FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا زیادہ تر اقوال میں نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”اس کی نماز نہیں جس نے اس میں کتاب کی فاتحہ نہیں پڑھی“، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”جس نے ایسی نماز پڑھی جس میں کتاب کی فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو وہ ناقص ہے“، اور چونکہ فاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے لہذا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس کا نزول نماز کے حکم کے ساتھ ایک ہی دن میں ہوا ہوگا۔

 

Pakistan: Aarti Performed after Centuries in the Temple شومیلا جعفری پاکستان: کٹاس راج مندر میں دہائیوں بعد آرتی
Shumaila Jaffery

ہندوستان ۔ پاکستان نے بٹوارے کے وقت  1947 سے ہی چکوال میں واقع کٹاس راج مندر بند پڑا تھا ۔ دہائیوں بعد  اس مندر میں آرتی کی گونج سنائی دی ہے۔

مندر کے تعمیر نو کے لئے پاکستان میں اقلیتی ہندوؤں نے افسران کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ہندو دھرم کو ماننے  والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم مسلمان اکثریت والے معاشرے میں ان کی حالت کو لے کر ایک یقین دہانی کی طرح ہے۔

 

The Radical Intelligentsia of Islam Are the ‘Hypocrites’ بنیاد پرست اسلامی دانشوران اور  علماء ‘منافق’ اور ‘گنوار عرب’ ہیں اور عصر جدید کے ‘سخت کافر’ہیں
Muhammad Yunus, New Age Islam

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور نبوت (610-632) کے پہلے 12 سالوں (610-622) تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت  اپنے مادر وطن مکہ میں ہی کی۔ اس زمانے کے قبائلی معاشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ ‘‘قریش’’ کے لوگوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبر دست مخالفت کی اور بارہ سالوں کے اس طویل عرصے میں تقریباً صرف  ایک سو لوگوں نے ہی اسلام قبول کیا اور یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (622) عیسوی میں مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیے جو کہ مکہ سے تقریباً 150 میل کی دوری پر واقع ہے اور آپ نے ان خطرناک اور نامساعد حالات میں ایک ہفتے کا لمبا سفر طے کر کے مدینہ ہجرت کیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نے انتہائی گرم جوشی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور آپ کو اپنا قائد مقرر کر لیا۔ ان کے لائے ہوئے مذہب نے مدینہ کے لوگوں کو  متوجہ کیا، قبولیت اسلام کا سلسلہ بڑھ گیا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کے بعد جلد ہی انہیں  وہاں کے پیدائشی کفار، یہودی قبائل اور بڑھتی ہوئی امت مسلمہ پر مشتمل ایک مخلوط مدنی معاشرے کا حاکم اعلیٰ منتخب کر دیا گیا۔

نوابین  اودھ کے زمانے میں جن چیزوں کو فروغ ملا ان میں کھانے کی مختلف  اقسام بھی شامل ہیں ۔ مثلاً قورمہ، رومالی روٹی، کلچہ ، نہاری، لکھنؤی پلاؤ ، بریانی ، کباب اور شیر مال وغیرہ ۔ نوابیں اودھ  سے ملنے والے انعام و اکرام اور حوصلہ  افزائی نے اس وقت کے باورچیوں  کو ان ڈشو ں کے علاوہ مزید نئی نئی ایجادات  اور تجربے  کرنے کا حوصلہ بحشا۔ جیسے کلچے میں پرت دار کلچہ ، سادہ کلچہ اور غلاف والا کلچہ ۔ نہاری میں گوشت کی نہاری او رپائے کی نہاری ۔ کبابوں  میں شامی کباب، گلاوٹ کے کباب، ٹکیہ کے کباب، نرگسی  کباب، سیخ کے کباب او رکاکوری کباب وغیرہ ۔ اسی طرح شیر مال کی بھی کئی  اقسام ہیں جیسے  باقر خانی ، تعفطان اور تبارخ وغیرہ ۔

 

ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کعبہ کی طرف تھی، اور وہ حجرِ اسود کو سامنے رکھتے تھے، یعنی وہ اپنی نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا نہیں کرتے تھے مگر جب پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر لیا 8۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب نماز مکہ میں فرض ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بیت المقدس کی طرف تھی حتی کہ وہ مدینہ تشریف لے گئے اور مدینہ میں بھی تبدیلی تک وہ بیت المقدس کی طرف ہی نماز ادا کرتے تھے 9، اس کے لیے وہ ایک قول سے استدلال کرتے ہیں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے 10۔

 

منشی نول کشور نے ایک صحافی کی حیثیت سے حالات کا بغور مطالعہ کیا تھا انھوں نے دل میں طے کر لیا تھا کہ کوہ نور کی ملازمت ترک کرکے اپنے وطن جاکر مطبع قائم کریں گے اور ایک اخبار جاری رکریں گے۔ اس دوران ہر سکھ رائے سے اختلاف ترک ملازمت کا سبب بن گیا۔ اس لئے آگرہ واپس پہنچ گئے۔ آگرہ میں کچھ عرصہ قیام کرکے انھوں نے حالات کا جائزہ لیا اور محسوس کیا کہ ان کے عزائم کے لئے آگرہ کا ماحول ساز گار نہیں اس لئے انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا جو صدیوں سے علوم و فنون کا گہوارا اور تہذیب کا مرکز تھا اور 1857کے ہنگاموں میں تباہ و برباد ہو گیا تھا لیکن اس شہر میں تہذیب اور علم و فن کا چراغ بالکل گل نہیں ہوا تھا البتہ اس کی لو مدھم پڑ گئی تھی۔

 

Workshop For Madrasa Students On The Theme 'Islam Is Religion Of Peace And Pluralism' طلبۂ مدارس کے لئے ‘‘اسلام امن اور اجتماعیت کا مذہب ہے’’ کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا انعقاد
ان طلبۂ مدارس کو اس ہفتے جامعیت، تکثیریت اور اسلام میں سیکولر تعلیم کی اہمیت و افادیت کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اب آئندہ ہفتے میں ان کی گفتگو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر مسلم طلباء سے ہوگی۔ اسکول اور مدرسہ کے طالب علموں کے مختلف چھوٹے گروپ کے درمیان اس مباحثہ اور مکالمہ کی نگرانی وہ سینئر طلباء اور اسکالز کریں گے جو جامعیت کے متعلق اسلامی تعلیمات میں مہارت رکھتے ہیں اور اسلام میں سیکولر تعلیم کی اہمیت کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما ہے کہ تکثیریت پر مبنی نظریات کو ابھارا جائے اور مدارس کے طلباء کے درمیان پرامن بقائے باہم کے اسلامی پیغام کی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جائے اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء کو تکثیریت پر عمل کرنے کا ایک عملی موقع فراہم کیا جائے۔ مدارس اور مسلم علاقوں میں بھی رہنے والے بہت سارے طلباء مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء کے ساتھ بات چیت کرنے اور ایک سیکولر، کثیرثقافتی اور کثیر مذہبی معاشرے میں اپنی شناخت کے بارے میں کھل کر اظہار کرنے سے محروم ہیں۔ انہیں یہ موقع آئندہ ہفتے پیس فار ایجوکیشن کے احاطہ میں فراہم کیا جائے گا اور امید ہے کہ اس تجربہ کا فائدہ انہیں اپنی زندگیوں میں ضرور حاصل ہو گا۔

 

Islamic Jihadist Attitude Must Not Be Imposed اسلامی جہادی ذہنیت دوسروں پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے: ہر شخص بین المذاہب مکالمہ کی جانب مائل ہو رہا ہے
Shamim Masih

پاکستان کا قیام 1947 میں انڈین انڈیپندینس  ایکٹ 1947 کی شق 8 اور حکومت ہند کی دفع 1935 کے تحت عمل میں آیا۔ نو سالوں کے بعد ابتدائی دستاویز کو 1956 میں آئینی حیثیت حاصل ہوئی۔ پاکستان کی آئین میں مسلمان کی تعریف بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت پر مطلقاً اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی پر ایمان نہ رکھتا ہواور ہر اس شخص اور مذہبی مصلح کو یکسر مسترد کرتا ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔

 

طہارت کے قاعدے قوموں کے نکتہ ہائے نظر اور مذاہب کے فرق سے مختلف مذاہب اور قوموں میں مختلف مفہوم رکھتے ہیں، تاہم ان سب کا طہارت کے بنیادی تصور پر اتفاق ہے اور وہ ہے نمازی کے ناپاک ہونے کی صورت میں نماز کا نہ ہونا یا نماز کی جگہ کا نجس ہونا، شرمگاہ کو ڈھانپنے کے تصور کی اگر بات کی جائے تو مثال کے طور پر یہودی شریعت نمازی کی نماز کو قابلِ قبول نہیں سمجھتی چاہے نماز کی ادائیگی کے وقت نمازی کی شرمگاہ پوری ظاہر ہو یا اس کا کچھ حصہ، ان معاملات میں اسلام اس مذہب سے اتفاق کرتا نظر آتا ہے

 

سعودی حکومت  میں چلنے والے ادارے او رمعروف دینی شخصیات آپ کے تمام بزرگوں کو مبتدع اور گمراہ سمجھتے ہیں، سارے صوفیاء ان کے نزدیک قادیانیوں سے زیادہ گمراہ ہیں ، سارے اشعری اور ماتری علما ء  ان کے نزدیک مبتدع اور ضال ہیں، سارے حنفی علماء ان کے نزدیک صحیح سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ ان کی یونیورسیٹیوں بالخصوص جامعہ اسلامیہ ۔ مدینہ منورہ میں  M.A اور  P.H.D  کے مقالات میں مولانا  قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا حسین احمد مدنی کو گمراہ ، مبتدع او رمشرک تک قرار دیا گیا ہے، ‘‘ دیوبندیت ’’ کو قادیانیت کی طرح ایک فرقہ کے طور پر پیش کیا گیا ، وہاں کے استاد  ربیع مد خلی آپ کے تمام علما ء تبلیغی جماعت، اور دیوبندی حضرات کو کافر قرار دیتے ہیں ، سعودی حکومت اور اس کے سرکاری علما ء ان کی سرپرستی کرتے ہیں ، مقالات کی منظوری دیتے ہیں ۔ حرمین کے اندر آپ کے بزرگوں کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، کوئی حنفی  عالم، امام حرم تو کیا، کسی مدرسہ میں عقیدہ کا استاد بھی نہیں ہوسکتا ، اس سب کے خلاف کھل کر کبھی آپ نے موقف اختیار کیا؟ کبھی آپ نے شئون اسلامیہ کے وزیر ، اور مفتی عام سےان موضوعات پر باتیں کیں؟ کبھی جامعہ اسلامیہ، یا جامعہ القریٰ ، یا جامعہ محمد بن سعود کے ہال میں آپ کو تقریر کرنے کاموقعہ ملا؟ کیا ان کے عقائد و نظریات آپ کے نزدیک صحیح ہیں؟

 

Islam is based on the Prophet's mysticism, honesty and social activism اسلام کی بنیاد باطنی تقویٰ و طہارت،ایمانداری و دیانت داری اور سماجی سرگرمیوں پر مبنی ہے: سلطان شاہین
جناب سلطان شاہین نے کہا کہ ‘‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا یہ پہلو انتہائی نمایاں ہے کہ آپ مسلسل کئی کئی ہفتوں تک غار حرا میں بیٹھ کر مراقبہ اور مجاہدہ میں مشغول رہا کرتے تھے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی سچائی و ایمانداری اور معتمد ہونے جیسے صفات کابھی پورے عرب میں شہرہ تھا یہی وجہ ہے کہ مکہ کے لوگ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی سرگرمیوں ان کی شاندار یادوں اور عظیم الشان صفات سے اور ایک نبی کے طور پر ان کی تمام سرگرمیوں سے واقف نہیں ہیں۔

Resurgence of Islam Today عصر حاضر میں اسلام کا احیاءنو
Aiman Reyaz, New Age Islam

انسان ہمیشہ ایک ایسے پلیٹ فارم اور ایک ایسے مرکز کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے جو کہ انہیں ایک ایسی بنیاد فراہم کرے جس پر وہ انحصار کر سکیں ۔ جب جدت پسندی سے ان کا بھروسہ ختم ہو گیا تو ان کے اندر ایک نقطہ ارتکاز  کی تلاش شروع ہو گئی اور وہ  نقطہ ارتکاز تھا اسلام کی تجدید اور اس کا احیاء۔ اسے خودی کی تلاش اور تمام اسلامی شناخت کی برتری پر گہری عقیدت کی تلاش و جستجو کی ایک علامت سمجھا گیا ۔ ہر اسلامی چیز کو مغربی اور سیکولر ممالک  سے تعلق رکھنے والے سے بہتر سمجھا گیا ۔ 1973 میں تیل پر پابندی، افغانستان پر سوویت کے قبضہ کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کی فتح  اور 79-1978 میں انقلاب ایران کے عالمی اثرات کی وجہ سے فخر اور قوت کا ایک نیا شعور بیدار ہوا ۔ ان تمام امور کو ‘‘ اسلام کی تجدید و احیاء اور ان لوگوں کو اللہ کی مدد سمجھا گیا جنہوں نے اسلام کے نام پر بھاری مشکلات کے خلاف جد و جہد کی تھی’’۔

 

It Is Time to Reflect یہ (امت مسلمہ کے مسائل   پر ) غور و فکر کرنے کا وقت ہے
Harun Yahya

ناانصافی اور ظلم و ستم کے سامنے ایک سچا مؤمن کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ سچے مؤمنوں کے اندر اسلامی اخوت کا شعور اور احساس ایسی کیفیت پیدا کر دیگا کہ ناانصافی اور ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا ۔ وہ ایسے تمام اقدامات اٹھائیں گے جو ناانصافی اور ظلم و ستم کو روکنے کی خاطر ان کے لیے ممکن ہوں گے۔ انہیں اپنی آواز کو مضبوط بنانے کے لیے تمام تر ذرائع کا استعمال کرنا چاہیےاور ایسے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جن پر ان کی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے ۔ بالکل اسی انداز میں ہم نے اپنے تمام تر ذرائع کے ساتھ عبد القادر ملا کی پھانسی کی زبردست مخالفت کی ہے اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے عام جذبات کو ایک آواز دینے کی کوشش کی ہے ۔

ہجرت کے آٹھویں سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ سے اذان دیں اور لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں چنانچہ انہوں نے کعبہ میں سے اذان دی، ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور وہاں سے اذان دی 2، کعبہ اور مسلمانوں کی دیگر مساجد بغیر مینار کے ہی رہیں کیونکہ یہ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا

 

It’s Time We Remind Ourselves of Prophets’ Brotherly Bonds With One Another  آئیے انبیاء کی اخوت وبھائی چارگی کو یاد کریں: کرسمس کے موقع پر منعقدہ نیو ایج اسلام فاؤنڈیشن کی تقریب میں اسکالرز کا خطاب

نیو ایج اسلام کے ایڈیٹر  جناب سلطان شاہین نے نیو ایج اسلام کے اسٹاف اور قریبی معاونین کو اپنے مختصر سے خطاب میں یہ کہا کہ اسلام کو ایک جامع مذہب کے طور پر پیش کرناہمارا فریضہ  ہے ۔ یقینا کوئی بھی مذہب نفرت، تجرد پسندی اور تفوق پرستی کی تعلیم نہیں دیتا مزید یہ کہ جہاں تک مجھے علم ہے –اگر کوئی اس کی تصحیح کر دے تو مجھے خوشی ہوگی –کہ اسلام جتنی وضاحت ، جتنے تسلسل اور جتنی تاکید کے ساتھ جامع رویہ اختیار کرنے ،اس دنیا کے مختلف گوشوں میں تشریف لانے والے ہزاروں انبیاء کی تعلیمات اور معتقدات کا یکساں احترام کرنے کا حکم دیتا ہے اور  یہ بتاتاہے کہ مقام نبوت میں تمام انبیاء کو وہی مرتبہ حاصل ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ، دنیا کے کسی اور مذہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ کے سامنے مکمل انسانی مساوات کی طرح جامعیت بھی ہمارا طرۂ امتیاز ہونا چاہئے ۔

 

صدر جمیعتہ علماء ہند سید ارشد مدنی و استاذ حدیث دارالعلو م دیو بند کی طرف سے زیادہ تر اُردو اخباروں میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اشتہار میں لکھی ہوئی باتوں کی تائید دارالعلوم دیوبند اور اُس سے وا بستہ بے شمار ادارے بھی کرتے ہیں۔ اس اشتہار میں خادمِ حرمین شریفین ملک عبد اللہ کی ذات اور پالسیوں پر بعض لوگوں کے ذریعہ اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کی دولت کے ذریعہ پھیلائی جا رہی وہابی نجدی، سلفی، اہل حدیث، دیوبندی فکر سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد پوری دنیا میں مشکل سے ۱۰ فیصد ہے اورباقی سُنّی اور شیعہ مسلمانوں کی تعداد ۹۰ فیصد ہے جو سعودی عرب کے ذریعہ پھیلائی جا رہی وہابی نجدی، سلفی، اہل حدیث اور دیوبندی فکر کے مخالف ہیں

 

اذان مکہ میں فرض نہیں ہوئی تھی کیونکہ مسلمان اقلیت میں تھے اور قریش کے ڈر سے چھپ کر رہتے تھے لہذا وہاں کسی بھی نماز کے وقت کے داخل ہوجانے کا بر سرِ عام اعلان نہیں کیا جا سکتا تھا، تاہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کی، اور وہاں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اذان کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی تاکہ لوگوں کو نماز کے وقت کے بارے میں متنبہ کیا جاسکے کیونکہ انہیں اس کا علم نہیں ہو پاتا تھا، یا وہ کام کاج میں مصروف ہوجاتے تھے اور نماز کے وقت کے نکل جانے کا انہیں پتہ ہی نہیں چل پاتا تھا اور یوں وہ اپنے رب کے ایک اہم فرض سے کوتاہی کے مرتکب ہوجاتے تھے۔

 

Spreading Islamophobia Deliberately جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کو فروغ دیا جا رہا  ہے: مسلمانوں کو حق کی طاقت کے ساتھ باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے
Jahanshah Rashidian
ایسا کیوں ہے کہ1.5  بلین لوگوں کے قبول اسلام کو  خاطر خواہ پیمانے پر موضوع گفتگو نہیں بنایا گیا ؟ کیا مسلمانوں کے یہ آبا ؤ اجداد بہ رضا و رغبت اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہوئے یا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا ؟ جب  سے ان مجبور و لاچار لوگوں پر اسلام مسلط کیا گیا ہے تب سے ان سوالات کو نام نہاد مسلم ممالک میں اتنی سختی کے ساتھ  ممنوع قرار دیا گیا ہے گو کہ وہ کفر و الحاد کا سبب ہوں۔

 

مکہ میں نماز دو رکعات تھی، اس میں کوئی فرق نہیں تھا کہ نمازی شہر میں ہو یعنی مقیم ہو یا سفر میں ہو، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یثرب ہجرت کے بعد جب ان کی آمد کو ایک ماہ ہوگیا تھا، ربیع الثانی کے مہینہ کی بارہ راتیں گزر جانے کے بعد نماز میں مقیم کے لیے دو رکعات کا اضافہ کردیا گیا، اسے مقیم کی نماز یا ”صلاة الحضر“ کا نام دیا گیا تاکہ دو رکعات والی سابقہ نماز جو اب سفر کے لیے مخصوص کردی گئی تھی اس سے اسے الگ کیا جا سکے

 

‘Stop Terrorizing Non-Muslims, Muslims In The Name Of Islam’ ' اسلام کے نام پر غیر مسلموں اور  مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا  بند کریں '
Khaled Aljenfawi

دہشت گردی کی وجوہات کا تعلق اکثر  کچھ طرز زندگی سے ہوتا ہے ، کچھ خاندانی تعلیم و تربیت سے ہوتا ہے  اور بعض "اسلامی " معاشروں کے سماجی معیار سے ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص  روادار مسلم سماجی ماحول میں زندگی گزارتا ہے تو اس کی شخصیت میں رواداری کا عنصر شامل ہوگا ۔ تاہم اگر کوئی شخص ایسے قومی یا خاندانی ماحول میں زندگی بسر کر رہا ہے  جہاں " کافروں " کے خلاف جنگ کو سراہا جاتا ہے اور جس میں مغرب مخالف نعروں کا انبار بھی  ہے ؛ جہاں ‘‘نسوانیت ’’ پر مردانگی کو وقعت دی جاتی ہے  اس طرح کے ماحول میں جن لوگوں   کی پرورش و پرداخت ہوتی ہے وہ ہمیشہ دہشت گرد بننے کی خواہش کرتے ہیں ۔ میں اس  بات پر یقین نہیں کرتا کہ پوری  دنیا کے غیر مسلم، مسلم افراد یا مسلم ممالک کے خلاف ہر ایک دن سازش رچتے ہیں۔

 

Jesus Christ: An Islamic Perspective اسلام میں حضرت عیسی علیہ السلام کا مقام
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

اسلام میں حضرت عیسی علیہ السلام کا مقام کس قدر بلند اور عظیم ہے، اس امر کا اندازہ محض اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو صرف نبی ہی نہیں بلکہ رسول بنا کر بھیجا تھا۔ اس لئے آج کرسمں ڈے کے موقع پر ہمارے غیر مسلم بالخصوص عیسائی دوستوں کے لئے یہ جاننا انتہائی اہم ہے کہ اسلام میں حضرت عیسی علیہ السلام کا کیا مقام وکردار ہے، تاکہ مسلمانوں اور عیسائی برادران میں باہمی مفاہمت اور بھائی چارہ کی خوشگوار فضا قائم ہو سکے۔

 

اگرعدالت عیسائیوں کو لفظ ‘‘اللہ’’ کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ عدالت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ اس فیصلے کی وجہ سے ایک مسئلہ پید اہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کفتگو کے دوران بات چیت کے لئے کس لفظ کا استعمال کیا جائے گا ۔ ہر تہذیب و ثقافت میں خدا کا نام وہاں کی مقامی زبان کے اعتبار سے ہے۔‘‘ گاڈ’’ یا‘‘اللہ’’ انسانوں کی اس کائنات کے ایک ہی خالق کے نام ہیں ۔اور عیسا ئی اور مسلمان ایک ہی خدا  کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ لہٰذا اس میں کوئی ابہام یا  پیچیدگی نہیں ہونی چاہئے ۔

بعض مفسرین نے فجر کی نماز کو درمیانی جبکہ بعض دوسروں نے عصر کو درمیانی نماز قرار دیا ہے جبکہ کچھ دیگر نے مغرب اور کچھ دوسروں نے عشاء کو درمیانی نماز قرار دیا ہے، اسی طرح بعض نے جمعہ کو درمیانی نماز قرار دیا ہے 4 اور کچھ نے فجر کو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ”جماعت کی نماز“ ہے، کسی نے ”صلاۃ الخوف“ کو درمیانی نماز کہا ہے، کسی نے عید الفطر کی نماز کو، کسی نے ”صلاۃ الاضحی“ کو، کسی نے وتر کو کسی نے ”ضحی“ کو، کچھ دلائل کے تعارض کی وجہ سے خاموش رہے اور کسی ایک نمازو کو ترجیح نہ دے سکے اسی لیے اس پر کسی ایک قول پر اجماع نہ ہوسکا بلکہ اس پر صحابہ کے زمانہ سے اب تک اختلاف موجود ہے 5۔

 

True Islam Can Stop Extremism اسلام کی صحیح تعلیمات سے انتہاء پسندی کا سدباب ممکن
Imam Feisal Abdul Rauf

اگر عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کا حکم قرآن میں وارد نہیں ہوا ہے اور ایسا کرنا قرآنی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے تو  پھر ہم ملالہ کا قتل کرنے والوں کے اس دعوے کو  کیوں قبول کر لیں کہ  اسلامی تعلیمات میں ان کے  اس عمل کی تھوس بنیاد موجود ہے ؟ اسلامی قوانین کی حقیقی تفہیم  کی  بنیاد پر ہمیں ان کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔

ہو سکتا ہے کہ  ماضی میں اعتدال پسند مسلمانوں کو  یہ سمجھا گیا ہو کہ انہوں نے مغربی قوتوں اور  مسلم حکمرانوں کے آگے سرتسلیم خم کر لیا ہے ، لیکن ہم ایسے کبھی نہ تھے ۔ مسلمانوں کا صحیح تشخص  یہ ہے کہ  وہ عقل و استدلال کے پاسدار ہوتے ہیں ، اعتدال پسند ہوتے ہیں جو اپنے ایمان پر مطمئن ہیں ،اپنے نظریات کے لئے آواز بلند کرتے ہیں اور عالمی منظر نامے  پر ہمسری کا دعویٰ کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہیں۔

 

Peace is the Rule in Islam, War an Exception قیام امن اسلام کا قانون ہے اور جنگ استثنائی صورت حال ہے
Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق دفاعی جنگیں بھی ایک واضح اعلان جنگ کے بعد ہی لڑی جانی چاہئے ۔ بلااعلان جنگ اور واضح طور پر  لئے گئے فیصلے کے جنگ جائز نہیں ہے ۔ مزید برآں یہ کہ ایک دفاعی جنگ بھی ایک قائم شدہ حکومت کے ذریعہ ہی لڑی جانی چاہئے ۔ غیر حکومتی عناصر کو کسی بھی عذر کے تحت جنگ چھیڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان تعلیمات کو ذہن نشیں کر لینے کے بعد اب یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کے ذریعہ قائم کردہ جنگی قوانین کے مطابق دفاعی جنگ کے علاوہ جو کہ انتہائی مجبور کن حالات میں لڑی جاتی ہے جنگ کی تمام قسمیں قانوناً نا جائز ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھاپہ ماری ،  نیابت کی جنگ ، اعلان کے بغیر جنگ  اور جارحانہ  جنگ یہ تمام کی تمام جہاں تک اسلام کا تعلق ہے بغیر کسی شک و شبہ کے قانوناً نا جائز ہیں ۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS