FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Jihadist Magazine Azaan’s Call for Western Muslims to Attack Their Own Homelands مجلہ اذان میں یوروپ کے مسلمانوں کو اپنے اپنے وطن میں حملہ کرنے کی دعوت قطعی طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے
Ghulam Ghaus, New Age Islam

مختصر یہ کہ اس طرح کے رسالے اور مجلات دہشت گردوں کے ارادوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی قتل و غارت گری اور قرآنی تشریحات سے ان کے برے ارادوں اور قابل مذمت نظریات و معتقدات کا ثبوت ملتا ہے۔ ان کے ان گھناؤنے عمل کا نیک اسلامی معتقدات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ مجرم، باغی اور گناہوں کے تاجر اپنے اس ظالمانہ اور پر تشدد جہاد کے عمل کا جو بھی بے بنیاد جواز پیش کریں ان کا اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جہاں تک اس قسم کے رسالوں اور مجلات کا تعلق ہی جن کی تشہیر انٹرنیٹ کے ذریعہ کی جارہی ہےانہیں ممنوع قرار دیا جانا چاہیے تاکہ زمین امن و امان کے مرکز سے ہمیشہ  سر سبز وشاداب رہے۔ یہ کتنے بڑے مذاق کی بات ہے کہ اسلام کو رسوا کرنے والے اس قسم کے مجلات پر پابندی لگانے کے بجائےِ پاکستان نیو ایج اسلام جیسی اشاعتوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے جو اسلام کی ایسی تشریحات اور نظریات کی مسلسل تردید کر تا ہے۔

 

Is Elimination of Terrorism Possible? (Concluding Part) کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ آخری قسط
Mujahid Hussain, New Age Islam

سب سے زیادہ قابل تشویش امر یہ ہے کہ ریاست مذہب و مسلک کے نام پر تشدد کی طرف مائل لوگوں سے بھرنے لگی ہے جو ریاستی نظم ونسق اور سماجی رہن سہن سے نالاں ہیں اوراِنہیں اپنے اپنے متشدد عقائد کے مطابق ڈھالنے کی فکر میں ہیں۔مذہب و مسلک کے نام پر وجود میں آنے والی تنظیمیں طاقت حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور اپنے اپنے کارکنوں کو زندگی گزارنے کے نئے ڈھنگ سکھانے میں جتی ہوئی ہیں، جو روایتی سماجی تناظر میں خاصے مختلف اور اکثر اوقات متضاد زاویوں کے حامل ہیں۔

 

The International Community Must Actively Address the Menace of Jihadism جہادازم اور اسلام کی پر فریب تشریحات کی اس آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کومستعد رہنا ضروری ہے: سلطان شاہین
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی اور شمالی امریکہ، یورپ اور دنیا کے باقی حصوں میں شام کی جہادی مہم سے اسلامی دہشت گردوں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو لیکر جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک بڑے فکر مند ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں طالبانی جہاد کا بڑھتا ہوا رجحان ہندوستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی میں اضافہ کی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔

جناب صدر! ایک تجربہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض فوجی ذرائع سے نہیں لڑی جا سکتی۔ اس جنگ میں جس قدر فوجی اقدامات کا عمل دخل ہے اسی قدر اس کی نظریاتی بنیادیں بھی ہیں۔ اسلام کی علیحدگی پسند، سیاسی، جابر اور جہادی روایتوں کی مزاحمت کی جانی چاہیے اور حصول نجات کے لئے ایک جامع اور روحانی راستہ کے طور پر اسلام کی مرکزی تعلیمات کو بھرپور طریقے سے فروغ دیا جانا چاہیے۔ مغربی حکومتوں میں صرف برطانیہ نے اس جنگ کی نظریاتی نوعیت کے تعلق سے بیداری کا ثبوت دیا ہےاور نظریاتی طور پر اس کا مقابلہ کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں برطانوی مسلمانوں کا ردعمل مایوس کن رہا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمان اس حقیقت سے انکار کر رہے رہیں۔ ان کے اندر خود احتسابی کی معمولی سی علامت بھی نہیں پائی جاتی۔

برطانوی مسلمانوں کو وزیر اعظم کی ٹاسک فورس سے یہ رپورٹ ملی کہ بنیاد پرستی اور انتہا پسندی سے نمٹنا ایک مشکل ترین امر ہے۔ اس کے نتیجے میں اٹھائے گئے اقدامات بھی پریشانی اور مشکلات کی ہی وجہ بنیں۔ لیکن اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ خود مسلمان اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو یہ سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے کہ یہ بنیادی طور پر اسلام کے اندر ایک داخلی جنگ ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

طالبان نے پہلے ہی اپنے اثر و رسوخ کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان میں انہوں نے مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکومت کو مجبور کر دیا۔ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی آرمی کے 23 قیدی فوجیوں کے گلے کاٹ دیے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ 1971ء میں ہندوستان کے خلاف جنگ میں نوہزار پاکستانی فوجی قیدی بنائے گئے تھے لیکن ان میں سے ایک کا بھی سر قلم نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں اس بات پر بھی حیرت ہے کہ پاکستانی طالبان کس طرح کے شرعی قانون کا نفاذ چاہتے ہیں جو ان کے اپنے ہی ملک کے فوجیوں کے گلے کاٹنے کی اجازت دیتا ہے۔

 

Eradicating a Distorted ‘Jihadi’ Ideology ایک مسخ شدہ 'جہادی' نظریہ کا خاتمہ
Samar Fatany
جب سے شاہ عبداللہ نے انتہاء پسندوں اور مسخ شدہ ‘‘جہادی’’ جنگجو نظریات کے خلاف ایک سخت رویہ اپنایا ہے جو کہ ہماری قومی سلامتی اور سماجی استحکام دونوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ شاہ عبداللہ نے تنبیہ کی ہے کہ جو کوئی بھی بیرونی تنازعات میں لڑے گا اسے اس ہفتے جاری کئے گئے ایک شاہی فرمان کے مطابق 3 سے 20 سالوں تک کے لیے جیل میں قید کیا جائے گا۔ اس شاہی فرمان میں یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ‘‘سعودی عرب کا کوئی بھی باشندہ جو دہشت گرد یا انتہاء پسند تنظیموں کی حمایت کرے گا یا انہیں اخلاقی یا مادی مدد فراہم کرے گا خواہ وہ ملک کے باہر ہو یا اندر اسے 5 سے 30 سالوں تک کے لیے جیل بھیجا جائے گا’’

 

Iraq's Problem: It is their own making or of the other's? عراق کا مسئلہ - خرابی اندر ہے یا باہر؟
Basil Hijazi, New Age Islam

جب ہم کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور قطر نے دینِ اسلام کا چہرہ ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے اور مشرقِ وسطی کو آگ لگا رکھی ہے تو ہم دراصل کوئی نئی بات نہیں کہتے لیکن اصولی طور پر یہ ممالک عراق کے مسئلہ کے ذمہ دار نہیں ہیں، ہاں وہ مسئلہ کو بڑھانے میں ضرور کردار ادا کر رہے ہیں تاہم مسئلے کی جڑیں عراق کے اندر ہیں باہر نہیں، مسئلہ کی جڑ فرقہ وارانہ نظام اور اس کی فرقہ وارانہ پالیسیاں ہیں جنہوں نے عراقی قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے، جب تک فرقہ واریت کا یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک عراق آزاد نہیں ہوسکتا، اس وقت عراق کا چہرہ مسخ ہے، ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، حکومت ہی ملک کی تباہی کی ذمہ دار ہے

 

Arab-Israel Talks: Some other Reasons of Failure عرب اسرائیل مذاکرات- ناکامی کی کچھ دیگر وجوہات
Basil Hijazi, New Age Islam

آخری بات یہ کہ اسلام عمل کا مذہب ہے سوچ وبچار کا نہیں، یہ اتنا سادہ ہے کہ آپ محض دو جملے بول کر اس میں بڑے آرام سے پورے کے پورے داخل ہوسکتے ہیں اور محض ایک لفظ کو تین دفعہ زبان سے ادا کر کے طلاق بھی حاصل کر سکتے ہیں۔۔ کیا اتنی آسانی دنیا کے کسی اور مذہب میں آپ کو مل سکتی ہے؟ مگر خبردار جو آپ نے اسلام میں داخلے کے ایگریمنٹ کو کسی ایک لفظ سے بھی ختم کرنے کی کوشش کی تو، ورنہ آپ کی کھوپڑی داؤ پر لگ جائے گی۔۔ ایسی ذہنیت کو سیاسی مذاکرات میں لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

 

Was Salman Farsi Iraq's Rafdy?  کیا حضرت سلمان فارسی عراق کے رافدی تھے؟
Basil Hijazi, New Age Islam

آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہود ونصاری اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لہذا ان میں سے جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا انہیں کسی خوف وغم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس کے لیے انہیں مسلمان ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں مگر صابئین کا کیا؟ انہیں خوف کیوں نہیں؟ کیا وہ اہلِ کتاب ہیں جو انہیں خوف نہیں؟ آخر اس کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے؟ کیا صابئین کا تعلق فارس سے تھا؟ کیا وہ بت پرست نہیں تھے؟ ابن کثیر نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت سلمان فارسی کے دوستوں پر نازل ہوئی تھی، چونکہ حضرت سلمان فارسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت قریب تھے لہذا ایک دن وہ حضور کے پاس بیٹھ کر انہیں صابئین کے بارے میں بتانے لگے کہ وہ آپ کی آمد سے پہلے آپ پر ایمان لے آئے تھے جس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ صابئین اہلِ جہنم میں سے ہیں، یہ سن کر حضرت سلمان فارسی ان کے لیے بہت دکھی ہوئے جس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی اور بتایا کہ صابئین پر کوئی خوف نہیں تاہم نا تو فارس کی تاریخ اور نا ہی دریافت شدہ آثارِ قدیمہ سے یہ بات کسی طرح سے ثابت ہوتی ہے کہ صابئین کسی آسمانی مذہب کے پیروکار تھے یا وہ حضرت محمد کی آمد سے پہلے ان پر ایمان لے آئے تھے۔

 

Is Elimination of Terrorism Possible? (Part 2)  کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ قسط دوئم
Mujahid Hussain, New Age Islam

اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہاکہ ریاست پر قبضے کے خواہاں دہشت گردوں اور اُن کے حامیوں کاصفایا مشکل ترین اہداف میں شامل ہوچکا ہے کیوں کہ پاکستان میں سول و فوجی حکومتوں کی ناقص کارکردگی نے عام لوگوں کو اتنا زیادہ متنفر کردیا ہے کہ وہ عبرتناک سزاکے تصور میں راحت محسوس کرنے لگے ہیں۔مذہبی لبادہ اوڑھے انتہا پسندوں کے بارے میں یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ درویش صفت انسان ہیں اور اِن کا اکل کھرا موقف و مقصد یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون پوری قوت کے ساتھ نافذ کردیا جائے چاہے اس کے حصول کے لیے جتنے بھی انسانوں کو قتل کیا جائے ،کوئی حرج نہیں۔

 

The Basis of Inter-Religious Dialogue بین المذاہب مکالمہ کی بنیادیں
Khalid Zaheer
میرا یہ ماننا ہے کہ بین المذاہب مکالمہ کی بنیاد اس بات پر اظہار رائے ہونی چاہیے کہ زندگی کے سوالات کا مختلف مذہبی روایتوں نے کس طرح جواب دیا ہے: ہمارا خالق اور مربی کون ہے اور ہم اس کی اطاعت کیسے کر سکتے ہیں؟ مصیبت کے اوقات میں ہمیں کس کی اور کس طرح مدد تلاش کرنی چاہیے؟ زندگی میں اتنی ناانصافیاں کیوں ہیں، خالق کائنات انہیں ختم کیوں نہیں کر دیتا؟ اخلاقی اصولوں کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ جب کسی کا استحصال کر دیا جائے تو اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ ہماری موت کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟

 

Iraq And Saudi Arabia- May the Rhetoric Not Become A Cause Of War, Again عراق اور سعودی عرب- کہیں آپسی بیان بازیاں پھر سے کسی جنگ کی وجہ نہ بن جائیں
Basil Hijazi, New Age Islam
جب کوئی دوسروں کے بارے میں دشمنانہ انداز میں سوچنا شروع کرتا ہے تو اسی وقت دونوں اطراف میں مستقبل کی جنگ کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک یا دونوں فریق شدید نقصان اٹھاتے ہیں، یہی کچھ عراق اور ایران، اور دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اور یورپ کے درمیان ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ کس طرح صدام حسین نے الجزائر کے معاہدے کو صحافیوں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے پھاڑ ڈالا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا، یہی وجہ تھی کہ ایران نے جنگ کے نقصانات کی بھرپائی کے اپنے حق پر اصرار کیا کیونکہ جنگ عراق نے یا زیادہ صحیح الفاظ استعمال کیے جائیں تو صدام حسین نے شروع کی تھی نا کہ ایران نے۔

 

Human Rights situation in Iran has not improved substantially ایک اعتدال پسند صدر کے انتخاب کے بعد بھی ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال میں خاطر خواہ سدھار نہیں: جنیوا میں مفکرین کا اظہار رائے
Milica Javdan Chairwoman,IWA in Norway

ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران نے ایک اعتدال پسند صدر کا انتخاب کیا ہے لیکن ایران میں صدر کا کردار ایک سپریم لیڈر کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور ماتحتی کا ہے۔ سپریم لیڈر والیٔ فقیہ ایران میں سب سی بڑی روحانی اور سیاسی اتھارٹی ہیں۔ انہیں بڑے لیڈر کی عدم موجودگی میں پوری دنیا کے مسلمانوں کا عبوری رہنماں مانا جاتا ہے اور اسے شیعی اسلامی مسیح کا ایک چھوٹا سا عکس مانا جاتا ہے۔ اور آخری مسیح (امام مہدی) کی آمد تک وہ مسلمانوں کا قائد و رہنماں ہے۔ اس سلسلے میں وہ اسلام کا سب سے بڑا مفتی، ترجمان اور اسلامی کمیونٹی کا سیاسی سربراہ ہے۔

 

Muslim Heroes and Role Models مسلم ہیرو اور  مثالی شخصیات
Mike Ghouse

میں اپنے مسلم بھائیوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ ان عظیم ہستیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لکھیں ، اور اس بارے میں بھی لکھیں کہ  کس طرح ان کے خدمات کا دائرہ آنے والی صدیوں تک وسیع کیا جا سکتا ہے ۔ کیا ہم ان کی خدمات کے کارناموں کو اپنے اسکولوں کی کتابوں اور مساجد اور نجی اسکولوں میں  اسلامی  سوشل ایجوکیشن میں شامل کر سکتے ہیں ؟ کیا وہ ہمارے رول ماڈل نہیں ہیں ؟ مسلم ہونے کا مطلب امن کوش ہونا ہے ، مسلم ہونے کا مطلب ایسا انسان بننا ہے جو اختلافات اور تنازعات کو رفع کرتا ہے اور پوری انسانیت کی خیر سگالی اور پرامن بقائے باہم کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی مخلوق ؛ زندگی اور معاملات کے ساتھ امن و سکون کے گہوارے میں زندگی گزاریں۔

 
Dialogue and Dawah مکالمہ اور دعوت
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

Dialogue and Dawah مکالمہ اور دعوت
Maulana Wahiduddin Khan

مکالمہ کا اسلام سے ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔اور دعوتی مشن خود میں ایک مکالمہ ہے۔ دعوتی مشن میں لوگوں کے ساتھ ربط پیدا کرنے اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دعوتی مشن لوگوں پر دوسروں کی فکر کو ضروری قرار دیتا ہے۔ دعوتی سرگرمیوں کے بغیر آپ کا وجود تنہاہے۔ لیکن جب آپ دعوت کو اپنا ایک مشن بنا لیتے ہیں تو آپ بے شمار لوگوں کے ساتھ ربط میں آجاتے ہیں اور جب بہت سارے لوگ ایک ساتھ جمع ہوں تو پھر فطری طور پر مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔

 

Is Elimination of Terrorism Possible? (Part 1) کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ قسط اول
Mujahid Hussain, New Age Islam
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کی اپنی صفوں میں شدید ترین اختلافات موجود ہیں اور ایسے لوگوں کی آواز توانا ہورہی ہے جو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کو نہ صرف سیاسی حکومت بلکہ ریاست کے لیے خطرناک تصور کرتے ہیں۔اس کی وجہ مسلم لیگ کے اپنے دامن میں موجود وہ درجنوں ارکان اسمبلی ہیں جو بلواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کی متشدد مذہبی و فرقہ وارانہ جماعتوں سے تمسک رکھتے ہیں۔

 

Terrorist Attack On India’s Maulana Usaidul-Haq Qadri In Iraq  عراق میں مولانا اسید الحق  عاصم القادری پر دہشت گردانہ حملہ اور مسلم ممالک میں صوفی علماء کا قتل عام: ایک فکرانگیز تجزیہ
Late Maulana Usaidul Haq

انہوں نے اپنی بے لاگ اور زبردست تحریروں اور مذہبی خطابات کے ذریعہ اسلامی مسلمات کی خود ساختہ سلفی تشریحات کو کھلے طور پر مسترد کیا تھا۔ سلفیوں کی فکری انتہاء پسندی اور دور جدید میں اس کی تباہ کاریوں کی وضاحت کرتے ہوئے سلفی آئیڈیولوجی کی تردید میں انہوں نے بر وقت انتہائی اہمیت کی حامل ایک کتاب ‘‘As-Salaf was a blessed epoch, not a school of thought’’ (السلف ایک ایک مبارک عہد تھا، نہ کہ کوئی مکتب فکر) تصنیف کی ۔ انہوں نے مختلف مسلم ممالک میں سرگرم عمل مذہبی انتہاء پسندوں کی عسکریت پسندانہ اور سیاسی نظریات اور متشددانہ سرگرمیوں کی نظریاتی طور پر زبر دست تردید کی تھی، جیسا کہ ان کی ایک کتاب ‘‘الجھاد في الإسلام’’ (1993) سے عیاں ہے۔

 

Iraq Should also Recall its Ambassador from Qatar عراق کو بھی قطر سے اپنا سفیر واپس بلا لینا چاہیے
Basil Hijazi, New Age Islam

بیان کے مطابق قطر سرِ عام مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں قائم شدت پسند اسلامی تنظیموں کی سرِ عام حمایت اور مدد کرتا ہے، اس خلیجی فیصلہ کے بعد مصر نے بھی قطر کو کہا ہے کہ وہ “عرب قوم کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے والی سیاست سے باز آجائے”اور عندیہ دیا کہ شاید وہ بھی مذکورہ تینوں عرب ممالک کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قطر سے اپنا سفیر واپس بلا لے۔

 

Islam is Not the Enemy اسلام دشمنی کے دروازے نہیں کھولتا
Sara Erkal

تہذیب و ثقافت، مذہب اور رنگ و نسل سے قطع نظر انسانوں کے درمیان ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے کے لیے بارہا معاہدے اور صلح نامے پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔ اس سے ایک معاشرتی احساس پیدا ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی سطح پر یہ بھی احساس بیدار ہونا چاہیے کہ ہم سب ایک سماجی ربط کے ممبران ہیں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تناؤ اور افتراق کو مزید مضبوط کرنا کسی بھی طرح اختلافات کو روکنے والوں، عالمگیر سیاست اور تناؤ اور مشرق اور مغرب کے درمیان نازک رشتے کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

 

Muslim Majorities Open To Democracy, But Cautious مسلم اکثریت نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جمہوریت کا خیرمقدم
Omar Sacirbey

ہیڈ اسکارف کا مسئلہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً تین تہائی لوگوں نے یہ کہا کہ ان کا ماننا یہ ہے کہ عوامی مقامات پر عورتوں کو یا تو برقع پہننا چاہیے یا انہیں اپنے چہرے کا پردہ کرنا چاہیے جسے ہم نقاب بھی کہتے ہیں۔ ترکی اور تیونس کے لوگوں نے ہیڈاسکارف کی ایک جدید شکل حجاب کو ترجیح دی، 32 فیصد ترکی میں اور 15 فیصد تیونس میں ایک بڑی اقلیت نے یہ کہا کہ عورتوں کو بالکل ہی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے۔ لبنان میں 49 فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ عورتوں کو عوامی مقامات پر کبھی بھی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے، شاید جن لبنانیوں کا سروے کیا گیا ان میں سے 27 فیصد عیسائی تھے۔

 

Ulema Are the Heirs of Prophets علماء انبیاء کے وارث ہیں
Sheikh Abdul Bari Ath-Thubaythi

اسلام میں علما کو عزت و احترام سے نوزا گیا ہےکیوں کہ علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وارثین ہیں جو کہ ان انبیاء کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ در اصل اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ اتنا عظیم ہے کہ اللہ علماء کا ذکر اپنے اور اپنے فرشتوں کے نام کے ساتھ اپنے کلام میں کرتا ہے: ‘‘ﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے’’۔

 

The Indian Supreme Court Ruling allowing Child Adoption is Permissible in Islam بچہ گود لینے کے تعلق سے سپریم کورٹ کے حکم کا شرعی جواز
Ghulam Ghaus, New Age Islam

اسلامی نقطہ نظر سے مسلمانوں کو سیکولر جیونائل جسٹس ایکٹ (secular Juvenile Justice Act) کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایکٹ کسی بھی طرح مسلمانوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ کسی بچے کو گود لیں بلکہ وہ مسلمانوں کو اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ یا تو جمہوری راستہ اختیار کریں یا پرسنل لاء پر چلیں۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ، ‘‘اس ایکٹ سے کسی بھی والدین کے ذریعہ کوئی اجباری عمل واجب نہیں ہوتا۔ اس میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ، ‘‘اس ایکٹ سے اس قسم کے لوگوں کو ایکٹ کی مراعات سے فائدہ اٹھانے کی آزادی میسر آئے گی، اگر ان کے اندر ایسی کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے تو۔ اس قسم کے لوگ کسی کو بھی گود لینے کے لیے آزاد ہیں اور انہیں ایسا نہ کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے اور اس کے بجائے پرسنل لاء کا جو بھی حکم اسے اپنے لیے قابل انطباق لگے اسے اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے’’۔

 

بات جب دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کی آتی ہے تو طالبان عسکریت پسند ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سہولت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی اس حکمت عملی کو ہی دیکھ لیں کہ وہ لڑکیوں کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ایک افغانی شہری رحیم اللہ عثمانی کا کہانا ہے کہ جب کوئی بمبار حملہ کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ سرکش اور فتنہ انگیز طالبان ان ہتھکنڈوں کی ذمہ داری بڑی آسانی کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مگر جب ایسا کوئی حملہ ناکامیابی کا شکار ہوتا ہے تو یہی عسکریت پسند اس پورے معاملے سے ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔

 

لہذا جب ہم ایسی ویب سائٹس پر جاتے ہیں یا ان لوگوں سے کوئی معاملہ رکھتے ہیں جن کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے تو ہمارے اس عمل سے ان کو تقویت ملتی ہے اور اس کے بدلے میں ان کا نفسیاتی رد عمل بڑھتا ہے۔ اس قسم کی ویب سائٹس نہ صرف یہ کہ برائی پھیلارہی ہیں بلکہ کفر کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ شرک اور کفر کے درمیان ایک فرق ہے۔ شرک کا مطلب خدا کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، لیکن کفر کا مطلب ہے کہ آپ سچائی کو جانتے ہیں لیکن اسے چھپاتے ہیں اور اس میں خلط ملط کرتے ہیں۔

 

What is Sharia? What are its Objectives? (Part 3) (شریعت کیا ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ (حصہ 3
Aiman Reyaz, New Age Islam

لوگوں نے شریعت کے متعلق جو یہ نظریہ قائم کر رکھا ہے اس سے نمٹنے کے مختلف طریقے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کسے یہ نتیجہ نکالنے کا حق ہے کہ شریعت کا رویہ بربریت، سختی، غیر ہمدردی اور ظلم سے بھرا ہوا ہے؟ کیا شریعت کی اس تعریف پر کوئی مکمل اتفاق رائے قائم ہو چکی ہے؟ اور کیا اس معاملے میں گفتگو اور مکالمہ مکمل ہو چکا ہے؟ نہیں بلکہ اس موضوع پر مباحثہ اور مناقشہ جاری ہے۔

 

نماز ارکان اسلام کا ایک رکن ہے، باقی ارکان میں شہادت، زکاۃ، حج اور ماہ رمضان کے روزے ہیں حدیث میں ہے کہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا، اور زکاۃ دینا، اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا 1، یہ بھی ہے کہ: اسلام یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور اس سے کسی بھی طرح شرک نہ کریں، فرض نماز قائم کریں، زکاۃ دیں اور رمضان کے روزے رکھیں 2۔

 

What Is Sharia? And What Are Its Objectives? (Part 2) (شریعت کیا ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ (حصہ 2
Aiman Reyaz, New Age Islam

بہت سارے مسلم فقہاء نے شریعت کے مقاصد میں صرف زندگی کے تحفظ کو ہی نہیں شامل کیا ہے بلکہ اگر آپ کسی خطرے کی زد میں ہیں تو شریعت کا مقصد ہے کہ آپ کو تحفظ فراہم کی جائے، اگر آپ بیمار پڑ جائیں تو شریعت کا مقصد ہے کہ آپ کی دیکھ بھال کی جائے، اگر آپ کے پاس کھانے کے لیے رزق اور رہنے کے لیے مکان نہیں ہے تو آپ کو کھانے کے لیے رزق اور رہنے کے لیے مکان مہیا کرائی جائے، یہ تمام مقاصد شرعیہ کے تحت ہی مندرج ہوتے ہیں۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS