FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

How Sharia Works? شریعت کا پس منظر اور اس کا منہج
Jahanshah Rashidian

اسلام شریعت کو ایک مکمل نظام حیات قرار دیتا ہے، یہ ایک ایسا جامع نقطہ نظر ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتا ہے اور بالآخر ایک اسلامی ریاست میں اس کا مکمل مظاہرہ ہونا چاہئے۔ لہٰذا صرف اسلامی معاشروں میں ہی نہیں بلکہ ان ممالک میں ایک سرکاری مذہب کے طور پر بھی اس سخت گیر شریعت پر عمل کیا جاتا ہے جہاں اسلامی حکومتیں ہیں۔ شریعت کے ایک نمونہ کے طور پر سیاسی اسلام سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مدینہ کا مسلم معاشرہ ہے، جس کی وجہ سے لامحالہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایسی ہی مطلق العنان سلطنت قائم ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر انتہائی پسماندہ اور وحشی طالبان، ایران میں اسلامی حکومت، سوڈان میں البشیر کی اسلامی حکومت میں شریعت نافذ ہے، جہاں ایسے اصول اور زیادہ تر پینل کوڈ کا مصدر و منبع چودہ سو سال پرانا عرب کا قبائیلی معاشرہ ہے۔

 

تکلیف کی بات تو یہ ہےکہ اس دنیا میں مسلمانوں نے جو اپنا تعاون پیش کیا ہے ان کے بارے میں لوگوں کو بہت کم ہی علم ہے۔ دنیائے عرب اور یوروپ کے بھی مسلم سلطانوں کی شاندار تاریخ نے علم و حکمت کی دنیا پر اپنا زبردست اثر ڈالا ہے۔ جب اسلامی علوم و فنون اور ایجادات کا سلسلہ اپنے عروج پر تھا اس وقت یوروپین تاریکی کے دور میں ڈوبے ہوئے تھے۔

وہ دور ایسا تھا کہ اس دور میں مسلم علماء یا تو یونانی، چینی اور ہندوستانی جیسی دوسرے تہذیب و ثقافت سیکھ رہے تھے یا مختلف علمی مصادر و مراجع کو عربی زبان میں منتقل کر رہے تھے یا نظم و ضبط اور تہذیب و تمدن کے باب میں ایسے ایسے شاندار نظریات اور تصورات پیش کر رہے تھے جنہوں نے علم و دانش کی دنیا کو ہی بدل ڈالا۔

 

عالمی اخوت کا تصور کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ یہ تصور سوامی وویکا نند سے پہلے بہت سارے لوگوں نے پیش کیا ہے۔ لیکن روحانیت کے بغیر اس کی کوئی بھی کوشش خود میں ناکامی کا شکار رہی ہے جیسا کہ پوری دنیا میں یہ ثابت ہو چکا ہے۔ عالمی اخوت کی ہماری تحریک عام طور پر ایسے لوگوں کو خارج کر دیتی ہے جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں اور اس طرح اس کی موت آپ ہی ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کمیونسٹ لوگ غیر کمیونسٹوں کے خلاف سخت فرقہ پرست ہو گئے۔ اور یہی معاملہ دوسرے مذاہب کا بھی ہے۔

 

What is Sharia? And What Are Its Objectives? (Part 1) شریعت کیا ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟
Aiman Reyaz, New Age Islam

شریعت کی داخلی ساخت ہی ایسی ہے کہ جب جب ضرورت پیش آئے گی شریعت تبدیلیٔ حالات سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل بطریق احسن پیش کرے گی۔ اور اسے فقہ کانام دیا جاتا ہےجس کا لغوی معنیٰ ‘سمجھ بوجھ’ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کس طرح کسی ایک خاص شرعی قانون کو ایک خاص زمانے میں اچھی طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔

شریعت کے تعلق سے بڑے پیمانے پر پائی جانے والی ایک غلط فہمی یہ ہے کہ یہ دور جدید کی عزت و عظمت اور حقوق انسانی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ دراصل حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ آج سے ایک طویل عرصہ پہلے جب کسی حقوق انسانی کمیشن یا اقوام متحدہ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا تب قرآن نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کو احترام و تکریم کے آخری مقام پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت نماز پڑھائی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کا مقابلہ کر رہا تھا، پھر پہلا گروہ دشمن کا مقابلہ کرنے چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت قضا کی 1۔

اس نماز کو ”صلاۃ الخوف“ کا نام دیا گیا کیونکہ یہ تب قائم کی گئی جب اس وقت مسلمان خطرے میں تھے، فقہاء کی اس نماز کے رکعت اور سجدوں کے بارے میں مختلف آراء ہیں 2، امام احمد فرماتے ہیں کہ اگر دونوں فوجیں ٹکرا جائیں تو نمازِ خوف ایک رکعت ہے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا: صلاۃ الخوف ایک رکعت ہے

 

جومقامات روحانی اعتبار سے مقدس اور قابل احترام ہیں، ان کی اہمیت تو ظاہر ہے، قرآن و حدیث میں اس کی واضح بنیادیں موجود ہیں۔ مقدس آثار میں اولین ورثہ ’کعبہ ٔ مشرفہ ‘ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی قدامت اورقدیم ترین تاریخی ورثہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کائنات ارضی میں پہلا گھر ہے، جو مکہ مکرمہ میں انسان کے عبادت کرنے کے لئے تعمیر کیاگیا، اوریہ بڑی برکتوں والاہے :ان اول بیت وضع للناس ببکۃ مْبٰرکا وہدی للعٰالمین (آل عمران : 96) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی آثار برکت وعظمت کے حامل ہیں، اوریہاں اپنے روحانی جذبہ کو فروغ دینے کیلئے لوگوں کاآناجانا اور ان کو محبت واعتقاد کی نظر سے دیکھنا کوئی خلاف شریعت عمل نہیں۔ 

 

Interfaith Dialogue— Only Way to Fight Extremism بین المذاہب مکالمہ – انتہاءپسندی سے مقابلہ کرنے کا ایک واحد راستہ
Nawar Fakhri Ezzy

سعودی عرب میں جو ‘‘مشترکہ اقدار’’ کا تصور پایا جاتا ہے وہ مطابقت اور تعین سے عبارت ہے اس میں اختلاف، رنگارنگی اور تنوعات کا کوئی تصور نہیں ہے اس لیے کہ ان کی نظر میں کچھ خاص اسلامی اقدار کو ہی ‘‘مشترکہ اقدار’’ مانا جاتا ہے جس پر ہر انسان کو عمل پیرا ہونا چاہیئے۔ رواداری، انسانی وقار کوتسلیم کرنے اور اس کا احترام کرنے جیسے عالمگیر ‘‘مشترکہ اقدار’’ کے تئیں اگر بیداری پیدا کی جائے تب جا کر انتہاء پسندی کے خاتمے اور ایک حقیقی بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کا انعقاد کرنے کے لیے ہم ایک مضبوط بنیاد کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ ‘‘مشترکہ اقدار’’ کے اس عالمگیر تصور کو آنے والی سعودی نسلوں کے ذہن و دماغ میں جاگزیں کرنے کے لیے اس کا آغاز اسکول کے بچوں کے ساتھ کرنا خاص طور پر ضروری ہے، جس سے ہو سکتا ہے کہ سعودی معاشرے میں آہستہ آہستہ مگر متأثر کن تبدیلی پیدا ہوگی۔

ان تمام تاریخی حوالہ جات سے یہ بات اچھی طرح  معلوم ہوتی  ہے آج ہمارے  برادران وطن کو ٹیپو کے تعلق سےجو غلط فہمیاں  ہیں وہ انگریزوں  کے ٹیپو اور اس کے جرأت و ہمت اور اس کی مذہبی رواداری  اور ہندو مسلم اتحاد سے بعض و عناد اور اس کی وجہ سےاپنی حکومت سازی  میں جو رکاوٹیں  درپیش ہورہی تھیں ان کا سب کا نتیجہ تھا،  جس کی رو  میں بہہ کر اس عظیم مسلمان حکمراں اور سامراج کا ناکوں  چنے چپوانے والے ملک  کے سپوت  کے تعلق زبان درازی کی کوشش یا تویہ تاریخی  حقائق سےعدم واقفیت اور تعصب ذہنی  کی علامت ہے۔

 

مسلمانوں کے اندر دینی قیادت اس وقت پر وان چڑھے گی جب (1) قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق افراد سازی اورذہن سازی ہو اور خالص مسلم فرد اور مسلم سماج تیارہو۔ (2) مسلم سماج میں اولوالامر اوراہل شوری کا ایلٹ گروپ تیارہو اور وہ شورائیت کی ساری صلاحیتوں سے بہرہ ور ہو ۔اس کے اندر علم، اخلاص، امانت، نصح وخیرخواہی اورسوجھ بوجھ پوری طرح موجودہو۔ (3) یہی اسلامی علمی گروہ اپنے میں سے قیادت کو پروان چڑھائے اوراہل ترافراد کو مختلف سطح پر پروان چڑھائے۔ سیاسی قیادت کے لئے اہل ترمخلص مسلمان کو متفقہ طورپر تیار کرے اور مختلف میدان ہائے کار کے لئے قیادت تیارکرے۔

 

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لا چکے، تو جب کوئی قریب المرگ ہوتا تو لوگ آپ کے پاس حاضر ہوکر خبر دیتے تھے، آپ اس کے پاس آتے اور اس کے لیے استغفار فرماتے، جب اس کی روح قبض ہوجاتی تو آپ اور آپ کے ہمراہی واپس جاتے تھے، اکثر آپ اس کے دفن تک بیٹھے رہتے تھے، اور اکثر آپ کی یہ پابندی طویل ہوجاتی تھی، جب مسلمانوں کو آپ پر اس کی مشقت کا اندیشہ ہوا تو قوم کے بعض افراد نے بعض سے کہا کہ واللہ کیا اچھا ہوتا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر قبض روح کے کسی کی اطلاع نہ کرتے، اس کی روح قبض ہوجاتی تو آپ کو اطلاع کر دیتے تاکہ آپ پر مشقت وپابندی نہ ہو، لوگوں نے یہی کیا، مر جانے کے بعد آپ کو مطلع کرتے، آپ اس کے پاس آتے تھے، دعائے رحمت ومغفرت فرماتے تھے، اکثر آپ اس کے بعد واپس ہوجاتے تھے اور اکثر میت کے دفن ہوجانے تک ٹھہر جاتے تھے۔

 

Sufi Saints of Bihar صوبہ بہار کے صوفیاء اور اولیاء اللہ
Aiman Reyaz, New Age Islam

لفظ ‘تصوف’ کا مصدر و ماخذ عربی کا لفظ ‘صفا’ ہے جس کا معنیٰ ‘خلوص’ ہے۔ اس کا ایک اور مصدر ‘صوف’ ہے جس کا معنیٰ ہے ‘اون’۔ اور ان تمام الفاظ و اصطلاحات سے اشارہ فضول خرچی سے گریز کرنے اور سادگی کو اہمیت دینے کی طرف ہے۔

‘صوفیائے بہار’ ایک کتاب ہے جسے ‘‘دینک جاگرن پرکاشن لمیٹڈ’’نے شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں بہار کی ان خانقاہوں، درگاہوں اور مزارات  کو زیر گفتگو لایا گیا ہے جن کا ذکر اس کتاب میں ہے اور اس کتاب میں صوبہ بہار میں واقع 52 سے زیادہ مقامات، روحانی مراکز اور خانقاہوں کی مکمل تصویر پیش کی گئی ہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید، عیدگاہ میں یوم الفطر کو خطبہ سے پہلے پڑھی، نمازِ عید یوم الاضحی میں (خطبے سے پہلے) پڑھی اور قربانی کا حکم دیا، آپ عید کی نماز خطبے سے پہلے بغیر اذان واقامت کے پڑھا کرتے تھے، آپ کے آگے ایک ٹیڑھی موٹھ کی لکڑی (سترہ کے لیے) اٹھا کر لگا دی جاتی تھی (کہ گزرنے والوں کا نماز میں سامنا نہ ہو) یہ لکڑی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی تھی جس کو وہ ملک حبشہ سے لائے تھے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی تھی 6۔

 

The Rising Threat of Islamic Extremism in India اعتدال پسند مفکرین اور اسکالرس کا مسلم  معاشرے میں علیحدگی پسندی، فرقہ واریت، فاش ازم اور پر تشدد تکفیری نظریہ کے خلاف جنگ میں شامل ہونا ناگزیر
Sultan Shahin, Editor, New Age Islam

محترم جناب غلام محی الدین صاحب مسلمانوں کا کوئی بھی بہی خواہ ہندوستانی مسلم معاشرے کے قائدین اور مفکرین کو کیسی  مزاحمت اور مخالفت کی نشاندہی کر سکتا ہے کیوں کہ ان کا تو حال یہ ہے کہ سلفیت اور وہابیت جیسے مختلف فرقہ وارانہ نظریات کے بطن سے جنم لینے والےاسلامی انتہاء پسندی کا شعور و ادراک بھی نہیں ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ملک اور بیرون ملک میں مسلمانوں کی حال ابتر ہو لیکن ان کے قائدین کے اندر کبھی آپ کو خود احتسابی اور تنقید کی ادنیٰ علامت بھی نہیں نظر آئے گی۔ جس لمحہ آپ ان مسلمانوں کے بارے میں اور خاص طور پر وہابی مسلمانوں کے بارے میں جو کہ کہیں بھی غلطیوں کا ارتکاب کرتے اور فسادات مچاتے ہیں، ایک لفظ بھی بولیں گے اسی لمحے آپ کو کافر و مرتد بنا کر حاشیہ پر ڈال دیا جائے گا۔

 

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، ان کی تعلیمات اور تبلیغ و ارشاد پر تحقیق کی جائے اور اس پر مباحثہ اور مکالمہ کیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اسلامی نظریات کے مختلف پہلو ابھر کر سامنے آئیں۔ کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان شخصیت کا نہ تو مطالعہ کیا ہے اور نہ ہی اسے سمجھنے کی کوشش کی ہےیہی وجہ ہے کہ بھاری تعداد میں لوگ اس بات کے دعویدار ہیں کہ صحیح اسلام کیا ہے؟

نفرتوں سے بھرے ہوئے جنگجو یہ کہتے ہیں کہ ان کی تمام تر سرگرمیاں اسلام کے نام پر ہیں اور یہی دعویٰ منکسر المزاج اور امن پسند صوفی حضرات بھی کرتے ہیں، جب کہ بڑے بڑے اسلامی اسکالرز اور سرگرم عمل مشنریوں کا بھی یہ دعوی ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا محرک  اسلام ہی ہے۔

 

ربیع الاول کا اسلامی مہینہ اللہ کی سب سے عظیم ترین نعمت کا جشن منانے کا ایک مبارک و مسعود مہینہ ہے۔ اس لیے کہ اسی مہینے میں اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ‘‘رحمت للعاٰلمین’’ (تمام جہانوں کے لیے رحمت) بنا کر مبعوث کیا ۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے ‘‘اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے’’ (21:107)۔ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف عرب کے لیے یا صرف مسلم معاشرے کے لیے ہی مبعوث نہیں کیا بلکہ پوری انسانیت کے لیے منارۂ نور و ہدایت بنا کر بھیجا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک نے انہیں  قرآن میں ‘‘سراج منیر’’ (معرفت الٰہی کا چراغ) کہا ہے۔ اس حقیقت کی شہادت پیش کرتے ہوئے قرآن رطب اللسان  ہے

 

Dr. Martin Luther King’s fight against discrimination  ایجوکیشن فار پیس سینٹر میں سماجی اور نسلی تفریق کے خلاف ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی جد و جہد کو ان کی 85 ویں یوم پیدائش کے موقع پر یاد کیا گیا

3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مکالماتی انگریزی زبان کے تربیتی پروگرام میں مہمان خصوصی اور استاذ محترمہ ڈیانے ملر، ریجنل انگلش لینگویج آفیسر، سفارت خانہ ریاستہائے متحدہ امریکہ تھیں۔ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی 85 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ان قائدوں کی قربانیوں اور ان کے تعاون پر گفتگو کرنے کے بعد انہوں نے طلبہ کو ان نمایاں صلاحیتوں اور خوبیوں سے آگاہ کیا جو ایک اچھے قائد کے لیے ناگزیر ہیں۔ باہمی گفتگو کے انداز میں بات کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ ایک اچھے لیڈر کے لیے ایماندار، عقلمند، خوش اخلاق، امن پسند، ہمدرد اور اپنے مقاصد میں پرعزم اور ثابت قدم ہونا کیوں ضروری ہے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء سے جمعہ کی صبح مدینہ جانے کا قصد کیا تو راستے میں بنی سالم بن عوف کی ایک وادی جسے وادی رانونا کہا جاتا ہے جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا، یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا، اس جمعہ میں آپ نے خطبہ فرمایا جو آپ کا سب سے پہلا خطبہ تھا 1، اس طرح یہ آپ کی سب سے پہلی نمازِ جمعہ تھی جو آپ نے قائم فرمائی، یہ جمعہ آپ کے مدینہ داخل ہونے سے پہلے ہجرت کے پہلے سال پڑھایا گیا اور اس موقع پر آپ کا خطبہ اسلام میں جمعہ کا پہلا خطبہ تھا۔

 

Mysticism, Trustworthiness And Social Activism روحانیت، امانت داری اور خدمت خلق: سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تین تابناک پہلو جن کا احیاء نو آج مسلمانوں کی اولین ضرورت ہے
Ghulam Rasool Dehlvi, New Age Islam
اسلام میں تصوف و روحانیت کی ابتدا غار حرا سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی دن اور کئی کئی ہفتے مراقبہ میں گزارا کرتے تھے۔ ٹھیک یہی عمل ان صوفیائے کرام کا بھی رہا ہے جنہوں نے معرفت الٰہی کے حصول میں باطنی غوروخوض اور روحانی مراقبہ میں اپنے اکثر ایام زندگی گزار دئے۔ جن لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت میں تصوف و روحانیت کا ایسا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اس پہلو پر دوبارہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ابتدائی ایام غار حراء میں خلوت گزینی اور روحانی مراقبہ میں کیوں گزارے۔

 

عربوں کے ہاں شراب سب سے پسندیدہ چیزوں میں شامل تھی، وہ اسے پینے میں افراط سے کام لیتے تھے جیسے آج کل لوگ چائے پیتے ہیں، ان کی زندگی بہت سخت تھی اور ذرائع معاش بہت محدود اور مشکل تھے، روز مرہ کی زندگی میں فراغت کے اوقات بہت طویل ہوتے تھے اور غربت غالب تھی، فراغت کے اوقات گزارنے اور غم حیات پر غلبہ پانے کے لیے وہ شراب نوشی کا سہارا لیتے تھے یوں شراب ان کی پسندیدہ چیز تھی جو وقتی طور پر ہی سہی انہیں ان کی مفلوک الحالی بھلانے میں مدد دیتی تھی

 

Mawlid al-Nabi that the Qura’n tells is bounty, mercy, favour, and grace of God میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مطابق اللہ کی رحمت اور اسکا فضل ہے اور اس کا جشن منانا جائز ہے
Ghulam Ghaus, New Age Islam

میلاد النبی کا جشن مختلف ممالک میں مختلف رسوم رواج کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مثلاً، شیرینی تقسیم کی جاتی ہے،اسٹیج سجائے جاتے ہیں، نوجوان اس دن لباس فاخرانہ میں ملبوس ہو کر جلوس نکالتے ہیں، علم بلند کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعت خوانی اور مدح سرائی کرتے ہیں۔ عید میلاد النبی کا یہ تہوار مکمل دھوم دھام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن خوش مزاجی کا ایک سماں ہوتا ہے اور اس موقع پر لوگوں کو ایک دووسرے کو تحفے تحائف پیش کرتا ہوا اور غریبوں کے درمیان کھانا تقسیم کرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دن  ہزاروں کی تعداد میں لوگ مساجد میں  نماز ادا کر کے اور انہیں قمقموں سے سجا کر خوشیاں مناتے ہیں۔

 

نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا زیادہ تر اقوال میں نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”اس کی نماز نہیں جس نے اس میں کتاب کی فاتحہ نہیں پڑھی“، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”جس نے ایسی نماز پڑھی جس میں کتاب کی فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو وہ ناقص ہے“، اور چونکہ فاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے لہذا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس کا نزول نماز کے حکم کے ساتھ ایک ہی دن میں ہوا ہوگا۔

 

Pakistan: Aarti Performed after Centuries in the Temple شومیلا جعفری پاکستان: کٹاس راج مندر میں دہائیوں بعد آرتی
Shumaila Jaffery

ہندوستان ۔ پاکستان نے بٹوارے کے وقت  1947 سے ہی چکوال میں واقع کٹاس راج مندر بند پڑا تھا ۔ دہائیوں بعد  اس مندر میں آرتی کی گونج سنائی دی ہے۔

مندر کے تعمیر نو کے لئے پاکستان میں اقلیتی ہندوؤں نے افسران کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ہندو دھرم کو ماننے  والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم مسلمان اکثریت والے معاشرے میں ان کی حالت کو لے کر ایک یقین دہانی کی طرح ہے۔

 

The Radical Intelligentsia of Islam Are the ‘Hypocrites’ بنیاد پرست اسلامی دانشوران اور  علماء ‘منافق’ اور ‘گنوار عرب’ ہیں اور عصر جدید کے ‘سخت کافر’ہیں
Muhammad Yunus, New Age Islam

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور نبوت (610-632) کے پہلے 12 سالوں (610-622) تک اسلام کی تبلیغ و اشاعت  اپنے مادر وطن مکہ میں ہی کی۔ اس زمانے کے قبائلی معاشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ ‘‘قریش’’ کے لوگوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبر دست مخالفت کی اور بارہ سالوں کے اس طویل عرصے میں تقریباً صرف  ایک سو لوگوں نے ہی اسلام قبول کیا اور یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (622) عیسوی میں مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیے جو کہ مکہ سے تقریباً 150 میل کی دوری پر واقع ہے اور آپ نے ان خطرناک اور نامساعد حالات میں ایک ہفتے کا لمبا سفر طے کر کے مدینہ ہجرت کیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نے انتہائی گرم جوشی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور آپ کو اپنا قائد مقرر کر لیا۔ ان کے لائے ہوئے مذہب نے مدینہ کے لوگوں کو  متوجہ کیا، قبولیت اسلام کا سلسلہ بڑھ گیا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کے بعد جلد ہی انہیں  وہاں کے پیدائشی کفار، یہودی قبائل اور بڑھتی ہوئی امت مسلمہ پر مشتمل ایک مخلوط مدنی معاشرے کا حاکم اعلیٰ منتخب کر دیا گیا۔

نوابین  اودھ کے زمانے میں جن چیزوں کو فروغ ملا ان میں کھانے کی مختلف  اقسام بھی شامل ہیں ۔ مثلاً قورمہ، رومالی روٹی، کلچہ ، نہاری، لکھنؤی پلاؤ ، بریانی ، کباب اور شیر مال وغیرہ ۔ نوابیں اودھ  سے ملنے والے انعام و اکرام اور حوصلہ  افزائی نے اس وقت کے باورچیوں  کو ان ڈشو ں کے علاوہ مزید نئی نئی ایجادات  اور تجربے  کرنے کا حوصلہ بحشا۔ جیسے کلچے میں پرت دار کلچہ ، سادہ کلچہ اور غلاف والا کلچہ ۔ نہاری میں گوشت کی نہاری او رپائے کی نہاری ۔ کبابوں  میں شامی کباب، گلاوٹ کے کباب، ٹکیہ کے کباب، نرگسی  کباب، سیخ کے کباب او رکاکوری کباب وغیرہ ۔ اسی طرح شیر مال کی بھی کئی  اقسام ہیں جیسے  باقر خانی ، تعفطان اور تبارخ وغیرہ ۔

 

ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کعبہ کی طرف تھی، اور وہ حجرِ اسود کو سامنے رکھتے تھے، یعنی وہ اپنی نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے ادا نہیں کرتے تھے مگر جب پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر لیا 8۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب نماز مکہ میں فرض ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بیت المقدس کی طرف تھی حتی کہ وہ مدینہ تشریف لے گئے اور مدینہ میں بھی تبدیلی تک وہ بیت المقدس کی طرف ہی نماز ادا کرتے تھے 9، اس کے لیے وہ ایک قول سے استدلال کرتے ہیں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے 10۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS