FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

خالق  حقیقی کی ماہیت کا مخلوق سے مختلف ہونا ضروری ہے اس لئے کہ اگر دونوں کی ماہیت ایک ہی ہو تو خالق  حقیقی کا  عارضی اور فانی ہونا لازم آئے گا جو کہ ایک خالق  کا محتاج  ہوگا ۔ اگر خالق  حقیقی عارضی اور فانی نہ ہو تو وہ ضرور ابدی ہو گا ۔ لیکن اگر وہ ابدی ہے تو مسبب نہیں بن سکتا ،  اور اگر اس کے وجود اور اس کے وجود کے دوام   کا کوئی خارجی  سبب نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کفیل ہے ۔  اور اگر وہ اپنے وجود کی بقاء  میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے تو پھر اس کے وجود کی کوئی انتہاء نہیں ہے ۔ خالق حقیقی  ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا : ‘‘وہی (خدا ) اول بھی ہے اور آخر بھی ۔’’

 

Insensitive Rulers andTerrorism in Muslim Countries مسلم ممالک میں تشدد پر حکمرانوں کی بے حسی
Asad Raza

عراق و لیبیا میں بھی دہشت گرد بے قصور لوگوں کو مسلک اور قبیلے  کے نام پر ہلاک کررہے ہیں ۔ تقریباً ہر روز عراق  میں بم دھماکوں  کے ذریعہ معصوم بچوں و بڑوں کو لقمۂ اجل  بنایا جارہا ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عراق  میں جو کچھ دہشت مغربی و صیہونی ایجنٹ  پھیلارہے ہیں ، اسے امریکی و مغربی میڈیا مسلکی  رنگ دے رہا ہے ۔ بعض عرب حکمراں بھی اس مغربی پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں ۔

 

Islamic Perspectives on Extremism and Moderation اسلام کے  تناظر میں انتہاءپسندی اور اعتدال پرستی
Tariq A.Al Maeena

اس  دستاویز  میں تمام مسلمانوں سے ہر جگہ مثبت اقدامات ، دینیات کی تعمیری گفتگواور  ایسے مبلغین کا سامنا اور ان کی تردید  کرنے کی آمادگی کے ذریعہ  ہر قسم کے انتہاء پسندوں سے مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ‘جو اپنے سیاسی اور سماجی ایجنڈوں میں پیش رفت کرنے کے لئے مذہب کی شبیہ خراب کرتے ہیں ’۔ اس دستاویز کا بیان ہے کہ ‘‘انتہاء پسند اسلام کی  خارجی شبیہ کا تعین کر رہے ہیں ، اور مرکزی  دھارے میں شامل ان لوگوں کو دفاعی صورت حال میں ڈال رہے ہیں جو  اسلام کے حقیقی پیغام کا شدت  کے ساتھ اشتراک چاہتے ہیں۔ انتہاء پسندوں کی آواز بہت بلند ہے ؛ ان کی آواز کو جھوٹے ہی سہی لیکن فوری طور پر  اختیارات حاصل ہوتے ہیں ، اس لئے کہ وہ مذہب کے لبادے میں ملبوس ہیں ۔ اس آواز کی  خطرناک توانائی یہ ہے کہ یہ لوگوں کو مذہبی برتری اور اختیار کے جھوٹے دعوے کے ساتھ گمراہ کرتی ہے ۔’’

 

Pakistan: A Glimpse of a Deepening Crisis پاکستان ۔گہرے ہوتے ہوئے گرداب کی ایک جھلک
Mujahid Hussain, New Age Islam

ماہرین جس بات سے خوفزدہ ہیں وہ وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی جماعت کی طرف سے مقامی انتہا پسندوں کی جانب واضح جھکاؤ اور نرم لہجے کا برتاو ہے جس کی کئی مثالیں پنجاب اور مرکز میں دیکھی جاسکتی ہیں۔مثال کے طور پر نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنی پچھلی حکومت کے دوران مقامی طالبان سے درخواست کی تھی کہ وہ پنجاب کو اپنے حملوں کا نشانہ نہ بنائیں۔اس کے بعد پنجابی طالبان کے ایک اہم رہنما اور فرقہ پرست گروپ کے سربراہ ملک محمد اسحاق کو سینکڑوں سنگین مقدمات کے باوجود رہا گیا، ایسے واقعات کے بعد پنجاب حکومت کو ’’انتہا پسند دوست‘‘حکومت کا خطاب دیا گیا۔

 
Reconciliation is Best مصالحت بہتر ہے
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

Reconciliation is Best مصالحت بہتر ہے
Maulana Wahiduddin Khan

قرآنی تعلیمات سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی عمل کو مناسب سمجھنے کے لئے اسے بظاہر ایک اچھے مقصد کے لئے انجام دیا جانا کافی نہیں ہے ۔ اسکے علاوہ  اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اصلاح کے نام پر ان سرگرمیوں کے نتائج کیا ہیں ۔ اور اگر  وہ سرگرمیاں ، نفرت ، کشیدگی اور تشدد وغیرہ کو جنم دیتی ہیں تو ان سرگرمیوں کے بارے میں اگر چہ اصلاح پسند ہونے کا جتنا بھی دعویٰ کیا جاتا رہے در حقیقت وہ اصلاح پسند نہیں  ہیں بلکہ وہ تخریبی اور تباہ کن سرگرمیاں ہیں جن سے زمین پر فساد پیدا ہوتا ہے۔جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں وہ یقیناً نہ تو مصلح ہیں اور نہ ہی انسانیت کے خادم ہیں بلکہ وہ مجرم ہیں اور پوری انسانیت کےدشمن ہیں ۔

 
Let’s Stop Calling Them Muslims انہیں مسلم کہنا چھوڑ دیں
Robert Salaam, Tr. New Age Islam رابرٹ سلام

Let’s Stop Calling Them Muslims انہیں مسلم کہنا چھوڑ دیں
Robert Salaam

مسلمانوں کا کردار ایسا ہونا چاہئے کہ وہ  ایسے مقامات کی حفاظت کریں جہاں خدا کی تسبیح و تحلیل کی جاتی ہے خواہ وہ کلیسا ہو ، یہودیوں کی عبادت گاہ ہو ، مندر ہو یا مسجد ہو ۔ مسلمانوں کا اخلاق ایسا ہونا چاہئے کہ  جن کے درمیان ان کے پڑوسی خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم خود کو محفوظ و مامون محسوس کریں ۔ یہ تمام اسباق 2001 میں میں نے اس وقت سیکھے جب مسلمانوں نے نیویارک امریکہ اور واشنگٹن ڈی سی پر حملہ کر کے اسلام کے بالکل  خلاف اپنا کردار ظاہر کیا۔

 

Perceptions about Islam: What Needs to be Done اسلام کے بارے میں بدگمانیاں : کس سمت میں قدم اٹھانا ہے  ضروری ؟
Maulana Wahiduddin Khan

ایسی صورت حال میں  اس قسم کے  مسلمانوں کے لئے ایک بہترین موقع موجود ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اس موقع پر اسلام کے نام پر کی گئی دہشت گردی سے مکمل طور پر بیزاری کا اظہار  کر سکتے ہیں اور غیر مسلموں کی مجلس میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کر سکتے ہیں ۔ دلچسپی کی بات ہے کہ میں یہی کام کر رہا ہوں ۔ انہیں لوگوں کو یہ بتانا چاہئے کہ انہیں اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق پیدا  کرنے اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنے  کی ضرورت ہے اور اس کا بر عکس نہیں۔ اس قسم کی صورت حال مسلمانوں کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ گفتگو اور  دعوت و تبلیغ کا آغاز کرنے  کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے ،  جو کہ لوگوں کو راہ خدا کی طرف بلانا ہے ۔ جب لوگ منفی انداز میں بھی اسلا م کے بارے میں باتیں کریں تو انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں ۔

 

Hefazat-e-Islam’s threat of civil war in Bangladesh حفاظت اسلام کی بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کی دھمکی: اعتدال پسند اسلامی روایتیں کہاں کھو گئیں؟
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ درگاہوں  سے منسلک صوفیوں کے ذریعہ چلائے جانے والے مدارس کی تعداد بہت کم ہے ۔ ان مدارس کے پاس کوئی بڑا  فنڈ نہیں ہے ، ان مدارس میں اساتذہ کو اچھی تنخواہیں نہیں ملتیں ، یا ان کے پاس کوئی اچھا انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) نہیں ہے   اور نہ ہی طلباء کی مدد کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی بڑا فنڈ ہے ۔

پیٹرو ڈالر کی فنڈنگ  اور سعودی کتابیں وہابی ، اہل حدیثی ، سلفی، دیوبندی اور جماعت اسلامی کے مدارس کو فراہم کی جاتی ہیں ۔ بلاشبہ جماعت اسلامی کے مدارس  میں مولانا مودودی  کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ ان تمام  مدارس میں ابن تیمیہ ، محمد ابن عبدالوہاب نجدی اور بعد کےوہابی نظریہ سازوں کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن غیر وہابی مدارس میں نصابی کتاب کے طور پر وہ کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں وہاں بھی وہ کتابیں ان کی لائبریریوں میں مہیا کرائی جاتی ہیں اور تقابل ادیان جیسے کورس کرنے والے طلباء کے نصاب میں یہ کتابیں شامل کی جاتی ہیں ۔

 

لفظ تعلیم و تربیت دو اجزاء سے مرکب ہے۔ ایک تعلیم ، یعنی زندگی گزارنے  کے لئے بنیادی اوصاف کا شعور دینا ، سکھانا ، پڑھانا اور معلو مات بہم پہنچانا ہے اور دوسرا لفظ تربیت ہے جس سے  مراد پرورش کرنا، اچھی عادات  ، یعنی فضائل اخلاق سکھانا اور ذائل  اخلاق سے بچانا اور بچوں  میں خدا  خوفی اور تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔ لہٰذا  تعلیم اور تربیت دونوں اسلام میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

 

وادی سندھ کے لوگ اپنی ہم عصر سومیری، مصری اور دیگر تہذیبوں کے بر عکس انتہائی امن پسند اور صلح جو لوگ تھے۔ انہوں نے کبھی کسی نزدیکی ملک پر حملہ کر کے لوٹ مار یا قتل عام نہیں کیا تھا، لیکن اس کے برعکس انہیں بہت سے غیر ملکی لٹیروں کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں ایرانی، یونانی اور عرب سر فہرست ہیں۔

 

The True Meaning Of Jihad: Refutation Of Extremist Islamist Ideology By Ulema And Sufis جہاد کی صحیح تعبیر : جہاد کے متعلق علماء اور صوفیاء کے نظریات
Ghulam Ghaus, New Age Islam

‘‘ایک طرف مصلحت ، ہوشمند ہی اور دور اندیشی پر مبنی اسلامی قوانین کا ایک واضح اور واشگاف مجموعہ موجود ہے تو دوسری طرف ہر جگہ   لوگوں ، بچوں  اور عورتوں کا کسی مذہب اور تشخص کا تمیز کئے بغیر بے دریغ قتل کرنے کے لئے اسلام کے نام کا استعمال کیا جا رہا ہے  ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب بھی  کچھ متشدد اور وحشی لوگ  اپنی سرگرمیوں کو جہاد قرار دیتے ہیں ۔ تضاد اور تناقص کی اس سے بڑی بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی جو آج  ہم اس روئے   زمین پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے جارحانہ اقدام ، ظلم و نا انصافی سے بھری سرگرمیوں اور مداخلت کے بدلے میں غیر مسلم شہریوں اور غیر ملکی نمائندوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنا اور ان کا قتل کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہو سکتا ۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اس کا اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی تعلق نہیں ہے  ’’۔

 

اسلام میں نماز کا حکم یک مشت نہیں آیا، بلکہ اس کا حکم بتدریج آیا، پہلے مکہ میں اور پھر مدینہ میں، یوں یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یثرب ہجرت کرنے کے بعد مکمل ہوئی، ہم دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں نماز دو رکعات پر مشتمل ہوتی تھی، جبکہ مدینہ میں ان کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور اس طرح یہ دو نمازیں ہوگئیں، نمازِ مقیم اور نمازِ سفر، اسی طرح مدینہ میں ایسی نمازیں بھی ادا کی گئیں جن کا حکم مکہ میں نہیں آیا تھا، یہ سب نبوت کی نیچر کی وجہ سے ہوا جو بتدریج مدینہ میں جاکر مکمل ہوئی، نماز اسلام کے اہم ارکان میں سے ایک ہے اور اسلام کی ترقی کے ساتھ اس نے بھی ترقی کی۔

لیکن دہلی کی ایک اسلامی تنظیم  جماعت اسلامی ہند کے نیشنل سکریٹری محمد سلیم انجینئر کے مطابق ہندوستان کا تقابل  دوسرے اسلامی  ممالک سے کرنا  غلط ہے ۔  ان کا کہنا ہے کہ ‘‘ تمام اسلامی ممالک  میں کما حقہ  اسلام پر عمل نہیں کیا جا تا اسی لئے ہم ان کی اندھی تقلید نہیں کر سکتے۔

تاہم ایک ایسے کونسل کا مطالبہ بڑھ رہا ہے جو اس بات کا تعین کرے کہ ایک مسلم مرد کو دوسری تیسری یا چوتھی شادی کرنی چاہئے یا نہیں ۔ عنبر نے اس بات پر زور دیا کہ ‘‘ ایسے کونسل کی ضرورت  شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے ’’۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘اگر دارالعلوم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مظلوم  عورتوں کے تئیں فیصلہ عدل و انصاف کے معیار پر کھرا نہیں اترتا  تو  سول کورٹ کا  رخ کرنے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے  ۔’’

 

Islamic Martyrdom and Talibani ‘Martyrs’ ‘شہادت کا اسلامی تصور اور نام نہاد طالبانی ‘شہداء
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

ماہ محرم الحرام اسلامی تاریخ  میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے ۔ یہی و مبارک و مسعود مہینہ ہے جس میں اسلام کو شر کے چنگل سے آزاد کرانے والے حسین ابن علی(رضی اللہ عنہما) نے  شہادت کے صحیح معنوں کو اجاگر کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمالیا ۔ لیکن آج بعض دہشت گرد ‘مجاہدین’ کے بھیس میں اپنا سر ابھار رہے ہیں جو بے گناہ شہریوں کا بے دریغ قتل کرتے ہیں، علماء وفضلائے اسلام کے سر قلم کرتے ہیں، مسلموں اور غیر مسلموں دونوں پر خود کش حملہ کرتے ہیں  اور پھر ان کی موت کے بعد ان کے مذہبی پیشوا انہیں ‘شہید’ کا درجہ دیتے ہیں ۔

 

مختلف مذاہب نے جن معاملات پر خصوصی توجہ دی ہے ان میں نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقاتِ کار بھی شامل ہیں، فرض نماز کے وقت کا تعین ایک اہم قضیہ ہے، کیونکہ نماز تب تک قبول نہیں ہوسکتی جب تک کہ اسے طے شدہ مخصوص مدت کے دوران ادا نہ کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ نماز کے وقت کا نماز سے گہرا تعلق اس وقت سے رہا ہے جب پہلے انسان نے نماز پڑھی تھی، زیادہ تر مذاہب نے شروق وغروب کے اوقات کو نماز کا وقت مقرر کیا، اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں قدیم انسان کا وقت کو شمار نہ کر سکنا اور ستاروں کی تقدیس خاص کر سورج اور چاند کیونکہ دن اور رات میں یہی سب سے نمایاں فلکیاتی اجسام ہوتے ہیں جو ظاہر اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔

بہت سے  دوسرے لوگوں کی طرح  مجھے بھی چہرے کو چھپادینے والے برقع اور پورے جسم کو ڈھانک لینے والے  لباس  برقع  کو دیکھ کر اشتعال  پیدا ہوتا ہے ۔ اسے اس طرح  بھی کہاجاسکتا  ہے کہ میں برقع  پر کلی طور پر پابندی میں یقین نہیں رکھتا ۔ تا ہم اس کے بدلے میں دی  جانے والی  سہولت  یہ ہے کہ ایسے وقت جب معاشرہ  میں ہر شخص  دوسروں  سے ان کی شناخت  کی توقع  رکھتا ہے ۔ تو نقاب پہننے والی  ایک خاتون  کو اس سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا ۔

 

بعض مذہبی انتہا پسند حلقوں نے تو حکیم اللہ محسود کو شہادت کا درجہ بھی عطا کردیا ۔ لیکن  مذہبی حلقوں سے قطع نظر خود حکومت کا موقف یہ تھا کہ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کر کے بات چیت کا راستہ ہی بند  کردینا  چاہا کیونکہ عنقریب مذہبی اسکالر ز کا ایک وفد محسود سے مل کر مذاکرات کے لئے دعوت نامہ پیش کرنے والا تھا ۔پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان تو کچھ اتنے برہم ہوئے کہ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ حکیم اللہ محسو د  کی ہلاکت کے بعد اب پاکستان ، امریکہ سے باہمی تعلقات  کے سوال  پر از سر نو غور کرے گا۔

 

Shared Values among Religions and the Call for Interfaith Dialogue مشترکہ مذہبی اقدار اور بین المذاہب مکالمہ
Ghulam Ghaus, New Age Islam

قرآن کا فرمان ‘‘اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے’’(5:48)

اگر ہم جماعت کی تعریف میں فقہاء کی رائے پر انحصار کریں تو اسلام میں با جماعت نماز بہت پرانی ہے، یہ اسی دن ہی شروع ہوجاتی ہے جس دن نماز فرض ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نماز ادا کی، یوں ان کی نماز با جماعت نماز ہے، پھر حضرت خدیجہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ادا کی، پھر کچھ دیگر لوگوں کی نماز کی امامت فرمائی جیسے جیسے اسلام میں داخل ہونے والے لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان لوگوں کی نماز کی امامت با جماعت نماز ہے اگرچہ یہ جماعت چھوٹی ہے، اس عدد سے بڑی نماز مدینہ میں ادا کی گئی کیونکہ اہلِ مدینہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔

 

برقع پہننا ، گھروں میں پڑے رہنا ، بولنے ، سوچنے اور حقوق کے لئے آواز بلند کرنے سے  عورتوں کو محروم  رکھنا ، کیا یہی شریعت ہے ؟ یا کیا یہ نظام حیات ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ؟ جس میں شریعت کا مقصد ان تمام لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے جو تم سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ رواداری کے منافی یہ تمام پالیسیاں بالکل ہی شرعی قوانین نہیں ہیں بلکہ محض انتہاء پسندی ہیں ۔اب ہم شریعت کی تعریف  از سر نو کرتے ہیں ، شریعت اسے کہتے ہیں جسے اللہ نے قرآن میں نازل کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ کیا ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں وہ تمام وحشی قوانین نہ صرف یہ کہ مسترد اور مردود ہیں بلکہ ایسا کرنے والا سزا کا بھی حقدار ہے ۔

 
What Makes a Martyr in Islam اسلام: شہید کون ہے؟
Huma Yusuf, Tr. New Age Islam ہما یوسف

What Makes a Martyr in Islam اسلام: شہید کون ہے؟
Huma Yusuf

کئی دہائیوں سےملازمت کرتے ہوئے  صرف پاکستانی سپاہی ملازمت کے دوران مارے گئے ہیں اور یہاں تک کہ انہیں اعجاز کے لئے بھی اہل قرار دیا گیا ہے ۔ حالیہ برسوں میں جیسا کہ زیادہ ترعوام الناس دہشت گرد حملوں کے شکار ہو رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اب  عام شہری بھی اس کے لئے موزوں ہوتے جا رہے ہیں ۔ جب وزیر اعظم بےنظیر بھٹو 2007 میں ایک خود کش حملے میں ماری گئیں تو  ایک عورت ہونے کے باوجود انہیں عزت و تکریم سے نوزا گیا  تھا ۔ کچھ لبرل  لوگوں نے اقلیتی امور کے سب سے پہلے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے لئے 2011 میں پاکستانی طالبان کے ذریعہ ان کے قتل کے بعد  اسی طرح کا  لقب دینے کی کوشش کی ۔

 

Or Name the Place Where There is No Terror یا وہ جگہ بتادے جہاں پر دہشت نہ ہو
Asad Mufti

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئیر کاکہنا ہے کہ دنیا کےلئے  سب سے بڑا خطرہ ریڈیکل ( انتہا پسند) اسلام ہے دو برس قبل ٹونی بلیئر  کی خود نوشت شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ مغربی  ممالک  کی غیر متوازن  پالیسیاں  انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں ۔ اپنی خود نوشت  کی اشاعت کے موقع پر بی بی سی کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق برطانوی وزیر اعظم  جنہوں نے صدام حسین کے پاس نیو کلئیر ہتھیاروں  کی  بھاری کھیپ ہے کہہ کر عراق پر چڑھائی کی تھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ انتہا پسند اپنے اسلام کو کمیونزم سے جوڑ تے ہیں وہ اپنے نظریات کو بنیاد بنا کر ہر فعل درست سمجھتے  ہیں ان کے بقول ان کیلئے تبدیلی کا لمحہ امریکہ میں گیارہ ستمبر  دو ہزار ایک کا حملہ تھا ۔

 

The Revolution of Karbala and its Global Impact واقعہ کربلا اور  اس کے آفاقی اثرات
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam

انقلاب کربلا  کی معنویت، اس کے آفاقی پیغام اور  ہمہ جہت اثرات کا ادراک کرنے کے لئے  ہمیں ایک خالص دل و دماغ کا کی ضرورت  ہے ۔ اگر ہم اس عظیم انقلاب کا گہرا مطالعہ کریں  گے تو ہم پر یہ امر عیاں ہوگا کہ یہ انقلاب دنیا کے  تمام تاریخی انقلابات سے منفرد اور بے مثال ہے ۔ پوری تاریخ انسانیت میں ایسا کوئی لیڈر کبھی نہیں پایا گیا جسے مہم کی طرف پابہ رکاب ہوتے  ہی اپنی  موت کی بشارت مل  گئی ہو۔ لیکن امام حسین بہ رضا و رغبت اپنی شہادت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور اس کے حصول کی طرف ہر ضروری قدم اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

 

قرآنِ مجید میں اہلِ مکہ کے ہاں نماز کی موجودگی کا اشارہ موجود ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً (ترجمہ: اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی – الانفال 35)، مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ قریش عریاں حالت میں کعبے کا طواف سیٹیاں اور تالیاں بجا کر کیا کرتے تھے، صلاتہم کا مطلب ان کی دعاء ہے، یعنی دعاء اور تسبیح کی جگہ وہ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی نا ہی کوئی صلاۃ ہے اور نا ہی کوئی عبادت، بلکہ ان سے جو حاصل ہوتا ہے وہ ما سوائے لہو ولعب کے کچھ نہیں ہے

 

Ever Increasing Religious Hatred In Pakistan پاکستان میں مذہبی منافرت کی مضبوط ہوتی بنیاد
Yamin Ansari

دہشت گردی اور انتہا پسندی  نے تو پاکستان کا شیرازہ ہی بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ستم بالائے ستم  یہ کہ پاکستان میں اب فرقہ وارانہ منافرت کی بنیادیں اس قدر مضبوط  ہوتی جارہی ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہورہے ہیں ۔ مسلکی  اور فرقہ وارانہ خطوط  پر تقسیم کے دہانے پر جارہے پاکستان میں اس وقت  حالات انتہائی دھماکہ خیز ہیں ۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا ، جب دھماکے ، خود کش حملے ، ٹارگیٹ کلنگ  او رمسلکی تشدد کی خبریں پاکستانی  اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سرخیاں نہ بنتی ہوں۔ سوشل میڈیا  میں بھی خود وہ پاکستانی شہری ، جو امن پسند  ہیں او راپنے  ملک میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے  کے خواہاں ہیں ، اور انتہائی احساس ندامت او رملامت کا شکار ہیں ۔

 
Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS