FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Peaceful Coexistence in Islam  اسلام میں پرامن بقائے باہم
Aiman Reyaz

غیر مسلم ممالک میں یہ سوال زوروں پر ہے کہ کیا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پر امن بقائے باہم کا قیام ہو سکتا ہے؟ ان کے اس سوال کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ انہیں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ہے۔ قرآن اور رسول اللہ کی تعلیمات کی رو سے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان کے درمیان پر امن بقائے باہم کا قیام ہو سکتا ہے اور انہیں ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن یہ صرف ایک بیان بازی نہیں ہے۔ مجھے اپنے اس دعوی کی بنیاد بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

قرآن میں علم کی تفصیل کے بجائے علم کے تصور پر بحث کی گئی ہے۔ بہت سے مواقع پر قرآن میں مذہبی یا روحانی اور مادی یا سائنسی دونوں لحاظ سے علم پر بحث کی گئی ہے۔ جب قرآن کی مختلف آیات کا جامع تجزیہ اور مطالعہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن میں علم سے مراد مذہبی اور سائنسی دونوں علوم ہیں۔ لہٰذا قرآن مسلمانوں کے اس عام تصور کی نفی کرتا ہے کہ قرآن صرف مذہبی علم پر ہی زور دیتا ہے اور دنیاوی علوم یا سائنس کو تسلیم نہیں کرتا۔

 

Murder in the light of Quran   قتل: خالص قرآن کریم کے  آئینے میں

ابتداء میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جب ان اعمال  افعال کے متعلق  ہم کوئی فیصلہ  کریں یا تشریح کریں تو ہمارے پیش نظر قرآن کریم کے وہ ابدی اُصول ہونے چاہیں  جن کا وجود تا قیامت  قائم و دائم  رہے گا ۔

حالانکہ  دور جانے کی ضرورت  نہیں خود اپنے ملک کے وضع کردہ قوانین  میں آئے دن رد و بدل  ہوتا رہتا ہے  جس کی وجہ سے کسی فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عام  طور پر قانون وضع ہوتا ہے نتیجہ اس کی نا کامی ۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن  کریم کے قوانین غیر متبدل ہیں ہماری مشکل یہ ہے کہ انسانی وضع کردہ قوانین  کو ہم نے الہٰی  قوانین کا درجہ دے رکھا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں فرقے وجود  میں آگئے ہیں ۔

 

Cultural Narcissism- Part 8   (تہذیبی نرگسیت حصہ (8
Mobarak Haider

مذہبی قیادت کو اگر قوم و ملت کے مسائل سے دلچسپی نہیں تو پھر وہ کیا ہے جو اس مسلم معاشرہ میں ہماری اس قیادت کومضطرب رکھتا ہے؟ معاشرہ کی اصلاح سے کون سی اصلاح مقصود ہے؟ اکثر و بیشتر بیانات ، تقاریر اور تحریروں سے جو اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ تقریباً ہر سطح کی مذہبی قیادت کو معاشرہ میں فحاشی اور عریانی سب سے بڑا مسئلہ دکھائی دیتی ہے۔ یا پھر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی میں لوگوں کی کوتاہی انہیں شدت سے بے قرار کرتی ہے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں  کو مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کا حکم کیا ، تو حضرات صحابہ  اپنے  اموال  اور جائیداد کو چھوڑ کر کفار کے خوف اندیشہ سے چھپ چھپاتے ہوئے چپکے سے مدینہ نکل گئے ،  جب یہ مدینہ  پہنچے تو یہ نانِ شبینہ کے محتاج  ہوگئے جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار  کے مابین اخوت او ربھائی چارہ قائم فرمایا ، چنانچہ  اس بھائی اور مواخاۃ کے قیام کااثر تھا کہ انصار  مہاجرین کو اپنی ہر چیز کابرابر کاحصہ دار بنا رہےتھے۔

Sudden Disappearance of Godly Nationalists  دین دار حب الوطنوں کی اچانک گمشدگی
Mujahid Hussain

4 جون کی صبح پاکستان آرمی کے دو سینئر افسران لیفٹیننٹ کرنل محمد ظاہر اورلیفٹیننٹ کرنل ارشد حسین کو راولپنڈی کے نواحی علاقے فتح جنگ میں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کرکے شہید کردیا،پاکستانی ریاست اور پاکستان کی فوج کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کیا نہیں ہوا؟ پاکستان کے کسی بڑے شہر کسی قصبے حتی کہ کسی گاوں میں بھی کسی ملاں یا درباری سیاسی لیڈر نے کوئی جلوس برآمد نہیں کیا۔

 

The Islamic Doctrine of Wahdat-ul-Wujud (Unity of Being)   وحدت الوجود کا اسلامی اصول توحید کا ایک وسیع ترین تصور ہے
Ghulam Rasool Dehlvi

وحدت الوجود ایک عالمگیر اسلامی نظریہ ہے جس کے مطابق پوری کائنات کا ذرہ ذرہ ایک ہی ذات واحد کی عکاسی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات رنگ و بو میں جو کچھ بھی موجود ہے ان سب کی حقیقت ایک ہی ہے یا وہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ لیکن اس باطنی صوفیانہ تصور کا مطلب یہ نہیں  سمجھ لیا جائے  کہ ذات باری تعالی کا احاطہ اس مادی اور حسی کائنات کی کسی شئی میں کیا جا سکتا ہے۔در اصل خدا کا وجود اور اس کی قدرت کاملہ مطلقہ بعینہ اسی طرح برقرار رہتی ہے جیسا کہ اسکی شان ہے، لیکن کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے وہ اس کی ذات وصفات اور  وحدانیت  کا آئینہ ہے ۔

 

Miracles of the Quran Part 7 اعجاز القرآن  قسط سات

ذہن انسانی اللہ کے متعلق کچھ نہیں جان سکتا ، ذہن انسانی تو صرف اس چیز کے متعلق بتا سکتا ہے جس  کا وہ تصور کرسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہا ں انسان وحی الہٰی کا محتاج  ہوتاہے یعنی وحی ایک ایسا علم ہے جو انسانی ذہن کا پیدا کردہ نہیں  ہوتا بلکہ  یہ علم خود اللہ تعالیٰ  کی طرف سے انبیا ء کرام کی معرفت انسانیت  کو ملتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ  کو اپنے متعلق جتنا کچھ بتانا مقصود تھا ، وہ اس علم کے ذریعےبتا دیا ۔ جس قدر اپنا تعارف کراناتھا، اس علم  کے ذریعے کرا دیا ۔ اس علم کے علاوہ ہم  اس کے متعلق  کچھ مزید نہیں جان سکتے ۔ اس نے اس وحی کے ذریعے اپنی صفات  کو تفصیل  سے بیان کیا ہے اور اُنہیں  الا سماء الحُسنیٰ کے نام سے پکارا  ہے۔

 

Uwais of Qaran Never Met Prophet Muhammad  اویس قرنی کو کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت حاصل نہیں ہوئی لیکن دونوں روحانی طور پر مربوط تھے
Sadia Dehlvi

حضرت اویس قرنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر ایک جلیل القدر بزرگ تھے؛ لیکن اپنی ماں کی خرابیٔ صحت کی وجہ سے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جسمانی طور پر ملاقات کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی ماں کی تیمار داری کی ذمہ داری کی وجہ سے حضرت اویس قرنی کو ان سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔

 

Pakistan and Terrorism   پاکستان اور دہشت گردی
Dr.Rashid Ahmad Khan

مئی 2011 سے قبل غیر ملکی میڈیا میں چھپنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن پاکستان میں چھپا ہوا ہے تو سرکاری حلقوں کی طرف سے پرُ زور تردید کی جاتی تھی ۔ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا تو یہ دعویٰ  تھا کہ اسامہ بن لادن  گردوں کے مرض میں مبتلا ہوکر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں کہا کرتے تھے کہ اسامہ کی طبعی موت کا انہیں سو فیصد  نہیں بلکہ چار سو فیصد  یقین ہے ۔

 

Cultural Narcissism- Part 7   (تہذیبی نرگسیت حصہ (7
Mobarak Haider

یہ اور ایسے کئی دوسرے سوال اس معاشرے پر چھائے ہوئے اضطراب اور بے سمتی میں اٹل اہمیت کے حامل ہیں۔ دین سے عقیدت ہماری سوسائٹی اور مسلح افواج کی نفسیات میں گُندھی ہوئی ہے، جس پر اعتراض کرنے کا یا اختلافی نظریات پیش کرنے کا کوئی قابلِ ذکر واقع ہماری قومی سطح پر رونما نہیں ہوا اور اگر ہوا تو اسے سختی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ اگر کسی دوسرے ملک میں بھی اسلام سے متعلق کوئی مخالفانہ رویہ سامنے آیا تو ہمارے ہاں شدت سے احتجاج کیا گیا۔ زندگی اور کائنات کے ہر موضوع پر بات اسلام پر ختم ہوتی ہے۔

 

Khwaja Gharib Nawaz (ra), or Khwaja Moinuddin Chishti of Ajmer  موجودہ  انتہا پسندی کے خاتمہ میں تعلیمات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ  کا کردار
Ghulam Ghaus

سب سے محبت کرو اور کسی سے بھی نفرت مت کرو۔ صرف مباحثوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ صرف دین اور اللہ کی بات سے کچھ نہیں ہو گا۔ اپنی تمام باطنی طاقتوں کو پروئے کار   لاؤ، اور اپنی لافانی شان و شوکت کو ظاہر کرو۔ امن اور خوشی کے سے مالا مال رہو اور جہاں کہیں بھی جاؤ وہاں امن اور خوشی پھیلاؤ۔ حقیقت کی ایک بھڑکتی ہوئی آگ اور امن کا ایک سکون بخش مرہم بنو۔ اپنی روحانی روشنی سے جہالت کے اندھیروں کو دور کر دو؛ اور لوگوں کے درمیان خیر سگالی، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دو۔ کبھی بھی اللہ کے سوا کسی سے بھی مدد، صدقہ یا کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش مت کرو۔ بادشاہوں کی عدالتوں میں کبھی مت جاؤ ، لیکن جب کبھی کوئی ضرورت مند، غریب، بیوہ اور یتیم تمہارے دروازے پر آئیں تو ان پر احسان کرنے اور ان کی مدد کرنے سے کبھی انکار مت کرو۔ لوگوں کی خدمت کرنا تمہارا مشن ہے۔ اس پر پوری ذمہ داری کے ساتھ عمل کرو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سامنے ایک پیر و مرشد کی حیثیت سے مجھے اور اس سلسلۂ طریقت میں ہمارے بزرگ پیشروں کو تمہاری غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 5  (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دین  حصہ (5

ان کے بارے میں یہاں بڑی اچھی رائے پائی جاتی ہے ، مریدین زیادہ تر سنت پر عامل ہیں، اکثر کی داڑھیاں  ہیں اور زیادہ تر لوگ ٹخنوں سے اوپر شلوار پہنتے ہیں ، مشواک کا استعمال بھی عام ہے ، عورتیں  مردوں سے الگ برقع میں رہتی ہیں اور غیر محرموں سے مصافحے کا رواج بھی نہیں  دکھتا ۔ یہاں تک تو بات ٹھیک لگتی ہے اب دیکھئے  آگے کیا ہوتا ہے ۔

 

Cultural Narcissism- Part 6   (تہذیبی نرگسیت حصہ (6
Mobarak Haider

شاید یہ کہنا درست نہ ہو کہ ہمارے پالیسی ساز جو پاکستان کی داخلی اور خارجہ حکمت عملی پر اثرانداز ہوتے آئے ہیں، بھارت دشمنی کی ذہنیت اور دو قومی نظریہ کا محض بہانہ بناتے ہیں، جبکہ اِن کے پیشِ نظر مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ شاید یہ تصور کرنا بہتر ہے کہ ہمارے یہ دوست خلوصِ دل سے پاکستان اور اس خطہ کے لئے احسن خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے اس خطہ پر وہ لوگ غالب حیثیت کے مالک ہوں جو جدید دنیا اور اس کے علوم و فنون سے نفرت کرتے ہیں یعنی ’’خالص اسلام‘‘ کے وہ علمبردار جنھیں بنیاد پرست کا نام دیا گیا ہے۔

 

مسلمان محض قرآن میں تفکر کر کے بہت جلد اُس مقام پر پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں انتہائی ترقی یافتہ اقوام، سالہا سال کی ریسرچ اور کھربوں ڈالر خرچ کر کے پہنچے ہیں‘‘۔۔۔میں نے کسی کالم میں یہ تحریر لکھی تھی اوراپنے پچھلے کالم میں دنیاکے مشہورسائنسدان،موجودہ زمانے میں فزکس کے علوم کاسب سے بڑے محقق فرینک ٹپلر (Frank Trippler)کی چارسوصفحات پرمشتمل مشہورزمانہ کتاب (Physics of Morality)کاتذکرہ کیاجس کے ایک باب (Omega Point Theory) میں اس نے اپنی ایک تحقیق میں کائنات کے انجام، آخرت،دوبارہ اٹھایا جانا،جنت اور دوزخ کاتذکرہ کرتے ہوئے یہ تسلیم کیاہے کہ یہ بالکل ایساہی ہے جیسا مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن کی سورۃ بقرہ،سورۃالنجم اور سورۃ القیامہ میں بتایاگیاہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 5  (تہذیبی نرگسیت حصہ (5
Mobarak Haider

پاکستان کے بااثر یا بااقتدار طبقوں میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں تذبذب اور نیم دلی کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اِن کے خیال میں افغان حکومت کے موجودہ نیٹو سیٹ اَپ میں بھارت کی طرف دوستانہ رُجحانات رکھنے والے عناصر غالب ہیں۔ چنانچہ اگر موجودہ سیٹ اَپ کو طالبان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو اس کا فائدہ بھارت کو ہو گا۔ جبکہ طالبان پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگر انہیں ترقی و طاقت ملے تو یہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو گا۔ اس طرزِ فکر کے تین بنیادی مفروضے ہیں۔

 

Let’s Now Look Within  اب  بننے  پر نہیں بلکہ  بگڑنے  پر تنقید ہونی چاہیے
Dr. Ghulam Zarquani

جمہوریت کے آداب میں سے ہے کہ انتخابات سے پہلے نمائندوں پر جتنی چاہیں تنقیدیں کرلیں ، تاہم انتخاب میں کامیاب ہونے والی شخصیت کو بہر کیف سب کا مشترکہ نمائندہ تسلیم کرنا چاہیے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے زیر سایہ علاقے میں انتخاب لڑنے والے تمام نمائندے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتے ، تاہم انتخاب ہارنے والے سارے نمائندے فتحیاب ہونے والے کو مبارک باد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں

 

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part 4  (روحانیوں کے عالمی پائیہ تخت استنبول میں گیارہ دن  حصہ (4

استنبول میں سلطان محمد فاتح کا علاقہ اپنے اسرار و رموز سےجلد پردہ نہیں اٹھاتا ۔ یہا ں زیادہ تر وہ لوگ آتے ہیں جو سِّر الاسردار کی تلاش میں کسی زندہ باکرامت شیخ کے متلاشی  ہوتے ہیں اور جنہیں رقص و سماع کی محفلیں  کچھ زیادہ متاثر نہیں  کرتیں ۔شمالی  دروازے سے چار شنبہ بازار کی طرف آئیے اور اسمٰعیل آغا مسجد کی سمت چل پڑئیے ۔ دفعتاً آپ کو محسوس ہوگا کہ لوگوں کے چہرے بشر ے اور ان کے لباس  و آہنگ  تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ گول پگڑی نما ٹوپیاں   ، چہرے پر داڑھیوں کی بہار، لمبے مشرقی لباس ، ہاتھوں میں تسبیحیں ، جو بسا اوقات سڑک چلتے  میں بھی گردش میں رہتی ہے ۔

 

Rising Hopes for an End to Extremism  شدت پسندی کے خاتمے کی بڑھتی ہوئی اُمید
Mujahid Hussain

قبائلی علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں میں شدت آرہی ہے اور امکان یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے حملے بڑھ جائیں گے کیوں کہ طالبان دھڑوں میں جاری کش مکش اور گروہ در گروہ بٹے ہوئے شدت پسندوں کی شناخت کا مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے۔سادہ نظر سے دیکھیں تو دشمن میں اس طرح کی پھوٹ سود مند تصور کی جاتی ہے لیکن طالبان شدت پسندوں کے معاملے میں اس نوعیت کی پھوٹ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے مزید پیچیدگیوں کی حامل ہے۔

 

A Society in Love with Death  موت کی محبت میں مبتلا معاشرہ
Mujahid Hussain

گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون کو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پولیس کی موجودگی میں اسکے ناراض والدین نے ساتھیوں سمیت باقاعدہ سنگسار کردیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے کئی ممالک نے اِس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس کے بعد وزیراعظم نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرکے معاملے میں حکومتی دلچسپی کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔اس کے بعد کیا ہوگا، پاکستان میں پولیس تفتیش،سیاسی دباو اور آخر میں عدالتی فیصلوں کے منطقی انجام کے بارے میں آسانی کے ساتھ رائے قائم کی جاسکتی ہے۔

 

Cultural Narcissism- Part 4  (تہذیبی نرگسیت حصہ( 4
Mobarak Haider

عقائد کی وہ شکلیں جو آج کے دور کی فکری تحریکوں سے اتنی مختلف ہیں مسلم اقوام کی نفسیات میں انتشار کا باعث بنی ہیں، کیونکہ وہ لوگ جنھیں مدرسوں یا علماء تک رسائی مل گئی ہے وہ تو ان عقائد کو قبول کرکے یقین کی سطح پر آگئے ہیں اور اب انہیں کسی تذبذب یا معذرت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔لیکن ان کے جراتمندانہ جذبوں سے پیدا ہونے والا عمل ان لاتعداد مسلمانوں کو تذبذب اور افسردگی میں ڈال رہا ہے جو ان عقائد کو سرسری انداز سے سنتے اورمانتے ہیں لیکن عملی زندگی میں جدید فکری تحریکوں کے تابع رہتے ہیں۔

 

Boko Haram Abductors, Killers Are Terrorists and Thus the Worst Enemies of Islam  بوکو حرام کے اغوا کار ،قاتل، دہشت گرد اور اسلام اور عالمی امن کے بد ترین دشمن ہیں
Ghulam Ghaus, New Age Islam

بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنظیموں کے لئے مذہب کا بہانہ ایک عام بات ہے۔ وہ صرف عورتوں اور نوعمر لڑکیوں کا استحصال کرنے، شرعی قانون، قرآن، اسلام اور جہاد جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے تعلیم کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس قسم کی تنظیمیں معصوم لوگوں کا قتل کر رہی ہیں نوجوانوں کے دل و دماغ میں برائی کی بیج بو رہی ہیں اور ہماری نائجیریائی بہنوں کو اغوا کر رہی ہیں لہٰذا وہ عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اے مسلموں اور غیر مسلموں! قدم سے قدم ملا کر گھر سے باہر نکلو اور اپنی بیٹیوں، اپنی زندگیوں اور اپنے ممالک کو بچانے کے لئے بوکو حرام کو مٹا دو؛ اس لیے کہ ایسا کرنا تمہارے ایمان کا ایک حصہ ہے اگر تم مسلمان ہو اور تمہاری ذمہ داری ہے اگر تم امن پسند غیر مسلم ہو۔

 

Cultural Narcissism- Part3   (تہذیبی نرگسیت حصہ(3
Mobarak Haider

یہ عقائد صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات یا افغانستان کے مسلمانوں کے ہی نہیں نہ یہ پاکستان کے مدرسوں تک محدود ہیں۔یہ تمام مسلمانوں کے عقائد ہیں جو بالکل اسی شکل میں اُن مسلمانوں میں بھی جاری و ساری ہیں جو دنیا بھر سے ہجرت کرکے دنیا کے جدید صنعتی معاشروں میں روزگار اور خوشحالی کی تلاش میں آباد ہوئے ہیں اوراب وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔دعوت دین اور احیائے دین کی تحریک نے ان آبادکاروں کو ایسا ولولہ اور اعتماد فراہم کیا ہے کہ یہ اپنے میزبان ممالک میں مسلمانوں کی حکمرانی کا خواب دیکھتے ہیں۔

 

Khwāja Mo`īnuddīn chishti Was The Torchbearer Of Love, Compassion  حضرت خواجہ معین الدین چشتی رضی اللہ عنہ ہندوستان میں امن، محبت، روداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے نقیب تھے
Misbahul Huda

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کا 700 سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت گیا لیکن آپ کا مزار اقدس آج بھی بین المذاہب محبت اور ہم آہنگی کی ایک زندہ علامت ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ آج گمراہ اور انتہا پسند اسلامی جماعتیں بندوق کی نوک پر لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہی ہیں اور اسلام کے نام پر دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل میں مصروف ہیں۔ انہیں اسلام کے بارے میں غریب نواز کے اجتماعیت پسند تصور اور پر امن طریقہ تبلیغ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔

 

Cultural Narcissism- Part 2 (تہذیبی نرگسیت حصہ  (2
Mobarak Haider

بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے تباہی اور قتل عام اس تحریک کا حصہ ہے جو پچھلی تین دہائیوں کے دوران نشوو نما پاتی رہی ہے، اُس فکری تحریک کی عملی شکل ہے جسے اس کے مخالف دہشت گردی کہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے اس خیال کااظہارکیا جارہا تھا کہ سیاسی عمل کی بحالی سے دہشت گردی کا عمل کمزور پڑ جائے گا۔شاید وہ تحریک جسے دہشت گردی کہا جارہا ہے اس کی قیادت بھی اس ’’جمہوری چال‘‘ کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کرتی۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS