FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Khwaja Gharib Nawaz (ra), or Khwaja Moinuddin Chishti of Ajmer  موجودہ  انتہا پسندی کے خاتمہ میں تعلیمات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ  کا کردار
Ghulam Ghaus

سب سے محبت کرو اور کسی سے بھی نفرت مت کرو۔ صرف مباحثوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ صرف دین اور اللہ کی بات سے کچھ نہیں ہو گا۔ اپنی تمام باطنی طاقتوں کو پروئے کار   لاؤ، اور اپنی لافانی شان و شوکت کو ظاہر کرو۔ امن اور خوشی کے سے مالا مال رہو اور جہاں کہیں بھی جاؤ وہاں امن اور خوشی پھیلاؤ۔ حقیقت کی ایک بھڑکتی ہوئی آگ اور امن کا ایک سکون بخش مرہم بنو۔ اپنی روحانی روشنی سے جہالت کے اندھیروں کو دور کر دو؛ اور لوگوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دو۔ کبھی بھی اللہ کے سوا کسی سے بھی مدد، صدقہ یا کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش مت کرو۔ بادشاہوں کی عدالتوں میں کبھی مت جاؤ ، لیکن جب کبھی کوئی ضرورت مند، غریب، بیوہ اور یتیم تمہارے دروازے پر آئیں تو ان پر احسان کرنے اور ان کی مدد کرنے سے کبھی انکار مت کرو۔ لوگوں کی خدمت کرنا تمہارا مشن ہے۔ اس پر پوری ذمہ داری کے ساتھ عمل کرو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سامنے ایک پیر و مرشد کی حیثیت سے مجھے اور اس سلسلۂ طریقت میں ہمارے بزرگ پیشروں کو تمہاری غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 5  (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دین  حصہ (5

ان کے بارے میں یہاں بڑی اچھی رائے پائی جاتی ہے ، مریدین زیادہ تر سنت پر عامل ہیں، اکثر کی داڑھیاں  ہیں اور زیادہ تر لوگ ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنتے ہیں ، مشواک کا استعمال بھی عام ہے ، عورتیں  مردوں سے الگ برقع میں رہتی ہیں اور غیر محرموں سے مصافحے کا رواج بھی نہیں  دکھتا ۔ یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے اب دیکھئے  آگے کیا ہوتا ہے ۔

 

Cultural Narcissism- Part 6   (تہذیبی نرگسیت حصہ (6
Mobarak Haider

شاید یہ کہنا درست نہ ہو کہ ہمارے پالیسی ساز جو پاکستان کی داخلی اور خارجہ حکمت عملی پر اثرانداز ہوتے آئے ہیں، بھارت دشمنی کی ذہنیت اور دو قومی نظریہ کا محض بہانہ بناتے ہیں، جبکہ اِن کے پیشِ نظر مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ شاید یہ تصور کرنا بہتر ہے کہ ہمارے یہ دوست خلوصِ دل سے پاکستان اور اس خطہ کے لئے احسن خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے اس خطہ پر وہ لوگ غالب حیثیت کے مالک ہوں جو جدید دنیا اور اس کے علوم و فنون سے نفرت کرتے ہیں یعنی ’’خالص اسلام‘‘ کے وہ علمبردار جنھیں بنیاد پرست کا نام دیا گیا ہے۔

 

مسلمان محض قرآن میں تفکر کر کے بہت جلد اُس مقام پر پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں انتہائی ترقی یافتہ اقوام، سالہا سال کی ریسرچ اور کھربوں ڈالر خرچ کر کے پہنچے ہیں‘‘۔۔۔میں نے کسی کالم میں یہ تحریر لکھی تھی اوراپنے پچھلے کالم میں دنیاکے مشہورسائنسدان،موجودہ زمانے میں فزکس کے علوم کاسب سے بڑے محقق فرینک ٹپلر (Frank Trippler)کی چارسوصفحات پرمشتمل مشہورزمانہ کتاب (Physics of Morality)کاتذکرہ کیاجس کے ایک باب (Omega Point Theory) میں اس نے اپنی ایک تحقیق میں کائنات کے انجام، آخرت،دوبارہ اٹھایا جانا،جنت اور دوزخ کاتذکرہ کرتے ہوئے یہ تسلیم کیاہے کہ یہ بالکل ایساہی ہے جیسا مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن کی سورۃ بقرہ،سورۃالنجم اور سورۃ القیامہ میں بتایاگیاہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 5  (تہذیبی نرگسیت حصہ (5
Mobarak Haider

پاکستان کے بااثر یا بااقتدار طبقوں میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں تذبذب اور نیم دلی کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اِن کے خیال میں افغان حکومت کے موجودہ نیٹو سیٹ اَپ میں بھارت کی طرف دوستانہ رُجحانات رکھنے والے عناصر غالب ہیں۔ چنانچہ اگر موجودہ سیٹ اَپ کو طالبان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو اس کا فائدہ بھارت کو ہو گا۔ جبکہ طالبان پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں ترقی و طاقت ملے تو یہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو گا۔ اس طرزِ فکر کے تین بنیادی مفروضے ہیں۔

 

Let’s Now Look Within  اب  بننے  پر نہیں بلکہ  بگڑنے  پر تنقید ہونی چاہیے
Dr. Ghulam Zarquani

جمہوریت کے آداب میں سے ہے کہ انتخابات سے پہلے نمائندوں پر جتنی چاہیں تنقیدیں کرلیں ، تاہم انتخاب میں کامیاب ہونے والی شخصیت کو بہر کیف سب کا مشترکہ نمائندہ تسلیم کرنا چاہیے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے زیر سایہ علاقے میں انتخاب لڑنے والے تمام نمائندے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتے ، تاہم انتخاب ہارنے والے سارے نمائندے فتحیاب ہونے والے کو مبارک باد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں

 

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 4  (روحانیوں کے عالمی پائیہ تخت استنبول میں گیارہ دن  حصہ (4

استنبول میں سلطان محمد فاتح کا علاقہ اپنے اسرار و رموز سےجلد پردہ نہیں اٹھاتا ۔ یہا ں زیادہ تر وہ لوگ آتے ہیں جو سِّر الاسردار کی تلاش میں کسی زندہ باکرامت شیخ کے متلاشی  ہوتے ہیں اور جنہیں رقص و سماع کی محفلیں  کچھ زیادہ متاثر نہیں  کرتیں ۔شمالی  دروازے سے چار شنبہ بازار کی طرف آئیے اور اسمٰعیل آغا مسجد کی سمت چل پڑئیے ۔ دفعتاً آپ کو محسوس ہوگا کہ لوگوں کے چہرے بشر ے اور ان کے لباس  و آہنگ  تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ گول پگڑی نما ٹوپیاں   ، چہرے پر داڑھیوں کی بہار، لمبے مشرقی لباس ، ہاتھوں میں تسبیحیں ، جو بسا اوقات سڑک چلتے  میں بھی گردش میں رہتی ہے ۔

 

Rising Hopes for an End to Extremism  شدت پسندی کے خاتمے کی بڑھتی ہوئی اُمید
Mujahid Hussain

قبائلی علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں میں شدت آرہی ہے اور امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے حملے بڑھ جائیں گے کیوں کہ طالبان دھڑوں میں جاری کش مکش اور گروہ در گروہ بٹے ہوئے شدت پسندوں کی شناخت کا مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے۔سادہ نظر سے دیکھیں تو دشمن میں اس طرح کی پھوٹ سود مند تصور کی جاتی ہے لیکن طالبان شدت پسندوں کے معاملے میں اس نوعیت کی پھوٹ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے مزید پیچیدگیوں کی حامل ہے۔

 

A Society in Love with Death  موت کی محبت میں مبتلا معاشرہ
Mujahid Hussain

گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پولیس کی موجودگی میں اسکے ناراض والدین نے ساتھیوں سمیت باقاعدہ سنگسار کردیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے کئی ممالک نے اِس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس کے بعد وزیراعظم نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرکے معاملے میں حکومتی دلچسپی کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔اس کے بعد کیا ہوگا، پاکستان میں پولیس تفتیش،سیاسی دباو اور آخر میں عدالتی فیصلوں کے منطقی انجام کے بارے میں آسانی کے ساتھ رائے قائم کی جاسکتی ہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 4  (تہذیبی نرگسیت حصہ( 4
Mobarak Haider

عقائد کی وہ شکلیں جو آج کے دور کی فکری تحریکوں سے اتنی مختلف ہیں مسلم اقوام کی نفسیات میں انتشار کا باعث بنی ہیں، کیونکہ وہ لوگ جنھیں مدرسوں یا علماء تک رسائی مل گئی ہے وہ تو ان عقائد کو قبول کرکے یقین کی سطح پر آگئے ہیں اور اب انہیں کسی تذبذب یا معذرت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لیکن ان کے جراتمندانہ جذبوں سے پیدا ہونے والا عمل ان لاتعداد مسلمانوں کو تذبذب اور افسردگی میں ڈال رہا ہے جو ان عقائد کو سرسری انداز سے سنتے اورمانتے ہیں لیکن عملی زندگی میں جدید فکری تحریکوں کے تابع رہتے ہیں۔

 

Boko Haram Abductors, Killers Are Terrorists and Thus the Worst Enemies of Islam  بوکو حرام کے اغوا کار ،قاتل، دہشت گرد اور اسلام اور عالمی امن کے بد ترین دشمن ہیں
Ghulam Ghaus, New Age Islam

بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنظیموں کے لئے مذہب کا بہانہ ایک عام بات ہے۔ وہ صرف عورتوں اور نوعمر لڑکیوں کا استحصال کرنے، شرعی قانون، قرآن، اسلام اور جہاد جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے تعلیم کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس قسم کی تنظیمیں معصوم لوگوں کا قتل کر رہی ہیں نوجوانوں کے دل و دماغ میں برائی کی بیج بو رہی ہیں اور ہماری نائجیریائی بہنوں کو اغوا کر رہی ہیں لہٰذا وہ عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اے مسلموں اور غیر مسلموں! قدم سے قدم ملا کر گھر سے باہر نکلو اور اپنی بیٹیوں، اپنی زندگیوں اور اپنے ممالک کو بچانے کے لئے بوکو حرام کو مٹا دو؛ اس لیے کہ ایسا کرنا تمہارے ایمان کا ایک حصہ ہے اگر تم مسلمان ہو اور تمہاری ذمہ داری ہے اگر تم امن پسند غیر مسلم ہو۔

 

Cultural Narcissism- Part3   (تہذیبی نرگسیت حصہ(3
Mobarak Haider

یہ عقائد صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات یا افغانستان کے مسلمانوں کے ہی نہیں نہ یہ پاکستان کے مدرسوں تک محدود ہیں۔یہ تمام مسلمانوں کے عقائد ہیں جو بالکل اسی شکل میں اُن مسلمانوں میں بھی جاری و ساری ہیں جو دنیا بھر سے ہجرت کرکے دنیا کے جدید صنعتی معاشروں میں روزگار اور خوشحالی کی تلاش میں آباد ہوئے ہیں اوراب وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔دعوت دین اور احیائے دین کی تحریک نے ان آبادکاروں کو ایسا ولولہ اور اعتماد فراہم کیا ہے کہ یہ اپنے میزبان ممالک میں مسلمانوں کی حکمرانی کا خواب دیکھتے ہیں۔

 

Khwāja Mo`īnuddīn chishti Was The Torchbearer Of Love, Compassion  حضرت خواجہ معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ ہندوستان میں امن، محبت، روداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے نقیب تھے
Misbahul Huda

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کا 700 سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت گیا لیکن آپ کا مزار اقدس آج بھی بین المذاہب محبت اور ہم آہنگی کی ایک زندہ علامت ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ آج گمراہ اور انتہا پسند اسلامی جماعتیں بندوق کی نوک پر لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور اسلام کے نام پر دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل میں مصروف ہیں۔ انہیں اسلام کے بارے میں غریب نواز کے اجتماعیت پسند تصور اور پر امن طریقہ تبلیغ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔

 

Cultural Narcissism- Part 2 (تہذیبی نرگسیت حصہ  (2
Mobarak Haider

بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے تباہی اور قتل عام اس تحریک کا حصہ ہے جو پچھلی تین دہائیوں کے دوران نشوو نما پاتی رہی ہے، اُس فکری تحریک کی عملی شکل ہے جسے اس کے مخالف دہشت گردی کہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے اس خیال کااظہارکیا جارہا تھا کہ سیاسی عمل کی بحالی سے دہشت گردی کا عمل کمزور پڑ جائے گا۔شاید وہ تحریک جسے دہشت گردی کہا جارہا ہے اس کی قیادت بھی اس ’’جمہوری چال‘‘ کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کرتی۔

 

Can We subscribe our Good Deeds in the Account of our Parents  کیا ہم نیک اعمال والدین  کے کھاتے  میں درج کر سکتے ہیں؟

حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن عیسیٰ الطا لقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں کہ میں نے عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ بن مبارک سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمان! یہ حدیث کیسی ہے جو حضور علیہ السلام سے منقول ہے ( اس  کا درجہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ اوپر تلے کی نیکی یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے ساتھ اپنے مرحوم ) والدین کے لئے بھی نماز پڑھو او راپنے روزہ کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزہ رکھو ۔  ’’ تو عبداللہ بن مبارک نے ان سے فرمایا اے ابو اسحاق ! یہ حدیث کس سے مروی ہے ؟ میں نے کہا یہ تو شہاب بن خراش کی حدیث ہے ۔

 

Search for Truth: Book Review  حقیقت کی تلاش: تعارف و تبصرہ

روحانی ٹیوننگ کی انہوں نے ایک مثال  بیان فرمائی  ہے ۔ ایک کوئی فقیر ولی اللہ  تھا ایک اس کا تابعدار بالکہ تھا اور وہ فقر کا طالب تھا اس نے خدمت  مرشد میں  کئی سال لگائے مگر کچھ حاصل نہ ہوا، مرشد بردبار تھے اور بالکا (مرید) بے  صبر تھا ، ایک دن یہ دریا کے کنارے گزررہے تھے مرشد نے کہا تم دریا میں نہالو میں یہا ں آرام کرتاہوں، اس نے کپڑے اتارے دریا میں اتر گیا جب باہر نکلا تو سر تا پاؤں عورت بن چکا تھا ، صورت عمر اور ملک جگہ بھی بدل  چکی تھی ، وہاں کچھ عورتیں  کپڑے دھورہی تھیں انہوں نے اسے آواز دی کہ جلدی کرو دیر  ہورہی ہے ۔ وہ شدید حیرت پریشانی میں باہر نکلا اور کپڑے پہنے ایک دیوہیکل  مرد دور سے آیا اسے برا بھلا  کہتا ہوا اور کوستا ہوا آرہا ہے ۔

 

Cultural Narcissism- Part 1   (تہذیبی نرگسیت حصہ( 1
Mobarak Haider

دنیا بھر میں اسلام اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کی تلاش جاری ہے اور بیشتر خوشحال یا ترقی یافتہ معاشروں کا دعویٰ ہے کہ جسے دہشت گردی کہا جارہا ہے، وہ سرگرمی اسلام کے بنیادی کردار کا حصہ ہے۔ دوسری طرف سے مسلم معاشروں کے نمائندہ سیاست دان اور دانش ور مسلسل وضاحت پیش کررہے ہیں کہ اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کا کوئی تصور ہی موجود نہیں۔

 

Muslims Must Be Honest About Qur’an  مسلمانوں کو قرآن کے تعلق سے غیر جانبدار رویہ اختیار کرنا چاہیے
Tarek Fatah

اسلامی جہادی تنظیم بوکو حرام کے عیسائی اسکولی طالبات کو غلام بنائے جانے کے بعد مسلم دانشوران اپنا گہرا محاسبہ کرنے کے بجائے نقصان کی تلافی میں لگے ہوئے ہیں۔ٹورنٹو سٹار سے لیکر دی انڈپینڈینٹ لندن اور سی این این ڈاٹ کام تک کے اخبارات میں مسلمانوں کے کالمز شائع ہو رہے ہیں جن میں ایسے شرعی قوانین کے کسی بھی حوالہ سے گریز کیا گیا ہے جن میں جنگ میں قید کی جانے والی غیر مسلم خواتین کو باندی بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔در اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ اسلامی قانون کے تحت مسلم فوجیوں کو غیر مسلم قیدیوں کو باندی بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

 

Pakistan Media Itself in a Pathetic Condition  اپنا گریبان چاک
Mujahid Hussain, New Age Islam

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جاری کش مکش کے بارے میں احتیاط کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ضرور رنگ لائے گی اور چوکھا لائے گی کیوں کہ جس طرح ایک دوسرے کے خلاف پشتے مضبوط کیے گئے ہیں، یہ کوئی معمول کی بات نہیں۔بحثیت مجموعی پاکستانی ذرائع ابلاغ کی ساخت اور مزاج ابھی پختگی کے انتہائی ابتدائی مراحل ہی طے کرپارہے تھے کہ اُن پر ایک ایسی اُفتاد آن پڑی ہے، جس سے مکمل طور پر بچ جانا اِس کے بس کی بات نہیں۔مسئلہ کسی ایک خاص ابلاغی ادارے کا نہیں بلکہ مسئلہ اجتماعی تصور اور رویے کا ہے ،جس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں جامع بحث ابھی شروع نہیں ہوسکی۔اس کی بڑی وجہ بیرونی مداخلتیں ہیں جو آسانی کے ساتھ ذرائع ابلاغ کی عمارت میں سیند لگانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔

 

Putting extra meanings into verses is not tolerable  قرآنی آیات میں غیر ضروری معانی کا اضافہ نا قابل برداشت ہے
Mustafa Akyol

میں ملیشیا کے اس خوبصورت جزیرے پر ہوں جو سیاحوں کا مرکز توجہ ہے، جہاں ترقی پسند خیالات و نظریات کے حامل ایک تھنک ٹینک پینانگ انسٹی ٹیوٹ نے ایک مکالمہ کی میزبانی کی ہے جس کا عنوان یہ تھا کہ کیا لبرٹی (آزادی) اسلامی اقدار میں سے ہے، جہاں مجھے ملیشیائی مسلمانوں، چینی، ہندوؤں اور عیسائیوں سمیت تمام رنگ و نسل کے لوگوں سے روبرو ہونے کا موقع ملا۔مقامی سیاست دان کا افتتاحی خطبہ سن کر اچھا لگا اس لیے کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انفرادی آزادی اسلامی اقدار میں سے ایک ہے جسے مسلمانوں کو برقرار رکھنا چاہئے۔ یہ مندرجہ ذیل اس اہم قرآنی آیت کے ترجمہ کو متضمن ہے۔

 
Illusion Of Truth حق کا وہم
Basil Hijazi, New Age Islam

Illusion Of  Truth  حق کا وہم
Basil Hijazi, New Age Islam

حق کا لفظ قرآن میں دسیوں بار آیا ہے اور ہر بار اس میں انسان کو حق کے اتباع کی تلقین کی گئی ہے کہ حق کے مقابل فریق باطل پر ہے اور ظاہر ہے کہ حق کے بعد صرف باطل ہی رہ جاتا ہے، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں، یا تو وہ مؤمن ہیں یا کافر، ان کے درمیان کوئی تیسرا یعنی درمیانہ مقام نہیں ہے، درحقیقت ماضی میں یہی کلچر رائج تھا چاہے وہ علماء تھے یا فلسفی، حق تک رسائی انسان کا عظیم ترین مقصد تھا بلکہ انسان کی زندگی کا مقصد ہی حق اور حقیقت کی تلاش سمجھا جاتا تھا، یہ تصور اتنا پختہ تھا کہ حق کے بغیر انسان کی کوئی قدر وقیمت نہیں سمجھی جاتی تھی، مثال کے طور پر شیعہ حضرات حضرت امام حسین پر روتے پیٹتے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ حق پر تھے اور یزید باطل پر تھا، اہلِ سنت کو بھی صحابہ بہر صورت حق پر نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے صحابہ کو تقدس کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

 

Muslim Inventors inspired by Qur’an’s Exhortations  مسلم سائنس دان: ماضی اور حال کی دریافتوں اور کامیابیوں کا ایک مطالعہ
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

قرآن کی بالکل پہلی آیت میں ہی حصول علم، دانشورانہ مزاج اور جدید ٹیکنالوجی کی ایجادات میں انسانی کوششوں کو بڑی اہمیت دی گئی ہے: ‘‘اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں’’ (45:13)۔ کائنات کی تمام مخلوق اور اس کے رازہائے سر بستہ کی دریافت کو اس قدر اہمیت دینے اور دیگر مخلوقات کی قد و قامت اور ڈھانچے کے بارے میں غور و فکر کرنے کا حکم دینے کے پیچھے قرآن کا واضح مقصد انسانوں کے اندرتخلیقی صلاحیت اور سائنسی مزاج پیدا کرنا ہے، ‘‘یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب )پیدا کیے گئے ہیں۔ اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں۔ اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی’’ (88:17-20)۔

 

Ideological Roots of Terrorism  دہشت گردی کی فکری جڑیں
Basil Hijazi, New Age Islam

یہ بات شیوخِ اسلام سے اکثر سننے میں آتی رہتی ہے، ایسی باتوں کا مقصد لوگوں میں خاص کر عام مسلمانوں اور غیر مسلمانوں پر اسلام کی تصویر خوبصورت بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے جو اچھی خاصی بگڑ چکی ہے اور لوگ خاص کر نوجوان اور مثقف طبقہ اس سے جوق در جوق خارج ہو رہا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ باتیں اسلام کی معلوم بدیہیات اور تاریخ سے ٹکراتی ہیں جو جنگوں، مظالم، جابرانہ حکومتوں، فقہاء کے غیر انسانی فتؤوں اور مُتون سے لبریز ہے جیسے قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت جو تواتر سے درجنوں تاریخی مصادر میں مذکور ہے تاہم فی الوقت ایسی باتوں کا رد ہمارا موضوعِ بحث نہیں ہے بلکہ اسلامی دہشت گردی کی جڑیں اور فکری عمارتیں ہمارا موضوع ہیں۔

 

نام نہاد سیکولر سیاستدان ایک لمبے عرصے سے ہندوستان پر مسٹر نریندر مودی کی حکومت سے مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ باتیں یہ پھیل رہی تھیں کہ اس منظر نامے میں22,000 کی تعداد میں مسلمان ہلاک کئے جائیں گے۔ [اس اعداد شمار کی بنیاد کیا ہے اس کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے۔] تاہم ، دہلی کے اردو پریس کے ایک فوری سروے سے پتہ چلتا ہے جو کہ ملک میں مسلمانوں کی رائے جاننے کا ایک واحد پیمانہ ہے، کہ مسٹر عزیز برنی کے اخبار عزیزالہند میں شائع ہونے والے شاہی امام کے بیان اور چند کالم نگاروں اور خود اخبار کے علاوہ کسی بھی اردو اخبار نے خوف و ہراس پھیلانے والی خبروں کو شائع نہیں کیا۔ سنگین پیشن گوئیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ تمام لوگوں نے عوام کے فیصلے کو قبول کیا ہے اور ا ن کا یہ کہنا ہے کہ جمہوریت میں لوگوں کے فیصلے کو ہمیشہ قبول کیا جانا اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اس لیے کہ اس سے لوگوں کی اجتماعی حکمت کی عکاسی ہوتی ہے۔ تمام ادارتی کالم نگاروں نے مسلمانوں سے یہی کہا ہے کہ وہ رکیں اور جس اچھے وقت کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا اس کا انتظار کریں۔…..

 

Why Criticism Of Religion مذہب پر تنقید کیوں؟
Basil Hijazi, New Age Islam
مولویانِ اسلام کا کہنا ہے کہ اصلِ مذہب پر تنقید نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف وحی ہے بلکہ غیب اور حکمِ الہی بھی ہے، مزید برآں مذہب پر تنقید لوگوں کے ایمان متزلزل کرنے کا باعث بنے گی اور الحاد ولا ادریت کے دروازے کھول دے گی اور ہر چیز جائز ہوجائے گی لہذا تنقید کا دائرہ کار صرف چند مخصوص مذہبی شخصیات تک محدود رہنا چاہیے اور مذہب کو بدعتوں سے پاک کیا جانا چاہیے نا کہ اصل مذہب پر تنقید کی جائے۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS