FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اسلام کی متشدد شبیہ کو پیش کرنے کی کوششیں لمبے عرصے سے چل رہی تھیں جو رفتہ رفتہ متشدد نظریات پر منتج ہوچکی ہیں اورہر طرف تکفیری نظریات کاغلبہ دکھائی دیتاہے جو اسلام کے بنیادی امن پسند اور تکثیری تعلیمات سے متصادم ہے مگر ایک متشدد اور طاقتور نے اسے ہی اصل اسلام کے طور پر پیش کرنیکی کوشش چھیڑ رکھی ہے۔خود کشی کو اسلام نے حرام قراردیاہے مگر دہشت گردوں نے خود کشی کو جائز قرار دے دیاہے ۔معصوم افراد بشمول عورتوں ، بچوں اور ضعیفوں کا مسلک اور مذہب کے نام پر قتل کو اسلامی جہاد کہا جارہاہے،مسلکی اختلافات نے اسلام کی شبیہ کو اور بھی زیادہ بگاڑ دیاہے۔ جہاد کے نام پر عورتوں کے غیر مردوں کے ساتھ زنا کے لئے ’’جہاد النکاح ‘‘ کی اصطلاح گھڑ لی گئی ہے اور اس کو کارثواب بناکر پیش کیاجارہاہے۔ اسلام کے احیاء کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی مگر اس کے لئے جس پیمانے پر کام ہونا چاہئے تھا وہ شاید نہیں ہورہاہے۔حدیثوں میں مجدد کی آمد کا ذکر ہے تو مجدد کی آمد برحق ہے مگر عالم اسلام ابھی تک اپنے عصر کے مجدد کو یا تو تک پہچان نہیں پائی ہے یا پھر اس شور غوغا میں اس کی آواز سننے کے قابل نہیں ہے۔ دنیااپنے اس مجدد کی راہ تک رہی ہے۔

 

Killing of Ulema in Pakistan  پاکستان میں علما کا قتل

اگر غیر اسلامی ، گنہگاروں ، خطا کاروں کے قتل عام  کا کوئی  حکم الہٰی  بتایا  جائے ، اگر خود کش یا دھوکے  سے قتل کرنے کا جواز  قرآن کریم  سے مل جائے تو بھی بہت سوں کی بے چینی  دور ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ ہم جیسے  بہت سے لوگ ان کی صف  میں شامل ہوجائیں ۔ اگر ایسا  کوئی حکم  ، اشارہ  قرآن کریم  میں نہیں ہے  تو پھر تو کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت  کاقتل ہے ۔مولانا شموزئی  سے لے کر آج  تک علماء کا قتل رکنے  میں نہیں  آتا ۔ آج جب میں یہ سطور  لکھ رہا ہوں تو مفتی  عثمان  یار خان اور ان کے ساتھی محمد رفیق  کا جنازہ  پرھا جارہا ہے ۔ آخر کب تک یہ مناظر  دیکھنے پڑیں گے ؟ ۔

 

The Islamic Doctrine of Wahdat-ul-Wujud: Do the Sufis Indulge in Shirk (Association with God)?  (وحدۃ  الوجود  کا  اسلامی  نظریہ: کیا  صوفیہ شرک  کے مرتکب  ہیں؟  (حصہ دوم
Ghulam Rasool Dehlvi

جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ خدا کا قرب نفلی عبادات، انسانیت نوازی کے کام اور فلاحی و رفاہی کوششوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فرض وواجب عبادات سے آگے بڑھتے ہوئے نفلی عبادات میں مشغول ہوکر، جو کہ صرف عبادت کے رسمی معمولات تک ہی محدود نہیں  بلکہ انسانیت پسندانہ سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کو بھی شامل ہے، انسان خدا کا خاص تقرب حاصل کر لیتا ہے۔ اسی کا ذکر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت میں ہے جسے حدیث قدسی کے طور پر جانا جاتا ہے:

 

Al-Qaeda’s Notion of ‘Freedom’  آزادی کے بارے میں القاعدہ کا تصور
Mustafa Akyol

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواہ برقع ہو خواہ بکنی کسی بھی ڈریس کوڈ پر مجبور ہونے میں کو ئی آزادی مضمر نہیں ہے ، بلکہ حقیقی آزادی اس امر میں پنہاں ہے کہ لوگوں کو ان کی پسند کے مطابق لباس پہننے کا اختیار حاصل ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کچھ قدامت پسند مسلم عورتیں پردہ اختیار کریں گیں (اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کہ) یہ ان کا انتخاب ہے اور اس میں ان کی آزادی ہے اور اس کے بر عکس کچھ عورتیں بکنی اور مینی اسکرٹ پہننا پسند کریں گی (اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کہ) یہ بھی ان کا انتخاب ہے اور اس میں ان کی آزادی بھی ہے۔

 

Interview With a Pakistani Politician  سیاسی رہنما سے انٹرویو

بات ہورہی ہے زندہ  قوموں کی تو فرہاد بھائی  ہم تو اللہ  کے فضل سے زندہ ہے ذرا تم ہاتھ  بڑھا کر ہمار نبض تو دیکھو ۔ سنا ہے جب آپ کوملٹری کا ٹھیکہ ملا تھا کہ آپ ہفتہ  میں دو دن مرغی کا گوشت سپلائی کریں تو آپ نے بھینس  کا گو شت سپلائی کیا تھا،  یہ کیا چکر ہے ؟ پھر آپ  کا کنٹریکٹ ، کینسل کردیا گیا تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں  ہیں ان پر دھیان نہ دیں،  صحت  پر اثر پڑے گا۔

 

Cultural Narcissism- Part 15   (تہذیبی نرگسیت حصہ  (15
Mobarak Haider

نرگسیت میں مریض کسی اصول کا پابند نہیں ہوتا۔ اسے اپنی خواہشات اور پیش قدمی کے لئے جو بھی موزوں لگے، کر گزرتا ہے۔ مثلاً اگر اسے اپنی طاقت پر اعتماد ہے تو وہ طاقت کو میرٹ قرار دے گا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اگر اس کا حریف طاقتور ہوتا نظر آئے تو وہ طاقت کے استعمال کو ظلم اور بربریت قرار دے کر اپنی کمزوری کو میرٹ قرار دے گا۔ یا اگر اس کا حریف وطن اور قوم کے تصورات کا پرچار کر رہا ہے تو وہ قومی وطنیت کو بدترین گناہ اور ابلیسی فلسفہ کہے گا۔

 

اسلام کے نام پر بے لگام دہشت گردی اور خطرنات بربریت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں جاری کیے گئے ایک فتوی میں پاکستان کی مسلح افواج کے ارکان کو اس بات پر ابھارا گیا کہ وہ کسی بھی اسلحہ، گولہ بارود اور یہاں تک کہ خام مواد کے ساتھ تخریب کاری شروع کر دیں مثلاً بحری جہاز کے انجن میں ریت ڈالنا یا مطبخ میں استعمال ہونے والے چاقو سے اپنے ساتھیوں کا قتل کرنا۔ جو شخص ملالہ پر گولیاں داغنے میں کامیاب ہو جائے اس کے لیے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔

 

Cultural Narcissism- Part 16   (تہذیبی نرگسیت حصہ (16
Mobarak Haider

نرگسیت کی ایک اور علامت سازش کا خوف اور احساس مظلومیت ہے۔ مریض کو لگتا ہے کہ لوگ اس کی عظمت سے خائف اور حسد کی حالت میں ہیں۔ چنانچہ اسے نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا وہ پوری طاقت اور استعداد سے ارد گرد کی دنیا کو اپنے ماتحت یا اپنے سے کم تر حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ جب لوگ اس کے اس جبر یا دباؤ سے نکلنے کی کوشش کریں تو وہ شدت کا رستہ اختیار کرتا ہے، ہر ظلم کو جائز سمجھتا ہے۔ لیکن جب شکست ہو جائے تو شدید احساس مظلومیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

 

Tales of Arabs’ Racial Supremacy  عربوں کا احساس برتری

اصل بات یہ ہے ۔ کہ سید نا آدم جنت سے اس لئے نکالے گئے تھے کہ انہیں بیت الخلا ء کی ضرورت پڑ سکتی تھی ۔ انہوں نے زمین پر آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی حاجت پوری  کی ۔ تو سیدنا آدم کا قد بہت لمبا تھا سری لنکا   میں ان کے قدم  کا نشان ہے جو ( وارونصف) یعنی ڈیڑھ گز لمبا ہے اس حساب سے ان کے پاخانے کی ایک اچھی خاصی  ڈھیری بن گئی ۔ چار پانچ دن بعد سیدنا آدم  کا اس راستے  سے گزر ہوا تو کیا دیکھتےہیں  کہ اس غلاظت کے ڈھیر میں سے کیڑے رینگ رینگ  کر نکل رہے ہیں ( کیڑے کو عربی میں دودا جمع دود۔ جس  طرح ایک یہودی  جمع یہود یا ایک ہندی  جمع ہنود کہتے ہیں ( فرہاد)  تو سیدنا آدم  نے کیڑوں  کو دیکھ کر  کہا ‘‘ یا دود  انتم تکوا ھنود ’’ اے کیڑو تم  آج سے ہندوستانی ہو  ، تو اہل ہند تمام کے تمام بشمول  پاکستان سری لنکا  وغیرہ سیدنا آدم کی غلاظت  کے کیڑے  ہیں ۔

 

Darkness in Four Shades  چار تاریکیاں ۔۔سرمایہ داری، ملوکیت، ملائیت اورپیری

آج اقبال  نہ ہوتا یا اس میں یہ سوچ پیدا نہ ہوئی ہوتی  تو ہم بھی ہندوستان  میں رہ جانے والے مسلمانوں  کی طرح ایک  اقلیت ہوتے او ربھوک  و افلاس ، بے روزگاری  ، ذلت اور جہالت  کی زندگی بسر کرتے ۔ معجزوں کے منتظر رہتے ۔ مزاروں پر قوالیوں  اور کرامتوں  کے افسانے سن رہے ہوتے ۔ شکر ادا کیجئے  کہ جس اقبال پر ہندوستان بھر کے علماء نے کفر  کے فتوے  لگائے تھے  ، اسی کافر کی بدولت  آج ہم  آزادی  کی نعمت  سے مالا مال ہیں، اور پھر مزید  سوچئے  کہ اللہ کی یہ نعمت کس طرح  قائم دائم رہ سکتی ہے۔

 

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 6  (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ (6

دینِ ابن عربی  تو غیر محسوس طور پر اپنا کام کررہا ہے ۔ کہیں صوفیانہ نغموں ، کہیں الہامات و ملفوظات  ، کہیں  کشف و کرامات  کے واقعات  ، کہیں مراقبہ اور مشاہدہ  حق اور کہیں اہل حق  کی شطحیات اور عرس و زیارت کے منظّم کارو بار کے ذریعہ اس کی فروغ و اشاعت کا کام مسلسل  جاری ہے ۔  اس کے برعکس محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لیا ہوا دین عالمی  منظر نامے  سے پوری طرح غائب ہے ۔ رسالۂ محمدی وحی ربّانی  کی شکل میں  موجود و محفوظ  ہے لیکن اہل  حق کی دھمال ، فقہا ء کی قیل و قال ، مفسرین  کی تاویلات  و تعبیرات اور محدثین  کی شانِ نزول  کی تراشیدہ  روایتوں  نے اس کے معانی پر سخت پہرے بیٹھا دیئے ہیں ۔

 

امریکہ نے خلیج عرب و فارس میں جس گندی سیاست پر عمل کیا ہے اور اس خطے کو فوجی ، معاشی اور سماجی طور پر جس قدرتباہ کیاہے اس کی وجہ سے وہاں کے عوام امریکی پالیسیوں سے نالاں اور بے زار ہوچکے ہیں اور اس علاقے میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جو امریکی اثر سے آزاد ہوتاکہ وہ اپنی بگڑی ہوئی تقدیر اپنے ہاتھوں سنوار سکیں اور اس کے لئے ہر اس طاقت کا ساتھ دینے پر تیار ہیں جو امریکہ کی چودھراہٹ کو چیلنج کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی ایس جیسی تکفیری تنطیم کو حمایت دی ہے۔ دوسری طرف نوری المالکی کی حکومت کے مسلکی تعصب نے بھی سنیوں کو اس سے بیزار اور عسکری تنظیم سے قریب کردیا ۔یہ عراق کے لئے فال نیک نہیں ہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 14   (تہذیبی نرگسیت حصہ (14
Mobarak Haider

مریضانہ نرگسیت کی ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض چت بھی میرا پٹ بھی میرا کے اصول پر عمل کرتا ہے۔ اپنے ارد گرد باصلاحیت شخص سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف کردار کشی یا تذلیل و تحقیر کی مہم چلاتا ہے۔ اس عمل میں وہ عام اخلاقیات کے برعکس اپنی فضیلت اور صلاحیت کا طرح طرح سے بیان کرتا ہے۔ اس بیان کی نفاست یا کثافت کا انحصار فرد کی تہذیبی اور فکری سطح پر ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ فضیلت کا یہ اظہار صاف دکھائی دیتا ہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 13   (تہذیبی نرگسیت حصہ (13
Mobarak Haider

پاک افغان قبائل کی موجودہ جنگ صرف اپنی قبائلی روایات کے تحفظ کی جنگ مزاحمت نہیں۔ یہ جنگ اس تہذیبی نرگسیت کا پھل ہے، جس کا ایک رد عمل طیش کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مریضانہ نرگسیت کا شکار فرد جب اپنے کسی مقصد میں ناکام ہوتا ہے تو وہ کبھی یہ سوچنے پر آمادہ نہیں ہوتا کہ اس کا مقصد کہاں تک مناسب اور کہاں تک نامناسب تھا، یا یہ کہ دوسروں کو اس کے مقصد سے کیا اختلافات ہو سکتے ہیں۔

 

Here Are Some Shocking Truths  چند  چونکا دینے والے حقائق
Maulana Wahiduddin Khan

صدمہ اور زخم بڑے ہوں یا چھوٹے بہت عام ہیں۔ تقریبا ہر انسان کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ صدمہ اور زخم کو ایک منفی تجربہ سمجھتے ہیں اور ان سے سبق حاصل کرنے کےقابل نہیں ہوتے۔ تاہم جھٹکا ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ جھٹکا فطرت کی زبان ہے۔ قدرت جھٹکے کی زبان بولتی ہے۔ اگر کوئی جھٹکے کا شکار ہونے کے بعد منفی بننے سے خود کو بچا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک انتہائی تخلیقی تجربہ ہو سکتا ہے۔

 

Tragedy of Model Town and Dr. Quadiri vs. Sharifain  سانحہ ماڈل ٹاون اورقادری بمقابلہ شریفین
Mujahid Hussain

منہاج القرآن فائرنگ کیس کے بعد حکومت کو ایک نئی صورت حال کا سامنا ہے کیوں کہ غیر متوقع طور پر اس کو ایسے مغضوب الغضب دشمنوں سے واسطہ پڑ گیا ہے کہ جن کے بارے میں عمومی رائے یہ تھی کہ وہ مستقبل میں کوئی خاص خطرہ نہیں۔جوڈیشل انکوائری اگر آسانی کے ساتھ اپنا کام کرسکی اور سادہ حقائق کو سامنے لے آئی تو شاید مسلم لیگ نواز کی قیادت اس بحران سے نکل سکے،بصورت دیگر بڑے خطرات منڈلاتے نظر آرہے ہیں۔اگر افواہوں اور سوشل میڈیا کی رہنمائی میں چلنے والی مخالف مہم کے اثرات کو دیکھا جائے تو میاں براردان عنقریب کسی بڑے انجام سے دوچار ہونے والے ہیں کیوں کہ عمران خان اپنی پوری قوت کے ساتھ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے پر مائل نظر آتے ہیں جب کہ مسلم لیگی قیادت روایتی تذبذب کے باعث خاصی ڈانواں ڈول ہے۔

Cultural Narcissism- Part 12   (تہذیبی نرگسیت حصہ (12
Mobarak Haider

پاکستان کے شمالی علاقے بھی ابھی تک فاٹا کی طرح قبائلی روایات ہی سے وابستہ ہیں۔ تہذیب کی مادی یا جسمانی شکلیں قبائلی انسان کی زندگی کے بیرونی حصے میں داخل ہوئی ہیں۔ مثلاً کچے رستوں اور گھروں کی بجائے کنکریٹ نے لے لی ہو، تلوار کی جگہ جدید ہتھیار، دئیے کی بجائے بجلی کے بلب، ہاتھ سے بنے کپڑوں اور جوتوں کی جگہ فیکٹری کا مال آ گیا ہو، حکیم کی جڑی بوٹیوں کی جگہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات چلتی ہوں۔

 

Question Mark On The Resolve To Crush Terrorists   دہشت گردوں کو کچلنے کے عزم پر سوالیہ نشان
Najam Sethi

وسطی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی طرف سے کراچی ایئرپورٹ پر حملے نے کم از کم ایک حقیقت آشکار کردی کہ ان دہشت گردوں نے نہایت ہوشیاری سے مذاکرات اور جنگ بندی کی آڑ میں ریاست کے اندر اپنے مورچے پکے کرلئے ہیں۔ صورت ِ حال اتنی گمبھیر ہوچکی ہے کہ اب صرف بے دریغ طاقت کا استعمال ہی ان کے گھنائونے عزائم کو خاک میں ملا کر ریاست کا تحفظ کرسکتا ہے۔ اس صورت ِ حال کا ادراک کرتے ہوئے فوج نے اعلان کیا کہ وہ ان دہشت گردوں کا قبائلی علاقوں سے قلع قمع کردے گی اور اس کام کے لئے امریکی ڈرون حملوں کی مدد بھی لی جائے گی۔ کیا اس سے ریاست ِ پاکستان کے رویّے میں تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے کہ یہ آخر کار تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئےتیار ہوگئی ہے؟

 

Miracles of the Quran Part13   اعجاز القرآن قسط تیرہ

قرآن کریم اپنے وحی الٰہی  ہونے کے ثبوت میں نظری دلائل کو ہی کافی نہیں سمجھتا وہ کہتا ہے کہ اس کے نتائج کو پرکھ کر دیکھئے ، اگر اس کے نتائج اس کے دعاویٰ کے مطابق بر آمد ہوتے ہیں، تو یہ بات اس کے وحی الہٰی  ہونے کا ثبوت  ہے۔ اگر اس کے نتائج  اس کے دعاویٰ کے مطابق  بر آمدنہیں  ہوتے تو اس کی وحی ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔یہ کیسا  عمدہ  اور واضح  ثبوت قرآن کریم نے پیش فرمایا  ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں ایک نظام پیش کرتا ہوں، اس کے مقابلہ  میں تم  ایک نظام پیش کرتے ہو تمہارے او رمیرے  دعاویٰ  کے پرکھنے کا طریقہ  یہ ہے کہ   اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ( 6:135)

 

بنارس عہد  قدیم سے ہی علم  و ادب کا مرکز رہا ہے، اس کی یہ صفت  تمام  انقلابات کے باوجود  بھی محفوظ   ہے ۔ اس کے ادبی  افق پر ایسے بہت سے روشن ستارے طلوع  ہوئے جن  کی ضیا پاشیوں  سے آج بھی  مختلف ادبیات  کی فضا منور ہے۔  سنسکرت کے مشہور  و معروف  عالم فیضی  اور داراشکوہ نے اسی شہر  میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔ کبیر، تلسی اور سنت روی داس نے یہیں بھکتی کے گیت کے گائے ۔ بھارتیندو جیسے ادیب  نے یہیں  اپنے فن کی آبیاری  کی ۔ پریم چند جیسا  قلم کا سپاہی  بھی یہیں  کی فضاؤں  میں پروان چڑھا ۔

 

Miracles of the Quran Part14   اعجاز القرآن قسط چودہ

جہاں تک انسان کی طبعی زندگی  کا تعلق ہے ،اس زندگی میں انسان اور دوسرے حیوانات پر ایک ہی طرح کے قوانین کا اطلاق  ہوتاہے ۔اگر کوئی انسان زہر کھا لیتا ہے یا کوئی حیوان تو دونوں پر با لکل ایک طرح کا اثر مرتب ہوتاہوگا۔ اسی طرح سردی اور گرمی کے اثرات  دونوں ایک طرح ہی ہوں گے۔ اس  طرح دونوں  پر مکافات عمل  کا نتیجہ  ایک جیسا  بر آمد ہوگا لیکن  جہاں تک انسان کی انسانیت کا تعلق ہے ۔ اس میں مکافاتِ  عمل کا دار و مدار  مستقل  انداز پر ہوتا ہے اور یہی  وہ مقام ہے جہاں انسان وحی الہٰی  کا محتاج  ہوتاہے ۔

 

Miracles of the Quran Part12  اعجاز القرآن  قسط  بارہ

قرآن کریم کے وحی الہٰی  ہونے کے ثبوت  میں ایک ثبوت  قرآن کریم کے وہ انقلابی  نظریات  ہیں جو قرآن  نے اُس  وقت دیئے تھے ۔ جن کا تصور آج بھی پوری انسانیت میں کہیں  نہیں ملتا ۔ عقل انسانی  اگر چہ آہستہ آہستہ ترقی کرتی جارہی تھی  لیکن قرآن نے جو  نظریات  دیئے وہ اپنے زمانہ  سے بہت آگے  تھے ۔ عقل  انسانی چونکہ آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے، اس لئے اس طویل مدت میں ذہن انسانی کی سطح بھی بلند  ہوتی جاتی ہے اور وہ بلند تصورات  کو اپناتی چلتی ہے ۔ لیکن جب قرآن  کریم نے اپنے انقلابی نعرے بلند کئے تو اُن سے صرف وہی جماعت  متاثر  ہوئی جو اس پر ایمان لا چکی تھی ۔

 

تمام نبیوں نے اپنی کمیونٹی یا قوم کو بت پرستی اور شرک اور دیگر سماجی اور اخلاقی برائیوں سے روکنے کی کوشش کی۔ نتیجتاً ان کی قوموں نے ان کی مخالفت کی اس لیے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ان نبیوں کے پیغام کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بھی انہیں کی طرح انسان تھے اور ان کے معاشرے کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ خدا کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور انہیں لوگوں کو جھوٹے معبودوں کی عبادت کرنے سے روکنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے تو ان کی قوم کے لوگ حیران تھے کہ ایسا شخص کیوں کر نبی ہو سکتا ہے جو عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا ہے اور بازار میں گھومتا ہے۔ وہ یہ سوچ کر حیران تھے کہ اگر وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے نبی ہیں تو پھر ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہے اور ان کا ظہور عام لوگوں سے مختلف کیوں نہیں تھا۔ انبیاء کے بارے میں قرآن مجید کا فرمان ہے:

 

Pakistan Army’s Operation ‘Zarb-e-Azb’ Against the Taliban ’طالبان کے خلاف پاکستانی فوج کا آپریشن ’ضرب عضب

طالبان کے خلاف پاکستان کی اس لڑائی کی کامیابی پر اس پورے خطے میں سیاسی استحکام کا انحصار ہے۔اس لئے اس لڑائی میں عالمی برادری کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے۔ ہندوستان نے جس طرح بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون دیا ہے اسی طرح اسے پاکستان کی اس لڑائی میں بھی ساتھ دینا چاہئے۔ پاکستان کے لئے بھی اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے یہ سب سے بہترین موقع ہے ۔

 

Miracles of the Quran Part11  اعجاز القرآن  قسط گیارہ

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کے جتنے وعدے بھی ہماری آنکھوں کے سامنے  پورے ہوتے جائیں گے ۔ قرآن کے وحی الہٰی  ہونے کے ثبوت جمع ہوتے جائیں گے اور یہی طریقہ  قرآن کو وحی الہٰی ثابت کرنے کا بہترین طریقہ ہے ۔ لیکن قرآن کا نظام قائم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے ۔ اس لئے اس طاغوتی دور میں ہم قرآن  کی حقانیت  کے وہ ثبوت تو پیش نہیں کر سکتے البتہ قرآن کریم نے جہاں  تخلیق کائنات  ، زندگی کی ابتداء مسئلہ ارتقاء علم افلاک ، کُرّوں کے اندر زندگی  ، طبقات  الارض ، تولیدی  نظام، جنین کے مراحل اور بے شمار  دیگر عنوات پر روشنی ڈالی ہے جن کا براہِ راست سائنس  سے تعلق  ہے ۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS