FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 9  (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن حصہ (9

سید احمد بریلوی  کے بارےمیں  کہا جاتاہے  ، جیسا صراط مستقیم میں شاہ اسمٰعیل  شہید دہلوی نے لکھا ہے،  کہ ان کی روحانی تربیت کے سلسلے  میں غوث الثقلین  اور خواجہ بہاء الدین نقشبندی  کی روحوں کے درمیان کوئی ایک مہینہ  تک اس بات پر نزاع برپا رہا کہ  کون انہیں روحانی تربیت کے لئے اپنی کفالت  میں لے۔ بالآخر  ایک مہینہ  کی چپقلش کے بعد اس بات پر مصالحت  ہوگئی کہ دونوں مشترکہ  طور پر یہ خدمات  انجام  دیں گے ۔ سو ایک دن  دونوں حضرات کی روحیں  ان پر جلوہ گر ہوئیں  اور وہ بیک  وقت دونوں  سلسلوں  کی نسبتوں  سے سرفراز ہوگئے ۔

 

تاہم ہندوستان کے  امن پسند  مسلم  اسکالرس  اور معتبر سنی صوفی علماء اور اصحاب مدارس نے جن سے نیو ایج اسلام نے انٹرویو کیا ہے کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا کسی بھی دہشت پسندانہ نظریہ کی کسی بھی صورت میں کوئی حمایت نہیں کی ہے۔ انہوں نے بارہا  واضح طور پر کھلے لفظوں میں نفرت، انتہا پسندی اور عدم رواداری کے اس نظریے کی مذمت کی ہے اور داعش  اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے تئیں کبھی  کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا۔ نیو ایج اسلام نیوز بیورو کے ساتھ اپنے انٹرویو میں صوفی ذہنیت کے حامل سنی علماء (جنہیں علمائے اہل سنت کے نام سے جانا جاتا ہے) نے بروقت ابو بکر البغدادی کی خود ساختہ خلافت کے لئے ندوی-دیوبندی حمایت کی مذمت کی ہے۔

 

‘‘ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  ۔یہ وہ ہدایتیں   ہیں جو خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  کو دیں جب  انہیں مہاجر و انصار نیز دوسرے  مسلمانوں  کے ساتھ ان   لوگوں سے لڑنے بھیجا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات پر اسلام سے منحرف ہوگئے تھے ، خالد کو حکم ہے کہ جہاں تک ہوسکے  اپنے سارے معاملات  میں ظاہری ہوں یا خفیہ خدا سے ڈرتے  رہیں ، اسلام کی سربلندی  کے لئے تن دہی  سے کام لیں اور پوری سنجیدگی  سے ان لوگوں  کی سرکوبی کریں جو اسلام  سے پھر گئے  ہیں او رشیطانی آرزو ئیں دل میں بسائے ہوئے ہیں، ان کو حکم ہے کہ سزا دینے  سے پہلے باغیوں  کو سنبھلنے کا ایک  موقع دیں۔

 

Miracles of the Quran Part- 17  اعجاز القرآن  ۔ سترہ

اللہ کی تخلیق کے نمونے  ساری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں جن کے لئے قرآن کریم نے آیات کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یہ آیات اس ذاتِ  باری تعالیٰ  کے وجود کی زندہ شہادات ہیں ۔فہم انسانی  اور علوم انسانی  جس قدر ترقی کرتے چلیں جائیں گے ۔ یہ آیات اُبھر کر سامنے آتی چلی جائیں گی  اللہ کی ان آیات  اور نشانیوں میں ستاروں اور سیاروں  کی درمیانی فضاء میں مادہ کا جو و جود ہے یہ ایک اہم نشانی ہے جس کی تحقیق موجودہ زمانہ میں ہوئی ہے۔ انہیں نشانیوں  میں ایک ایتھر Ether  ہے جس کا پہلے کسی  کو علم نہیں تھا۔  سائنسدانوں نے اس کو مسخر کیا، اس کی لہروں  پرقابو حاصل کیا، ہوائی جہاز ،ریڈیو، ٹی وی ، ٹیلیفون سب اس کی وجہ سے ایجاد ہوئے ۔

 

Take Care of Khaps not Shariah Courts  شرعی عدالت کی نہیں کھاپ کی فکر کیجئے

ہزار احترام کے ساتھ سپریم کورٹ  کا ہر حکم تسلیم  لیکن یہ  بھی عرض  کرنا ہے کہ کبھی اس نے اس  پر بھی غور کیا کہ درجنوں  لڑکیوں اور لڑکوں  کو قتل کو قتل کر دینے والوں ، قتل کرادینے والوں  اور قتل کا حکم دینے والوں  میں سے کسی  ایک کو بھی  پھانسی یا عمر قید کیوں نہیں  ہوئی؟  ا س کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس متوازی  عدالتی  نظام کا مسلمانوں  پر الزام لگایا جارہاہے  اس سے زیادہ طاقتور متوازی  حکومت  کھاپ  پنچایت  ہے۔ ہر جوڑے کے قتل  کی تھانے  میں رپورٹ ہوتی ہے لیکن  گرفتاری  اس لئے نہیں ہوتی کہ یہ بتانے والا کوئی نہیں ملتا کہ کس کس نے قتل کئے  ؟ اور کوئی زبان اس لئے  نہیں کھولتا کہ جس نے زبان کھول  دی اس کا حقہ  پانی  بند یعنی وہ یا بھوکوں مرجائے یا خود کشی کرلے ۔ یہ پنچایتیں  اتنی طاقتور ہیں کہ ہر یانہ، راجستھان اور اتر پردیش  کی کسی حکومت یا کسی  مرکزی حکومت  کی ہمت نہیں  ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ ڈال سکے اور اس  کے اُجڈ اور جاہل پنچ ڈنکے کی  چوٹ پر کہتے ہیں  کہ اگر کسی  حکومت  میں دم ہے تو وہ کھاپ  پر ہاتھ ڈال کر دکھائے۔

 

How Islamic is the Caliphate?  خلافت کیوں کر  اسلامی ہے؟
Mustafa Akyol

جب ہم اس مسئلے کی تحقیق اس نقطہ نظر سے کرتے ہیں تو ہمیں بڑی دلچسپ باتیں معلوم ہوتی ہیں: اسلام کے بنیادی مصدر و ماخذ قرآن میں کسی بھی ‘‘خلیفہ’’ کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ قرآن میں اس لفظ کا استعمال ایک بالکل ہی مختلف معنی میں کیا گیا ہے۔ قرآن کی سورۃ 2 آیت 30 میں سب سے پہلے انسان آدم کی تخلیق سے ٹھیک پہلے اللہ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میں زمین پر اپنا ایک "خلیفہ" پیدا کروں گا۔ اس لفظ کا ترجمہ اکثر لوگوں نے "نائب یا قائم مقام" کیا ہےاور اس کی تشریح بنی نوع انسان کو مرحمت کی گئی رضا مندی کی نعمت کے طور پر کی گئی ہے۔ اس معنی میں تمام انسان "خلیفہ" ہیں؛ وہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کی خدا کی عطا کردہ صلاحیت کے مالک ہیں۔

 

Demand for Implementation of Shariah  شریعت کے نفاذ کامطالبہ

روز نامہ  ‘‘دی نیوز’’ اور روز نامہ ‘‘ ڈان’’ کی یکم مئی 2013ء کی اشاعت میں یہ خبر طبع ہوئی کہ واشنگٹن  میں قائم شدہ Pew Forum  کے ایک سروے کے مطابق ساری دنیا  کے مسلمانوں  کی 84 فیصد آبادی  شریعت کے قوانین  کا اجراء  چاہتی ہے ۔ اس خبر میں کچھ مزید معلومات بھی ہیں  کہ چند  فیصد لوگوں کے نزدیک اسلامی  سزائیں زیادہ سخت ہیں۔ کچھ حضرات نے عالمی قوانین کے متعلق  بھی اپنے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ محترم التھام جناب انصار عباسی صاحب میڈیا  کی دنیا  میں  بہت اچھی  شہرت کے مالک ہیں ۔ وہ T.V  مختلف چینلز پر آتے رہتے ہیں ان کی گفتگو  سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا رجحان بھی شریعت کی طرف ہے۔ 

 

حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور حیات خدا کی عطا کردہ ایک بہترین نعمت ہے، اس کا واقعی احساس و ادراک انتہائی شاداب اور لطیف ترین ہے لیکن انہیں کے لئے جو حقیقی طور پر ادراک اور محسوس کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں، وہ تو زندگی کے حرف اول سے بھی واقف نہیں جو اس کے مقاصد سے بے نیاز ہو کر گزر بسرکرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ،ایسا شخص زندہ نہیں بلکہ زندگی کے نام پر چلتی پھرتی ایک متحرک لاش ہے جس کا کوئی مصرف نہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ ہے..۔.

 

چھان بین  سے کام لیا جائے اور سروے  کیا جائے تو مسلمانوں  میں جو لوگ وسیع النظر ہیں اور اصلاح پسند  ہیں ان کی تعداد انتہائی کم  ہے اور اتنے بے اثر ہیں کہ جو نام نہاد مولوی ، مولانا یا علماء  ہیں وہ نام نہاد دینی جلسوں میں مسلمانوں کے ہی کسی  طبقہ  یا مکتبہ فکر کو نشانہ بناتے ہیں  اوراپنی  جیبیں بھرتے ہیں اگر اصلاح پسندوں  کی ٹیم  مضبوط  ہوتی تو یہ کرائے  کے لوگ فتنہ  و فساد سے کب کے باز آگئے ہوتے  اور معاشروں میں نکوبن کر زندگی  گذارتے مگر ایسے  لوگوں کی تقریروں کے لئے فیس ادا کی جاتی ہے جو مسلمانوں کو لڑانے او رٹکرانے کا کام انجام  دیتے ہیں۔

 

Caliphate of Terrorists دہشت گردوں کی خلافت

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرنے میں پہل کرنے والی تنظیموں میں یہی دہشت گرد تنظیمیں ہیں ، اسلامی ممالک نہیں۔بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنطیم نے ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرکے خود اسے دہشت گرد وں کا امیر ثابت کردیاہے۔ پاکستان میں القاعدہ کی شاخ ’’تحریک خلافت ‘‘ نے القاعدہ سے رشتہ توڑ کر ابوبکر کی خلافت کو تسلیم کرلیا ہے ۔ سیریاکے دہشت گرد گروہ نے بھی ابوبکر کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیاہے۔ یعنی اب تکتین دہشت گرد تنظیموں نے ابوبکر کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیاہے۔ اس لحاظ سے ابوبکردہشت گردوں کے خلیفہ تسلیم کئے جاچکے ہیں اور ان کی خلافت کو دہشت گردوں کی خلافت کا درجہ مل چکاہے۔دہشت گردوں کی یہ خلافت جب تک اس خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل میں تعاون کرتی رہے گی تب تک اسے آکسیجن مہیا کی جاتی رہے گی اور جس دن اس نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کام کرنا شروع کردیا ، ابوبکر کا بھی انجام اسامہ بن لادین جیسا ہوگا۔ان کی خلافت دھری دہ جائیگی۔

 

Arguments for The Divinity of The Quran  قرآن کے الہامی ہونے کےدلائل

قرآن حکیم کو غیر مسلم اللہ تعالیٰ  کی نازل کردہ کتاب  نہیں مانتے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ اس کو پڑھتے ہی نہیں  تو یہ  کیسے معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ نازل  شدہ ہے یا افتراء کردہ ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے جو مسلمان اس کو پڑھتے یا پڑھاتے  ہیں وہ بھی  اس کو عقیدتاً نازل شدہ  سمجھتے ہیں ۔ ان کے پاس  ا س کے علاوہ  او رکوئی دلیل نہیں ہے کہ  وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ( 4:82) اگر ہوتا یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے تو تم  اس میں بے شمار اختلافات  پاتے ۔ یا یہ کہ ۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ( 15:9) تحقیق  ہم ہی نے یہ قرآن نازل کیا  ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت  کرنے والے ہیں ۔

 

Cultural Narcissism- Part- 25   (تہذیبی نرگسیت حصہ (25
Mobarak Haider

مسلمانوں کا متفقہ ایمان ہے کہ جہاد کشور کشائی یا گروہ کے اقتدار کے لئے نہیں ہوتا، نہ ہی یہ محض دشمن کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ مسلمانوں کے دنیاوی مقاصد کے لئے بھی نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اگر کسی مسلم ملک سے کسی غیر مسلم ملک کا تنازعہ اس دنیاوی سوال پر ہو گا کہ غیر مسلم یا سیکولر ملک نے مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ اس قبضے کے نتیجے میں مسلمانوں کے عقائد اور دینی معاملات میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا، یا مثلاً بھارت نے مملکت خداد پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا پانی روک لیا ہے تو اس علاقہ کو واپس لینے یا پانیوں کو جاری کرانے کی جنگ جہاد فی سبیل اللہ نہیں کہلائے گی۔

 

Supreme Court Ruling On Sharia Courts Draws Sharp Reaction From Indian Muslim Clerics  شرعی عدالتوں (دار الافتاء) پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہندوستانی مسلم علماء کا فوری ردعمل
Mike Ghouse

سپریم کورٹ کے مندرجہ ذیل بیان کو سمجھنے کی ضرورت ہے: " شرعی عدالتوں (دار الافتاء) کے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف فتوی اور حکم جاری کرنے کو مسترد کرتے ہوئے پیر کے دن سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔" سپریم کورٹ بالکل حق بجانب ہے، کسی بھی عدالت کو متعلقہ شخص کی موجودگی اور اسے دفاع کا حق دیے بغیر اس کے خلاف فیصلہ جاری نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کی عدم موجودگی میں اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہئے۔

 

Cultural Narcissism- Part- 24   (تہذیبی نرگسیت حصہ ( 24
Mobarak Haider

پچھلے زمانوں میں جب دنیا بھر کے لوگ مذہب کی عبادات و رسومات کو معمول کی حیثیت سے پورا کرتے تھے تو مذہب کا مطلب روحانیت نہیں تھا، بلکہ مذہب تو مادی اور روحانی دونوں معاملات میں ایک رہنما ضابطہ کا نام تھا اور روحانیت کا مطلب کچھ اور تھا، یعنی معمول کی سرگرمیوں کے بعد کچھ اور۔ قرآن میں ذکر ،فکر اور تدبر کے الفاظ بار بار دہرائے گئے ہیں۔ ہندو مت میں گیان دھیان یعنی یکسوئی کے ساتھ فکر کرنا مذہب کے اعلیٰ تر عوامل میں شمار ہوا ہے۔ چنانچہ ہندو مت عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب کے دورِ عروج میں تصوف کی تحریکیں ابھریں جن کا دعویٰ یہ تھا کہ معاشرہ کی بے روح زندگی نے روحانیت کا عنصر لانے کے لئے کوئی دوسر ی ایسی ریاضت ضروری ہے جس میں معمولات سے بالا ہو کر یکسوئی کا عملی حصول ممکن ہو۔

 

ہمارے معاشرہ کا مزاج یہ ہے کہ اگر کوئی افسر کسی کی تعریف میں دوچار جملے کہہ دیتا ہے تو وہ جملے ہر اخبار کی سرخی بن جاتے ہیں کہ آج فلاں افسر نے فلاں کی ستائش میں اس انداز سے لبوں کو جنبش دی کہ پورا معاشرہ دنگ رہ گیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ معمولی سا انسان اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی تعریف میں اتنے بڑے افسر نے لب کھولے! اسی سے اندازہ لگائیے اس ہستی کا جس کی شان میں معصومین ؑ رطب اللسان نظر آتے ہیں؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ معصوم کی زبان مبارک سے نکلاہوا ہر فقرہ صداقت و امانتداری کا منھ بولتا شاہکار ہوتا ہے؛ اگر معصوم کی زبان مبارک سے کسی غیر معصوم کی مدح وستائش ہو تو یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ تا قیام قیامت غیر معصوم کے کردار کی سند مل جاتی ہے،ائمہ اطہارؑ اور ان کی اولادپاک کے نزدیک حضرت خدیجہ کا انتہائی بلندوبالا مقام ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ اہل بیت کرام نے ہر مناسبت سے حضرت خدیجہ کے بارے میں فخر و مباہات کا اظہار کیا ہے اور ان کوہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یادفرمایاہے۔

 

یہ مسخ شدہ روایت جس کا کسی بھی اسلامی کتاب میں کوئی ذکر نہیں ہے جہادیوں کو محض چند گھنٹوں کے لئے شادی کرنے اور انہیں ان خواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کی بنیاد ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی بیویوں کو "طلاق" دینے سے پہلے وہ ایک "بہتر جنگجو" بن جائیں گے۔

 

Islam’s Apostasy Problem  اسلام میں ارتداد کا مسئلہ
Mustafa Akyol

کورٹ نے انہیں صرف تین دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ "تائب" ہو جائے۔  لیکن وہ اب بھی زندہ ہے اس لیے کہ وہ حاملہ تھی اور حال ہی میں اس نے اپنے بچے کو جنم دیا ہے۔ لہٰذا عدالت نے مزید دو سال اور اسے جیل میں زندہ رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اپنے بچے کو دودھ پلا سکے۔ 20 ماہ کا اس کا دوسرا بچہ پہلے سے ہی اس کے ساتھ جیل میں ہے۔ وہ دو سالوں میں اپنی ماں کے تختہ دار پر لٹکنے کا زخم کھانے کے لیے کافی بڑا ہو چکا ہو گا۔ دریں اثنا اس کا شوہر گہری مایوسی اور رنج و الم کے عالم میں کورٹ اور جیل کے چکر کاٹ رہا ہے۔

 

Atrocities on Palestinians and Silence of 57 Islamic Countries  فلسطینیوں پر ظلم اور 57  اسلامی ممالک خاموش تماشائی

گذشتہ کئی روز سے اسرائیل نے فلسطین کی غزہ پٹی پر ہوائی حملے کئے ہیں جن کے نتیجے میں سو سے زیادہ معصوم فلسطینی شہری بشمول بچے ہلاک ہوئے ہیں اور چھ سوسے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔مارچ سے اسرائیل نے اس خطے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری کر رکھی ہیں۔ پہلے اس نے شام پر حملے کئے جس کے لئے اس نے ایک سولہ سالہ بچے کے گولان پہاڑیوں پر بم یا مورٹار حملے میں فوت ہونے کو عذر بنایا۔ گولان پہاڑیوں پر اسرائیل نے 1967کی عرب ۔اسرائیل جنگ میں قبضہ کیاتھا۔ یہ علاقہ اسرائیل اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔ لہذا، شام میں جاری شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے دوران راکٹ وغیرہ اسرائیلی سرحد کے پار غیر ارادی طور پر آجاتے ہیں۔ لہٰذا، ایسے ہی کسی بم یا راکٹ کے گرنے سے ایک اسرائیلی عرب نوجوان ہلاک ہوگیا اور اس کا باپ اس میں زخمی ہوگیا۔اس کے جواب میں اسرائیل نے شام کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے۔

 

Mucky Water and Blind Fish  گدلا پانی ہے اور اندھی مچھلیاں

مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجد اسلام آباد  کو پرویز مشرف نےاپنے دورِ حکومت  میں ہیرو سے زیرو بنا دیا تھا مگر موجودہ  دور میں جب کہ  طالبان  نے حکومت  کی ناک میں دم  کر رکھا ہے تو حکومت  تنکے  بھی کو بھی شہتیر  سمجھ کر آز مارہی ہے کہ شاید  یہ طالبان کے راستے میں کام آئے ۔ اتوار 9 مارچ 2014 کو صبح کے پروگرام  میں مولانا عبدالعزیز قابل  صحافی سلیم صافی  کے  سوالات کا جواب  دے رہے تھے ۔ خطیب  صاحب نے ایک ہی رٹ لگا ئی تھی ‘‘ قرآن  وسنتہ’’ اس سے کم پر وہ راضی  ہی نہیں  ہورہے تھے  سب سے پہلے یہ دیکھئے  کہ یہ نعرہ ہی غیر شرعی  ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے حکمرانی  کے لئے منزل  من اللہ کو اختیار  کرنے کا  حکم دیا ہے ۔ اس کے ساتھ سنت نہیں لگایا ۔ 

 

ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا انتقال  ہوا اس وقت  عدی رضی اللہ عنہ  بن حاتم کے پاس  زکاۃ  کے اونٹوں کی ایک بڑی تعداد جمع  ہوگئی تھی   ، جب  عربوں میں ارتداد کی وبا پھیلی  او رانہوں نے  دی ہوئی  زکاۃ  واپس  لے لی اور بنواسد بھی جو طیّ کے پڑوسی  تھے مرتد  ہوگئے تو طیّٔ کے اکابر  عَدِی رضی اللہ عنہ  کے پاس آئے او رکہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے انتقال کے بعد عرب  باغی ہوگئے  ہیں او رہر قبیلہ  نے زکاۃ روک لی ہے، ان حالات میں ہمیں  اپنا مال  آپس میں بانٹنے  کا اجنبیوں  کی نسبت  زیادہ حق ہے۔’’

 

Indian Supreme Court Judgment on Shariah Courts Is Welcome but  ہم شرعی عدالتوں کے بارے میں ہندوستانی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کو انتہائی ضرور ی اصلاحات پر بھی زور دینا چاہئے تھا

جماعت اسلامی کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے شرعی عدالتوں پر پابندی عائد نہیں ہوتی اور باہمی تنازعات کو حل کرنے میں ایسے دارالقضاۃ کی خدمات کو تسلیم کرنا ایک مثبت نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں کہ جب ملک کی عدالتوں میں لاکھوں لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں شہریوں کے باہمی تنازعات کو حل کرنے میں دارالقضاۃ کی خدمات کو تسلیم نہ کرنا ایک ناانصافی ہوگی۔ معروف وکیل ظفریاب گیلانی نے کہا کہ اس فیصلے سے ہمیں نہ تو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی کوئی نقصان۔ مشہور مورخ عرفان حبیب نے کہا کہ ہمیں اس فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔

 

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 8  (روحانیوں  کے عالمی  پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن  حصہ ( 8

مختلف کانفرنسوں  میں شرکت  کے لیے جب  بھی  میں استنبول  آیا کسی نہ کسی بہانے  سے با سفورس  پر عشائیہ کی تقریب  پیدا ہوگئی ۔ البتہ آج کے عشائیہ  کا رنگ  و آہنگ  بالکل  جداگانہ تھا ۔ سفینے  کے نصف دائرے والے ہا ل میں  چاروں طرف دیواروں  کے کنارے کرسیاں لگی تھیں ۔ ایک کنارے جہاں اسٹیج  کا منظر تھا سماع  زن اپنی  گردنیں  خم کیے  ہوئے والہانہ سپرد گی  کا احسا س دلارہے تھے ۔  حاضرین میں ایک  قابل ذکر تعداد  ان جبہ دوستارے  کے حاملین  کی تھی  جن کے بلند کلاہی  اور طویل  و سفید  ریش  کے سبب ان پر اہل  سلوک  کے شیوخ کا گمان ہوتا تھا ۔ حاضرین میں مردو زن  دونوں تھے البتہ ان میں  عرب نژاد  مغربیوں  کی کثرت تھی ۔  گاہے سفید فارم مغربی  بھی دکھائی  دے جاتے تھے ۔

 

 ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو منافقوں نے سر اٹھایا ، عرب مرتد ہوگئے اور یہود و نصاریٰ  چوکنا، مسلمانوں  کی حالت اپنے بنی کی وفات  سے ایسی  زبوں  ہوئی جیسی ان بکریوں  کی جو جاڑوں کی رات  میں بارش  سے بھیگی  حتیٰ کہ خدا کے حکم سے انہوں نے  ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو اپنا خلیفہ  منتخب کیا ، خلافت  کی ایسی سنگین  ذمہ داریاں  میرے والد  پر آپڑیں  کہ اگر پہاڑ ان کو اٹھاتے تو ٹوٹ جاتے ،بخد ا جس  بات پر مسلمانوں میں اختلاف  ہوتا میرے والد  خوش اسلوبی  سے اس کو دور کردیتے  ، جو میرے  والد 4؎ (4؎ متن میں میرے والد کی جگہ ابن الخطاب  ( عمر رضی اللہ عنہ) کا لفظ ہے جو یہاں بے تکا معلوم ہوتا ہے غالباً کابت نے یہ تصرف کیا ہے ۔) کو دیکھتا سمجھ لیتا کہ وہ اسلام  کی تقویت کے لئے پیدا  کئے گئے ہیں ، بخدا میرے والد بڑے سمجھ دار آدمی تھے۔ بے نظیر  لیاقت کے مالک  ہر مشکل کاعلاج  ان کے پاس تھا ۔’’

 

Cultural Narcissism- Part- 23  (تہذیبی نرگسیت حصہ (23
Mobarak Haider

ہمارے ہاں پاکئ داماں کا فریب قائم رکھنے کے لئے بعض فقرے اور جواب سبق کی طرح رٹ لئے گئے ہیں۔ لگتا ہے اس کے لئے تحریکی سطح پر کام کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی ، اخبارات اور رسائل کے علاوہ جمعہ کے خطبوں میں، گلی محلہ میں جاری درس میں، تیزی سے چھا جانے والے خطیبوں کی کیسٹوں میں اور ان گنت مدرسوں میں، تحریک کے مرکز سے جاری ہونے والے فقرے اور رویے ایک ہی طرح سکھائے جاتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ایسا فکر انگیز سوال آئے کہ اگر ہم بہترین امت ہیں تو یہ جرم اور وہ بدکاری، وہ ظلم اور یہ بے حسی کیوں ہے، تو جواب آئے گا ’’ بیچ میں برے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ یہ کالی بھیڑیں ہیں۔ کوئی شخص برا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اس میں امت کا کیا قصور ہے؟‘‘

 

ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے دوسرا نکاح کر نا چاہا ۔ آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو معلوم ہوا تو سخت  برہم ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خطبہ دیا ۔ اس میں اپنی ناراضی  ظاہر  کی ۔ فرمایا ۔ ‘‘ میری لڑکی میراجگر گو شہ ہے ۔ جس سے  اُسے دکھ پہنچے گا ’ مجھے اذیت ہوگی’’ ۔ چنانچہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ  اس ارادے سے باز آگئے  اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کی زندگی  تک دوسرا نکاح نہ کیا ۔ (سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علامہ شبلی  ۔ جلد دوم ۔  صفحہ 627 ۔ بحوالہ بخاری )۔ظاہر ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ نے جو کچھ اپنی بیٹی  کے متعلق  فرمایا ہے اس کا اطلاق اُمت کی ہر بیٹی پر ہوگا ۔  اس لئے  جس دوسرے نکاح سے پہلی  بیوی کو دکھ پہنچے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فیصلہ کے مطابق  بھی جائز نہیں قرار پاسکتا ۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS