایسی باتیں تحریر کردیں کہ روز نامہ انڈین اکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا نے باقاعدہ موضوع بحث بنادیا،جو لوگ سنگھ کی سرگرمیوں سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں، وہ یہ جانتےہیں کہ کے ۔ ایس۔ سدرشن کی سربراہی کے آخری دنوں میں ان کی کچھ باتوں کو لے کر سوالات شروع ہوگئے تھے ، معاملہ یہ ہے کہ آدمی جب نظریاتی تقابل کے لیے مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر دو ایک باتیں ایسی پیدا ہوجاتی ہے جو اس کو یا تو ازن و اعتدال کے ساتھ فیصلہ کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔

 

جنرل ضیاء الحق کے  زمانے میں اسلام آباد کے وسط میں یہ مسجد اس لئے تعمیر کی گئی تھی کہ وہ ملک بھر میں بنائے جانے والے مجاہدین کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرے ۔ یہ نیٹ ورک جو کہ جہادی عناصر پیدا کرنے کی فیکٹریا ں تھیں جنہیں مدارس کہا جاتا ہے ۔ ان مدارس نے بڑی کامیابی سے ایسے جہادیوں کا فلڈ  Flood کردیا۔ جنہیں مذہب کے نام کی چابی لگا کے جو چاہے استعمال کرے ۔ وہ اسے فرمان الہٰی سمجھ کے قربان ہونے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔

 

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔حصہ 5

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

دہشت گردی کی حمایت میں طالبانیوں کے ذریعہ جاری کیا گیا فتویٰ مسترد کیا جانا چاہئے: ایسے حالات جن میں کافروں کےعوام الناس کا قتل بھی جا ئز ہے۔۔حصہ 4

کچھ مسلمان حالت نفی میں ہی جیناپسند کرتے ہیں ۔وہ اخبارات پڑھتے ہیں ،ٹی وی دیکھتے ہیں ،طالبان اور دوسرے جہادیوں کو اسلام کے نام پر نا قابل بیان دہشت پھیلا تےہوئے دیکھتے ہیں ، اور ان کے جواز کے لئےہمیشہ قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔لیکن توجہ دلانے پر بھی  یہ مسلمان اسلام کی ایک مخصوص عدم روا دارانہ تعبیر اور اپنے بزدلانہ عادات و اطوار کے درمیان   پائے جانے والے  باہمی ربط پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ اسلام کی یہ عدم روادار انہ تعبیروتشریح ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں  یا کسی نہ کسی نام کے تحت تاریخ کی 14 صدیوں سے موجود ہے ۔ایسے لوگوں کو پہلے خوارج  یا خارجی (اسلام سے نکل جا نے والے ) کہا جا تا تھا ،اور آج انہیں وہابی کہا جاتا ہے ،اگر چہ وہ اپنے آپ کو سلفی (اسلام کے اس بنیادی نظریہ پر ایمان رکھنے والے جس پرمسلمانوں کی اولین  نسلوں نے عمل کیاتھا  ) اور مؤحد (خدا کی وحدانیت میں پختہ یقین رکھنے والے) کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میڈیا میں ان کی حامی بھرنے والے  چاہتے   ہیں کہ انہیں صرف ایک عام مسلمان سمجھا جائے ، تا کہ ان کی   ان مذموم اور نا جائز سر گرمیوں  کے زمرہ میں تمام مسلمانوں کو شامل کیا جا سکے ۔

 بہرحال مسلمان جو اس پورے کھیل سے واقف ہیں اور  ان کے نظریات اور سرگرمیوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا  کا شکر ہے کہ وہابی  فرقہ ابھی بھی مسلم قوم کا ایک  چھوٹا سا گروہ  ہے ،حالانکہ گزشتہ چار دہائیوں میں انہوں  نے  پٹروڈالر کی  بھاری مدد سے  اپنے نظریات کی  اشاعت کے ذریعہ  اپنے   اثرورسوخ  میں قابل قدر اضافہ کیا ہے ۔  یہ بات  اہم ہے کہ ہم مرکزی دھارے  کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے نظریات کو طشت از بام کرتے رہیں  ،انہیں نمایاں کریں اور  ان کا رد کریں   تاکہ  وہابیت، سلفیت ،اور اس سے متعلقہ نظریات مثلاً اہل حدیثیت ، قطبیت ، مودودیت   ، دیوبندیت  وغیرہ کے حامیوں اور مبلغوں کو اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا دعوی کرنے سے روکا جا سکے ۔

اسی اہم ضرورت کے پیش نظر نیو ایج اسلا م طالبان کے ترجمان نوائے افغان جہاد  (جولائی ۲۰۱۲ ) میں شائع شدہ مضمون کوپیش کررہا  ہے۔یہ اس  ماہانہ رسالہ کے مسلسل مضمون کا پہلا حصہ ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں وہابیوں کا یہ  ایمان ہے کہ     کا فروں یعنی تمام غیر وہابی مسلم، سابقہ مسلم  اور اہل کتاب سمیت غیر مسلموں کے بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو مارنا  ان کے اسلام میں جائز ہے ۔مرکزی دھارے  میں شامل مسلمانوں کے لئے  ضروری ہے  کہ وہ طالبانیوں کی  حقیقی خونی فطرت کو سمجھیں  اور امن  عالم اور اسلام کی نیک نامی کی حفاظت کے لیے قرآن و سنت کی بنیاد پر یک آوازہوکر اس نظریہ کی مذمت کریں۔ اور وہابیوں کے اس طبقہ کو جو ان متشدد نظریات کی حمایت نہیں کرتا جن کے بانی ابن عبد الوہاب اور اس کے نظریاتی معلم ابن تیمیہ ہیں، اس جماعت سے مکمل طور پر منقطع ہو جا نا چائے ۔اگر آ پ وہابی  محض اس لئے کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ  صوفیوں کے مزارات پر حاضری دینے اور صوفی بزرگوں کا احترام کرنے سے نفرت کرتے ہیں ،  نہ کہ اس لئے کیوں کہ آپ عدم رواداری اور اس نظریہ کی انتہا پسندی کے  قائل اورقدردان ہیں،  تو آپ کو سمجھنا چاہپے کہ مزارات پر حاضری سے احتراز کرنے کے لئے آپ کووہابی ہونے کی  چنداں ضر ورت نہیں ۔ ایسے بہت سے دوسرے فرقوں  کے مسلمان ہیں جو مزارات کی زیارت نہیں کرتے ،  پھر بھی وہ وہابی نہیں ہیں ۔  آپ کو مؤحد ہونے کے لئے وہابی یا سلفی ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔سلطان شاہین ، ایڈیٹر،  نیو ایج اسلام

 

Malala, A Chapter of Knowledge and Awareness  ملالہ علم و آگہی کا روشن حوالہ
Malala Yousafzai

آج سے تین سال پہلے گیارہ سالہ۔ ملالہ نےپریس کلب پشاور میں جرأت مندانہ کہا تھا کہ ‘‘مجھے میرا تعلیم کا حق اللہ اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ۔ تو پھر یہ لوگ کیوں مجھ سے میرا وہ حق چھیننے کے درپے ہیں جو مجھے میرے اللہ اور اس کے پیغمبر آخر نے عطا کیا ہوا ہے ’’۔

Terrorism and Its Solution دہشت گردی ۔ حل
Javed Chaudhary جاوید چودھری

ہم چالیس سال سے موت کی یہ خبر یں پڑھ ،سن اور دیکھ رہے ہیں، ان خبروں نے ہماری اجتماعی نفسیات تبدیل کردی ہے، ہمارے اندر سے زندگی کی محبت او رموت کا افسوس نکل گیا ہے ، ہم اب بم دھماکوں ، خود کش حملوں، روڈ ایکسیڈ نٹس ، فرقہ وارانہ اور خاندانی دشمنیوں کی ہلاکتوں کو ڈرامے کی طرح دیکھتے ہیں ، ہم  نعشوں کے قریب سے گزر کر ولیمے کی دعوتوں میں چلے جاتے ہیں ، وہاں پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتے ہیں اور پیٹ بھر کر کھانا کھا تے ہیں

 
1 2 ..35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 ... 69 70 71


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS