FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

سلفی وہابی جنگجو ایسا ہی کرنے یا اس سے بھی زیادہ کے لئے جہاد کی اسی تاریخ کو یاد کرتے ہیں ۔18ویں 19ویں اور 20ویں صدی میں جنگ کے دوران  سعودی حکومت  عورتوں اور بچوں سمیت شہریوں کو مارا کرتی  تھی ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عراق، شام اور جارڈن میں بے یار و مدد گار کسانوں پر ان کی مختصر دولت کو  لوٹنے کے لئے حملے کیا کرتے تھے ۔ اور ان تمام ظالمانہ سرگرمیوں کو خود اپنی کتابوں سے ایک مذہبی جہاد ثابت کرنا  ان کے لئے آسان  ہے جیسا کہ وہ انہیں ایک مذہبی جہاد مانتے بھی ہیں۔ اور انہیں سنی صوفی شیعہ اور غیر وہابی مسلمانوں کے قتل عام پر فخر تھا ۔ یہ ان کا جہاد ہے اس لئے کہ اس کی تصدیق ابن عبد الوہاب نجدی نے اپنی کتاب میں کی ہے ۔

 

Phony Muslimness among Muslim Boys in Schools and Colleges in UK برطانیہ کے اسکولوں اور کالجوں میں مسلم لڑکوں کے درمیان مصنوعی اسلام پرستی
Mike Ghouse

ان والدین کو شرم آنی چاہئے جو اپنی بیٹیوں کو مردوں کا محتاج بنا دیتے ہیں اور جب ان کے مرد کی وفات ہو جاتی ہے یا وہ بھاگ جاتے ہیں تو ان کے لئے سنگین صورت حال پید اہو جاتی ہے ۔کیا اسی طرح والدین اپنی بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں ؟ بیٹیوں کو  مکمل آزادی حاصل ہونی چاہئے اور اس کے اندر اتنی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ اپنے معاملات کو خود سنبھال سکے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو کہا تھا کہ تمہیں جنت کا پروانہ صرف اس لئے مفت میں نہیں دیا جائے گا کہ تم میری بیٹی ہو  بلکہ دوسرے تمام لوگوں کی طرح اپنے تقویٰ و طہارت کے ذریعہ تمہیں خود جنت  حاصل کرنا ہوگا ۔

 

Are Four Witnesses Compulsory?  کیاچار گواہ ضروری ہیں؟
Yasir Peerzada

ایک عام تاثر یہ ہے کہ اگر عورت ریپ کا شکار ہو جائے اور اس عمل کی گواہی دینے کیلئے چار گواہ،جو تزکیہ الشہود کی شرائط پر پورے اترتے ہوں، میسر نہ ہوں تو پھر اس ریپ کو عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا اور نتیجے میں ملزمان کا عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونا شریعت اور قانون کے عین مطابق ہے ۔زنا کے مقدمے میں چار گواہوں کی شرط کچھ اس طرح سے لازم و ملزوم ہے کہ اس ضمن میں کسی قسم کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی، ایک عام آدمی کی بات چھوڑئیے ،اچھے خاصے عالم بھی یہی بتاتے ہیں کہ عورت کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کے ثبوت کے طور پر چار گواہ لانے کی پابند ہے۔

 

سیرت اور تفاسیر کی کتابوں پر تحقیق سے محقق اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ پانچوں نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے سالوں بعد فرض کی گئیں، اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کے حکم سے قبل تہجد پڑھتے اور رات کا قیام کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسلام کے آغاز پر ”رات کا قیام“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت پر واجب تھا، وہ اس حال پر ایک سال یا دس سال تک رہے پھر اسے پانچ نمازوں سے منسوخ کردیا گیا ۔

 

عاشورہ کا تعلق صرف امام حسین کی شہادت سے نہیں ہے ۔ ایک حدیث کے مطابق یہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کی یوم پیدائش اور آدم علیہم السلام کی مغفرت کی سالگرہ  بھی ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کے لئے شہادت ہی اس دن اور مہینے کا تعین کرتی ہے ۔ عاشورہ کا تعلق سیاست ، ریاست سے  ہے جیسا کہ ہونے کی توقع کی جاتی ہے ۔ ریاست کی نوعیت پر  بحث و مباحثہ اب تک جاری ہے ۔ اس لئے نہیں کہ  دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کچھ بھی نہیں ہے ۔ چونکہ اس میں اسلامی ریاست کا تصور شامل ہے،جیسا کہ اس نے امام حسین کے ساتھ کیا۔ ان کےاس قیاس  کو کہ ریاست خود اسلامی تھی جنگجوؤں نے قبول نہیں کیا ۔ اگر چہ ‘سیاسی اسلام’ مغرب کے لئے  پریشان کن ہو  سکتا ہے ، امام حسین کی شہادت کا یہ بنیادی پیغام باقی ہی رہتا ہے  کہ  کسی ظالم و جابر  شخص کو ایک حاکم کی حیثیت سے مسلمانوں کو قبول نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ امر اتنا اہم ہے کہ اس کے لئے امام حسین نے نہ صرف اپنی جان قربان کر دی بلکہ اپنے خاندان والوں کی بھی جان قربان کر دی ۔

 
The Quran and Art قرآن مقدس اور فنکاری
Ambreen Shehzad Hussaini, Tr. New Age Islam

قران مقدس کا لسانی، تاریخی، تفسیری ، سماجی، نفسیاتی، انسانیاتی  اور  جمالیاتی وغیرہ جیسے مختلف پہلوؤں سے  مطالعہ کیا گیا ہے ۔ قرآن مقدس کے مطالعہ میں جتنے زیاہ پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا اس  کے متعلق ہمارے  علم میں اتنا ہی  اضافہ  ہوگا اور اس کی تفہیم میں گہرائی و گیرائی  پیدا ہو گی ۔ لوگ قرآن مقدس کا اپنے اپنے نقطہ نظر سے مطالعہ کرتے ہیں ، ان کے مطالعہ  کو ان کی ضروریات ، مفادات اور  تجربات سے تقویت فراہم ہوتی ہے ۔اس مضمون میں قرآن  کو سراہنے کے لئے اس کے فنکارانہ پہلو کو اجاگر کیا جائے گا ۔ اس سے قارئین یہ سمجھ سکیں گے کہ مسلمانوں نے فنکاری کے ذریعہ  کس طرح  قرآن کا مطالعہ اور اس کا تجربہ کیا ہے ۔

 

Qur’anic Approach to Inter-Faith Dialogue and Ulema بین المذاہب مکالمہ اور عصر حاضر کے علماء
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

اسلام کی انتہائی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو تمام ادیان و مذاہب کا احاطہ کرتا ہے ۔ مسلمان وہ  شخص ہے جو خدا پر اس کی تمام کتابوں پر اور اس کے تمام نبیوں پر ان کے درمیان کوئی تمیز  کئے بغیر یکساں طور ایمان رکھتا ہو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے واضح ترین پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا  ہے ، جیسا کہ اس کی  روایت بلند پایہ محدثین نے کی ہے ۔

 

Martyrdom of Hussain: A Symbol for Oppressed People All Over the World امام حسین کی شہادت اس کائنات میں  مظلوموں کی علامت ہے
Aamir Raza Husain

عاشورہ ، محرم کی دسویں تاریخ کو پوری دنیا میں مسلمان پیغمبر اسلام کے نواسے کی المناک موت کا غم مناتے ہیں جنہیں حضرت معاویہ رضی اللھ عنہ کے بیٹے یزید نے ساتویں صدی عیسوی میں ان کے  اہل خانہ سمیت قتل کر دیا تھا ۔

لہٰذا جب 680  صدی عیسوی میں دس محرم الحرام  کو انہوں نے  اپنے خاندان اور 72  دوستوں کے ساتھ یزید کے جنگلی  بھیڑیوں کا سامنا کیا تو اسے شہادت کی ایک لمبی روایت کا منتہائے کمال مانا گیا ۔ یزیدی فوج نے انتہائی بزدلانہ حرکتوں میں سب سے پہلے امام حسین کے خیمے کے لئے کھانا اور پانی بند کر دیا  اورسات دنوں کے بعد انہوں نے بھوکے  پیاسے امام حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا ، ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیا ، ان کے خیموں میں آگ لگا دیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا دیا ۔

 

…. جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو جہل کے درمیان اس بات کو لے کر کشیدگی ہوگئی تھی اور قریش کو یہ بات پسند نہیں آئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے سامنے مقام پر ان کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک ایسے خدا کے لیے نماز ادا کریں جسے نا وہ مانتے ہیں اور نا ہی اس کی عبادت کرتے ہیں چنانچہ ابو جہل نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ علمائے تفسیر بتاتے ہیں کہ سورہ اقرا کی اولین آیات: عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ تک قرآن کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیات تھیں جبکہ باقی کی آیات بعد میں نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو جہل کی دھمکی کا معاملہ اس رائے کی تائید کرتا ہے۔

 

Definition of a Martyr (Shaheed) شہید کی صحیح اسلامی تعریف
Khalid Zaheer

ایک مرتبہ ہم اس لفظ کے استعمال کے صحیح سیاق و سباق سے واقف ہو جائیں کہ کیا اس لفظ کا انطباق حکیم اللہ محسود پر ہوتا ہے جو کہ ایک ایسا مشہور و معروف غنڈہ ہے جس نے ایسے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں جس میں بے شمار بے گناہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جانیں  گئی ہیں ؟ ایک مشہور گنہگار اور مجرم کو ایک اتنے بڑے مرتبے سے سرفراز کرنا جو کہ صدیقین اور صالحین کے مرتبے کے برابر ہو  خود متضاد اور بڑی ہی  بدقسمتی کی بات  ہے ۔

 

خالق  حقیقی کی ماہیت کا مخلوق سے مختلف ہونا ضروری ہے اس لئے کہ اگر دونوں کی ماہیت ایک ہی ہو تو خالق  حقیقی کا  عارضی اور فانی ہونا لازم آئے گا جو کہ ایک خالق  کا محتاج  ہوگا ۔ اگر خالق  حقیقی عارضی اور فانی نہ ہو تو وہ ضرور ابدی ہو گا ۔ لیکن اگر وہ ابدی ہے تو مسبب نہیں بن سکتا ،  اور اگر اس کے وجود اور اس کے وجود کے دوام   کا کوئی خارجی  سبب نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کفیل ہے ۔  اور اگر وہ اپنے وجود کی بقاء  میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے تو پھر اس کے وجود کی کوئی انتہاء نہیں ہے ۔ خالق حقیقی  ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا : ‘‘وہی (خدا ) اول بھی ہے اور آخر بھی ۔’’

 

Insensitive Rulers andTerrorism in Muslim Countries مسلم ممالک میں تشدد پر حکمرانوں کی بے حسی
Asad Raza

عراق و لیبیا میں بھی دہشت گرد بے قصور لوگوں کو مسلک اور قبیلے  کے نام پر ہلاک کررہے ہیں ۔ تقریباً ہر روز عراق  میں بم دھماکوں  کے ذریعہ معصوم بچوں و بڑوں کو لقمۂ اجل  بنایا جارہا ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عراق  میں جو کچھ دہشت مغربی و صیہونی ایجنٹ  پھیلارہے ہیں ، اسے امریکی و مغربی میڈیا مسلکی  رنگ دے رہا ہے ۔ بعض عرب حکمراں بھی اس مغربی پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں ۔

 

Islamic Perspectives on Extremism and Moderation اسلام کے  تناظر میں انتہاءپسندی اور اعتدال پرستی
Tariq A.Al Maeena

اس  دستاویز  میں تمام مسلمانوں سے ہر جگہ مثبت اقدامات ، دینیات کی تعمیری گفتگواور  ایسے مبلغین کا سامنا اور ان کی تردید  کرنے کی آمادگی کے ذریعہ  ہر قسم کے انتہاء پسندوں سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ‘جو اپنے سیاسی اور سماجی ایجنڈوں میں پیش رفت کرنے کے لئے مذہب کی شبیہ خراب کرتے ہیں ’۔ اس دستاویز کا بیان ہے کہ ‘‘انتہاء پسند اسلام کی  خارجی شبیہ کا تعین کر رہے ہیں ، اور مرکزی  دھارے میں شامل ان لوگوں کو دفاعی صورت حال میں ڈال رہے ہیں جو  اسلام کے حقیقی پیغام کا شدت  کے ساتھ اشتراک چاہتے ہیں۔ انتہاء پسندوں کی آواز بہت بلند ہے ؛ ان کی آواز کو جھوٹے ہی سہی لیکن فوری طور پر  اختیارات حاصل ہوتے ہیں ، اس لئے کہ وہ مذہب کے لبادے میں ملبوس ہیں ۔ اس آواز کی  خطرناک توانائی یہ ہے کہ یہ لوگوں کو مذہبی برتری اور اختیار کے جھوٹے دعوے کے ساتھ گمراہ کرتی ہے ۔’’

 

Pakistan: A Glimpse of a Deepening Crisis پاکستان ۔گہرے ہوتے ہوئے گرداب کی ایک جھلک
Mujahid Hussain, New Age Islam

ماہرین جس بات سے خوفزدہ ہیں وہ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی جماعت کی طرف سے مقامی انتہا پسندوں کی جانب واضح جھکاؤ اور نرم لہجے کا برتاو ہے جس کی کئی مثالیں پنجاب اور مرکز میں دیکھی جاسکتی ہیں۔مثال کے طور پر نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنی پچھلی حکومت کے دوران مقامی طالبان سے درخواست کی تھی کہ وہ پنجاب کو اپنے حملوں کا نشانہ نہ بنائیں۔اس کے بعد پنجابی طالبان کے ایک اہم رہنما اور فرقہ پرست گروپ کے سربراہ ملک محمد اسحاق کو سینکڑوں سنگین مقدمات کے باوجود رہا گیا، ایسے واقعات کے بعد پنجاب حکومت کو ’’انتہا پسند دوست‘‘حکومت کا خطاب دیا گیا۔

 
Reconciliation is Best مصالحت بہتر ہے
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

Reconciliation is Best مصالحت بہتر ہے
Maulana Wahiduddin Khan

قرآنی تعلیمات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی عمل کو مناسب سمجھنے کے لئے اسے بظاہر ایک اچھے مقصد کے لئے انجام دیا جانا کافی نہیں ہے ۔ اسکے علاوہ  اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اصلاح کے نام پر ان سرگرمیوں کے نتائج کیا ہیں ۔ اور اگر  وہ سرگرمیاں ، نفرت ، کشیدگی اور تشدد وغیرہ کو جنم دیتی ہیں تو ان سرگرمیوں کے بارے میں اگر چہ اصلاح پسند ہونے کا جتنا بھی دعویٰ کیا جاتا رہے در حقیقت وہ اصلاح پسند نہیں  ہیں بلکہ وہ تخریبی اور تباہ کن سرگرمیاں ہیں جن سے زمین پر فساد پیدا ہوتا ہے۔جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں وہ یقیناً نہ تو مصلح ہیں اور نہ ہی انسانیت کے خادم ہیں بلکہ وہ مجرم ہیں اور پوری انسانیت کےدشمن ہیں ۔

 
Let’s Stop Calling Them Muslims انہیں مسلم کہنا چھوڑ دیں
Robert Salaam, Tr. New Age Islam رابرٹ سلام

Let’s Stop Calling Them Muslims انہیں مسلم کہنا چھوڑ دیں
Robert Salaam

مسلمانوں کا کردار ایسا ہونا چاہئے کہ وہ  ایسے مقامات کی حفاظت کریں جہاں خدا کی تسبیح و تحلیل کی جاتی ہے خواہ وہ کلیسا ہو ، یہودیوں کی عبادت گاہ ہو ، مندر ہو یا مسجد ہو ۔ مسلمانوں کا اخلاق ایسا ہونا چاہئے کہ  جن کے درمیان ان کے پڑوسی خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم خود کو محفوظ و مامون محسوس کریں ۔ یہ تمام اسباق 2001 میں میں نے اس وقت سیکھے جب مسلمانوں نے نیویارک امریکہ اور واشنگٹن ڈی سی پر حملہ کر کے اسلام کے بالکل  خلاف اپنا کردار ظاہر کیا۔

 

Perceptions about Islam: What Needs to be Done اسلام کے بارے میں بدگمانیاں : کس سمت میں قدم اٹھانا ہے  ضروری ؟
Maulana Wahiduddin Khan

ایسی صورت حال میں  اس قسم کے  مسلمانوں کے لئے ایک بہترین موقع موجود ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اس موقع پر اسلام کے نام پر کی گئی دہشت گردی سے مکمل طور پر بیزاری کا اظہار  کر سکتے ہیں اور غیر مسلموں کی مجلس میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کر سکتے ہیں ۔ دلچسپی کی بات ہے کہ میں یہی کام کر رہا ہوں ۔ انہیں لوگوں کو یہ بتانا چاہئے کہ انہیں اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق پیدا  کرنے اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے  کی ضرورت ہے اور اس کا بر عکس نہیں۔ اس قسم کی صورت حال مسلمانوں کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ گفتگو اور  دعوت و تبلیغ کا آغاز کرنے  کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے ،  جو کہ لوگوں کو راہ خدا کی طرف بلانا ہے ۔ جب لوگ منفی انداز میں بھی اسلا م کے بارے میں باتیں کریں تو انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں ۔

 

Hefazat-e-Islam’s threat of civil war in Bangladesh حفاظت اسلام کی بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کی دھمکی: اعتدال پسند اسلامی روایتیں کہاں کھو گئیں؟
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ درگاہوں  سے منسلک صوفیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے مدارس کی تعداد بہت کم ہے ۔ ان مدارس کے پاس کوئی بڑا  فنڈ نہیں ہے ، ان مدارس میں اساتذہ کو اچھی تنخواہیں نہیں ملتیں ، یا ان کے پاس کوئی اچھا انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) نہیں ہے   اور نہ ہی طلباء کی مدد کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی بڑا فنڈ ہے ۔

پیٹرو ڈالر کی فنڈنگ  اور سعودی کتابیں وہابی ، اہل حدیثی ، سلفی، دیوبندی اور جماعت اسلامی کے مدارس کو فراہم کی جاتی ہیں ۔ بلاشبہ جماعت اسلامی کے مدارس  میں مولانا مودودی  کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ ان تمام  مدارس میں ابن تیمیہ ، محمد ابن عبدالوہاب نجدی اور بعد کےوہابی نظریہ سازوں کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن غیر وہابی مدارس میں نصابی کتاب کے طور پر وہ کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں وہاں بھی وہ کتابیں ان کی لائبریریوں میں مہیا کرائی جاتی ہیں اور تقابل ادیان جیسے کورس کرنے والے طلباء کے نصاب میں یہ کتابیں شامل کی جاتی ہیں ۔

 

لفظ تعلیم و تربیت دو اجزاء سے مرکب ہے۔ ایک تعلیم ، یعنی زندگی گزارنے  کے لئے بنیادی اوصاف کا شعور دینا ، سکھانا ، پڑھانا اور معلو مات بہم پہنچانا ہے اور دوسرا لفظ تربیت ہے جس سے  مراد پرورش کرنا، اچھی عادات  ، یعنی فضائل اخلاق سکھانا اور ذائل  اخلاق سے بچانا اور بچوں  میں خدا  خوفی اور تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔ لہٰذا  تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

 

وادی سندھ کے لوگ اپنی ہم عصر سومیری، مصری اور دیگر تہذیبوں کے بر عکس انتہائی امن پسند اور صلح جو لوگ تھے۔ انہوں نے کبھی کسی نزدیکی ملک پر حملہ کر کے لوٹ مار یا قتل عام نہیں کیا تھا، لیکن اس کے برعکس انہیں بہت سے غیر ملکی لٹیروں کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں ایرانی، یونانی اور عرب سر فہرست ہیں۔

 

The True Meaning Of Jihad: Refutation Of Extremist Islamist Ideology By Ulema And Sufis جہاد کی صحیح تعبیر : جہاد کے متعلق علماء اور صوفیاء کے نظریات
Ghulam Ghaus, New Age Islam

‘‘ایک طرف مصلحت ، ہوشمند ہی اور دور اندیشی پر مبنی اسلامی قوانین کا ایک واضح اور واشگاف مجموعہ موجود ہے تو دوسری طرف ہر جگہ   لوگوں ، بچوں  اور عورتوں کا کسی مذہب اور تشخص کا تمیز کئے بغیر بے دریغ قتل کرنے کے لئے اسلام کے نام کا استعمال کیا جا رہا ہے  ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب بھی  کچھ متشدد اور وحشی لوگ  اپنی سرگرمیوں کو جہاد قرار دیتے ہیں ۔ تضاد اور تناقص کی اس سے بڑی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی جو آج  ہم اس روئے   زمین پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے جارحانہ اقدام ، ظلم و نا انصافی سے بھری سرگرمیوں اور مداخلت کے بدلے میں غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی نمائندوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنا اور ان کا قتل کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہو سکتا ۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اس کا اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی تعلق نہیں ہے  ’’۔

 

اسلام میں نماز کا حکم یک مشت نہیں آیا، بلکہ اس کا حکم بتدریج آیا، پہلے مکہ میں اور پھر مدینہ میں، یوں یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یثرب ہجرت کرنے کے بعد مکمل ہوئی، ہم دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں نماز دو رکعات پر مشتمل ہوتی تھی، جبکہ مدینہ میں ان کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور اس طرح یہ دو نمازیں ہوگئیں، نمازِ مقیم اور نمازِ سفر، اسی طرح مدینہ میں ایسی نمازیں بھی ادا کی گئیں جن کا حکم مکہ میں نہیں آیا تھا، یہ سب نبوت کی نیچر کی وجہ سے ہوا جو بتدریج مدینہ میں جاکر مکمل ہوئی، نماز اسلام کے اہم ارکان میں سے ایک ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ اس نے بھی ترقی کی۔

لیکن دہلی کی ایک اسلامی تنظیم  جماعت اسلامی ہند کے نیشنل سکریٹری محمد سلیم انجینئر کے مطابق ہندوستان کا تقابل  دوسرے اسلامی  ممالک سے کرنا  غلط ہے ۔  ان کا کہنا ہے کہ ‘‘ تمام اسلامی ممالک  میں کما حقہ  اسلام پر عمل نہیں کیا جا تا اسی لئے ہم ان کی اندھی تقلید نہیں کر سکتے۔

تاہم ایک ایسے کونسل کا مطالبہ بڑھ رہا ہے جو اس بات کا تعین کرے کہ ایک مسلم مرد کو دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرنی چاہئے یا نہیں ۔ عنبر نے اس بات پر زور دیا کہ ‘‘ ایسے کونسل کی ضرورت  شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے ’’۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘اگر دارالعلوم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مظلوم  عورتوں کے تئیں فیصلہ عدل و انصاف کے معیار پر کھرا نہیں اترتا  تو  سول کورٹ کا  رخ کرنے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے  ۔’’

 

Islamic Martyrdom and Talibani ‘Martyrs’ ‘شہادت کا اسلامی تصور اور نام نہاد طالبانی ‘شہداء
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

ماہ محرم الحرام اسلامی تاریخ  میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے ۔ یہی و مبارک و مسعود مہینہ ہے جس میں اسلام کو شر کے چنگل سے آزاد کرانے والے حسین ابن علی(رضی اللہ عنہما) نے  شہادت کے صحیح معنوں کو اجاگر کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمالیا ۔ لیکن آج بعض دہشت گرد ‘مجاہدین’ کے بھیس میں اپنا سر ابھار رہے ہیں جو بے گناہ شہریوں کا بے دریغ قتل کرتے ہیں، علماء وفضلائے اسلام کے سر قلم کرتے ہیں، مسلموں اور غیر مسلموں دونوں پر خود کش حملہ کرتے ہیں  اور پھر ان کی موت کے بعد ان کے مذہبی پیشوا انہیں ‘شہید’ کا درجہ دیتے ہیں ۔

 

مختلف مذاہب نے جن معاملات پر خصوصی توجہ دی ہے ان میں نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقاتِ کار بھی شامل ہیں، فرض نماز کے وقت کا تعین ایک اہم قضیہ ہے، کیونکہ نماز تب تک قبول نہیں ہوسکتی جب تک کہ اسے طے شدہ مخصوص مدت کے دوران ادا نہ کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ نماز کے وقت کا نماز سے گہرا تعلق اس وقت سے رہا ہے جب پہلے انسان نے نماز پڑھی تھی، زیادہ تر مذاہب نے شروق وغروب کے اوقات کو نماز کا وقت مقرر کیا، اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں قدیم انسان کا وقت کو شمار نہ کر سکنا اور ستاروں کی تقدیس خاص کر سورج اور چاند کیونکہ دن اور رات میں یہی سب سے نمایاں فلکیاتی اجسام ہوتے ہیں جو ظاہر اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔

Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS