FOLLOW US:

Books and Documents
Urdu Section

Iraq And Saudi Arabia- May the Rhetoric Not Become A Cause Of War, Again عراق اور سعودی عرب- کہیں آپسی بیان بازیاں پھر سے کسی جنگ کی وجہ نہ بن جائیں
Basil Hijazi, New Age Islam
جب کوئی دوسروں کے بارے میں دشمنانہ انداز میں سوچنا شروع کرتا ہے تو اسی وقت دونوں اطراف میں مستقبل کی جنگ کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک یا دونوں فریق شدید نقصان اٹھاتے ہیں، یہی کچھ عراق اور ایران، اور دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اور یورپ کے درمیان ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ کس طرح صدام حسین نے الجزائر کے معاہدے کو صحافیوں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے پھاڑ ڈالا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا، یہی وجہ تھی کہ ایران نے جنگ کے نقصانات کی بھرپائی کے اپنے حق پر اصرار کیا کیونکہ جنگ عراق نے یا زیادہ صحیح الفاظ استعمال کیے جائیں تو صدام حسین نے شروع کی تھی نا کہ ایران نے۔

 

Human Rights situation in Iran has not improved substantially ایک اعتدال پسند صدر کے انتخاب کے بعد بھی ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال میں خاطر خواہ سدھار نہیں: جنیوا میں مفکرین کا اظہار رائے
Milica Javdan Chairwoman,IWA in Norway

ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران نے ایک اعتدال پسند صدر کا انتخاب کیا ہے لیکن ایران میں صدر کا کردار ایک سپریم لیڈر کے مقابلے میں بہت چھوٹا اور ماتحتی کا ہے۔ سپریم لیڈر والیٔ فقیہ ایران میں سب سی بڑی روحانی اور سیاسی اتھارٹی ہیں۔ انہیں بڑے لیڈر کی عدم موجودگی میں پوری دنیا کے مسلمانوں کا عبوری رہنماں مانا جاتا ہے اور اسے شیعی اسلامی مسیح کا ایک چھوٹا سا عکس مانا جاتا ہے۔ اور آخری مسیح (امام مہدی) کی آمد تک وہ مسلمانوں کا قائد و رہنماں ہے۔ اس سلسلے میں وہ اسلام کا سب سے بڑا مفتی، ترجمان اور اسلامی کمیونٹی کا سیاسی سربراہ ہے۔

 

Muslim Heroes and Role Models مسلم ہیرو اور  مثالی شخصیات
Mike Ghouse

میں اپنے مسلم بھائیوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ ان عظیم ہستیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لکھیں ، اور اس بارے میں بھی لکھیں کہ  کس طرح ان کے خدمات کا دائرہ آنے والی صدیوں تک وسیع کیا جا سکتا ہے ۔ کیا ہم ان کی خدمات کے کارناموں کو اپنے اسکولوں کی کتابوں اور مساجد اور نجی اسکولوں میں  اسلامی  سوشل ایجوکیشن میں شامل کر سکتے ہیں ؟ کیا وہ ہمارے رول ماڈل نہیں ہیں ؟ مسلم ہونے کا مطلب امن کوش ہونا ہے ، مسلم ہونے کا مطلب ایسا انسان بننا ہے جو اختلافات اور تنازعات کو رفع کرتا ہے اور پوری انسانیت کی خیر سگالی اور پرامن بقائے باہم کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی مخلوق ؛ زندگی اور معاملات کے ساتھ امن و سکون کے گہوارے میں زندگی گزاریں۔

 
Dialogue and Dawah مکالمہ اور دعوت
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

Dialogue and Dawah مکالمہ اور دعوت
Maulana Wahiduddin Khan

مکالمہ کا اسلام سے ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔اور دعوتی مشن خود میں ایک مکالمہ ہے۔ دعوتی مشن میں لوگوں کے ساتھ ربط پیدا کرنے اور ان کے ساتھ گفتگو کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دعوتی مشن لوگوں پر دوسروں کی فکر کو ضروری قرار دیتا ہے۔ دعوتی سرگرمیوں کے بغیر آپ کا وجود تنہاہے۔ لیکن جب آپ دعوت کو اپنا ایک مشن بنا لیتے ہیں تو آپ بے شمار لوگوں کے ساتھ ربط میں آجاتے ہیں اور جب بہت سارے لوگ ایک ساتھ جمع ہوں تو پھر فطری طور پر مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔

 

Is Elimination of Terrorism Possible? (Part 1) کیا دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ قسط اول
Mujahid Hussain, New Age Islam
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کی اپنی صفوں میں شدید ترین اختلافات موجود ہیں اور ایسے لوگوں کی آواز توانا ہورہی ہے جو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کو نہ صرف سیاسی حکومت بلکہ ریاست کے لیے خطرناک تصور کرتے ہیں۔اس کی وجہ مسلم لیگ کے اپنے دامن میں موجود وہ درجنوں ارکان اسمبلی ہیں جو بلواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کی متشدد مذہبی و فرقہ وارانہ جماعتوں سے تمسک رکھتے ہیں۔

 

Terrorist Attack On India’s Maulana Usaidul-Haq Qadri In Iraq  عراق میں مولانا اسید الحق  عاصم القادری پر دہشت گردانہ حملہ اور مسلم ممالک میں صوفی علماء کا قتل عام: ایک فکرانگیز تجزیہ
Late Maulana Usaidul Haq

انہوں نے اپنی بے لاگ اور زبردست تحریروں اور مذہبی خطابات کے ذریعہ اسلامی مسلمات کی خود ساختہ سلفی تشریحات کو کھلے طور پر مسترد کیا تھا۔ سلفیوں کی فکری انتہاء پسندی اور دور جدید میں اس کی تباہ کاریوں کی وضاحت کرتے ہوئے سلفی آئیڈیولوجی کی تردید میں انہوں نے بر وقت انتہائی اہمیت کی حامل ایک کتاب ‘‘As-Salaf was a blessed epoch, not a school of thought’’ (السلف ایک ایک مبارک عہد تھا، نہ کہ کوئی مکتب فکر) تصنیف کی ۔ انہوں نے مختلف مسلم ممالک میں سرگرم عمل مذہبی انتہاء پسندوں کی عسکریت پسندانہ اور سیاسی نظریات اور متشددانہ سرگرمیوں کی نظریاتی طور پر زبر دست تردید کی تھی، جیسا کہ ان کی ایک کتاب ‘‘الجھاد في الإسلام’’ (1993) سے عیاں ہے۔

 

Iraq Should also Recall its Ambassador from Qatar عراق کو بھی قطر سے اپنا سفیر واپس بلا لینا چاہیے
Basil Hijazi, New Age Islam

بیان کے مطابق قطر سرِ عام مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں قائم شدت پسند اسلامی تنظیموں کی سرِ عام حمایت اور مدد کرتا ہے، اس خلیجی فیصلہ کے بعد مصر نے بھی قطر کو کہا ہے کہ وہ “عرب قوم کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے والی سیاست سے باز آجائے”اور عندیہ دیا کہ شاید وہ بھی مذکورہ تینوں عرب ممالک کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قطر سے اپنا سفیر واپس بلا لے۔

 

Islam is Not the Enemy اسلام دشمنی کے دروازے نہیں کھولتا
Sara Erkal

تہذیب و ثقافت، مذہب اور رنگ و نسل سے قطع نظر انسانوں کے درمیان ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے کے لیے بارہا معاہدے اور صلح نامے پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔ اس سے ایک معاشرتی احساس پیدا ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی سطح پر یہ بھی احساس بیدار ہونا چاہیے کہ ہم سب ایک سماجی ربط کے ممبران ہیں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تناؤ اور افتراق کو مزید مضبوط کرنا کسی بھی طرح اختلافات کو روکنے والوں، عالمگیر سیاست اور تناؤ اور مشرق اور مغرب کے درمیان نازک رشتے کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

 

Muslim Majorities Open To Democracy, But Cautious مسلم اکثریت نے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جمہوریت کا خیرمقدم
Omar Sacirbey

ہیڈ اسکارف کا مسئلہ ایک الگ معاملہ ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً تین تہائی لوگوں نے یہ کہا کہ ان کا ماننا یہ ہے کہ عوامی مقامات پر عورتوں کو یا تو برقع پہننا چاہیے یا انہیں اپنے چہرے کا پردہ کرنا چاہیے جسے ہم نقاب بھی کہتے ہیں۔ ترکی اور تیونس کے لوگوں نے ہیڈاسکارف کی ایک جدید شکل حجاب کو ترجیح دی، 32 فیصد ترکی میں اور 15 فیصد تیونس میں ایک بڑی اقلیت نے یہ کہا کہ عورتوں کو بالکل ہی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے۔ لبنان میں 49 فیصد لوگوں نے یہ کہا کہ عورتوں کو عوامی مقامات پر کبھی بھی ہیڈاسکارف نہیں پہننا چاہیے، شاید جن لبنانیوں کا سروے کیا گیا ان میں سے 27 فیصد عیسائی تھے۔

 

Ulema Are the Heirs of Prophets علماء انبیاء کے وارث ہیں
Sheikh Abdul Bari Ath-Thubaythi

اسلام میں علما کو عزت و احترام سے نوزا گیا ہےکیوں کہ علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وارثین ہیں جو کہ ان انبیاء کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ در اصل اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ اتنا عظیم ہے کہ اللہ علماء کا ذکر اپنے اور اپنے فرشتوں کے نام کے ساتھ اپنے کلام میں کرتا ہے: ‘‘ﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے’’۔

 

The Indian Supreme Court Ruling allowing Child Adoption is Permissible in Islam بچہ گود لینے کے تعلق سے سپریم کورٹ کے حکم کا شرعی جواز
Ghulam Ghaus, New Age Islam

اسلامی نقطہ نظر سے مسلمانوں کو سیکولر جیونائل جسٹس ایکٹ (secular Juvenile Justice Act) کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایکٹ کسی بھی طرح مسلمانوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ کسی بچے کو گود لیں بلکہ وہ مسلمانوں کو اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ یا تو جمہوری راستہ اختیار کریں یا پرسنل لاء پر چلیں۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ، ‘‘اس ایکٹ سے کسی بھی والدین کے ذریعہ کوئی اجباری عمل واجب نہیں ہوتا۔ اس میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ، ‘‘اس ایکٹ سے اس قسم کے لوگوں کو ایکٹ کی مراعات سے فائدہ اٹھانے کی آزادی میسر آئے گی، اگر ان کے اندر ایسی کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے تو۔ اس قسم کے لوگ کسی کو بھی گود لینے کے لیے آزاد ہیں اور انہیں ایسا نہ کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے اور اس کے بجائے پرسنل لاء کا جو بھی حکم اسے اپنے لیے قابل انطباق لگے اسے اس پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے’’۔

 

بات جب دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کی آتی ہے تو طالبان عسکریت پسند ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سہولت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی اس حکمت عملی کو ہی دیکھ لیں کہ وہ لڑکیوں کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ایک افغانی شہری رحیم اللہ عثمانی کا کہانا ہے کہ جب کوئی بمبار حملہ کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ سرکش اور فتنہ انگیز طالبان ان ہتھکنڈوں کی ذمہ داری بڑی آسانی کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مگر جب ایسا کوئی حملہ ناکامیابی کا شکار ہوتا ہے تو یہی عسکریت پسند اس پورے معاملے سے ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔

 

لہذا جب ہم ایسی ویب سائٹس پر جاتے ہیں یا ان لوگوں سے کوئی معاملہ رکھتے ہیں جن کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے تو ہمارے اس عمل سے ان کو تقویت ملتی ہے اور اس کے بدلے میں ان کا نفسیاتی رد عمل بڑھتا ہے۔ اس قسم کی ویب سائٹس نہ صرف یہ کہ برائی پھیلارہی ہیں بلکہ کفر کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ شرک اور کفر کے درمیان ایک فرق ہے۔ شرک کا مطلب خدا کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، لیکن کفر کا مطلب ہے کہ آپ سچائی کو جانتے ہیں لیکن اسے چھپاتے ہیں اور اس میں خلط ملط کرتے ہیں۔

 

What is Sharia? What are its Objectives? (Part 3) (شریعت کیا ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ (حصہ 3
Aiman Reyaz, New Age Islam

لوگوں نے شریعت کے متعلق جو یہ نظریہ قائم کر رکھا ہے اس سے نمٹنے کے مختلف طریقے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کسے یہ نتیجہ نکالنے کا حق ہے کہ شریعت کا رویہ بربریت، سختی، غیر ہمدردی اور ظلم سے بھرا ہوا ہے؟ کیا شریعت کی اس تعریف پر کوئی مکمل اتفاق رائے قائم ہو چکی ہے؟ اور کیا اس معاملے میں گفتگو اور مکالمہ مکمل ہو چکا ہے؟ نہیں بلکہ اس موضوع پر مباحثہ اور مناقشہ جاری ہے۔

 

نماز ارکان اسلام کا ایک رکن ہے، باقی ارکان میں شہادت، زکاۃ، حج اور ماہ رمضان کے روزے ہیں حدیث میں ہے کہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا، اور زکاۃ دینا، اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا 1، یہ بھی ہے کہ: اسلام یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور اس سے کسی بھی طرح شرک نہ کریں، فرض نماز قائم کریں، زکاۃ دیں اور رمضان کے روزے رکھیں 2۔

 

What Is Sharia? And What Are Its Objectives? (Part 2) (شریعت کیا ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ (حصہ 2
Aiman Reyaz, New Age Islam

بہت سارے مسلم فقہاء نے شریعت کے مقاصد میں صرف زندگی کے تحفظ کو ہی نہیں شامل کیا ہے بلکہ اگر آپ کسی خطرے کی زد میں ہیں تو شریعت کا مقصد ہے کہ آپ کو تحفظ فراہم کی جائے، اگر آپ بیمار پڑ جائیں تو شریعت کا مقصد ہے کہ آپ کی دیکھ بھال کی جائے، اگر آپ کے پاس کھانے کے لیے رزق اور رہنے کے لیے مکان نہیں ہے تو آپ کو کھانے کے لیے رزق اور رہنے کے لیے مکان مہیا کرائی جائے، یہ تمام مقاصد شرعیہ کے تحت ہی مندرج ہوتے ہیں۔

 

جب کوئی روداری کی راہ پر چلتا ہے تو اسے یہ سچائی قبول کرنی پڑتی ہے کہ جو لوگ خود مجھ سے مختلف معتقداد کے حامل ہیں انہیں بھی اپنے اصول معتقدات پر عمل کرنے کا حق ہے۔ اور عملی طور پر کسی بھی انسان کو ایسا رویہ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ جو رواداری کے دانشورانہ اور فکری عنصر کے خلاف ہو، مثلاً دوسروں پر جسمانی طور پر حملے اس لیے کرنا کہ وہ ایک مختلف مذہبی اصول و معتقدا ت کے حامل ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: کھڑے رہنا میرے لیے مشکل ہوگیا ہے، تمیم الداری رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:  میں آپ کے لیے ایسا منبر نہ بنواؤں جیسا کہ میں نے شام میں بنتے دیکھا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ پر مسلمانوں سے مشاورت فرمائی، اکثریت نے اس کی حمایت کی، عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ایک غلام ہے جس کا نام کلاب ہے وہ اس کام میں سب سے ماہر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے یہ بنانے کا حکم دو، تو انہوں نے اسے جنگل میں جھاو کے درخت کاٹنے بھیج دیا اور اس سے اس نے دو سیڑھیاں اور ایک بیٹھنے کی جگہ بنائی اور اسے لا کر وہاں رکھ دیا جہاں یہ آج رکھا ہوا ہے 1۔

 

Toward An Islamic Enlightenment اسلامی روشن خیالی اور علم و آگہی کی جانب ایک پیش قدمی
Sahin Alpay

اسلام کا تعین کسی ایک شکل میں نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام کی تاریخ بھی مختلف تشریحات سے بھری پڑی ہے۔ جدیدیت اور عالمگیریت (Modernisation and globalisation) کے اس عمل کی وجہ سے بنیادی طور پر اسلام کی دو مختلف اور متضاد تشریحات معرض وجود میں آئی ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) بنیاد پرست جدیدیت Modernisation کو مسترد کرتے ہیں اور قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ایک ‘‘خالص’’ اسلام کا اصرار کرتے ہیں۔

 

Accepting Offers of Peace امن کی پیشکش قبول کریں
Maulana Wahiduddin Khan

جس انسان کو اللہ کی یہ حکمت و دانش حاصل ہو جاتی ہے وہ اس روشن خیالی کے ساتھ جیتا ہے گوکہ پوری دنیا اس کےلیے روحانی اور عقلی سکون کا ایک گہوارہ بن گئی ہو۔ ایسا انسان اتنا بلند و بالا مقام حاصل کر لیتا ہے کہ دولت اور پاور جیسی چیزیں اس کے لیے انتہائی حقیر ہو جاتی ہیں۔ اس کا طرز فکر اسے امن پسند بنا دیتا ہے۔ وہ نفرت اور تشدد کو اتنا بے معنی گرداننا شروع کر دیتا ہے کہ وہ نہ تو کسی سے نفرت کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی پر ظلم و تشدد کر سکتا ہے۔ جس شخص کو اس قدر پیش بہاء خزانہ حاصل ہو گیا ہو وہ ان حقیر چیزوں کے پیچھے کیوں بھاگے گا؟

 

مسجد قباء کو اسلام کی پہلی مسجد سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی جب آپ ابھی قباء میں ہی تھے اور مدینہ داخل نہیں ہوئے تھے، یہ مسجد اہلِ قباء کے لیے بنائی گئی تھی 4، جب قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ قباء تشریف لے گئے اور اس کی دیوار بڑھا کر اس کی بنیاد ڈالی، آپ نے اس کی تعمیر کے لیے اپنے صحابہ کرام کے ساتھ پتھر ڈھوئے، آپ ہر ہفتہ کے دن یہاں پیدل آتے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بروز پیر و جمعرات آتے 5، کہا جاتا ہے کہ یہی وہ مسجد ہے جسے تقوی پر بنایا گیا ہے جو قرآن میں مذکور ہے 6۔

 

Leadership Qualities of Prophet Muhammad پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قائدانہ صلاحیتیں
Louay Fatoohi

جیسے جیسے قرآن ہمیں ان مختلف سیاق و سباق کے بارے میں بتاتا ہے جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر عمل کرنا تھا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خوبصورت صفت اور بھی زیادہ مؤثر نظر آتی ہے، اس لیے کہ ان آیات میں ‘‘انہیں معاف کرنے’’ اور ‘‘ان کے لیے بخشش طلب کرنے’’ کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ امر عیاں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب ان کے صحابیوں سے کوئی ایسی خطا سرزد ہو جائےجس کے لیے اللہ کی بخشش اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی معافی درکار ہو۔

 

روایت میں تقریباً اجماع ہے کہ نمازِ استسقاء میں آپ اپنی چادر اس طرح الٹ دیتے کہ دائیں طرف کو بائیں اور بائیں طرف کو دائیں طرف کر لیتے، پیٹھ کے حصہ کو سامنے اور سامنے کے حصہ کو پیٹھ کی طرف کر لیتے، یہ چادر سیاہ تھی 2، یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے وعدہ فرمایا کہ وہ میدانِ نماز میں باہر نکلیں گے، چنانچہ جب سورج نکل آیا تو آپ اس طرح برآمد ہوئے کہ سراپا خشوع وتضرع بنے ہوئے تھے، یکسر خاکساری اور انکسار کا پہلو لیے ہوئے 3

 

میں نے پہلی جنگ عظیم سے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا کہ ہندوستان ضرور آزاد ہوگا اور اس کی آزادی کسی عنوان سے رُک نہیں سکتی ، میرے سامنے مسلمانوں  کے مقام  کاتعین  بھی تھا ۔ ہمہ جہت غور و فکر  کے بعد اس نتیجے پر پہنچا  کہ مسلمان اپنے وطنی  بھائیوں  کےساتھ  چلناسیکھیں  اور تاریخ  کو یہ کہنے  کاموقع نہ دیں  کہ جب اہل وطن  ہندوستان  کی آزادی  کے لئے سر گرم  عمل تھے تو مسلمانوں  نےموجوں  سےلڑنے کے بجائے کناروں  پر تماشا دیکھنے کی عادت  ڈالی  اور وہ پرُ جہد کشتیوں  کے ڈوبنے پر خوش ہوتے تھے’’۔

 

Muslims and Dialogue امت مسلمہ اور مکالمہ
Khalid Zaheer

مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان مکالمہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اب تک مسلمانوں نے نسبتاً ایک محدود سطح پر مکالمات کا انعقاد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر جو مسلمان مکالمات کرتے ہیں وہ مذہبی معاملات میں غیر مسلموں کے ساتھ دوری کو کم کرنے میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ انہیں مسلمان بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے اندر دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے اوپر تفوق پسندی کا ایک گہرا احساس سرایت کیا ہوا ہے۔ لہٰذا خلاصہ یہ کہ وہ مکالمات کے ذریعہ دوریاں ختم کرنا پسند نہیں کرتے۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS