certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (24 Dec 2009 NewAgeIslam.Com)



سترہ جج اور 442 اراکین پارلیمنٹ

حامد میر

سپریم کورٹ کا بہت شکریہ کہ وزارت داخلہ کوحکم دے کر بیگم نصرت بھٹو کا نام ایگزٹ کنٹرل لسٹ سے خارج کروا دیا گیا۔80سالہ بوڑھی اور بیمار بیگم نصرت بھٹو سمیت تمام اراکین پارلیمنٹ کے نام ایس سی ایل سے نکال دیئے گئے ہیں۔وفاقی وزرا نے عدالتوں میں پیش ہوکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنا شروع کردیا ہےاور ان کی ضمانتیں شر وع ہوگئیں ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے این آر وکیس میں فیصلے پر اعتراضات کئے بغیر کیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ فیصلے پر اعتراضات کرنے والوں میں صرف پیپلز پارٹی کے رہنما نہیں بلکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر ،وکیل رہنما علی احمد کرد، عابد حسن منٹو اور کئی دانشور بھی شامل ہیں۔ اس میں سے کسی کی بھی نیت پر شک کئے بغیر میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا  انتظار کیجئے اور پھر کوئی رائے قائم کیجئے ۔فیصلے ہر اعتراضات کرنے والے قانونی ماہرین اور دانشور اس امر پر متفق ہیں کہ این آر او گھٹیا قانون تھا اور اسے ختم کرنے کے سواکوئی دوسرا راستہ نہ تھا تاہم انہیں خدشہ ہےکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے غیر سیاسی قوتیں فائدہ جولائی 2009کےفیصلے میں غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے مداخلت کا راستہ کرچکی ہے۔

عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ کے فیصلے میں آئین کی ان دفعات کے ذکر پر اعتراض ہے جو جنرل ضیا الحق کےدور میں پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین میں داخل کی گئیں ۔ ان دفعات کو پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین میں داخل کی گئیں ۔ان دفعات کو پارلیمنٹ کے ذریعہ آئین سےنکالا جاسکتا ہے لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بھی اپنا کردار ادا کرے۔ پارلیمنٹ اس وقت تک کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرسکتی جب تک 17ویں ترمیم ختم نہیں ہوتی اور پارلیمنٹ کے اختیارات ایوان صدر سے واپس نہیں آتے ۔17ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے پیپلز پارٹی اور مسلم (ن) کے علاوہ دیگر جماعتو ں کو جلد از جلد کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سپریم کورٹ میں  صرف17جج ہیں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین کی تعداد تقریباً ساڑھے چار سو ہے۔ بہت سے کام ایسے جو پارلیمنٹ کرسکتی ہے لیکن پارلیمنٹ نہیں کررہی ۔این آر او کو مسترد کرنا  پارلیمنٹ کا کام تھا لیکن پارلیمنٹ نے یہ کام نہیں کیا۔ اب جب سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے تو تفصیلی فیصلے کا انتظار کئے بغیر کہا جارہا ہے سندھ کے ساتھ زیادتی ہوگئی ۔پیپلز پارٹی نے مہران بنک اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبلہ کیا ہے۔گزارشں یہ ہے کہ ایئر مارشل اصغر خان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فروری 1997میں اس  مقدمے کی سماعت شروع کی تھی جبکہ 20اپریل 1994کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر اس اسکینڈل کے کچھ کرداروں کو قومی اسمبلی میں بے نقاب کرچکے تھے ۔بعد ازاں پیپلز پارٹی کی حکومت نے 24جولائی 1994کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی سے ایک حلفیہ بیان بھی حاصل کرلیا جس میں انہوں نے وہ تمام نام گنوادیئے جن کو 1990اور 1993کے درمیان آئی ایس آئی نے مہران بینک اور حبیب بینک کے ذریعہ بھاری رقوم دیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت جولائی 1994سے نومبر 1996تک کچھ نہ کرسکی حالانکہ مقدمہ درج کر کے ملزموں کے  خلاف کارروائی کرنا کوئی مشکل کا م نہ تھا لیکن شاید پیپلز پارٹی فوج اور آئی ایس آئی کی ناراضگی سے ڈرتی رہی۔ نومبر 1996میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوگئی اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اصغر خان کی درخواست پر فروری 1999تک سماعت تقریباً مکمل ہوچکی تھی۔ لیکن نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کے بعد چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی بھی اپنے عہدے پر نہ رہے اور یہ کیس سرد خانے میں چلا گیا۔

اب پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آچکی ہے۔یقیناً سپریم کورٹ کو بھی چائے کہ اس مقدمے کو انجام تک پہنچائے لیکن سپریم کورٹ میں صرف 17جج ہیں اور یہ 17جج اگر اس معاملے کو دوبارہ کھولیں گے تو فیصلے تک پہنچنے میں کافی دن لگیں گے ۔ اس دوران پارلیمنٹ کو بھی کچھ کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نیب کے حکام کو بلائے اور ان سے پوچھے کہ انہوں نے 1999سے 2009تک آئی ایس آئی کے فنڈ میں مختلف سیاستدانوں ،جرنیلوں اور صحافیوں میں بانٹے گئے 14کروڑ روپے کا کوئی حساب لیا یا نہیں ؟ آج بھی اس مقدمے سے متعلق بہت سا ریکارڈ نصیر اللہ بابر کے پاس محفوظ ہے۔میں نہیں جانتا کہ اسددرانی اور یونس حبیب کی طرف سے جو کچھ بتایا گیا اس میں کتنی صداقت ہے لیکن اس معاملے میں نواز شریف ،محمد خان جو نیجو ،غلام مصطفیٰ جتوئی ،پیراگارو، جماعت اسلامی، ملک غلام مصطفیٰ کھر،فاروق لغاری ،انور سیف اللہ ، ظفر اللہ جمالی، جام معشوق علی، دوست محمد فیض اور لیفٹنٹ جنرل رفاقت کے نام پر بڑی رقمیں نظر آتی ہیں۔ گواہوں کے بیانات کے مطابق یوسف ہارون نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین اور یوسف میمن نے اعجاز الحق اور جاوید ہاشمی کیلئے رقوم وصول کیں۔ این آر او کیس میں ڈاکٹر مبشر حسن کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے بھی آئی ایس آئی سے رقم وصول کی جبکہ این آر او کے ایک اور مخالف اور میرے محترم دوست جناب اکرم شیخ مہران بینک اسکینڈل میں جنرل اسلم بیگ کے وکیل تھے۔ تین سینئر صحافیوں الطاف حسن قریشی، مصطفیٰ صادق اور جناب صلاح الدین مرحوم کے نام پر بھی رقوم لکھی گئیں ۔ اس مقدمے کو انجام تک پہنچا نا بہت ضروری ہےتاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے ۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے محاذ آرائی کی بجائے سپریم کورٹ کی مدد کرنی چاہئے۔

کچھ دنوں سے امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہونے والی ہے۔ اس قسم کی افواہوں کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو ایک دورسرے کی مدد کرنی چاہئے۔ ہمیں اداروں کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ مضبوط ہوں گے تو فوج بغاوت کا سوچ بھی نہ سکے گی۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/-سترہ-جج-اور-442--اراکین-پارلیمنٹ/d/2271

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content