FOLLOW US:

Books and Documents
Books and Documents

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 23) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 23
Khurshid Ahmad Fariq
ہجرت سےپہلے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی مالی حالت او رمعاشی سرگرمیوں  سے ہم بے خبر ہیں،بظاہر ایسا  معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کوئی  مستقل ذریعہ نہیں تھا اور وہ اپنے والد ابو طالب کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر کفالت زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہجرت کے بعد جب ا ن کی عمر بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ تھی دو ڈھائی بر س تک وہ سخت عسرت میں مبتلا رہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے فی کھجور ایک ڈول کے حساب سے کسی  یہودی کےکنوئیں سے پانی کھینچ کر پیٹ بھرا 1؎ ۔ 2 ؁ ھ میں ان کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہ سے طے ہوئی تو وہ بالکل تہی دست تھے ۔

 

Sexuality, Islam and Politics in Malaysia
tan beng hui

tan shows how struggles over the symbolic meaning of “Islam” have tangible, material consequences. In particular, her work demonstrates how the “state” is not a fixed entity, but something that is constantly evolving. By extension, through its instrumentalisation of “Islam,” the “state” is also responsible for making different aspects of “Islam” salient at different points in history.  In other words, much of the meaning of “Islam” is also constructed by dynamic social forces. Thus, although anti-gay rhetoric in the name of contemporary Islam appears to be a universal phenomenon….

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 22) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 22
Khurshid Ahmad Fariq

علی حیدررضی اللہ عنہ کا انتخاب غیر معمولی حالات میں ہوا تھا ۔ انہیں نہ عثمان غنی  رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا تھا نہ بڑے صحابہ کے کسی انتخابی پینل نے  بلکہ ان لوگوں کے ہاتھوں وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے جنہوں نے چالیس دن عثمان غنی کی حویلی کا محاصرہ کر کے انہیں قتل کر ڈالا تھا ۔ جیسا کہ گذشتہ اوراق میں بیان کیا جا چکا ہے ، پہلے ابوبکر صدیق اور پھر عمر فاروق کے خلیفہ ہونے پر بطور احتجاج مدینہ کے سیاسی افق پر تین پارٹیاں نمودار ہوگئی تھیں ۔ سب سے بڑی اور طاقتور پارٹی علی حیدر رضی اللہ عنہ کی تھی، دوسری طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی اور تیسری زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کی ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 21) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 21
Khurshid Ahmad Fariq

عثمانی خلافت میں ا س طبقہ نے ہر دوسرے طبقہ سے زیادہ شاندار اقتصادی ترقی کی منزلیں طے کیں ۔ غیر ہاشمی قریش میں سب سے بڑا اور با حوصلہ خاندان بنو اُمیّہ کاتھا جس کے ایک ممتاز رکن خلیفہ وقت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔ مدینہ ، حجاز اور پڑوسی  ملکوں سے ہونے والی معتدبہ تھوک تجارت اسی طبقہ کے  ہاتھ میں تھی ۔ اس طبقہ کے ایک گروہ  نے مفتوحہ  علاقوں  میں جائدادیں  بھی حاصل کرلی تھیں ۔ بنو امیّہ کے کچھ خاندان تجارت میں مشغول تھے او ر کچھ  سرکاری عہد وں پر فائز تھے ۔ حکومت  کے بیشتر اعلیٰ  پرُ منفعت مناصب  پر یہی  خاندان چھایا ہوا تھا ۔

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 20) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 20
Khurshid Ahmad Fariq

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں کئی موقعوں پر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلامی خدمت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کے لئے ہر دوسرے صحابی سے زیادہ دل کھول کر روپیہ خرچ کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ آئے تو و ہاں کا پانی انہیں پسند نہیں آیا شہر کے باہر ایک اچھے پانی کاکنواں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااشارہ پاکر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نےیہ کنواں دس ہزار روپے او ربقول بعض دو ہزار میں خریدلیا ، ایک ماخذ میں کنویں کی قیمت ساڑھے تیرہ ہزار 2؎ روپے اور دوسرے میں ساڑھے سترہ 3؎  ہزار بتائی گئی ہے۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 19) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 19
Khurshid Ahmad Fariq

عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور مُطعم بن جُبیر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو انہوں نے ان دونوں گھرانوں  کے مخالفانہ رویہ اور معاندانہ طرز عمل کو ان کی محرومی کاذمہ دارقرار دے کر شکایت رد کردی تھی 1؎ ۔ ہجرت سے پہلے خاندان عبد شمس اور نوفل کی تجارت جزیرہ نمائے عرب ، شام اور عراق میں فروغ پر تھی اور ان کے متعدد گھرانے خوب مالدار تھے لیکن ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدر، اُحد اور خندق کی جنگوں کی تیاری کے عظیم مصارف اور دوسری طرف ان کے ایک گراں  قدر تجارتی قافلہ کے مسلمانانِ مدینہ کے ہاتھوں  لٹنے نیز عراق وشام  کی تجارتی شاہراہوں کے مسلمان ترکتاز کے باعث مسدور ہوجانے سے ان کی خوش حالی  اور تجارت پر کاری ضرب لگی تھی ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 18) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 18
Khurshid Ahmad Fariq

فاروقی اور عثمانی فتوحات میں کچھ بنیادی فرق تھے ۔ دور فاروقی میں عرب فوجیں عراق، شامی اور مصری حکومت سےبڑے بڑے معرکوں میں لڑکر جیتی تھیں ۔ ہزیمت کے بعد ان حکومتوں کے سربراہ یا تو ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے یا انہوں نے عربوں کےسامنے گھٹنے ٹیک کر خود کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔ عربوں نے اُن سے جزیہ اور لگان کامطالبہ کیا اور باوجود یکہ جزیہ ذلت کا ایک بد نما نشان تھا اور لگان کی شرح بھی سابقہ لگان سے زیادہ تھی،انہیں مجبوراً دونوں قبول  کرنا پڑے گا ۔ جن  علاقو ں  کے حاکم بغیر  لڑے یا معمولی جھڑپوں کے بعد صلح کے لئے تیار ہوگئے تھے اُن سے بھی جزیہ اور لگان طلب کیا گیا تھا اور چونکہ وہ بھی فارس، شام اور مصر کی عظیم الشان حکومتوں کے سقوط سے مبہوت تھے اور عرب طاقت سے مرعوب ، اس لئے انہیں  یہ دونوں مطالبے قبول کرنا پڑے تھے ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 17) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 17
Khurshid Ahmad Fariq

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تجہیز و تلقین کے بعد پینل کے پانچ رکن خلافت کی گتھی  سلجھانے ایک مکان میں جمع ہوئے ۔ مکان کے دروازہ پر عمر فاروق کی حسب ہدایت الیکشن نگران ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مع پچاس مسلح انصاریوں کے جگہ لے لی ۔ جب کافی وقت ردّ وقدح میں  گذر گیا اور کوئی فیصلہ نہ ہوسکا بلکہ گتھی سلجھنے کی  بجائے اور زیادہ اُلجھ گئی تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خلافت کی امیدواری سےدست بردار ہونے کا ارادہ کرلیا، اسی وقت اُن کی عمر چھیا سٹھ سال تھی ، رئیس آدمی تھے خوش خورد خوش پوش ، اعزار کے علاوہ خلافت میں ان کے لئے کوئی مادی کشش نہیں تھی ،بلکہ  وہ سمجھتے تھے کہ اگر میں خلیفہ ہوا تو عمر فاروق کی سی خشک اور دکھی زندگی بسر کرنا  میرے لئے نا ممکن ہے اور اگر میں نے ایسی  زندگی بسر نہ کی تو میری خلافت کامیاب نہ ہوسکے گی اور خلافت کے امیدواروں کے ہاتھوں  مجھے ہر گز چین و سکھ نصیب نہیں ہوگا۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 16) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 16
Khurshid Ahmad Fariq
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نظریہ تھا کہ چونکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش تھے  اس لئے ان کا جانشین بھی قریشی ہونا چاہئے نیز یہ قبیلۂ قریش میں حکومت کی ذمہّ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ساری عرب قوم سے زیادہ صلاحیت ہے ۔ اس نظریہ کے ماتحت انہوں نے انصار کامطالبۂ خلافت سقیفہ بنی ساعدہ میں شد و مد کے ساتھ مسترد کردیا تھا اور اس خوف سے کہ کہیں انصار خلافت کی خواہش پروان چڑھانے کی جد وجہد شروع کر دیں انہیں بڑے عہدوں سے الگ رکھا تھا ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوسرا نظریہ تھا کہ خلافت کو خاندان نبوت سے بھی الگ رہنا چاہئے 1؎ ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 15) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 15
Khurshid Ahmad Fariq

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی والدہ حَنتمہ ایک معزز اور خوش حال قرشی گھرانے کی خاتون تھیں اور والد خطاب بھی خاندانی آدمی تھے لیکن ناسازگار حالت کے باعث دنیوی خوشحال سےبہرہ ور نہیں ہوسکے ۔ عمر فاروق نے ہوش سنبھالا تو گھر میں عسرت کا ماحول تھا ۔ بچپن میں ان پر ایسا وقت بھی پڑا جب فاقے کی نوبت آگئی ۔ خلیفہ ہوکر کبھی بچپن کی روکھی پھیکی زندگی کا اپنی موجودہ پر نعمت و پر عظمت زندگی سے مقابلہ کر کے حیرت کیا کرتے تھے ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا : میری زندگی میں ایسا وقت بھی  آیا جب کھانے کے لئے روٹی تک نہیں  تھی، میں اپنی مخزومی خالاؤں کے گھر جاکر ان کے لئے کنوئیں سے میٹھا پانی نکال  لاتا اور وہ مجھے مٹھی بھر بھر کر کشمش دے دیتی تھیں 3؎ ۔ بچپن کے ایک موڑ پر وہ اپنی ماں کے چچا زاد بھائی عُمارہ بن ولید کے خادم  کی حیثیت  سے بھی نظر آتے ہیں ۔ عُمارہ تجارت کے لئے شام یا یمن کے سفر پر تھے اور عمر فاروق ان کی خدمت کرتے اور کھانا پکا کر کھلاتے 4؎ ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 14) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 14
Khurshid Ahmad Fariq

زکات۔ اس ٹیکس کا مدنی قرآن نے 9 ؁ ھ یا اس کے لگ بھگ اعلان کیا تھا لیکن اس کے ضمن  میں آنے والی اشیاء کی وضاحت نہیں کی تھی ۔ عہد نبوی  میں دولت کے ان اصناف پر یہ ٹیکس لیا جاتا تھا : سونا، چاندی ، اونٹ ، گائے ،بکری ،بھیڑ ، گیہوں ، مکّا  (ذُرہ) جو، کھجور اور کشمش ۔ زروسیم پر ٹیکس کی شرح ڈھائی فی صد سالانہ تھی لیکن پچاس روپے یا اس کی قیمت کےسونے چاندی  پر ٹیکس معاف تھا ۔ کان اور دقینے سے حاصل کئے ہوئے سونے چاندی کی شرح پانچ فیصد تھی 1؎ ۔ پانچ اونٹوں ، تیس گاؤں اور چالیس بکریوں سےکم پر بھی زکات نہیں تھی ۔پانچ اونٹوں پر ایک بکری، تیس گاؤں پر ایک بچھڑا اور چالیس بکریوں  پر ایک بکری واجب تھی بشرطیکہ یہ مویشی تجارت کے لئے ہوتے اور ذاتی ضرورت کے کام نہ آتے ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 13) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 13
Khurshid Ahmad Fariq

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شاندار فتوحات نے مسلمانوں کی نظر میں ان کی قدرو منزلت تو بڑھائی ہی تھی، دیوان العطاء نے ان کی شخصیت میں  اور زیادہ کشش پیدا کردی ۔ اگر کہا  جائے کہ وہ قومی ہیرو بن گئے تھے تو بیجا نہیں ہوگا ۔عربوں کے سواد اعظم نے دیوان العطا ء کا پر جوش خیر مقدم کیا، لوگ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی درازی عمر کی دعائیں مانگنے لگے، مجلسوں میں ان کی تعریف ہونے لگی محفلوں میں ان کے اقدامات کو سراہا  جانے لگا۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 12) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 12
Khurshid Ahmad Fariq

فاروقی فوجوں نے دو تین سال کے مختصر عرصہ میں شام ، عراق اور فارس کا ایک بہت بڑا اور و سائل سے بھر پور علاقہ فتح  کر لیا  ، اس فتح  کے دوران ان کی فوجوں  نے دشمن  کے دیہاتوں ، قصبوں ، شہروں اور بازاروں  پر بیسیوں ترکتازیاں  کیں اور درجنوں معرکوں میں بڑی بڑی فوجوں کو زیر کیا ، اِن ترکتازیوں  اور فتوحات  کے نتیجہ  میں ان کے ہاتھ کثیر  مقدار میں مال غنیمت آیا، عربی روایت  نے اس غنیمت  کی مجموعی قیمت  رائج الوقت  سکوں میں محفوظ  نہیں رکھی لیکن اس کے گراں قدر ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 11) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 11
Khurshid Ahmad Fariq

عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان اصناف کو مع شرح لگان بر قرار رکھا لیکن ایک بڑی ترمیم یہ کی کہ زیر کاشت اراضی کے علاوہ قابل کاشت اراضی پر بھی لگان لگا دیا خواہ عملاً اس پر کاشت نہ ہوتی ہو اور دوسرا تصرف یہ کیا کہ گیہوں  اور جو کی ہر مربع جریب پر آٹھ آنے کے ساتھ عراق پر قابض عرب فوجوں کی خوراک کے لئے ایک فقیر کا بھی اضافہ کردیا ۔ایک ؟ کا اطلاق سولہ سو مربع گز زمین پر ہوتا تھا اور اتنی زمین پر پیداوار ہونے والے غلّہ کو بھی عرب ایک جریب کے نام سے یاد کرتے تھے ۔

 
Peace and Jihad in Islam
Sayyid Muhammad Rizvi

The word “jihad” does not mean “holy war”. This is a Western rending of a broader concept in Islamic teaching. Ask any expert of Arabic language and he will tell you that “jihad” does not mean “holy war”. The term “holy war” has come from the Christian concept of “just war,” and has been used loosely as an Islamic term since the days of the Crusades….

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 10) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 10

مصر، شام ، میسور پوٹامیہ ، عراق ، اذربی جان اور فارس میں جہاں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس سال کے مختصر عرصہ میں اسلام کا سیاسی  و اقتصادی تسلط قائم کیا ، دنیا کی تین تمدن قومیں ۔ عیسائی ، یہودی اور پارسی آباد تھیں چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں شام، مصر اور لبیا کی بزَ نطی عیسائی اور عراق و فارس کی پارسی حکومتیں  فوجی طاقت اور شاہی شان و شوکت میں دنیا کی ساری حکومتوں سے بازی  لے گئی تھیں ۔ ان  حکومتوں  کے تہ در تہ سیاسی اقتدار کے مضبوط قلعوں کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جس فوجی مشین نے مسمار کیا اس کی تشکیل  بنیادی طور پر انہی مالی وسائل سے ہوئی تھی جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جانشین  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  بندوبست کر گئے تھے اور جن کی بنیادیں مدنی قرآن کے مجوزہ فراہمی دولت  کے ان تین اصولوں پر استوار ہوئی تھیں : مال غنیمت (2) جزیہ اور (3) زکات لیکن یہ مالی وسائل اتنے وسیع نہیں تھے کہ ان کی مدد سے دنیا کی مضبوط ترین قوموں کے قصر حکومت  گرادئے جاتے ۔

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 9) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 9

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جانشین مقرر کئے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے لیکن ابوبکر صدیق نےوفات سے پہلے اپنے معتمد خاص اور مشیر  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لئے اپنا جانشین نامزد کردیا تھا ۔ سنت نبوی  سے اس انحراف کی وجہ یہ تھی کہ ابو بکر صدیق کے سامنے وہ پرُ اذیت ہنگامے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد انتخاب خلیفہ کے معاملہ  میں صحابہ  کے درمیان پید ا ہوگئے تھے ، جن کے نتیجہ  میں صحابہ کے تعلقات  کشیدہ ہوگئے تھے  ، مسلمانوں کی وفادار یاں بٹ گئی تھیں اور مدینہ میں کئی سیاسی پارٹیاں وجود میں آگئی تھیں جو ایک دوسرے پر نقد کرتی تھیں اور اپنے اپنے امیدوار وں کو مسند خلافت  پر متمکن دیکھناچاہتی تھیں

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 8) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 8

انصار کی  طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی اقارب بھی خلافت کے خواہش مند تھے اور چاہتے تھے کہ انکے بتیس سالہ نمائندے علی حیدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہوں تاکہ خلافت کے مذہبی وقار کے ساتھ اس کے مادی منافع کے بھی وہ پوری طرح متمتع ہوتے رہیں لیکن خلافت ان کے ہاتھ سے نکل گئی ۔ اس محرومی اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالصہ املا ک سے دوسرمی محرومی کا سب سے زیادہ قلق علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ہوا اور ان کے دل و دماغ پر ایسی چوٹ لگی کہ وہ ابو بکر صدیق کی خلافت کے چند ماہ بعد عین عالم جوانی میں جب کہ ان کی عمر چھبیس ستائیس سال سے زیادہ نہ تھی دنیا سے کوچ کرگئیں

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 7) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 7

بہت سے قبائلی عرب جو عہد نبوی تک اونٹ اور بکریاں چراتے تھے اور جن کے بہت سے ریوڑ رِدّہ لڑائیوں  میں  مسلمانوں  کے ہاتھ  آگئے تھے جس کے ان  کی معاشی  راہیں تنگ ہوگئی تھیں نیز وہ عرب جو اپنی موجودہ پر مشقت معاشی  زندگی سے پریشان تھے اور اسلامی فتوحات کے سایے میں قسمت  آزمائی  کر  کے بہتر  معاش کی تمنا  رکھتے تھے اپنے دیہا توں سے نکل آئے اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی فوجوں میں بھرتی ہوکر عراق اور شام کے مورچوں کو چلے گئے اور غنیمت کے جلد جلد ملنے والے سہام سے اپنی  معاشی  خوش حالی کی بنیادیں ہموار  کرنے لگے ۔

 

Beyond Stereotypes: Stories Of The Brave
Karima Bennoune

It is not in Pakistan alone that there are strong voices speaking out against the Islamists. As the author observes, they are coming from across the Muslim world, be it Algeria or Libya or Egypt. Bennoune says that “many groups in Muslim majority societies regularly denounce terrorism, even when doing so is dangerous and receives minimal international publicity. In the West, it is sometimes assumed that Muslims generally condone terrorism. The Right often presumes this because it views Muslim culture as inherently violent. The Left at times imagines this because it interprets fundamentalist terrorism as simply a reflect of legitimate grievances.”....

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 6) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 6

نقد کپڑے اور خوراک کے علاوہ جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حسب  ضرورت لیتے تھے ، ان کی تصرف میں بیت المال  کی دو اونٹنیاں ، ایک غلام ، ایک کنیز اور ایک مخملی  چادر (قطیفہ) بھی بتائی گئی ہے ۔ اونٹنیوں کے دودھ سے ملاقاتیوں کی خاطر مدارات  کی جاتی تھی ، غلام اونٹنیوں  کی دیکھ بھال  کرتاتھا ، کنیز ان کے بچے  کو اپنا دودھ پلاتی تھی 1؎  اور مخملی چادر وہ غالباً رسمی ملاقات  کے موقع پر اوڑھتے تھے ۔

 

The Sufi Message: Excerpts from Hazrat Inayat Khan’s Discourses on the Unity of Religious Ideals: 56- More on Mental Purification
Hazrat Inayat Khan
Mind can be likened to water. Even to look at a stream of pure water running in all its purity is the greatest joy one can have, and drinking the pure water is so too. And so it is with the mind. Contact with the pure-minded is the greatest joy. Whether they speak with one or not; there emanates from them a purity, a natural purity, which is not man-made but belongs to the soul and gives one the greatest pleasure and joy. There are others who have learnt to speak and entertain, and their manner is polish, their wit exaggeration, and their speech is artificial. What does it all amount do? If there is no purity of mind, nothing else can give that exquisite joy for which every soul yearns……

 

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 5) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ5

بعض رپورٹر بتاتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے عہد میں ایک لاکھ روپیہ ( دو لاکھ درہم) مدینے کے خزانے میں جمع ہوا، یہ اطلاع اس طرح بیان کی گئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص مدینے میں چاندی  سونے کے  سکّے تولا کرتا تھا ، یہی شخص ابو بکر صدیق کا نقد روپیہ بھی وزن کر تا تھا ، کسی نے اس سے پوچھا کہ ان کی خلافت میں کتنا روپیہ خزانے میں آیا تو اس نے جواب دیا : دو لاکھ درہم (ایک لاکھ روپیہ)

 

Toward An Islamic Enlightenment
Sahin Alpay

Enlightenment does not mean the rejection of religion; it essentially means using critical reasoning to understand society and the universe. Said Nursi (1878-1960) and Gülen are representatives of “Islamic enlightenment” who have interpreted Islam in light of reason and science to bring about reforms for the building of a more humane society.....

Calcutta Book Fair:  the Culture of Reading
Aakar Patel

Gujarat has its charms and the ability to make money is chief among them but it is not the place to nourish the intellect.

The New York Times’ website described it:”Organised by the Publishers and Booksellers’ Guild at the Milan Mela Ground, the annual book fair, which begins Wednesday at noon and runs through February 9, is the largest retail book fair in the world and an important event in Kolkata’s literary and cultural scene....

 
Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on forced conversions to Islam in PakistanPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

NEW COMMENTS