certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ جہاں زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بہترین اسوہ ہے، اسی طرح آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دوستوں کے ساتھ سلوک وبرتاؤ کے سلسلہ میں بھی بہتر ین رہنمائی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے محبت کا اظہار کرتے، ان کی خوبیوں کا اعتراف فرماتے، ان کے خصوصی وصف اور امتیازی مقام کو بر سر عام بیان کرتے ، جیسے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ علیہ وسلم وعمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اہل زمین میں میرے وزیر ہیں :

 

دنیا کی تخلیق اور اس میں انسانوں کے بسائے جانے کے مقصد کو واضح کیا بتایا کہ سب کا خالق و مالک ایک ہےاس کا کوئی شریک نہیں وہی عبادت و پرستش کے لائق ہےدنیا کا نظام اسی کے دم سےہےہر شئےاسی کی حکومت و حاکمیت ہے موت و حیات کا وہی خالق ہےنفع و ضرر کا وہی موجد ہے اس کی مرضی کے بغیر نہ کوئی پتہ ہل سکتا ہےنہ کوئی قطرہ گر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شئےوجود میں آ سکتی ہے اس نے ایک مقصد کے تحت اور ایک وقت مقررہ دے کر انسانوں کو دنیاں میں بھیجا ہے اس کی اصل زندگی آخرت ہے جو لا محدود ہے آخرت میں خدا کا قرب اور انعامات کے حصول کا مدار دنیا میں خدا اور پیغمبر خدا کی تا بعداری پر موقوف ہےنبئ رحمت کی بعثت کا مقصد ہی انسانوں کو خدا کی مرضی بتانااور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی عملی صورت دکھانا ہے-

 

Understanding The Concept of Wahdatul Wajud Through Sufi Literature (1) نظریہ وحدۃ الوجود تعلیمات و اقوال صوفیاء کے آئینے میں‎
Misbahul Huda, New Age Islam

اے راہ سلوک کے مسافر اگر تجھے ہزاروں سال کی زندگی عطا کر دی جائے اور تو تمام عمر ہر طرح کی عبادات و ریاضات کی کشتی پر سوار ہو کرسلوک و معرفت کا راستہ طے کرتا رہے تو اگر چہ تو راہ حق میں اپنی جد و جہد اور ریاضت و مجاہدہ کے نتیجے میں بلند درجات حاصل کر لے اور کشف و کرامات کا حامل بن جائے، لیکن محبوب ازلی کی قربت و وصال اور ذات لم یزل کا مشاہدہ {جو کہ مقصود حقیقی ہے} اپنی خودئ موہومہ اور حجاب تعین کو مٹائے اور مقام فناء کے حصول کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جو کہ سلوک و طریقت کے تمام اشغال کے لیے چھلکا اتار کر مغز نکالنے کے مترادف ہے۔ {پیر مہر علی شاہ، قدسہ سرہ}

حضور پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی مبارک حیات طیبہ کے مختلف گوشے اہل اسلام کے لئے راہ ہدایت ہیں۔آپ کی پاکیزہ ، مجاہدہ ،عملی زندگی اور تحریک احیائے دین جو آپ کا مقصد حاات بھی تھی۔ پڑھنا ، سننا طالبان راہ حق کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ایمانیات ، تصوف ، اصلاح عقائد ،بندگی رب العزت اور بندگان خدا کو راہ راست پر لانا ، اسلام کا پیرو بنانا، احیائے دین کرنا جس کی بنا پر حضرت شیخ محی الدین کا لقب بھی ملا۔

 

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 14) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

گوشِ دل سے سن موحّد کا کلام

عالمِ لاہوت ہے جس کا مقام

گر ہے توحیدِ خدا تو بس یہی

کچھ نہیں ہے اور سب کچھ ہے وہی*

خیال رہے کہ وحدۃ الوجود کا مطلب قطعی یہ نہیں ہے کہ کائنات میں وجود حق تعالی کے علاوہ کسی بھی طرح کا کوئی عارضی یا اعتباری وجود بھی نہیں ہے اس لیے کہ وحدۃ الوجود ایک حال کا نام ہے۔ جب کسی سالک کی نظر منبع انوار اور مصدر کائنات پر ہوتی ہے تو ماسوائے ذات حق کے علاوہ نہ ہی اس کی نگاہوں میں کچھ ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کسی کی خبر ہوتی ہے۔ اور جس کی نظر اس ذات وحدہ لاشریک کی تجلیات پر ہوتی ہے اسے کثرت میں بھی وحدت نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سالک اس خاص مقام پر پہنچتا ہے تو وہ لاموجود الا ھو کی صدائیں بلند کرنے لگاتا ہے۔ اسی لیے عرفاء اور صلحاء نے یہ کہا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں وحدۃ الوجود کو نہیں سمجھ سکتا جو ذات حق میں فنائیت کے اس مقام کو حاصل نہ کر چکا ہو، کیوں کہ اس پر ماسویٰ اللہ سے غفلت کی وہ کیفیت ہی طاری نہیں ہوگی۔

 

Every Good Deed is Valued near Allah  اللہ کے نزدیک ہر نیک عمل قابل قدر ہے
Maulana Asrarul Haq Qasmi

اسلام نے اپنے ماننے والوں کی تربیت ایسی کی ہے کہ وہ اعمال خیر کے خود بھی عادی ہو جائیں اور معاشرے میں اسے پھیلانے کا بھی سبب بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو ایسے کاموں پر ابھارنے کے لیے خود بھی ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے او رانہیں تلقین کرتے تھے ۔ کبھی کبھی انہیں رغبت دلانے کے لیے گزشتہ قوموں کے نیک لوگوں کے قصے بھی سناتے تھے ۔ صحابہ بھی وقتاً فوقتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ اجر والا اور بہتر ہے اور موقع کی مناسبت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مختلف جواب دیا کرتے تھے ۔

 

تصوف کہتا ہے کہ خدا ایک ہے۔ اس کی نظر میں اس کے سارے بندے ایک ہیں ۔ اللہ سے محبت ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔ محبت ہی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے ۔ جو انسان اس محبت کو پا لیتا ہے اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔ صوفیہ نے اپنے پرائے کے دائرے سے باہر نکل کر پوری دنیا کو بھلائی کے لئے انسانیت پر زور دیا۔ انہوں نے کسی بھی تفریق سے اوپر اٹھ کر انسان کے دلوں کو جوڑ نے کا کام کیا۔خدا کو حاصل کرنے کے لئے جوگی بننا ضروری نہیں ہے ۔ گھر گرہستی میں رہ کر بھی خدا سے رشتہ جوڑا جاسکتا ہے۔

 

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 13) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

اس کا تعلق عالم تجربات و مشاہدات سے ہے۔ جنہوں نے عبادات و ریاضات اور سخت مجاہدات کی پر خار وادیوں پر چل کر اس کا تجربہ کیا وہ غریق بحرِ وحدۃ اور اسیر بارگاہِ احدیت ہوئے۔ اور ان کی ذات سے علوم و معارف کے ایسے ایسے چشمے جاری ہوئےکہ آج تک سالکانِ راہ حق ان سے سیرابی حاصل کر رہے ہیں اور ان کے نقوش قدم کو مشعل راہ بنا کر سلوک و معرفت کی منزلیں طئے کر رہے ہیں۔ اور جو محض عقل و استدلال اور الفاظ و معانی کے پیچ و خم میں الجھے وہ اب تک اسی میں الجھے ہیں اور "نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن" کے بھنور میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ آج تک کوئی حکیم اور کوئی داناں انہیں اس کیفیت سے نجات نہ دلا سکا۔

 

Evolution Of  Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 12) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

جب کوئی بندہ مومن فرائض عبادات کے علاوہ راتوں کی نفلی عبادتوں کے ذریعہ ذات حق تعالیٰ کے ساتھ رشتہ محبت قائم کر لیتا ہے تو اس پر اللہ کا یہ انعام ہوتا ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو زندہ کر دیتا ہے اور انہیں چشم بصیرت عطا کر دیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ ہر وقت اس کے دل میں اللہ کا جلوہ موجزن رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے مناجات کرتا ہے تو اس کا جلوہ اس کی نگاہوں میں ہوتا ہے اور جب وہ اللہ  سے ہم کلام ہوتا ہے تو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور علم و عرفان اور کشف و مشاہدہ کا یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ وحدۃ الوجود کا جنم ہوتا ہے۔

 

Muslims Need To Introspect Abandoning Thier Negative Mindset مسلمانوں کو منفی ذہنیت ترک کر کے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت
Dr. Mohammad Manzoor Alam

مسلمانوں میں 72 فرقوں کی بات کہی جاتی ہے او ربتایا جاتا ہے کہ ایک فرقہ بر حق ہے باقی سب ناحق ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ کون سا فرقہ جنت میں جائے گا کیونکہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا لیکن بحیثیت داعی امت کے ہمارا نظر یہ کیا ہونا چاہئے او راس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کیا ہے۔ کیا ہم ان دیگر فرقوں سے ایشوز کو لے کر نبردآزما ہوجائیں اور ساری قوت اس بات پر صرف کردیں کہ ہم حق پر ہیں اور دوسرا حق پر نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہےکہ یہ اسلامی تعلیمات اور انسانی سوچ کے خلاف ہے ۔

 

Evolution Of  Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 11) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

اگر خالص علمی  نقطہ نظر سے ان دونوں آیتوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں اللہ رب العزت نے خود ہر شئی  کو مرتبہ  فناء یا حالت عدم میں رکھا ہے اور قرآن میں اس کا اعلان بھی فرمایا ہے۔ اور وہ اس طرح ہے کہ جب اللہ نے فرمایا "کل شئی" یعنی ہر شئی، تو ہم نے ہر شئی کا وجود مان لیا۔  اب اگلا لفظ ہے "ھالک" جو کہ عربی گرامر کی رو سے اسم فاعل ہے اور   اس کی شرط یہ ہے کہ شئی کی شئیت پر فاعل کی صفت یعنی "ہلاکت" کا ورود ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی صورت یہ ممکن ہی نہیں کہ جس شئی کو "ھالک" یعنی ہلاک ہونے والا کہا گیا اس کا وجود صفت ہلاکت کے ساتھ قائم نہ ہو۔اور ہلاک ہونا معدوم ہونے کی ہی ایک صورت ہے۔ اور مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ما سواء اللہ کائنات کی ہر شئی کے اندر ہلاکت یا معدومیت پائی جاتی ہے اور یہی اس کی حقیقت بھی ہے۔لہٰذا، ثابت ہوا کہ  اس کائنات میں حقیقی وجود صرف ذات حق تعالیٰ کا ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام چیزیں "معرض ہلاکت" میں ہیں۔

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 10) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

اور صوفیائے اور عرفاء فرماتے ہیں کہ جب کوئی انسان نفلی عبادات اور سخت ریاضات و مجاہدات کے ذریعہ نفس کو مار کر اس کے علائق اور اس کی کثافتوں اور شقاوتوں کو دور کر دیتا ہے تو وہ جلوہ ذات حق کا بلاحجاب مشاہدہ کرتا ہے۔ گویا کلمہ شہادت زبان سے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنا ہے اور نظریہ وحدۃ الوجود  روحانی حقائق و معارف اور باطنی اسرار و رموز کے مشاہدے  کی بنیاد پر اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے۔ جس کا اعلان حضرت شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی(637ھ/1240ء) نے ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے: "الحق محسوس والخلق معقول"۔ حقیقی وجود تو صرف ذات حق تعالیٰ کا ہے اور باقی تمام مخلوقات حقیقت کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں صرف سمجھ کاپھیر ہے۔

 

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 9) تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

نظریہ وحدۃ الوجود کی اشاعت کرنے والے ان صوفیا٫ اور عرفائے کاملین کے اقوال چونکہ ان کے باطنی احوال اور ان کی روحانی کیفیات اور کشف و مشاہدات پر مبنی تھے، لہٰذا "محو"، "استغراق"، "فنا"، "فنا٫ الفنا٫" اور "اتحاد بذات حق" کا تصور پیش کرنے والے اور خود کو اہل باطن کہنے والے طبقہ صوفیاء کا ٹکراوَ وضو، غسل، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، بیع و شریٰ، احکامِ قصاص اورتقسیمِ میراث وغیرہ ظاہری شرعی مسائل سے بحث کرنے والے "اہل ظاہر" علما سے ہونا ناگزیر تھا۔ ان دونوں کے درمیان کشمکش اور تصادم کی انتہاء تب ہوئی جب حسین بن منصور حلاج [متوفی 244 ہجری] نے "انا الحق" کا نعرہ بلند کیا۔ جس سے ان کی مراد "اتحاد بذات حق" تھی۔ لیکن توجیہ و تعلیل کی تمام تر گنجائشوں کے با وجود ارباب شریعت نے ان پر کفر و الحاد کا فتویٰ لگایا اور "اتحاد بذات حق" اور "حلول" کا قول کرنے کی وجہ سے انہیں زندیق کہا اور اسی جرم میں انہیں296 ھ۔ بمطابق 910ء میں پہلی مرتبہ گرفتا کیا گیا

 

Evolution Of Wahdatul Wajud Throughout The Islamic History (part: 8)  تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

لیکن ایسا قطعی نہیں ہے کہ تصور وحدۃ الوجود کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود ہی نہ ہو۔ مثال کے طور پر نظریہ وحدۃ الوجود کی تائید میں یہ حدیث قدسی بہت مشہور و معروف ہے: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ ۔جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا (کشف الخفاء، حدیث: 6530، جلد:2، ص:234)۔چونکہ محدثین نے اس حدیث کے ضعف کا قول کیا اور  ناقدین تصوف نے اسے بنیاد بنا کر اس نظریے کو ہی مسترد کرنے کی سازشیں کیں اسی لیے صوفیاء اور عرفاء اس حدیث کے معنیٰ کو نص قرآنی سے مؤید کرنے کے لیے اس آیت کا حوالہ پیش کرتے ہیں: وَفِیْ الْأَرْضِ آیَاتٌ لِّلْمُوقِنِیْنَ ط وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ(الذاریات:21-20)۔ ترجمہ: "اور زمین میں صاحبانِ ایقان (یعنی کامل یقین والوں) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟" (ترجمہ: عرفان القرآن)۔

 

Evolution Of Wahdaul Wajud Throughout The Islamic History (part: 7)  تاریخ اسلام میں تصورِ وحدۃ الوجود کا عروج و ارتقاء
Misbahul Huda, New Age Islam

چونکہ یہ دور تاریخِ اسلام میں مختلف علوم و فنون کے عروج و ارتقاء کا دور تھا اور اسی دور میں اسلامی تعلیمات کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا اور ان کی بہت سی شاخیں جن کی حیثیت جزئیات کی تھی مستقل علوم و فنون کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آ رہی تھیں اسی لیے انہوں نے نظریہ وحدۃ الوجود کی جو  تاویل دنیا کے سامنے پیش کی وہ بالکل نئی تھی اور ا س کی جو تعبیرات و تشریحات پیش کیں وہ اسلامی تصوف کے مختلف ابواب بنتے گئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ "فنا و بقا"، "وصل و فصل"، "جذب و استغراق"، "سکر و صحو" اور "اتحاد بذات حق تعالیٰ" وغیرہ جیسی بے شمار جدید اصطلاحات معرض وجود میں آئیں، جن کا ہم آئندہ مضامین میں تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔

Understanding The Concept Of Wahdaul Wajud (part: 6)  تصورِ وحدۃ الوجود کے متعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

اور اب اس امت کے قائدین اور زعماء اور ان کی جماعتوں اور ان کی تحریکوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ایک سنگل پوائنٹ ایجنڈا (single point agenda) یک نکاتی خطوط پر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور انہوں نے اپنی پوری توانائی صرف کسی ایک نقطہ (point) پر مرکوز کر کے امت کے نوجوانوں کی ذہن سازی (brain washing) شروع کر دی ہے۔ جو کہ آج سب سے آسان کام ہے۔ کم علم اور کم صلاحیت رکھنے والے نام نہاد قائدین بھی اس تحریک کو بحسن و خوبی انجام دے سکتے ہیں۔ مگریہ دین اسلام کے ساتھ جو کہ دین رحمت ہے، سب سے بڑی عداوت ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں پوری قوم تباہی و بربادی کے دہانے پر چلی جاتی ہیں اور اس میں کئی کئی نسلیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ آج پورا عالم اسلام جس آگ میں جل رہا ہے وہ اسی فرقہ پرستی کی چھوٹی سے چنگاری سے پیدا ہوئی ہے۔ اور فرقہ پرستی کی یہ آگ اتنی شدید ہے کہ اس میں عالم عرب کے نہ جانے کتنے ممالک اور کتنی مملکتیں جل کر خاکستر ہو گئیں اور اسی فرقہ پرستی کی زد میں آکر اتنی نسلیں تباہ ہو گئیں، اتنی نوجوانیاں برباد ہو گئی اور اتنی عصمتیں لُٹ گئیں کہ جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا۔

 

تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ ہمارے اسلاف ہر قسم کی علمی سر بلندی حاصل کرنے میں پوری زندگی مصروف رہے او رہدایات دین پر سختی سےعمل کے ساتھ سائنسی تحقیق و ریسرچ میں وہ مثالیں پیش کیں کہ جس کا تصور کر کےبھی آج کا تعلیم یافتہ سماج دانتوں تلےانگلی کاٹنے پر مجبورہوجاتا ہے کہ ‘‘ایسے  دور میں جب ممکنہ و سائل بھی دستیاب نہیں تھے، ان مسلم اکابرین سائنسدانوں نے کس قسم کی حوصلہ آزمالگن کے نتیجے میں الجبرا سے لے کر علوم  و فلسفہ ، علم ہیئت او رعلم الابدان کے شعبے میں مہارتیں ہی نہیں بلکہ عقل  کو حیرت زدہ کردینے والے ایجادات پیش کئے ہوں گے ’’۔

 

Understanding The Concept Of Wahdaul Wajud (part: 5)  تصورِ وحدۃ الوجود کے متعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

اگر یہ خدشہ مانع نہ ہوتا تو میں اس مسئلہ وحدت وجود کو متکلمین کے ہفوات چھوڑ کر محدثین کے اقوال و اشارات اور دلائل عقلی و نقلی سے اس طرح ثابت کرتا کہ علمائے ظاہری میں سے کسی کو اس سے انکار نہ ہوتا اور وہ اس کے خلاف میں لب کشائی کی کوشش نہ کر سکتا مگر کیا کیا جائے مصیبت تو یہ ہے کہ جو ارباب رسوم ہیں وہ الفاظ و معانی سے بیگانہ رہتے ہیں اور جو ارباب علم ہیں ان کو تَفَننِ عبارات کی طرف توجہ رہتی ہے نہ معانی کی طرف ورنہ اگر حقیقۃً دیکھا جائے تو اس میں کوئی ما بہ النزاع بات نہیں ہے۔ الاکل شئی ماخلا اللہ باطل۔ اس سے بڑھ کر نادانی کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی ہر مرتبہ اور ہر حال میں احکام وجود کا منکر ہو اور ہمہ اوست کے معانی نعوذ باللہ شریعت سے آزاد ہونا سمجھے"۔ (بحوالہ: ماثِر صدیقی، جلد 4، صفحہ 38 تا 40۔ مصنفہ: نواب سید علی حسن خان۔ شائع کردہ جمعیۃ اہل سنۃ لاہور۔ طبع جدید 1991)۔

 

Understanding The Concept Of Wahdatul Wajud (part:4)  تصورِ وحدۃ الوجود کے متعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

نواب سید صدیق حسن بھوپالی مرحوم کا بیان ہے کہ: "بہر حال اس مسئلہ وحدۃ الوجود کا سارا دار و مدار حضرات صوفیہ کے کشف و شہود پر ہے اور علماء اور صوفیہ نے اس کے متعلق بہت ساری کتابیں اور رسائل لکھے ہیں۔ مثلاً طبقات قادریہ میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی۔ شیخ صدر الدین انوی۔ شیخ عبد الکریم جیلی۔ شیخ عبد الرزاق جہجانوی۔ شیخ امان اللہ پانی پتی۔ اور طبقہ کبرویہ میں شیخ جلال الدین رومی۔ شیخ شمس الدین تبریزی۔ طبقہ نہروریہ میں شیخ فرید الدین عطار ۔ طبقہ چشتیہ میں سید محمد گیسو دراز۔ سید جعفر بنکی۔ طبقہ نقشبندیہ میں خواجہ عبد اللہ احرار ۔ ملا نور الدین جامی۔ملا عبد الغفور لاری۔ خواجہ باقی باللہ کابلی۔ شیخ عبد الرزاق کاشی۔ شمس الدین فناری۔ قیصری۔ سعد الدین فرغانی وغیرہ گزرے ہیں"۔

 

Radicalism Under The Banner Of Islam - Part 1  اسلام کے نام پر بنیاد پرستی اسلام کو ایک شیطانی فرقے میں تبدیل کرنا ہے
Muhammad Yunus, New Age Islam

کچھ مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ 9/11 کے بعد سے یورپی ممالک اور امریکہ کے تمام بڑے دہشت گردانہ حملوں میں بمشکل ایک سو دہشت گرد ہی ملوث پائے گئے ہیں جن کی تقریبا دو سو ملین کی آبادی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے لہٰذا، اس صورت میں مندرجہ بالا تبصرہ کا جواز پیدا نہیں  ہوتا۔ تعداد کی کمی سے قطع نظر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان شخص ممکنہ طور پر بنیاد پرستی کا شکار ہو سکتا ہے  اور تن تنہاء یا بمشکل چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر  کہیں بھی کسی بھی وقت کسی گروہ کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک میں ایک خونی دہشت گردانہ حملہ انجام دے سکتا ہے۔

 

Understanding The Concept Of Wahdaul Wajud (part: 3)  تصورِ وحدۃ الوجود کے متعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

اور کشف و مشاہدے کی یہ کیفیت تسلسلِ ریاضت و مجاہدہ کی وجہ سے جب کسی عارف کے حال میں تبدیل ہو جاتی ہے تو پھر اس کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ کہنے لگتا ہے:

دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار

جب ذراگردن جھکا ئی دیکھ لی

نیز:

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر

اتر پڑا مدینے میں مصطفی ہو کر

مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی عارف عبادت و طاعت اور ریاضت و مجاہدات کے بازو وپَر سے پرواز کرتا ہوا سلوک و تصوف میں ایک خاص مقام، مقام جمع پر جا پہنچتا ہے اور  پھر اس مقام پر میسر ہونے والی روحانی اور ملکوتی کیفیات کو ریاضت و مجاہدات میں ثابت قدمی اور استقلال کے ذریعہ اپنے حال میں تبدیل کر لیتا ہے تو اس کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر لمحہ جلوہ حق کے مشاہدہ میں گم رہتا ہے، اور جب اس پر اس کے اس حال کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ کائنات کی ہر شئی کا انکار کر دیتا ہے اور  صرف وجود حق کی تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے، اس کا قرار کرتا ہے اور پھر اس کا اعلان بھی کرتا ہے۔

 

Understanding The Concept Of Wahdaul Wajud (part:2)  تصورِ وحدۃ الوجود کے متعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

بالکل یہی حال تصورِ وحدۃ الوجود کا ہے۔ جب ایک سالک، ایک صوفی اور ایک عارف دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر ریاضت و مجاہدات کے ذریعہ مادی علائق سے خود کو پاک کر لیتا ہے، اسرار باطنی پر توجہ کرتا ہے اور دریائے عرفان و معرفت، کشف و روحانیت اور ملکوتیت کے موج ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہوتا ہے تو اس کائنات رنگ و بو کی تمام مخلوقات کے ظاہری اجسام موجود ہوتے ہوے بھی اس عارف کامل کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ ان تمام کے باطن میں صرف ایک ذات حق کی تجلیات کو رواں دواں دیکھتا ہے اور یکلخت یہ صدائیں بلند کرتا ہے کہ ہر شئی میں وجودِ حق کے ظہور کی جلوہ نمائی ہے اور اس کائنات کی تمام تر کثرتِ موجودات میں صرف ایک ہی وحدۃ یعنی تجلی ذات حق جلوہ گر ہے۔

 

Understanding The Concept Of Wahdaul Wajud (part: 1)  تصورِ وحدۃ الوجود کےمتعلق مغالطے اور ان کا علمی تدارک
Misbahul Huda, New Age Islam

لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وحدۃ الوجود کا تصور اپنے دامن میں جہاں علوم معارف کے انمول جواہر سمیٹے ہوئے ہے، کہ جس نے مذہب و ثقافت سے پرے دنیا کے بے شمار عرفاء ، علماء، سالکین اور مفکرین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور جو آج بھی طالبین، سالکین اور عرفاء کو خامہ فرسائی کی دعوت دے رہا ہے، وہیں وحدۃ الوجود کا یہ تصور مختلف اسلامی مکاتب فکر کے درمیان سب سے زیادہ متنازع فیہ مسائل میں سے ایک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وحدۃ الوجود کا تصور جہاں ایک جماعت کے لیے علم و معرفت اور سلوک و کمال کی ایک روشن دلیل ہے وہیں دوسرے گروہ کے نزدیک عین شرک ہے۔

Egotism And Arrogance Hide The Truth  غرور و تکبر  حق کی راہ کے روکاوٹ
Misbahul Huda, New Age Islam

بے شک شرک ایک گناہ عظیم ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ لیکن غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی کے اثرات شرک سے بھی زیادہ خطرناک اس لیے ہیں کہ شرک کا اعلاج ممکن ہے لیکن غرور و تکبر اور تمرد و سرکشی ایک ایسا کینسر ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ ممکن ہے کہ اگر علم اور دلائل کی روشنی میں اللہ کی وحدانیت کو پیش کیا جائے تو مشرک توحید پرستی کا قائل ہو جائے اور شرک سے باز آ جائے اور ایسا ہوا بھی ہے، لیکن جو غرور و تکبر کے نشے میں چور ہو اس کا ہدایت کو قبول کرنا غیر ممکن ہے۔ اور تاریخ بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ انبیائے کرام کی دعوت اور ان کی تعلیمات کو سب سے پہلے غرور و تکبر کی نخوت سے پاک عام اور سادہ ذہن لوگوں نے ہی قبول کیا ہے۔

 

Making Earthly Riches And Wealth Goal Of Life Leads To Jealousy  پر تعیش زندگی کے حصول کو مقصد حیات بنانا حسد اور بغض و عناد کو جنم دیتا ہے
Misbahul Huda, New Age Islam

کبھی کبھی انسان قدرت کے اس آزمائشی منصوبے سے غافل ہو جاتا ہے اور لا علمی اور نادانی کے سبب ان مادی اور عارضی نعمتوں کو دائمی سمجھ بیٹھتا ہے اور حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآن نے یہ امر بالکل واضح انداز میں بیان کر دیا ہے کہ قدرت کسی کو نعمتوں سے نواز کر آزماتی ہے اور کسی سے نعمتیں چھین کر اور نعمتوں سے محروم رکھ کر آزماتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے "وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ"۔ ترجمہ: "اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔ (ترجمہ: عرفان القرآن)" انسان جس لمحے ان دنیاوی نعمتوں کو حقیقی  اور مقصود حیات سمجھ لیتا ہے اور ان کے حصول کو کامیابی و کامرانی اور ان سے محرومی کو ناکامی و نامرادی سمجھ لیتا ہے، اسی لمحے انسان ان دنیاوی مال و متاع کی محبت اور حرص میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں بغض و حسد کی چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • We need not bother about who rules Jarusalem, Jews or Palestines. We need not bother about who rules Mecca and Mathina....
    ( By dr.A.Anburaj )
  • If someone following both tents , Islam and Hinduisium. Than Mr writer can you tell,me how can you tell that Nund Rushi...
    ( By Aayina )
  • To Writer We Hindus of India had now known this Fusion confusion technique. 1) Step one of conversion....
    ( By Aayina )
  • interesting article. thank you!'
    ( By haan ji )
  • aah, at last Gulam Mohyuddin. You get want you want, a bashing from Tufil Ahmed to BJP...
    ( By Aayina )
  • A Anburaj. Is your logic applies to People of Sub-continent lived in Arab counties since last 4 to 5 decades and made...
    ( By Aayina )
  • Naseer Sahib, Please do not impose blasphemous and murtaddana thoughts.
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • How about India. Why they fight for mosque, it has no connected history to Arab, but thistory...
    ( By Ayina )
  • I have personally witnessed when I was young how Muslim man lured a married hindu girl ans runaway....
    ( By Aayina )
  • When new relgion comes its Moslty plagerisim of old relgion. The only difference is that the new plagerisim person gives lots...
    ( By Aayina )
  • Naseer sab says to Ghaus sab, "If you worship a god that stereotypes all the mushrikin as the worst of creatures, or all of them ...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Thoughtful article.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Ghulam Ghous Sahab, I have never said that all the mushrikin are kafir or every mushrik is a kafir. So why someone is hell-bent to ...
    ( By muhammad yunus )
  • Ghaus Sb, You can ask Yunus sb to clarify to you why every Mushrik is not a Kafir. I have explained this time and again and ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Another example of a single min covering both wives and offspring (25:74) And those who pray, "Our Lord! Grant unto us from among our wives ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Naseer sahib, This faith of all Muslims is so clear that even you can’t create any sort of confusion in their faith. That ....
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, After reading the previous comments in which i quoted some verses of the Quran, Please read now these verses of the Quran: “It is Allah ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, In the beginning of the debate, i asked about your purpose behind holding this sort of debate on this site. But you did ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, Please read the following verses of the Quran; Allah the Most High says, “Allah is Creator ....
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, I am right when i say to you, “You can never show any verse of the Quran which categorically or clearly says that ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, You are falsely accusing me and Yunus sahib of lies. What you are doing in the last some comments is imposing blasphemous thought of ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, you say, “Please do not bring down Allah to your level of incompetence, incoherence and inconsistency.” (End of quote) The person who has this sort ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sab says to Ghaus sab: "You and Yunus sb are among the following who will say and about whom the Prophet (pbuh) will say: ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Ghaus sb, You have said “It appears that you do not know the rule of the particle “min” is used in various ways in the Arabic ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • The civil, honest and learned responses of Yunus sab and Ghaus sab are in direct contrast to Naseer sab's self-promoting, snotty....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Unless we have another Gandhi soon, we shall soon...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Pakistan is an extreme example of how a country can be...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Let us hope Indian Muslims are not stupid enough to heed the poisonous calls to action of hate groups such as Ansar Ghazwa-tul-Hind.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sahib, please see how Mutazilite (i.e. Rational) book of tafsir (Tafsirul Kashshaf) interprets the verse of Surah Bayyinah (98:1) and hence it also rejects ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Dear Muhammad Yunus Sahib, Your explanation is commendable. That is enough for any honest reader to understand the context ....
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Dear Naseer Sahab, I am getting increasingly concerned about you because for some reason you are repeatedly suggesting that I have said the Qur'an treated all ...
    ( By muhammad yunus )
  • Naseer sahib, The reason can be perfect or corrupt, depending on the way as to how the human being takes it. The example of corrupt ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sahib, You say to me, “Please confine yourself to the Divine Speech and give me an example from the Quran where min is used ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Naseer sab's responses to Ghaus sahib and Yunus sahib are rude, arrogant and highly presumptuous. Actually it is Naseer sab who degrades the speech of ...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yunus Sb, Can we first clear up your integrity issue or have you accepted that you are given to deliberate and blatant lying as you have ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Ghaus Sb, Please confine yourself to the Divine Speech and give me an example from the Quran where min is used differently. If you cannot, then ...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Dear Ghulam Ghous Sahab, Your explanation of the verse 98:1 in your last comment was scholarly. What I meant in the opening sentence of my last ...
    ( By muhammad yunus )
  • Naseer sab says, "either provide the evidence or invoke the curse of Allah on yourself if you are wrong," and, "The Muslims....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A perceptive and well-informed article from Srijana Mitra Das.'
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Achieving gnosis is the goal of staunch Sufis. Not all Muslims are Sufis and not all Sufis are staunch Sufis. For most...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )